زيد ابن خالد ترکیب ؟
زید موصوف ابن مضاف خالد مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر صفت موصوف مرکب توصیفی ہوئے
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
زید موصوف ابن مضاف خالد مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر صفت موصوف مرکب توصیفی ہوئے
جمع مکسر وہ جمع جس کو واحد سے بناتے ہوئے واحد کے لفظ میں تبدیلی واقع ہو جیسے کوئی حرف بڑھایا جائے یا کم کیا جائے یا حرکت میں تبدیل کی جائے وغیرہ جیسے کتاب سے کتب میں حرف کم کیا گیا قلم سے اقلام میں حرف زائد کیا گیا ہے
مفرد منصرف صحیح
نیچے دیئے گئے سکرین شارٹ میں جواب ملاحظہ فرمائیں
صمت اصل میں صَوَمْتُ تھا اور سِرتُ اصل میں سَیَرتُ تھا ان دونوں صیغوں میں یاء اور واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا پھر الف اور اس کے بعد والا حرف ساکن تھے اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کو گرایا تو صَمت اور سَرت ہوگئے اب مندرجہ ذیل قاعدہ جاری ہوا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے اس قاعدے کے تحت فاء کلمہ کو ضمہ اور کسرہ دیا گیا تو صُمت اور سِرت ہو گئے
سمیا صیغہ تثنیہ مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل اصل میں سمَّوَا تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل دیا گیا تو سمیا ہو گیا
لا یحتاج صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع منفی معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افتعال اصل میں یہ لفظ لا یحتَوِجُ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو لا یحتاج ہو گیا قال والا قانون جاری ہوا ہے
ما نافیہ کان فعل ناقص رب مضاف کاف ضمیر مضاف الیہ مرکب اضافی ہو کر کان کا اسم نسیا کان کی خبر کان فعل ناقص اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
سلام واحد ہے مومنین جمع کا صیغہ ہے
ما موصولہ کی پہچان ترجمے سے ہی سمجھ آتی ہے کوئی خاص مقام نہیں ہوتا کہ کسی مخصوص جگہ استعمال ہو ہاں ترجمہ سے آپ ہو یوں پہچان کر سکتے ہیں کہ ما موصولہ ہمیشہ ما قبل میں سے کسی کی وضاحت یا تعریف و تشریح کر رہا ہو گا جیسے عقد الصرف ما وقع علی النقدین عقد الصرف یعنی جو عقد نقد سونا چاندی پر ہوتا ہے تو یوں ترجمے کی پہچان ملحوظ رکھئے
جملہ کی اقسام بنیادی طور طر دو ہی اسمیہ اور فعلیہ لیکن محل اور استعمال میں کچھ اوصافی اقسام ہیں جیسے معطوفہ حالیہ معترضہ وغیرہ
جب ان الفاظ سے انشاء عقد یعنی کوئی معاملہ طے کیا جائے گا تو اس وقت سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا دیکھئے عربی میں جب خرید و فروخت ہوتی ہے تو بالفرض جب خریدنے والا کہے گا اشتریت ( میں خریدتا ہوں) اور بیچنے والا کہے گے بعت ( میں بیچتا ہوں) اب ان دونوں جملے یا الفاظ کہنے والوں کو سچا یا جھوٹا کیسے کہا جائے گا سچا یا جھوٹا اخبار پر ہوتا ہے کہ کسی نے کوئی خبر دی اور واقع کے مطابق دی تو ہم کہیں گے سچ کہہ رہا ہے اگر واقع (خارج ) کے مطابق نہ ہوئی تو ہم کہیں گے جھوٹا ہے جبکہ انشاء میں خارج ہی نہیں ہوتا تو اس کو سچا یا جھوٹا کیسے کہا جائے گا
سر ایسی کوئی کتاب تو نہیں ہے لیکن مختلف اگر آپ تعلیلات کے معلل ابواب کی گردانیں ایک بار دھرا لیں اور ان کی تعلیلات وہاں سے دیکھ لیں تو کچھ مدد مل سکتی ہے
