المشی کی صرفی تحقیق سینڈ کر دیں
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب مشی یمشی
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب مشی یمشی
کسی بھی اسم سے جمع (مذکر سالم) بناتے وقت اس اسم کے آخر میں (ون) یا (ین) کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے مسلم سے مسلمون اور کسی بھی اسم سے (مؤنث سالم )بناتے وقت اس اسم کے آخر میں (ات) کا اضافہ کیا جاتا ہے جیسے مسلم سے مسلمات دوسری بات کسی بھی اسم سے جمع بناتے وقت اگر واحد کا صیغہ سلامت ہوگا تو جمع سالم آئے گی مسلم سے مسلمون اگر واحد کا صیغہ سلامت نہ ہو تو جمع مکسر آئے گی جیسے قلم سے اقلام
باب افعال کا مصدر ہے اصاب یصیب اصابۃ
یہ غیر معلل کلمہ ہے باب افتعال سے استرف یسترف
یہ غیر معلل کلمہ ہے باب افتعال سے استرف ۔یسترف
وہ اسم جو مصدر سے بنایا جائے اسے مشتق کہتے ہیں ۔
الف لام کا ہونا تنوین کا ہونا اضافت کا ہونا حرف جر کا ہونا فعل کی علامات قد سین سوف کا ہونا ماضی مضارع امر نھی کا ہونا
زید قام
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر مثال ۔خمس المال(اس نے مال کا پانچواں حصہ لیا)
مصدر ہے
خذ فعل امر آئے گا
شدّ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف نصر ینصر تعلیل۔ اصل میں شدد تھا قاعدہ دو ہم جنس متحرک ہو ماقبل بھی متحرک ہو تو اس کی حرکت حذف کر کے ادغام واجب پھر شدد سے شدّ ہوا
اصل میں یکْوُنُ تھا قاعدہ لگا کہ واو یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر یکُون ہوگیا لم کے آنے کی وجہ سے ب بھی ساکن واو بھی قاعدے کی وجہ سے ساکن تو اجتماع ساکنین کی وجہ سے واو گرگیا پھر یکن ہوگیا
نحو کے متعلق کتابیں نحومیر الترکیب النحو الکبیر خلاصۃ النحو صرف کے متعلق کتابیں نصاب الصرف شذ العرف
جمع مذکر حاضر امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
رکع یرکع باب فتح یفتح سجد یسجد باب نصر ینصر
اس میں کوئی تعلیل نہیں یہ باب تفعیل ہے وّکل۔یوّکل
صفحۃ المصادر سے مختلف ابواب کی گردانوں کی پریکٹس کریں ان شاءاللہ معلوم ہو جائے گا کہ کونسا صیغہ ہے کس باب سے ہے
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افتعال تعلیل۔ اصل میں یہ یصتود تھا قاعدہ باب افتعال کے فا کلمے میں ص۔ض۔ط۔ظ آجائے تو تاء افتعال کو طاء سے بدلنا واجب ہے ۔اس قاعدے کو مدے نظر رکھا تو یصطود ہوگیا پھر قاعدہ لگا کہ واو یا متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دینا واجب ہے تو پھر یصطاد ہوگیا۔
فم کی اصل فمو ہے یہ ان اسماء میں سے ہے جن کے لام کلمے کو حذف کیا جاتا ہے اس کے عوض کوئی اور حرف لایا جاتا ہے جب اس کی تثنیہ بنائیں گے تو پھر اسی محذوف کو لوٹانا ہوتا ہے لیکن فم کی جب تثنیہ بنے گی اس کے واو کو نہیں لوٹائیں گے بلکہ فمان کہیں گے ید کی بھی صورت حال یہی ہے
ماء اصل میں مَوَہ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو ماہ ہو گیا پھر خلاف قیاس ھاء کو ہمزہ سے بدلا تو ماء ہو گیا
مقوم تھا واو یا یا کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو واو کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے جب اس قاعدے کو استعمال کیا تو مقوْم ہوگیا پھر قاعدہ لگا کہ واو ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے پھر واو کو یاء سے بدلنا تو مقیم ہوگیا ۔۔۔۔
عربی میں "جانان" کا کوئی اصل یا وزن نہیں ہے، کیونکہ یہ خالصتاً فارسی لفظ ہے، جو کہ جان اور ان کا مجموعہ ہے۔ عربی میں اسی مفہوم کے لیے الفاظ جیسے حَبِيب (محبوب) یا عَزِيز (عزیز) استعمال کیے جاتے ہیں۔
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت مجھول ثلاثی مجرد مضاعف باب نصر ینصر
واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف باب نصر ینصر
واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف +مہوز اللام باب افعال
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال
واحد مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی باب ضرب یضرب
مکمل قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ واو جو دوسرے سے بدلی ہوئی نہ ہو اور کسی غیر ملحق کلمے میں واو اور یاء جمع ہو جائیں ان میں سے پہلا ساکن ہو تو اسے یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کریں گے جیسے سیود۔سے سیید پھر سیّد
