عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

اسلام علیکم صمتُ روزہ معنی میں سِرتَ سیر کے معنی میں ان میں کیا تعلیل ہوئ براۓ مدینہ بتا دیجۓ

صمت اصل میں صَوَمْتُ تھا اور سِرتُ اصل میں سَیَرتُ تھا ان دونوں صیغوں میں یاء اور واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا پھر الف اور اس کے بعد والا حرف ساکن تھے اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کو گرایا تو صَمت اور سَرت ہوگئے اب مندرجہ ذیل قاعدہ جاری ہوا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے اس قاعدے کے تحت فاء کلمہ کو ضمہ اور کسرہ دیا گیا تو صُمت اور سِرت ہو گئے

صرف1 جواب
23 اگست، 2025

سمیاہ میں کیا تعلیل ہوئ ہے

سمیا صیغہ تثنیہ مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل اصل میں سمَّوَا تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل دیا گیا تو سمیا ہو گیا

صرف1 جواب
23 اگست، 2025

ما موصولہ کی پہچان کسی حوالے کیساتھ بتائیے

ما موصولہ کی پہچان ترجمے سے ہی سمجھ آتی ہے کوئی خاص مقام نہیں ہوتا کہ کسی مخصوص جگہ استعمال ہو ہاں ترجمہ سے آپ ہو یوں پہچان کر سکتے ہیں کہ ما موصولہ ہمیشہ ما قبل میں سے کسی کی وضاحت یا تعریف و تشریح کر رہا ہو گا جیسے عقد الصرف ما وقع علی النقدین عقد الصرف یعنی جو عقد نقد سونا چاندی پر ہوتا ہے تو یوں ترجمے کی پہچان ملحوظ رکھئے

صرف1 جواب
14 اگست، 2025

السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ کیا جملہ کی اقسام میں سے ایک قسم جملہ معطوفہ بھی ہے ۔۔؟ اگر ہے تو برائے کرم اسکا حوالہ بھی ارشاد فرما دیں جزاک اللّہ خیرا واحسن الجزاء

جملہ کی اقسام بنیادی طور طر دو ہی اسمیہ اور فعلیہ لیکن محل اور استعمال میں کچھ اوصافی اقسام ہیں جیسے معطوفہ حالیہ معترضہ وغیرہ

صرف1 جواب
7 اگست، 2025

انشاء کی اقسام میں ہے عقد مثال ہے اشتریت زوجت اگر ہم غور کریں تو ان میں بھی سچ اور جھوٹ کا احتمال ہے جس نے کہا زوجت اس میں سچ کا احتمال آیا ہے اگر جھوٹ کہا تو جملہ جھوٹا تو اس کو خبریہ ہونا چاہیے تھا انشاء کیسے ہے

جب ان الفاظ سے انشاء عقد یعنی کوئی معاملہ طے کیا جائے گا تو اس وقت سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا دیکھئے عربی میں جب خرید و فروخت ہوتی ہے تو بالفرض جب خریدنے والا کہے گا اشتریت ( میں خریدتا ہوں) اور بیچنے والا کہے گے بعت ( میں بیچتا ہوں) اب ان دونوں جملے یا الفاظ کہنے والوں کو سچا یا جھوٹا کیسے کہا جائے گا سچا یا جھوٹا اخبار پر ہوتا ہے کہ کسی نے کوئی خبر دی اور واقع کے مطابق دی تو ہم کہیں گے سچ کہہ رہا ہے اگر واقع (خارج ) کے مطابق نہ ہوئی تو ہم کہیں گے جھوٹا ہے جبکہ انشاء میں خارج ہی نہیں ہوتا تو اس کو سچا یا جھوٹا کیسے کہا جائے گا

