عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

ھم پیچھے اسباق کیسے یاد رکھے؟ جواب ارشاد فرما دیں

اسباق یاد رکھنا قوت حافظہ پر منحصر ہے اگر آپ کا قوت حافظہ اچھا ہے تو جلد اور دیرپا یاد رہیں گے اور اگر زیادہ اچھا نہیں ہے تو وقت محنت لگے گی ایک طریقہ عرض کرتا ہوں روزانہ کا سبق روزانہ دس بار پڑھیں پھر اگلے دن گزشتہ سبق دس بار اور اگلا بھی دس بار یوں چلتے رہیں جب کسی سبق کے پڑھنے کی گنتی سو ہو جائے یا جتنی گنتی پر پختہ یاد ہو جائے وہاں سے اسے روزانہ ایک بار پڑھنا شروع کردیں اس طریقے سے آپ کو سبق سمجھ بھی آئیں گے قوت حافظہ میں بھی بہتری آئے گی

صرف1 جواب
9 اکتوبر، 2024

مبیع میں کیا تعلیل ہوئی ہے؟ اور سائر کا مادہ کیا ہے؟ مع حوالہ؟ اور رباعی مزید فیہ کو لغت میں کیسے تلاش کریں

اصل میں مبیوع تھا یاء متحرک تھی اور اس کا ما قبل ساکن تو یاء کی حرکت ما قبل دے دی پھر یاء ما قبل مضموم تھی اسے واؤ سے بدل دیا تو مبووع ہوگیا اب دونوں واؤ میں سے ایک واؤ کو حذف کیا پھر مبوع ہوگیا اس کے بعد باب کی مناسبت سے واو کو یاء سے بدلا اور ما قبل ضمہ کو کسرہ سے تو مبیع ہوگیا تعلیلات خادمیہ سائر کے حروف اصلیہ س و ر رباعی مزید فیہ کو پہلے تین حرفوں میں تلاش کرتے ہیں یعنی جعفر کو ڈھونڈنے کے ج ع ف میں جائیں تو اس مادے کے بلکل آخر میں رباعی کے افعال و اسماء ہوتے ہیں

صرف1 جواب
6 اکتوبر، 2024

استاد محترم ! جامد کی% 100پہچان کیسے ہو ؟؟؟ مزید جامد کی وہ مثالیں دیجیے جو ہاتھ سے چھوئی نہ جا سکتی ہو

سو فیصد پہچان کے لئے یہ یاد رکھیں اسم جامد ہمیشہ کسی چیز کا نام ہوتا ہے چاہے وہ محسوس کی جانی والی ہو یا دیکھی جانے والی وغیرہ جیسے ہوا مکھی مچھر جراثیم مرغا کبوتر گیس بو بھوک پیاس وغیرہ اور مصدر فعل ہوتا ہے کوئی نا کوئی کام ہوتا ہے جیسے پیاس لگنا بھوک لگنا وغیرہ

صرف1 جواب
3 اکتوبر، 2024

استاد صاحب خطایا جامد ہے لیکن آپ نے فرمایا تھا کہ جامد وو ہوتا ہے جسے ہاتھ سے محسوس کیا جاتا ہے اور خطایا اسکا معنی برائیاں ہے

میں نے جو فرمایا تھا وہ ایک پہچان ہے محترم وہ آپ مصدر جامد کی پہچان میں مدد دے سکتی ہے یعنی ہر وہ چیز جو چھوئی جا سکے وہ جامد ہوگی لیکن ہر جامد چیز چھوئی نہیں جا سکتی جیسے عقل

صرف1 جواب
1 اکتوبر، 2024

استاد جی ! سوال عرض ہے راہنمائی فرمائی کہ افعال قلوب متصرف ہیں یا غیر متصرف ؟؟؟ کیونکہ ہم نے ایک نقشہ پڑھا ہے اس میں افعال قلوب کو غیر متصرف شمار کیا ہوا ہے حلانکہ افعال قلوب کی ماضی ،،امر نہی کی گردانیں بنتی ہے وجہ ارشاد فرما دیجئیے

افعال قلوب متصرف ہوتے ہیں

صرف1 جواب
1 اکتوبر، 2024

اصابتھم کی تعلیل اور تحقیق بتادیں ۔۔

اصابت صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں أَصْیَبَت تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت صاد کو دیکر یاء کو الف سے بدلا تو اصابت ہو گیا

