لِیَشَّقّ٘قُ کا باب؟
اِفَّعُّلٌ
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
اِفَّعُّلٌ
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب ۔۔
فتحہ
جی قاعدہ کے تحت ہوتی ہے ۔ شاید نصاب الصرف میں نا ہو لیکن آپ دیکھ لیجئے سبق نمبر 25 سے جہاں گردانوں کی بحث شروع ہو رہی ہے شاید وہاں لکھا ہوا ہو ورنہ ہماری ایپ میں اسی سوال کا پہلے جواب دیا گیا ہے
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب ۔۔
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب استفعال اصل میں یہ یَسْتَجْوِبُ تھا قاعدہ ۔۔ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر یَسْتَجِوْبُ ہوا پھر قاعدہ لگا واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے پھر یَسْتَجِیْبُ ہوا۔۔۔
ریبَ مبنی بر فتحہ ہے وجہ ۔ لائے نفی جنس کا اسم جب مفرد نکرہ ہو تو اس کا اعراب مبنی بر فتحہ ہوتا ہے
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب ۔۔
جس مفعول کے سبب فعل واقع ہو اسے مفعول لہ کہتے ہیں مثال قُمْتُ أِکْرَامًا (میں ادب کی وجہ سے کھڑا ہوا )
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز العین باب تفاعل ۔۔۔۔
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر ۔۔
جمع متکلم فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افتعال ۔۔
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع ۔۔۔
باب کرم یکرم
"استھزاء" کا لغوی معنی ہے کسی چیز کو ہلکا جاننا ۔ اس کا مذاق بنانا یستھزی واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام باب استفعال ۔۔۔
"عید" اصل میں "عِوْد" تھا واؤ ساکن کسرہ کے بعد واقع ہوئی تو اسے یاء سے بدل دینا واجب ہے لہذا واؤ کو یاء سے بدل دیا تو "عود" سے "عید" ہو گیا
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال ۔۔
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب مفاعلہ ۔۔
اسباق کو تقسیم کریں مرفوعات منصوبات مجرورات پر توجہ دیں تمارین حل کریں سمجھ کر پڑھیں
یا قائم ادعو اس میں انا ضمیر فاعل الشیخ مبدل منہ عبد القادر بدل مبدل منہ بدل ملکر موصوف الجیلانی نہیں صفت موصوف صفت ملکر ادعو کا مفعول بہ اس میں انا ضمیر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ
حرف علت اور مد دونوں اس کلمہ میں نہیں ہیں
کلمہ جب بغیر کسی قید کے ہو شاید یہ مراد ہے کلمہ کی تین قسمیں اسم فعل حرف
اطمئنان مصدر رباعی مزید فیہ مہموز اللام از باب افعِلَّال مستأذن صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب استفعال اتخَذْن صیغہ جمع مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
یہ لفظ حویَّۃ کی جمع ہے بر وزن فعالی تو اس میں کوئی تعلیل نہیں ہوئی
اَوْصِ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افعال اصل میں اوصِیْ تھا بوجہ امر آخر سے حرف علت گرایا تو اوصِ ہو گیا ہے
باب ضرب یضرب
صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
مہموز وہ کلمہ جس کا کوئی حرف اصلی ہمزہ ہو معتل وہ کلمہ جس کا کوئی حرف اصلی حرف علت ہو مضعف وہ کلمہ جس میں دو حروف۔صحیح ایک ہی جنس کے ہوں
"جاء فعل رجل موصوف" یخاف فعل اس میں ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت موصوف صفت ملکر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
"الضالین" صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب اصل میں ضالِلین تھا پہلے لام کی حرکت کو حذف کر کے دونوں لاموں کا ادغام کر دیا تو ضالین ہو گیا
حروف موصوف تجر فعل اس میں ھی ضمیر فاعل الاسم مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت موصوف صفت ملکر النوع الاول کی خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ فقط ف فصیحیہ قط اسم فعل بمعنی امر اس میں انت ضمیر فاعل اسم فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ ہوا تسمی فعل فعل اس میں ھی ضمیر نائب الفاعل حروفا موصوف جارۃ صفت موصوف صفت ملکر مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
جو مراد لیا گیا ہو۔۔ یہ اسم مفعول ہے
