عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

اعْطیٰ کی صرفی تحقیق

صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افعال اصل میں أَعطَوَ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر الف سے بدلا

صرف1 جواب
10 جنوری، 2025

آمنو کونسا صیغہ ہے

صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب افعال اصل میں أأمَنوا تھا قاعدہ اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو الف سے بدلا تو أامنوا ہوا مدہ کی صورت میں آمنوا لکھیں گے

صرف1 جواب
6 جنوری، 2025

{حدث ن اشتق منہ} اس میں جو نون قطنی ہے وہ کس قاعدے کے تحت آیا ہے اور نون قطنی کا ضابطہ کیا ہے ؟

نون قطنی : یہ وہ نون ہوتا ہے جب تنوین کے بعد ہمزہ وصلی آ جائے تو ہمزہ وصلی کو گرا کر تنوین کے نون ساکن کو کسرہ دیکر لکھتے ہیں اور آگے والے اسم سے ملا کر پڑھتے ہیں یہاں حدث کے تنوین کو نون کی صورت میں لکھا ہوا ہے اور آگے اشتق کے ہمزہ وصلیہ کو گرا کر نون کو شین کے ساتھ ملا کر پڑھیں گے

صرف1 جواب
3 جنوری، 2025

علم صرف کاسوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔ یہ ہے کہ ۔ مجھے ا لم ترکیف کی تعليل۔ بتاےکےاسمیں جو الم تر صیغہ ہے وہااصل۔میں کیا تہا۔۔۔۔۔۔۔۔شکر یہ جزاکم اللہ خیرا

اصل میں ترْءیُ تھا لم کی وجہ سے آخر سے یا گرگئی باقی رہا ترْءَ پھر قاعدہ لگا کہ ہمزہ متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دیکر اسے حذف کرنا واجب ہے پھر ہمزہ کی حرکت ر کو دی اسے حذف کیا تو لم تَرَ ہوا

صرف1 جواب
2 جنوری، 2025

ذَابٌّ اسم فاعل كى تعلیل کیسے حوگی

صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں ذابِبٌ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت پہلے باء کی حرکت حذف کر کے دونوں کا ادغام کیا تو ذاب ہو گیا

صرف1 جواب
1 جنوری، 2025

لقیو پر ضم کیوں ہیں خلو پرفتح ہے۔

لقیو میں قاعدہ لگا کہ لام کلمے میں یاء مضموم ہو ماقبل مکسور ہو اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دیکر اسے حذف کرنا واجب ہے جبکہ خلیو میں قاعدہ لگا واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے یا گرگئی ۔۔

صرف1 جواب
1 جنوری، 2025

تاخیر تعجیل الفطر یوم غیم کی صرفی تحقیق اور نحوی اجراء بتاءیں

نحوی اجراء کے لیے ان کا کلمہ کی کسی اور قسم فعل یا حرف کے ساتھ مستعمل ہونا ضروری ہے۔ جبکہ صرفی لحاظ سے یہ تمام اسما اسم جامد ہیں البتہ در اصل اسم جامد کی دو اقسام ہیں: اسم ذات اسم معنی اسم ذات میں مختلف اشیاء کے نام شامل ہوتے ہیں ۔۔۔ اعلام جبکہ مصادر اسم معنی میں شامل ہیں۔ یوں غیم اسم جامد کی قسم اسم ذات میں سے ہے جبکہ دیگر اسما اسم جامد کی قسم اسم معنی میں سے ہیں۔ ابو سفیان محمد راشد مدنی (صادق آبادی)

صرف1 جواب
30 دسمبر، 2024

سِوَاءَ کی صرفی تحقیق کیا ہے

سِوَاء (عربی: سواء) کی صرفی تحقیق درج ذیل ہے: 1. لغوی معنی: سِوَاءٌ کے معنی ہیں "برابر"، "یکساں"، یا "مساوات"۔ بعض اوقات یہ "سوائے" یا "ما عدا" (استثنا) کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ 2. اصل لفظ: یہ لفظ ثلاثی مجرد باب سے ہے اور اس کا مادہ س و ی (س، و، ی) ہے۔ 3. صنف (اسم/فعل): سِوَاءٌ اسم ہے۔ 4. وزن: اس کا وزن فِعَالٌ ہے۔-- 5. اعراب: سِوَاءٌ حالتِ رفع میں مرفوع ہوگا۔ سِوَاءً حالتِ نصب میں منصوب ہوگا۔ سِوَاءٍ حالتِ جر میں مجرور ہوگا۔ 6. استعمالات: مساوات کے لیے: زیدٌ وسعیدٌ سواءٌ في العِلْمِ۔ (زید اور سعید علم میں برابر ہیں۔) استثناء کے لیے: جاءَ القومُ سواءَ زیدٍ۔ (قوم آئی سوائے زید کے۔)

صرف1 جواب
30 دسمبر، 2024