معنوی اسم منسوب کا صیغہ ہے اس کے آخر میں یاء نسبت ہے اصل میں معنیٰ تھا قاعدہ وہ اسم جس کے آخر میں الف ہو چاہے اس الف کی اصل واؤ ہو یا یاء تمام صورتوں میں اسے واؤ بدلنا واجب ہے اس وجہ سے نسبت کرتے ہوئے جب اس کے آخر میں یاء نسبت لگائی تو آخر میں جو الف ( کھڑا زبر) تھا اسے واؤ سے بدل کر آخر میں یاء نسبت لگا دی
اذن اور کف یہ دونوں لفظ مؤنث ہیں
آپ کا سوال بہت عجیب سا ہے بہر حال فعل فاعل ہے مطابق لایا جاتا ہے تفصیل یوں ہے فاعل اگر اسم ظاہر ہے تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا فاعل چاہے تثنیہ یا جمع ہو اگر فاعل مذکر ہے تو فعل مؤنث ہوگا اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ نا ہو تو فعل مؤنث ہی لایا جائے گا اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ ہو یا فاعل مونث مجازی اسم جمع اسم جنس یا مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو فعل مذکر و مؤنث دونوں طرح آ سکتا ہے
موصولہ یا ما مصدریہ تقریبا ایک جیسے ہیں یعنی ما مصدریہ کی جگہ موصولہ بنائیں یا مصدریہ لیکن جہاں ما موصولہ بنائیں گے اس کے بعد والے جملے میں ضمیر عائد لازمی ڈھونڈیں بقیہ ترجمے سے سمجھ آتا ہے
شذا مضاف العرف مضاف الیہ مرکب اضافی ہو کر مبتدا فی جار فن مضاف الصرف مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ لفظ شذا منصوب نہیں ہے بلکہ اسم مقصور ہے جیسا کہ عصا فتی وغیرہ ہوتے ہیں
مشہور قول تو یہ ہے ابو معاذ الھراء علم الصرف کے بانی ہیں لیکن درست بات یہ ہے کہ صرف بھی نحو کے ساتھ ہی ایجاد ہوا ہے تو نحو کے بانی ہی صرف کے بانی ہیں
حروف ،حرکات،سکنات، کی مخصوص ترتیب سے جو لفظ بنتا ہے اسے صیغہ کہتے ہیں
اسامۃ لفظ مؤنث ہے مگر اس کا استعمال مذکر کے لئے ہے مؤنث حقیقی وہ مؤنث جس کے مقابل نر جاندار ہو
میل اسم جامد اجوف یائی ہے
کسرہ غیر منصرف کے منافی ہے
ہفت اقسام میں ناقص واوی اور حروف اصلیہ ن ج و ہیں اور یہ خود مصدر ہے
الحمد کی جگہ الھمد کا مطلب کمزور پڑنا ٹہر جانے کے آتے ہیں یعنی اللہ کے لئے کمزوری ہے یا ٹھہر جانا ہے (نعوذ باللہ)
علمیت و عجمہ
اسم مفعول کا صیغہ ہے
جی
جی
أخی مضاف الی یاء المتکلم ہے
فعلِ ماضی کی تعریف وہ فعل جو گزشتہ زمانہ میں کسی کام کے ہونے پر دلالت کرے ماضی مطلق وہ فعلِ ماضی جس میں قرب و بعد (یعنی دوری اور نزدیکی ) کا اعتبار نہ ہو جیسے: نَصَرَ ماضی قریب وہ فعل جو ماضی قریب میں کسی کام کے پائے جانے پر دلالت کرے جیسے: قَدْ نَصَرَ ماضی بعید وہ فعل جو ماضی بعید میں کسی کام کے پائے جانے پر دلالت کرے جیسے: کَانَ نَصَرَ ماضی احتمالی وہ فعل جو زمانہ ماضی میں کسی کام کے پائے جانے میں شک پر دلالت کرے جیسے: لَعَلَّہٗ نَصَرَ ماضی تمنائی وہ فعلِ ماضی جو کسی کام کی خواہش یا آرزو پر دلالت کرے جیسے: لَیْتَہٗ نَصَرَ ماضی استمراری وہ فعلِ ماضی جوکسی کام کے مسلسل پائے جانے پر دلالت کرے جیسے: کَانَ یَنْصُرُ
کسی اسم میں الف لام اؤر تنوین جمع نہیں ہو سکتے ہاں اشعار میں تنوین ترنم آ سکتی ہے فعل کے ساتھ بھی اور الف لام کے ساتھ بھی
تخلل باب تفعُّل سے ہے
اگر ملکِ مصر ہوگا تو غیر منصرف ہوگا
باب مفاعلہ
ماضی کی چھ اقسام ہیں
جی اسم فاعل کا صیغہ ہے
تعالی ہفت اقسام میں ناقص واوی ہے
باب افتعال
"بِأَسانِیدَ صحیحۃٍ" یہ درست اعراب ہے لفظ اسانید موصوف ہے
مطیع اسم فاعل ہے باب افعال سے رحمن اسم مبالغہ ہے باب سمع یسمع سء