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح ۔۔
التحری مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفعل الأوانی صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید مہموز الفاء و ناقص یائی (بروز فواعل أوانی) الثیاب جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی اصل میں ثِواب تھا قاعدہ ہے کہ ہر وہ واؤ جمع کے عین کلمہ میں کسرہ کے بعد واقع ہو اسے یاء بدل دینا واجب ہے تو اس واؤ کو یاء سے بدلا تو ثیاب ہو گیا
صرف میں مفردات سے بحث ہوتی ہے جبکہ نحو میں مرکبات سے بحث ہوتی ہے تو مفرد یعنی اکیلا مرکب سے پہلے ہوتا ہے اس وجہ سے صرف کو پہلے رکھا
مصدر کے عین کلمہ میں واؤ ہو اور اس کا ما قبل مکسور ہو تو واو کو یاء سے بدل دینا واجب ہے بشرطیکہ فعل ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو واؤ ہے اور ما قبل مکسور ہے واؤ کو یاء سے بدلا تو اجتیاب ہو گیا
ضرب یضرب سے
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب مفاعلہ اصل میں مکاود تھا قاعدہ ہر وہ واو یا یاء جو اسم فاعل کے عین کلمہ میں واقع ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے ۔۔
جب فعل مضارع کے بعد الا ہو تو ما فعل مضارع پر داخل ہو سکتی ہے
جب لا کا تکرار ہو یعنی دو بار لا داخل ہو جیسے لا صدق و لا صلی
مصدر ثلاثی مزید فیہ مثال واوی و مہموز اللام از باب تفعل
کرم یکرم
قواعد کو یاد کریں ان کا اجراء کریں
واحد مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر ۔۔۔
ان کی خبر اسم سے پہلے آجائے ان کی خبر الا کے بعد واقع ہو اسم اور خبر میں فاصلہ آجائے ان زائدہ کا ان تمام صورتوں میں عمل باطل ہوگا
7
خلاصہ النحو ازھار النحو تسھیل النحو نصاب النحو
مبتدا کی اصل معرفہ ہونا ہے
باب نصر ینصر
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب استفعال ۔۔
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر ۔۔
یمشون صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں یمشِیُون تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کو حذف کر دیا
هُوَ» ضمير الشأن مبتدأ «اللَّهُ أَحَدٌ» مبتدأ وخبره والجملة خبر هو وجملة هو .. مقول القول.
صرف و نحو پر مکمل گرفت کریں قواعد کا اجراء کریں
لم حرف ہے ترکیب میں کچھ نہیں بنے گا
جی درست ہے
قضاء مصدر ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں قضای تھا یاء یا واؤ الف زائدہ کے بعد واقع ہو تو اسے ہمزہ سے بدل دینا واجب ہوتا ہے تو اس یاء کو ہمزہ سے بدل دیا تو قضاء ہو گیا
قالت فعل ہے
کدت اصل میں کوِدْتَ تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف گرگیا پھر قاعدہ لگا کہ جب اجوف کا عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرجائے اور مضارع مکسور العین ہو تو اس کے فا کلمے کو کسرہ دیں گے
پہلی بات رسم الخط میں یہ اردو جیسا ہے۔ اور عربی کی چیز اردو پر اپلائی نہیں ہوتی۔ دوسری بات یہ دونوں امر کے صیغے ہیں۔ ایک کان سے کم اور دوسرا مجیئت مصدر سے کی
دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک اسم ہے اور دوسرا فعل۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ سیاق کلام دیکھا جائے گا، اگر کسی چیز کو دوسری چیز سے اضافی معنی والا بتایا جا رہا ہے تو وہاں اسم تفضیل ہوگا ورنہ فعل مضارع۔ تیسرا نحوی انداز سے دیکھیں گے: اسم تفضیل تین طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ الف لام کے ساتھ، اضافت کے ساتھ اور من کے ساتھ۔ یہاں الف لام آ جائے تو شبہ ہی ختم ہوگا کہ یہ فعل ہے یا اسم۔ کہ الف لام اسم پر ہی آتا ہے۔ اور مضاف ہو تو بھی شبہ ختم کہ مضاف ہونا اسم کا خاصہ ہے۔ اور من کے ساتھ ہو تو جار مجرور کو متعلق کے ساتھ باعتبار معنی جوڑ کر دیکھیں واضح ہو جائے گا کہ یہ اسم ہے یا فعل۔ ھذا ما ظہر لی۔ ابو سفیان محمد راشد مدنی (صادق آبادی)
البنت مبتدا جمالھا مبتدا الشرف خبر مبتدا خبر ملکر مبتداء اول کی خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
کل آٹھ ابواب ہیں
انھدام منھدِم انفطار منفطِر انشقاق منشَقّ انضباط منضبط انصرام منصرم