معنی کے اعتبار سے پہچان ہوگی کیونکہ صفت مشبہ کی دلالت دائمی صفت پر ہوتی ہے جیسے کبیر بروزن فعیل جبکہ اسم مبالغہ میں فاعل کی مصدری معنی پر زیادتی ہوتی ہے جیسے علیم بھت جاننے والا اب وزن ایک ہی ہے فعیل لیکن معنی کو دیکھ کر ہم نے اسم مبالغہ اور صفت مشبہ میں فرق کیا
اس میں یہ قاعدہ جاری ہوا ہے کہ مصدر کا عین کلمہ واو ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اس کی ماضی میں تعلیل ہوچکی ہو جیسے صوام سے صیام اس کی ماضی صام میں بھی تعلیل ہوچکی ہے
کہ مثال واوی کا وزن اگر فعل کے وزن پر ہو تو اس کے واو کو حذف کرکے عین کلمے کو کسرہ دیں گے واو محذوفہ کے عوض گول ۃ کا اضافہ کریں گے وسن سے سنۃ
زاعمان
ماقبل میں بیان کردی گئی ہے
جمع متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء+ناقص یائی ضرب یضرب
أ۔م۔ن
اشیاء کی اصل شیئاء بروزن لفعاء ہے
لم فعل مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کرتا ہے و لما بھی اسی طرح۔ پر لم میں اس فعل کے کرنے کی امید نہیں ہوتی جبکہ لما میں اس کام کے کرنے کی امید ہوتی ہے جس پر ماقبل میں دوام ہوتا ہے لما کے بعد فعل کا حذف ضروری ہوتا ہے جبکہ لم میں اس طرح نہیں ہوتا۔ ھدایۃ النحو ص 196
واحد متکلم فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
مضی ۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی ضرب یضرب یکن۔واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر یبری۔واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی ضرب یضرب
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب تفعل
یہ مصدر ہے اس کا واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف کا صیغہ عقد آتا ہے یہ ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب سے ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
صفحۃ المصادر کتاب میں تمام ابواب کے مصادر بیان کیے گئے ہیں ان سے پریکٹس کریں۔۔
المعدود۔واحذ مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد مضاعف باب نصر ینصر یصح۔واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف باب ضرب یضرب تصرف۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب تفعل
ماقبل میں بیان کردی ہے
و وصلیہ یشترط واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افتعال ۔ سبعۃ مضاف۔شرائط مضاف الیہ ۔مضاف مضاف الیہ ملکر فاعل ل۔حرف جر جواز ۔مضاف۔المسح مضاف الیہ مضاف اور مضاف الیہ ملکر ظرف لغو علی حرف جر الخفین مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو ثانی فعل اپنے فاعل ظرف لغو اور و ثانی سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
یہ جامد ہے
الدنیا اسم جامد ہے
جملہ اسمیہ
اسم جامد، بطور مبالغہ حروفِ اصلیہ: س، ج، ن۔ یہ لفظ ثلاثی مجرد سے مشتق ہے، لیکن چونکہ یہ جامد ہے، اس لیے اس سے مزید الفاظ نہیں بنتے۔ کلمہ کے آخر میں نون آنے کی وجہ سے اسے لام سے بدل دیا گیا اور یہ سجین سے سجیل ہو گیا ہے۔
اجتبی۔یجتبی۔اجتباء۔ھو مجِتب و اجتبی یجتبی اجتباء فذاک مجتَب
اجتبی۔یجتبی۔اجتباء۔ھو مجِتب و اجتبی یجتبی اجتباء فذاک مجتَب
اجتبی۔یجتبی۔اجتباء۔ھو مجِتب و اجتبی یجتبی اجتباء فذاک مجتَب
باب افعال کا مصدر ہے
اضتجع
ماقبل میں بیان کردی گئے ہے
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص باب انفعال۔ قاعدہ لام کلمے میں یا مضموم ہو ماقبل مکسور ہو اس کے بعد واو جمع ہو تو اسے حذف کریں گے
اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب تفعیل اصل میں مسمین تھا یاء پر ضمہ ثقیل ہوگیا اسے حذف کیا تو مسمن ہوگیا اسے ایسے بھی لکھا جا سکتا ہے مسمی
صیغہ واحد، اسم ظرف، ثلاثی مجرد، اجوف واوی از باب نصر ینصر۔۔ فعل کان سے اسم ظرف۔۔۔ اصل میں مکون واو کی زبر سے تھا۔۔۔ ماقبل ساکن کی وجہ سے واؤ کی حرکت ما قبل کو دی اور حرکت کے فتحہ ہونے کی وجہ سے واؤ کو الف سے بدل دیا۔ لہذا یہ مکون سے مکان ہو گیا۔
ثلاثی اسم کے اوزان فَعْلٌ فَعَلٌ فَعِلٌ فَعُلٌ فِعْلٌ رباعی کے اوزان فَعْلَلَ فِعْلِلَ فُعْلُلَ فِعَلّ فِعْلَلَ خماسی کے اوزان فَعَلَّلٗ فَعْلَلِلٗ فِعْللّ
واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال
صرف و نحو کے متعلق سوال کریں
بصریوں کے نزدیک مصدر اصل ہے باعتبار اشتقاق کے جبکہ کوفیوں کے نزدیک فعل اصل ہے باعتبار اشتقاق کے
جمع مذکر حاضر فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام باب افّاعل شروع میں فاء کے آنے کے سبب ہمزہ وصلی گرگیا
اضربا غیر معلل صیغہ ہے تثنیہ مذکر حاضر فعل امر ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
مررت واحد متکلم انا ضمیر فاعل ب حرف جر زید ذو الحال وحدہ حال ۔ذو الحال اپنے حال سے ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل اپنے فاعل اور ظرف لغو سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا ۔ وحدہ ہمیشہ حال واقع ہوتا ہے
آپ کو جس سوال کا جواب مطلوب ہو اس کی تعیین کرکے سینڈ فرمائیں جزاک اللہ
سماعی وہ ہوتے ہیں جو کسی قاعدے کے تحت نہ ہو عرب سے سنے ہوئے ہوں جبکہ قیاسی کسی قاعدے کے تحت ہوتے ہیں
واحد مذکر غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب انفعال
ثلاثی مزید فیہ سے اسم آتا ہے پر بھت کم کیسے اعطاء سے معطاء
ملحق وہ ہوتا ہے جس میں کسی حرف کی زیادتی سے معنی میں زیادتی نہ آئے جیسے جلب سے جلبب جبکہ مزید فیہ میں کسی حرف کی زیادتی کی وجہ سے معنی میں زیادتی ہو جاتی ہے جیسے کرم اور اکرم
ک خطاب کی ضمیر لائیں گے کسرہ کے ساتھ اگر کلام ایک عورت سے ہو جیسے علیکِ جبکہ جمع میں جمع کی ہی ضمیر لائیں گے علیکم
صفت مشبہ کی دلالت دائمی صفت پر ہوتی ہے یہ فعل لازم سے آتی ہے جبکہ اسم مبالغہ وہ ہوتا ہے جو فاعل میں مصدری معنی کی زیادتی پر دلالت کرتا ہے
اصل میں یہ ہمزہ مضارع کے صیغہ واحد متکلم میں حذف ہوا تھا جیسے أُکْرِم اصل میں أُأَکْرِمُ تھا استثقال کے باعث متکلم سے دوسرے ہمزہ کو حذف کیا اور صیغہ واحد متکلم کی یکسانیت کے لئے مضارع کے دیگر صیغوں سے بھی حذف ہوا
اسم فاعل واحد مذکر ثلاثی مجرد صحیح ضرب یضرب معنی (صبر کرنے والا)
مصلی۔واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب تفعیل
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح سالم باب نصر ینصر
یہ باب تفعیل کا مصدر ہے
اسم تفضیل واحد مذکر ثلاثی مجرد مضاعف نصر ینصر
فعل مضارع نفی جحد بلم واحد مذکر غائب رباعی مجرد صحیح باب فعلل
یہ اسم جامد ہے
ابقی۔واحد متکلم فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب مضرب۔واحد مذکر اسم آلہ ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب القا۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افعال اعادہ۔اعاد یعید کا مصدر ہے احب واحد متکلم فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب افعال تجزعھم۔واحد مؤنث غائب فعل مضارع مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افعال
یزیل واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح سالم باب نصر ینصر
اسم فاعل کا وزن ہے اگر کسی کلمے کی پہچان کرنی ہو کہ اسم فاعل کے وزن پر ہے یا نہیں تو اسے اس وزن پر لاتے ہیں اگر فعل ثلاثی مجرد ہو
جیسے باب فی الطھارۃ طھارت کے متعلق باب طھارت کے بارے میں باب
بلال بروزن فعال اسم فاعل سے جمع مکسر کے وزن پر ہے
مقصودا حروف اصلیہ ق۔ص۔د اسم مفعول از باب نصر ینصر
اسد بمعنی شیر یہ جامد ہے
اسد بمعنی شیر یہ جامد ہے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب قضی یقضی
اجزا واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء باب افعال
صام واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
یہ بھی مصدر ہے اس کی گردان تلا یتلو باب نصر ینصر سے آتی ہے تلا زید القرآن
الصوم مصدر ہے اس کی گران صام یصوم سے آتی ہے جیسے زید صام
یہ باب ضرب یضرب سے ہے تعلیل۔ وہ واو جو علامت مضارع مفتوح اور کسرہ کے مابین یا علامت مضارع مفتوح اور فتحہ کے مابین آجائے اسے گرانا واجب ہے اس وجہ سے وجد یوجد کے واو کو گرا دیا تو یجد ہوگیا
اشیاء کی اصل شیئاء بروزن لفعاء ہے اس میں قلب ہوا ہے لام کلمے کو فاء کلمے پر مقدم کیا گیا اس کا منع صرف ہونا اس کی اصل کے اعتبار سے ہے
جہاں دو حروف علت ایک ساتھ آجائیں اسے لفیف مقرون کہتے ہیں