الکِنانۃ کا معنی تیر رکھنے کا تھیلا ، سر زمین حجاز حروف اصلیہ: ک ن ن صرفی تحقیق ، اسم جامد ثلاثی مزید مضاعف
یہ اسم فعل ہے اس کی وضاحت ڈکشنری یا پھر موسوعۃ النحو و الصرف میں دیکھیں
ان مصدریہ یوتی فعل ب جار مشبھتین معطوف علیہ او حرف عطف اکثر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مجرور جار مجرور ملکر معطوف علیہ ثم حرف عطف ب جار ھاء ضمیر مجرور جار مجرور ملکر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر نائب الفاعل یوتی فعل کا یوتی فعل اپنے نائب الفاعل کے ساتھ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر ان مصدریہ کے ساتھ ملکر مصدر مؤول اب یہ مصدر مؤول عبارت کے مطابق ترکیب کا حصہ بنے گا
مصدر ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب تفعیل
لفظ اول جب بطور وصف استعمال ہوتا ہے تو یہ غیر منصرف ہوگا اور معرب کی سوکہ قسموں میں بھی غیر منصرف ہوگا
یہاں ھاء ضمیر جو یغلبه کے ساتھ ہے وہ الکوکب کی طرف لوٹ رہی ہے
تنوین جب نصب کی صورت میں ہو اس کے آخر میں الف لکھا جاتا ہے لیکن ہر اسم کے آخر میں نہیں لکھا جاتا جیسے گول تاء کے بعد ،تنوین جب ہمزہ پر ہو تو ان صورتوں میں الف نہیں لکھا جاتا یہ مسئلہ علم الخط یعنی خط کے قواعد و ضوابط سے ہے
ل جار من استفہامیہ مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مقدم ھذا مبدل منہ القلم بدل مبدل منہ بدل ملکر مبتدا مؤخر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ
نسوۃ اسم جمع ہے اسم جمع یا اسم جنس اگر فاعل ہوں تو فعل کو مذکر اور مؤنث دونوں طرح لایا جا سکتا ہے
اُنْصُراہ
الطحاوی طحا کی جانب منسوب ہے جو کہ مصر کا ایک گاؤں ہے اس کے حروف اصلیہ میں ط اور ح تو ہیں ہی لیکن آخر میں الف وہ اصل میں یاء تھا یا واؤ اس کی تعیین نہیں مل سکی البتہ اس کی نسبت میں واؤ آنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی اصل میں ط ح کے ساتھ واؤ بھی ہوگی تو حروف اصلیہ : ط ح و ہیں اور ہفت اقسام میں ناقص واوی ہوگا
آسان طریقہ جس کے لئے کوئی اضافی وقت یا جدول بنانے کی ضرورت نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آپ روزانہ عبارت میں آنے والے کسی فعل کی کوئی گردان بنایا کریں چاہے صرف صغیر ہو یا کبیر یعنی جیسے دوران عبارت لفظ آیا ہے استعمال اب اسی سے کوئی گردان بنا لیں یوں کرنے سے دہرائی بھی ہوتی رہے گی اور گردانیں پختہ تر بھی ہوتی جائیں گی
رجل صالح کو اگر مسند الیہ کہیں گے تو اس میں اسناد کیسے جاری ہوگی؟؟ ہم تو تو دونوں کو ملا کر کسی اور چیز کے لئے مسند کہہ رہے ہیں جیسے رجل صالح قائم میں رجل صالح مسند الیہ قائم مسند
نہیں
لبیک اصل میں الب البابین لک تھا جس کا اختصار لبیک ہے
یہ معرب ہے مفرد منصرف صحیح
چاروں تثنیہ کے صیغے جمع مذکر حاضر و غائب اور صیغہ واحد مؤنث حاضر کا صیغہ یہ سات صیغے ہیں جن کے آخر سے نون اعرابی گر جاتا ہے
اصولی طور پر صرف رجل کو مسند الیہ کہنا چاہئے لیکن ہمارے ہاں مروج طریقہ کار پورے مرکب کو مبتدا بنانے کا ہے تو اگر کوئی پورے رجل صالح کو بھی کہتا ہے تو غلط نا کہا جائے
یہ دونوں عجمی لفظ ہیں ان کے الف مقصورہ تانیث کے لئے نہیں ہوں گے
نواب ( نون کی فتحہ کے ساتھ) عربی زبان میں استعمال نہیں ہوتا اس وجہ سے صرفی تحقیق نہیں ہوگی
باب استفعال سے
یہ بھی شرح مئۃ عامل میں موجود ہے فعل تعجب فعل میں داخل ہے جہاں فعل کا عمل مذکور ہے وہاں یہ بھی داخل ہے
