عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,696 جوابات شدہ سوالات

صرف میں صیغے کے وزن کے لئے ف ع ل کو کیوں مختص کیا ہے

اس کی دو وجوہ ہیں فعل کا معنی ہوتا ہے کام کرنا اب یہ معنی فعل میں پایا جاتا ہے چاہے اس کا کوئی بھی مصدر کے ضرب نصر سمع وغیرہ سب افعال ہیں اس وجہ سے وزن کے لئے یہ الفاظ منتخب کیئے گئے دوسری وجہ یہ ہے کہ حروف کے مخارج تین ہیں حلق جوف دہن اور شفتین تو تینوں مخارج سے ایک ایک حرف لیکر انہیں وزن میزان بنایا گیا ف شفوی ہے عین حلقی اور ل جوف دہن سے ادا ہوتا ہے

صرف1 جواب
23 مئی، 2024

کلمہ کا وزن کرنے کامکمل طریقہ

کسی کلمہ کے حروف اصلیہ و زائدہ کی پہچان کا طریقہ اس کی پہچان کے لیے سب سے پہلے اس کلمہ کا وزن معلوم کرنا ضروری ہے۔ صرفیوں نے کلمہ کا وزن کرنے کے لئے بطور میزان تین حروف کا انتخاب کیا ہے ف ع اورل، لہذا ہر کلمہ کے وزن میں ہمیشہ ف يا ع اور ایک یا دو یا تین ل ضرور ہوں گے۔ وزن معلوم کرنے کے بعد جو حروف ف، ع اور ایک یا دو یا تین لام کی جگہ پر واقع ہوں گے وہ حروف اصلیہ اور جو ان کے علاوہ ہوں گے وہ حروف ز ائدہ کہلائیں گے موزون میں جوصرف وزن کے فاء کے مقابلے میں آئے اسے فاء کلمہ، جو عین کے مقابلے میں آئے اسے عیں کلمہ اور جو لام کے مقابلے میں آئے اسے لام کلمہ کہا جاتا ہے۔

صرف1 جواب
7 مئی، 2024

معنی ک صرفی تحقیق کیا ہے

معنی کی تحقیق: معنی کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ ١. اس کو اسم مفعول بروزن (مَعْنُوْيٌ) مانا جاۓ۔ ٢. اس کو اسم ظرف بروزن (مَعْنَيٌ) مانا جاۓ۔٣. اس کو مصدر میمی بروزن (مَعْنَيٌ) مانا جاۓ۔ معنی یہ اسم مقصور ہے۔ اور الف لام ہونے کی صورت میں تو اس کا اسم مقصور ہونا ظاہر ہی ہے۔ اور اگر اس پر الف لام نہ ہو بلکہ تنوین کی صورت میں ہو تو۔ کہا جاۓگا کہ یہاں پر الف مقصورہ تقدیری طور پر ہے۔ اعتراض: اگر کوئی یہ کہے کہ آپ اس کو اسم مقصور کہتے ہیں۔ یعنی اس کے آخر میں الف مقصورہ ہے۔ اور الف مقصورہ یہ ایک ایسا سبب ہے جو کسی بھی اسم کو غیر منصرف کرنے کے لۓ کافی ہے۔ تو آپ کے حساب سے معنی کو غیر منصرف ہونا چاہئے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ معنی تو منصرف ہے۔ جواب: اس الف مقصورہ و ممدودہ کو دو سبب کے قائم مقام مانا جاۓگا جو الف مقصورہ و ممدودہ زائدہ ہوں اصلی نہ ہوں۔ جیسے۔علماء، صحراء، وغیرہ۔اور اگر یہ اصلی ہوں تو ان کو دو سبب کے قائم مقام نہیں مانا جاۓگا اور نہ ہی ان کی وجہ سے وہ اسم غیر منصرف ہوگا جیسے۔ سماء، معنی، وغیرہ۔ اسم ظرف یا مصدر میمی مان کر تعلیل: یہ اصل میں «مَعْنَيٌ» تھا اس کو آسانی کے لۓ اس طرح لکھ لیتے ہیں۔ مَعْنَيُنْ اب قاعدہ ہے واو یا یاء متحرک ما قبل مفتوح ہو تو واو یا یاء کو الف سے بدلنا واجب ہے۔ (نصاب الصرف۔٢٢٦) تو یاء متحرک ما قبل مفتوح ہونے کی وجہ سے یاء کو الف سے بدل دیا تو یہ«مَعْنَانْ» ہو گیا اور اب اجتماع ساکنین کی وجہ سے الف کو گرا دیا تو یہ «مَعْنَنْ» ہو گیا جس کو اس طرح لکھتے ہیں۔ مَعْنیً اور الف لام ہو تو المَعْنی لکھتے ہیں۔ اسم مفعول مان کر تعلیل: یہ اصل میں۔ «مَعْنُوْيٌ» تھا۔ قاعدہ یہ ہے۔کہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہواگر کسی غیر ملحق کلمہ میں یاء کے ساتھ جمع ہو جاۓ اور ان میں پہلا حرف۔ واو، یا یاء، ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے۔[نصاب الصرف۔ ٢٣٠] تو واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو یہ «مَعْنُيٌّ» ہو گیا۔پھر یاء کی مناسبت سے ما قبل کے ضمے کو کسرہ سے بدل دیا۔ اور کثرت استعمال کی وجہ سے خلاف قیاس ایک یاء کو گرا دیا۔ اور خلاف قیاس ہی ما قبل کے کسرہ کو فتحہ سے بدل دیا۔ تو یہ۔«مَعْنَيٌ» ہو گیا اور بقیہ تعلیل اسی طرح ہوگی جو اوپر ذکر کی گئی ہے

صرف1 جواب
11 مئی، 2024