صرف1 جواب
11 اگست، 2025

معنویٌّ کیا تھا اور اس میں تعلیل

معنوی اسم منسوب کا صیغہ ہے اس کے آخر میں یاء نسبت ہے اصل میں معنیٰ تھا قاعدہ وہ اسم جس کے آخر میں الف ہو چاہے اس الف کی اصل واؤ ہو یا یاء تمام صورتوں میں اسے واؤ بدلنا واجب ہے اس وجہ سے نسبت کرتے ہوئے جب اس کے آخر میں یاء نسبت لگائی تو آخر میں جو الف ( کھڑا زبر) تھا اسے واؤ سے بدل کر آخر میں یاء نسبت لگا دی

صرف1 جواب
21 اگست، 2025

فعل کا فاعل کب مؤنث لایا جاتا ہے اور کب تثنیہ اور جمع لانا جائز ہیں جو

آپ کا سوال بہت عجیب سا ہے بہر حال فعل فاعل ہے مطابق لایا جاتا ہے تفصیل یوں ہے فاعل اگر اسم ظاہر ہے تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا فاعل چاہے تثنیہ یا جمع ہو اگر فاعل مذکر ہے تو فعل مؤنث ہوگا اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ نا ہو تو فعل مؤنث ہی لایا جائے گا اگر فاعل مؤنث حقیقی ہو فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ ہو یا فاعل مونث مجازی اسم جمع اسم جنس یا مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو فعل مذکر و مؤنث دونوں طرح آ سکتا ہے

صرف1 جواب
17 اگست، 2025

السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ شذا العرف فی فن الصرف کی ترکیب نحوی کیا ہوگی اور شذا منصوب کیوں ہے

شذا مضاف العرف مضاف الیہ مرکب اضافی ہو کر مبتدا فی جار فن مضاف الصرف مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ لفظ شذا منصوب نہیں ہے بلکہ اسم مقصور ہے جیسا کہ عصا فتی وغیرہ ہوتے ہیں

صرف1 جواب
8 اگست، 2025

ماضی کی چھ اقسام بتائیں

فعلِ ماضی کی تعریف وہ فعل جو گزشتہ زمانہ میں کسی کام کے ہونے پر دلالت کرے ماضی مطلق وہ فعلِ ماضی جس میں قرب و بعد (یعنی دوری اور نزدیکی ) کا اعتبار نہ ہو جیسے: نَصَرَ ماضی قریب وہ فعل جو ماضی قریب میں کسی کام کے پائے جانے پر دلالت کرے جیسے: قَدْ نَصَرَ ماضی بعید وہ فعل جو ماضی بعید میں کسی کام کے پائے جانے پر دلالت کرے جیسے: کَانَ نَصَرَ ماضی احتمالی وہ فعل جو زمانہ ماضی میں کسی کام کے پائے جانے میں شک پر دلالت کرے جیسے: لَعَلَّہٗ نَصَرَ ماضی تمنائی وہ فعلِ ماضی جو کسی کام کی خواہش یا آرزو پر دلالت کرے جیسے: لَیْتَہٗ نَصَرَ ماضی استمراری وہ فعلِ ماضی جوکسی کام کے مسلسل پائے جانے پر دلالت کرے جیسے: کَانَ یَنْصُرُ

صرف1 جواب
10 اگست، 2025

ان ىؤتی بمشهبتين أو اكثر ثم به۔ مذکورہ عبارت کی نحوی ترکیب بتائیں

ان مصدریہ یوتی فعل ب جار مشبھتین معطوف علیہ او حرف عطف اکثر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مجرور جار مجرور ملکر معطوف علیہ ثم حرف عطف ب جار ھاء ضمیر مجرور جار مجرور ملکر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر نائب الفاعل یوتی فعل کا یوتی فعل اپنے نائب الفاعل کے ساتھ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر ان مصدریہ کے ساتھ ملکر مصدر مؤول اب یہ مصدر مؤول عبارت کے مطابق ترکیب کا حصہ بنے گا