صرف1 جواب
29 ستمبر، 2024

اطاع کی صرفی تحقیق اور تعلیل بتادیں ۔۔

اطاع صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال اصل میں أَطْوَعَ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدہ کے تحت واو کی حرکت طاء کو دیکر واؤ کو الف سے بدلا تو اطاع ہوگیا

صرف1 جواب
29 ستمبر، 2024

مصدر اور اسم مصدر میں کیسے فرق کرے طریقہ وضاحت کے ساتھ ارشاد فرما دیجیے محترم صاحب

ایک آسان فرق ملاحظہ فرمائیں مصدر کسی کام کو کرنا کہلاتا ہے جیسے مارنا پیٹنا دوڑنا بھاگنا اور اسم مصدر اس کام کا نام ہوتا ہے جیسے اداء کلام سلام وغیرہ یہ ایک آسان فرق ہے دوسرا فرق یہ ہے کہ مصدر تو اپنے فعل ماضی کے تمام حروف پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ اسم مصدر میں ماضی کی نسبت کچھ حروف کم ہوتے ہیں یعنی جو مصدر کے اوزان ہیں ان کے علاوہ کسی وزن پر ہو جیسے باب تفعیل کا مصدر تکلیم ہے تو اسم مصدر کلام ہوگا

صرف1 جواب
30 ستمبر، 2024

آتوا کی صرفی تحقیق کریں

آتُوا صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء و ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں آَتِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت آَتُوا ہو گیا

صرف1 جواب
29 ستمبر، 2024

قال باع بعن یباع یقال خفن قائل اس میں کون سے قوانین جاری کیا ہے

قال باع میں درج ذیل قانون جاری ہوئے ہیں قاعدہ اگر فتحہ کے بعد واو یا یاء متحرک آجائے تو اسے چند شرائط کے ساتھ الف سے بدلنا واجب ہے بِعْن قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے یقال یباع قاعدہ واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے بشرطیکہ قاعدہ نمبر 1 کی شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چھ 6 شرائط بھی اس میں پائی جائیں۔ (۱) واو اور یاء کے بعد حرف ساکن نہ ہو۔ لہذا مِقْوَالٌ میں یہ اصول جاری نہیں ہوگا (۲) واؤ اور یا والا کلمہ اسمِ تفضیل نہ ہو۔ جیسے: "اَقْوَلُ" (۳) وہ کلمہ فعلِ تعجب نہ ہو۔ جیسے: "مَااَقْوَلَہٗ" (۴) وہ کلمہ صفتِ مشبہہ بروزن "اَفْعَلُ" نہ ہو۔ جیسے: "اَسْوَدُ" (۵) وہ کلمہ ملحق نہ ہو۔ جیسے: "شَرْیَفَ" (۶) وہ کلمہ اسمِ آلہ نہ ہو۔ جیسے: "مِقْوَلٌ" قائل قاعدہ ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو

صرف1 جواب
29 ستمبر، 2024

مات یموت کونس صیغہ ہے اس کی صرفی تحقیق کیسے ہو گئی

مات صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں مَوَتَ تھا واو متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو مات ہو گیا یموت صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَمْوُت تھا واؤ متحرک ما قبل حرف ساکن تھا اس کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر دی تو یَمُوت ہو گیا

صرف1 جواب
18 ستمبر، 2024

لن ترانی صرفی تحقیق بتادیں

لن ترا صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع جحد بلن معروف ثلاثی مجرد مہموز العین و ناقص یائی از باب فتح یفتح اصل میں لن تَرْأَیَ تھا ھمزہ متحرک کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر کے ہمزہ کو حذف کیا تو لن تَرَیَ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو تَرَا ہوگیا

صرف1 جواب
26 ستمبر، 2024

صرف میں ضمیر منفصل کی دو اقسام کیوں ہیں؟؟ جبکہ ضمیر متصل کی تین اقسام ہیں

ہونی تو دونوں کی تین تین تھیں لیکن ضمیر مجرور منفصل نہیں ہوتی کیوں کہ ضمیر منفصل کا عامل محذوف بھی ہوسکتا ہے اور یہ ضمائر اپنے عامل پر مقدم بھی ہو سکتی ہیں جبکہ حرف جر کا معمول نا اس پر مقدم ہو سکتا ہے نا محذوف اس وجہ سے ضمیر مجرور منفصل نہیں ہوتی اس میں اور بھی کافی تفصیل ہے

صرف1 جواب
27 ستمبر، 2024