اذا اسم ظرف برائے شرط مفعول فیہ مقدم اصاب فعل الخف مفعول بہ نجاسۃ موصوف ل جار ھا ضمیر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مقدم جرم موصوف ک جار الروث معطوف علیہ العذرہ معطوف اول الدم معطوف ثانی المنی معطوف ثالث معطوف علیہ اپنے معطوفات سے ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر صفت جرم موصوف اپنی صفت سے ملکر مبتدا مؤخر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر نجاسۃ کی صفت نجاسۃ موصوف اپنی صفت سے ملکر اصاب فعل کا فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ ف عاطفہ جفت فعل اس میں ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف ف عاطفہ دلک فعل ھو ضمیر فاعل ھاء ضمیر مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف معطوف علیہ معطوف سے ملکر شرط جاز فعل ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزاء
یہ مصدر جعلی/ مصدر صناعی ہے مصدر صناعی ثلاثی مزید فیہ صحیح یا اس کو اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح بھی کہہ سکتے ہیں
یہ عبارت ٹھیک ہے ما نافیہ ضرب فعل الا حرف استثناء اور خالد مستثنی مفرغ ہو کر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد لفیف مفروق باب ضرب یضرب
جمع متکلم فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب استفعال
وجوب لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت ھا ضمیر لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مؤنث واحد مبنی مبنی الفتح اعراب محلی محلا مجرور بوجہ اضافت
شرح مئۃ عامل کتاب کا مطالعہ فرمائیں
الرسل جمع مکسر ہے اور جمع مکسر واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے اس وجہ سے اسم اشارہ واحد مؤنث آیا ہے
عن جار عبد اللہ موصوف بن مضاف رافع مضاف الیہ مرکب اضافی ہوکر صفت موصوف صفت ملکر مبین مولی مضاف ام سلمۃ مضاف الیہ مرکب اضافی ہو کر عطف بیان مبین و عطف بیان ملکر مجرور جار مجرور ملکر عبارت کے مطابق کسی کے متعلق ہوگا
لفظ محمد معرب منصرف ہے
افعل اور فعلی کے وزن والا صیغہ
یہ ترکیب فارسی میں ہے اور ترکیب فارسی میں مضاف پر کسرہ آتا ہے جب عربی ترکیب میں استعمال کریں گے تو لفظ نحو پر عامل کے مطابق اعراب آئے گا
تلَقِّی مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفاعل اس میں تعلیل دو صورتوں میں ہوتی ہے حالت جری اور رفعی میں جب یہ مجرور یا مرفوع ہوگا تو یاء مضموم یا مکسور ما قبل مکسور ہونے کی وجہ سے ساکن ہو جائے گی الجلب اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
واحد کا مطلب اکیلا ، ایک اور خصوصا اس کا معنی پہلا بھی ہوتا ہےاسی طرح احد کا مطلب بھی اکیلا اور ایک دونوں ہوتے یہ اردو محاورے کا فرق ہوتا ہے بقیہ واحد و احد کا فرق سرچ فرما لیں
اکرم اس پر الف لام آتا ہے ضرب میں ماضی ہونا فعل کی علامت ہے
یہ کلمہ کی اقسام ہیں
جملہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے
اردو میں معرب اور مبنی نہیں ہوتے
ب جار اسم مضاف ھاء ضمیر ذو الحال تعالی فعل ھو ضمیر فاعل جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ و حرف عطف تقدس فعل ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر حال ذو الحال حال ملکر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مجرور جار مجرور ملکر حسب مقام فعل محذوف کے متعلق ہوں گے اللہ کے نام سے جو تمام عیوب بلند و بالا اور پاک ہے واؤ عطف کے لئے بغیر واؤ کے عطف نہیں ہوگا