صرف1 جواب
2 اگست، 2025

جو اسم منصوب ہو اس کے آخر میں الف علامت نصب آتا ہے جیسے رایت زیدا ، رایت عمرا ، اور جس اسم کے آخر میں یاء ہو تو اس کے ساتھ حالت نصبی میں الف نہیں آتا جیسے لیسوا سواء، اسکنت یاء یہ کیوں؟؟

تنوین جب نصب کی صورت میں ہو اس کے آخر میں الف لکھا جاتا ہے لیکن ہر اسم کے آخر میں نہیں لکھا جاتا جیسے گول تاء کے بعد ،تنوین جب ہمزہ پر ہو تو ان صورتوں میں الف نہیں لکھا جاتا یہ مسئلہ علم الخط یعنی خط کے قواعد و ضوابط سے ہے

صرف1 جواب
2 اگست، 2025

لمن ھذا القلم کی ترکیب کیجیے

ل جار من استفہامیہ مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مقدم ھذا مبدل منہ القلم بدل مبدل منہ بدل ملکر مبتدا مؤخر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ انشائیہ

صرف1 جواب
29 جولائی، 2025

الطحاوی اسکے حروف اصلی کیا ہیں اور صرفی دائیرہ کار میں کیا ہے

الطحاوی طحا کی جانب منسوب ہے جو کہ مصر کا ایک گاؤں ہے اس کے حروف اصلیہ میں ط اور ح تو ہیں ہی لیکن آخر میں الف وہ اصل میں یاء تھا یا واؤ اس کی تعیین نہیں مل سکی البتہ اس کی نسبت میں واؤ آنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی اصل میں ط ح کے ساتھ واؤ بھی ہوگی تو حروف اصلیہ : ط ح و ہیں اور ہفت اقسام میں ناقص واوی ہوگا

صرف1 جواب
26 جولائی، 2025

السلام علیکم استاد محترم! یہ بتا دیں کہ میں کیسے صرف کی گردانوں کو رواں رکھوں جبکہ میرے ساتھ کوئی دوست ہوتا نہیں جس کے ساتھ اجراء ہی کر لیں جب گھر پڑھتا ہوں تو تسلسل نہیں رہتا؟

آسان طریقہ جس کے لئے کوئی اضافی وقت یا جدول بنانے کی ضرورت نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آپ روزانہ عبارت میں آنے والے کسی فعل کی کوئی گردان بنایا کریں چاہے صرف صغیر ہو یا کبیر یعنی جیسے دوران عبارت لفظ آیا ہے استعمال اب اسی سے کوئی گردان بنا لیں یوں کرنے سے دہرائی بھی ہوتی رہے گی اور گردانیں پختہ تر بھی ہوتی جائیں گی

صرف1 جواب
27 جولائی، 2025

اگر ہم رجل صالح میں رجل صالح پورے کو مسند الیہ کہہ دے گے تو اس طرح مرکب غیر مفید میں اسناد جاری ہو جائے گی کیونکہ رجل صالح کا تعلق مرکب غیر مفید میں سے مرکب توصیفی سے ہے تو پھر کیا کہا جائے اس میں ۔۔۔۔؟

رجل صالح کو اگر مسند الیہ کہیں گے تو اس میں اسناد کیسے جاری ہوگی؟؟ ہم تو تو دونوں کو ملا کر کسی اور چیز کے لئے مسند کہہ رہے ہیں جیسے رجل صالح قائم میں رجل صالح مسند الیہ قائم مسند

صرف1 جواب
30 جولائی، 2025

مرکب غیر مفید میں اسناد جاری نہیں ہوتی ہے لیکن اگر جملہ میں رجل صالح مل کر مبتدا بن رہے ہو تو کیا رجل صالح پورے کو مسند الیہ کہے گے یا صرف رجل کو ۔۔۔کیونکہ مرکب غیر مفید میں اسناد جاری نہیں ہوتی ہے

اصولی طور پر صرف رجل کو مسند الیہ کہنا چاہئے لیکن ہمارے ہاں مروج طریقہ کار پورے مرکب کو مبتدا بنانے کا ہے تو اگر کوئی پورے رجل صالح کو بھی کہتا ہے تو غلط نا کہا جائے