اسماء ہی دو طرح تقسیم ہوتی ہے مبنی اور معرب مبنی وہ اسماء ہوتے ہیں جو حرف سے مشابہت کی وجہ سے اعراب قبول نہیں کرتے جیسے اذا اذ مھما وغیرہ اسماء اور معرب اسماء وہ ہوتے ہیں جو اعراب قبول کرتے ہیں لیکن ان معرب اسماء میں سے کچھ وہ اسماء ہوتے ہیں جن پر کسرہ اور تنوین نہیں آتی یعنی حرکات اعراب کو قبول کرتے ہیں لیکن مکمل نہیں کرتے اس کو غیر منصرف کہتے ہیں
اس کو غیر ملحق کہتے ہیں دوسرا نام سنا نہیں
نون ثقیلہ تاکید کا ہے
اسم ظرف میں مذکر کا صیغہ بھی نہیں ہوتا اور مؤنث کا صیغہ بھی نہیں ہوتا بلکہ ظرف کے صیغے مذکر و مؤنث ہونے میں برابر ہوتے ہیں
جی درست ہے
تضرب کے آگے نون اعرابی لگا یا تو تضربین ہوگیا۔
جاء فعل نون وقایہ یاء ضمیر متکلم القوم موکد اجمعون موکد آگے والے سارے الفاظ تاکید یہ موکد تاکید ملکر پھر القوم کی تاکید مؤکد تاکید ملکر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
حال ہے
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر ۔۔
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر ۔۔
تقربا مفعول لہ بھی بن سکتا ہے اور حال بھی مزید یہ کہ اس کا باب تفعل ہے اور یہاں خاصہ اکتساب پایا جا رہا ہے
جاء فعل نون وقایہ یاء ضمیر متکلم مفعول بہ الزیدان مؤکد کلاھما تاکید مؤکد تاکید ملکر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
یہ اپنی اصل پر ہے
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب تفعیل ۔۔
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال ۔۔
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی باب نصر ینصر ۔۔ تعلیل اصل میں اتلو تھا قاعدہ امر کے آخر میں حرف علت ہو تو وہ ساقط ہو جاتا ہے پھر اتل ہوگیا
لائی نفی کسی چیز کے ہونے کی نفی کرتی ہے۔ نہی کسی کو کسی کام سے منع کرنے کے لیے آتی ہے۔
جاء فعل نون وقایہ یاء ضمیر مفعول بہ زید موکد نفسه تاکید مؤکد تاکید ملکر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
ناقۃ دجاجۃ حبلی امرءۃ زینب و ہند یہ مؤنٹ حقیقی ہیں ان کے علاوہ مؤنثات لفظیہ یا سماعیہ ہیں
ف، ع، ل کی ترتیب صوتی اعتبار سے متوازن ہے: "ف" ہونٹوں کے قریب سے نکلنے والا حرف ہے۔ "ع" حلقی حرف ہے، جو درمیان میں آتا ہے۔ "ل" زبان کے اگلے حصے سے ادا ہوتا ہے۔ یہ ترتیب لُغوی توازن برقرار رکھتی ہے۔
یھدیُ تھا قاعدہ لگا واو مضموم ماقبل مضموم یاء مضموم ماقبل مکسور کو ساکن کرنا واجب ہے ۔۔
یھدیُ تھا قاعدہ لگا واو مضموم ماقبل مضموم یاء مضموم ماقبل مکسور کو ساکن کرنا واجب ہے ۔۔
"گردان" عربی اور فارسی سے ماخوذ لفظ ہے، جو اردو میں مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے، جیسے: 1. دُہرانا – کسی چیز کو بار بار کہنا یا پڑھنا، جیسے "سبق کی گردان کرنا"۔ 2. چکر لگانا – کسی جگہ بار بار جانا، جیسے "شہر کی گردان کرتے رہے"۔ 3. صرف و نحو میں گردان – عربی، فارسی، یا اردو میں فعل یا اسم کے مختلف صیغے یا حالتیں بیان کرنا، جیسے "فعل کی گردان کرنا"۔
جمع مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب ضرب یضرب ۔۔ اصل میں یکودون تھا قاعدہ لگا واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر دوسرا قانون لگا واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے ۔۔
قریب ہونا ،انتظام کرنا ،بلندی سے دیکھنا ،سامنے ہونا
یدعو اپنی اصل پر ہے
لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
یہ اسم مصدر ہے باب تفعیل کا
واحد مؤنث غائب فعل نفی تاکید بلن معروف ثلاثی مجرد مضاعف ثلاثی باب نصر ینصر ۔۔
ادعو تھا
ادعو تھا صیغہ امر امر کی وجہ سے آخر سے یا گرگئی ۔۔
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر تعلیل ۔ اصل میں فوتت تھا قاعدہ ۔ واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے ۔۔
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب تعلیل۔واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے اصل میں قضی تھا
ھو ضمیر مرفوع منفصل ہے
عندی میں یاء ضمیر مجرور متصل ہے لہ میں ہاء ضمیر مجرور متصل ہے