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال ۔۔۔۔
یہاں واؤ کو تاء سے خلاف قیاس بدلا گیا ہے
رب مضاف نا ضمیر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کو مفعول بہ اس سے پہلے یاء حرف نداء محذوف ہے جو قائم مقام ہے ادعو اس میں انا ضمیر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ آت فعل نا ضمیر مفعول بہ اول فی الدنیا جار مجرور ملکر معطوف علیہ فی الآخرۃ جار مجرور ملکر معطوف معطوف علیہ اور معطوف ملکر ظرف لغو پہلا حسنۃ معطوف علیہ دوسرا حسنۃ معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مفعول بہ ثانی فعل فاعل مفعول بہ اول و دوم اور ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ و حرف عطف ق فعل امر اس میں انت ضمیر فاعل نا ضمیر مفعول بہ عذاب مضاف النار مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو منصوب بنزع الخافض اس سے پہلے حرف جر من محذوف ہے فعل فاعل مفعول بہ اور منصوب بنزع الخافض ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ
لا نفی جنس دینار معطوف علیہ و حرف عطف لا برائے تاکید درھم معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر لا نفی جنس کا اسم ل جار زید مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابتان کے متعلق اس میں ھما ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر خبر لا نفی جنس اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
لفظ عبد اللہ کو جب کسی کا نام رکھ دیا جائے تو اس وقت بحیثیت نام اس پر مفرد کی تعریف صادق آئے گی لیکن حقیقت اس کی وہی مرکب والے رہے گی البتہ یہ علم ہوگا اور علم کلمہ کی قسم سے نہیں ہے بلکہ اسم کلمہ کی قسم سے ہے
ہر عربی زبان کے معرب لفظ کی صرف تحقیق ہوگی بس دو چیزیں دیکھیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ اس لفظ کی صرفی تحقیق ہوگی یا نہیں پہلی چیز کہ عربی زبان کا لفظ ہو کسی دوسری زبان سے نا آیا ہو دوسری چیز کہ وہ معرب ہو اگر یہ دونوں شرطیں پائی جائیں تو صرفی تحقیق ہوگی ورنہ نہیں
جمع مذکر وہ جمع ہے جس کے آخر میں واؤ نون یا یاء اور نون کا اضافہ کر کے بنایا گیا ہو
دونوں ایک ہی ہیں
اس میں صرفی تحقیق صرف قلوب کی ہوگی صیغہ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح مادہ : ق ل ب
آپ نے جو پہلا صیغہ لکھا ہے وہ تو مستعمل نہیں فرضی ہے تو معنی بھی نہیں بنتا کیوں کہ یہ مادہ نصر ینصر سے استعمال نہیں ہوتا جبکہ دوسرا صیغہ باب افعال سے ہے اس کا مطلب ہوتا سیراب کرنا ، پلانا
صیغہ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح مادہ : ن ھ ج
فعلِ امر کی تعریف وہ فعل جس کے ذریعہ مخاطَب سے کوئی کام طلب کیا جائے
یوٹیوب پر شاید مل جائیں
اذ حرف فجائیہ طلع فعل علینا جار مجرور ملکر ظرف لغو رجل موصوف شدید البیاض صفت اول شدید سواد الشعر مرکب اضافی ہو کر صفت ثانی موصوف اپنی دونوں صفات سے ملکر فاعل فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
حرکت کسرہ دینا یہ عمومی قاعدہ ہے کلی نہیں بعض ساکن کو حرکت فتحہ اور ضمہ بھی دیتے ہیں
نحو میں ترکیب ہوتی ہے صرف میں ترکیب نہیں ہوتی لہذا ان میں فرق بھی نہیں ہوتی
یہ منصرف ہے