صرف1 جواب
28 جولائی، 2025

واذا اصاب الخف نجاسة لها جرم كالروث والعذرة والدم المني فجفت فدلکہ بالأرض جاز اسکی ترکیب کر دیں

اذا اسم ظرف برائے شرط مفعول فیہ مقدم اصاب فعل الخف مفعول بہ نجاسۃ موصوف ل جار ھا ضمیر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مقدم جرم موصوف ک جار الروث معطوف علیہ العذرہ معطوف اول الدم معطوف ثانی المنی معطوف ثالث معطوف علیہ اپنے معطوفات سے ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر صفت جرم موصوف اپنی صفت سے ملکر مبتدا مؤخر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر نجاسۃ کی صفت نجاسۃ موصوف اپنی صفت سے ملکر اصاب فعل کا فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ ف عاطفہ جفت فعل اس میں ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف ف عاطفہ دلک فعل ھو ضمیر فاعل ھاء ضمیر مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف معطوف علیہ معطوف سے ملکر شرط جاز فعل ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر جزاء

صرف1 جواب
26 جولائی، 2025

"السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ استاذ" ⁉️ `سوال:` "نحوِ میرْ" لفط مرکب ہے یعنی" نحو " مضاف اور "میر "مضاف الیہ `قاعدہ ہے کہ`🧠: مضاف پر الف لام اور تنوین نہیں آتی اور مضاف پر اعراب اسکے مبداء خبر فاعل وغیرہ ہونے کے اعتبار سے آتا ہے، تو یہاں پر نحو پر کسرہ آنے کی کیا وجہ ہے اگر جری حالت میں ہے تو اسکا عامل کون ہے اگر جری حالت میں نہیں ہے تو کسرہ آنے کہ کیا وجہ ہے؟؟؟ "وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں،" `سائلہ: زینب فاطمہ رضویہ ✍🏻`

یہ ترکیب فارسی میں ہے اور ترکیب فارسی میں مضاف پر کسرہ آتا ہے جب عربی ترکیب میں استعمال کریں گے تو لفظ نحو پر عامل کے مطابق اعراب آئے گا

صرف1 جواب
23 جولائی، 2025

تلقیٰ۔ اصل میں کیا تھا اور کیا تعلیل ہوئ ہے تلقی اور الجلب کی صرفی تحقیق کردے

تلَقِّی مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفاعل اس میں تعلیل دو صورتوں میں ہوتی ہے حالت جری اور رفعی میں جب یہ مجرور یا مرفوع ہوگا تو یاء مضموم یا مکسور ما قبل مکسور ہونے کی وجہ سے ساکن ہو جائے گی الجلب اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح

صرف1 جواب
23 جولائی، 2025

جب ہم "اکیلا " بولنا چاہتے ہیں تو" واحد "کہتے ہیں لیکن ،" ایک " بولنا ہوتا ہے تو "احد"کہتے ہیں ، ایسا کیوں

واحد کا مطلب اکیلا ، ایک اور خصوصا اس کا معنی پہلا بھی ہوتا ہےاسی طرح احد کا مطلب بھی اکیلا اور ایک دونوں ہوتے یہ اردو محاورے کا فرق ہوتا ہے بقیہ واحد و احد کا فرق سرچ فرما لیں

صرف1 جواب
23 جولائی، 2025

باسمہ تعالیٰ و تقدس۔ اسکا ترجمہ مع ترکیب بتائیے اوریہ بھی بتا دیجیۓ کہ واو بیچ میں کیوں آ یا۔ اگر نہ لکھے تو کیا یہ جملہ درست ہوگا جواب ارسال فرمائے

