عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

الشتبھت القبلۃ مخبر محراب تحریٰ بخطیئه صلاته استدار بنیٰ فراغه اصاب صحت انکی صرفی تحقیق چاہیے

اشتبھت۔واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افتعال ۔ مخبر۔واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال محراب۔اسم آلہ واحد مذکر ثلاثی مجرد صحیح سالم باب ضرب تحری۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی تفعل استدار ۔باب افتعال کا مصدر بنی واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی ضرب یضرب اصاب ۔واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال صحت۔واحد مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف ثلاثی باب ضرب یضرب

صرف1 جواب
24 نومبر، 2024

بعض اوقات اسم کبھی تثنیہ ،کبھی جمع کا ہوتا ہے تو مصدر ،مشتق ،جامد کی پہچان نہیں ہو پاتی ارشاد فرما دیجیے کہ اس اسم کی واحد کو دیکھتے ہوئے مصدر ،مشتق ،جامد بنائیں گے؟؟؟؟

ان کے مفھوم کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو تمام اشکال واضح ہو جائیں گے جیسے مصدر وہ ہوتا ہے جس سے دوسرے کلمات بنتے ہوں خود کسی سے مشتق نہ ہو مشتق وہ ہوتا ہے جو مصدر سے بنایا جائے جامد وہ ہوتا ہے جو خود کسی ہے بنا ہو نہ اس سے دیگر کلمات بنتے ہوں جیسے زید

صرف1 جواب
18 نومبر، 2024

ھمیں کیسے پتا چلے گا کہ فلاں صیغہ اسم مبالغہ کا ہے یا صفت مشبہ کا جبکہ ترجمہ میں زیادتی کا معنی بھی نہ پتہ چلے جیسے الیم اور کیا کوئی صیغہ ان دونوں کر صادق آسکتا ہے

اگر مفھوم سے واضح نہ ہو تو ان کے اوزان کی طرف مراجعت اختیار کریں گے ویسے عموما ایسا ہوتا نہیں ہے کیوں کہ صفت مشبہ کی دلالت دائمی صفت پر ہوتی ہے اور مبالغہ میں دیگر کے مقابلے میں زیادتی

صرف1 جواب
17 نومبر، 2024

جمع منتهي الجموع کے کتنے اور کون سے اوزان ہیں؟

جمع منھی الجموع کے پانچ اوزان ہیں: 1. أفعال: یہ جمع کا اوزان ہے جو فعل کی جڑ سے مشتق ہوتا ہے، جیسے کہ "کتاب" کا جمع "کتب"۔ 2. أفعال الأسماء: یہ جمع کا اوزان ہے جو اسم کی جڑ سے مشتق ہوتا ہے، جیسے کہ "رجل" کا جمع "رجال"۔ 1. أفعال المعتل: یہ جمع کا اوزان ہے جو فعل کی جڑ سے مشتق ہوتا ہے، لیکن اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے، جیسے کہ "قاضی" کا جمع "قضاة"۔ 2. أفعال المکسر: یہ جمع کا اوزان ہے جو فعل کی جڑ سے مشتق ہوتا ہے، لیکن اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے، جیسے کہ "شیخ" کا جمع "شویخ"۔ 3. أفعال المضاعف: یہ جمع کا اوزان ہے جو فعل کی جڑ سے مشتق ہوتا ہے، لیکن اس میں کوئی تبدیلی آتی ہے، جیسے کہ "أبو" کا جمع "آباء"۔ یہ پانچ اوزان جمع منھی الجموع کی بنیادی اقسام ہیں۔

صرف1 جواب
14 اکتوبر، 2024

ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ کسی کلمہ کے کون سے حروف اصلیہ ہیں کیونکہ بعض حروف جنھیں ہم زائدہ سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ اصلیہ ہوتے ہیں ؟

کسی بھی صیغہ کا وزن معلوم کرنے کے لیے اسے وزن دیا جاتا ہے ف۔ع۔ل کا جو جو حروف اس کے مقابلے میں آئے گے وہ اصلیہ اس کے علاؤہ زائدہ جیسے ضرب بروزن فعل۔ انفطربروزن انفعل تو معلوم ہوا کہ انفطر میں حروف اصلیہ فطر ہے کیونکہ ن باب کی علامت ہے اور علامت حروف اصلیہ نہیں ہوتی جیسا آپ کہ مثال سے واضح ہے

صرف1 جواب
23 نومبر، 2024

لفظ مختار کونسا صیغہ ہے اور کس باب سے ہے

مختار میں دو احتمال ہیں ایک اسم مفعول دوسرا اسم فاعل صیغہ واحد مذکر اسم فاعل/یا مفعول ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افتعال اصل میں مختَیَر یا مختَیِر تھا دونوں میں ایک ہی قاعدہ جاری ہوا ہے واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو تو مختار ہو گیا

صرف1 جواب
16 نومبر، 2024

یُضَرَّ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ،؟

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں یُضْرُرَ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اس قاعدے کے تحت پہلے راء کی حرکت ضاد کو دیکر دونوں کا ادغام کیا

صرف1 جواب
16 نومبر، 2024

تَرُدَّ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟

صیغہ واحد مذکر حاضر / واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں تَرْدُدُ تھا قاعدہ قاعدہ نمبر 3 مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اس قاعدے کے تحت ادغام کیا

صرف1 جواب
16 نومبر، 2024

یَرْثِیْ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں یَرْثِیُ تھا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء کو ساکن کر دیا

صرف1 جواب
16 نومبر، 2024

اگر کوئی صیغہ آجاۓ تو کیسے معلوم ہوگا کہ یہ اسم مبالغہ کا ہے یا صفت مشبہ کا ،اگر اسم مبالغہ کا ہے تو اس کی کیا علامت ہے ؟

ان کے اوزان ایک جیسے ہوتے ہیں اکثر تو دونوں میں سے کوئی بھی مراد لینا درست ہوتا ہے بعض اوقات مقام سے سمجھ آتا ہے کہ صفت مشبہ لینا یا اسم مبالغہ

صرف1 جواب
14 نومبر، 2024

قال اللہ جل شانہ : لا تقتلو اولادکم خشیۃ املاق نحن نرزقکم وایاھم کی ترکیب بتادیں

لا تقتلوا فعل واؤ ضمیر اس کا فاعل اولاد مضاف کم ضمیر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مفعول بہ خشیۃ مضاف املاق مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مفعول لہ فعل فاعل مفعول بہ و لہ ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ نحن مبتدا نرزق فعل نحن ضمیر فاعل کم ضمیر معطوف علیہ و حرف عطف ایاھم معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مفعول بہ فعل فاعل مفعول بہ ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر نحن مبتدا کی خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ

صرف1 جواب
15 نومبر، 2024

المشتھی کی صرفی تحقیق

المشتھی صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افتعال اصل میں المشتھَوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدہ کے تحت المشتَھَیُ ہو گیا پھر یا متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو المشتھی ہو گیا

صرف1 جواب
15 نومبر، 2024

جیسے کہ اسم کی علا متو ں میں سے تثنیہ جمع بھی ہے پھر فعل میں تثنیہ کے صیغے کیوںھےحالانکےیےتواسم کی علامتوں میں ھے أپ ھمیں یےبتاے۔۔۔ساءل طالب سراج چھٹی

فعل جمع یا تثنیہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ جو ضمیریں ہوتی ہیں وہ جمع یا تثنیہ ہوتی ہیں مزید یہ کہ فعل کو جمع یا تثنیہ کہنا یہ مجازی ہے

صرف1 جواب
15 نومبر، 2024