ب جار اسم مضاف ھاء ضمیر ذو الحال تعالی فعل ھو ضمیر فاعل جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ و حرف عطف تقدس فعل ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر حال ذو الحال حال ملکر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مجرور جار مجرور ملکر حسب مقام فعل محذوف کے متعلق ہوں گے اللہ کے نام سے جو تمام عیوب بلند و بالا اور پاک ہے واؤ عطف کے لئے بغیر واؤ کے عطف نہیں ہوگا

صرف1 جواب
17 جولائی، 2025

(ربنا اتنا فی الدنیا حسنہ و فی الاخرت حسنہ و وقنا عذاب النار وقنا عذاب القبر وقنا عذاب الحشر) اس جملہ کی ترکیب کریں

رب مضاف نا ضمیر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کو مفعول بہ اس سے پہلے یاء حرف نداء محذوف ہے جو قائم مقام ہے ادعو اس میں انا ضمیر فاعل فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ آت فعل نا ضمیر مفعول بہ اول فی الدنیا جار مجرور ملکر معطوف علیہ فی الآخرۃ جار مجرور ملکر معطوف معطوف علیہ اور معطوف ملکر ظرف لغو پہلا حسنۃ معطوف علیہ دوسرا حسنۃ معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مفعول بہ ثانی فعل فاعل مفعول بہ اول و دوم اور ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ و حرف عطف ق فعل امر اس میں انت ضمیر فاعل نا ضمیر مفعول بہ عذاب مضاف النار مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو منصوب بنزع الخافض اس سے پہلے حرف جر من محذوف ہے فعل فاعل مفعول بہ اور منصوب بنزع الخافض ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ

صرف1 جواب
18 جولائی، 2025

لادینار ولادرھم لزید کی ترکیب

لا نفی جنس دینار معطوف علیہ و حرف عطف لا برائے تاکید درھم معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر لا نفی جنس کا اسم ل جار زید مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابتان کے متعلق اس میں ھما ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر خبر لا نفی جنس اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ

صرف1 جواب
16 جولائی، 2025

عبداللہ لفظ مرکب ہے لیکن کسی انسان کا نام رکھ دیا جائے تو کیا یہ مرکب ہی رہے گا؟ اگر نام رکھ دیا جائے تو یہ اسم ہو جائے گا اور اسم لفظ مفرد کی قسم ہے۔۔۔پھر عبداللہ ایک معنی پر دلالت کریگا یا نہی

لفظ عبد اللہ کو جب کسی کا نام رکھ دیا جائے تو اس وقت بحیثیت نام اس پر مفرد کی تعریف صادق آئے گی لیکن حقیقت اس کی وہی مرکب والے رہے گی البتہ یہ علم ہوگا اور علم کلمہ کی قسم سے نہیں ہے بلکہ اسم کلمہ کی قسم سے ہے

صرف1 جواب
19 جولائی، 2025

کیا ہر نام کی صرفی تحقیق ہوتی ہے ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اس نام کی صرفی تحقیق ہوگی جیسے زید

ہر عربی زبان کے معرب لفظ کی صرف تحقیق ہوگی بس دو چیزیں دیکھیں گے تو پتہ چل جائے گا کہ اس لفظ کی صرفی تحقیق ہوگی یا نہیں پہلی چیز کہ عربی زبان کا لفظ ہو کسی دوسری زبان سے نا آیا ہو دوسری چیز کہ وہ معرب ہو اگر یہ دونوں شرطیں پائی جائیں تو صرفی تحقیق ہوگی ورنہ نہیں

صرف1 جواب
11 جولائی، 2025

اذاطلع علینا رجل شدید بیاض الثیاب شدید سواد الشعراسکی نحوی ترکیب مع اعراب بتائیے ؟

اذ حرف فجائیہ طلع فعل علینا جار مجرور ملکر ظرف لغو رجل موصوف شدید البیاض صفت اول شدید سواد الشعر مرکب اضافی ہو کر صفت ثانی موصوف اپنی دونوں صفات سے ملکر فاعل فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ

صرف1 جواب
20 اپریل، 2025