عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

لمتن کون سا صیغہ ہے

صیغہ جمع مؤنث حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لَوَمْتُن تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو لامتن ہوا الف اور میم میں اجتماع ساکنین ہوا تو الف کو گرا دیا پھر لام ( فاء کلمہ ) کو ضمہ دیا گیا قاعدہ نمبر 5 جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے

صرف1 جواب
16 اگست، 2024

اتمو کی صرفی تحقیق مع قاعدہ تعلیل

صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افعال اصل میں أَتْمِمُوا تھا دو ہم جنس حروف جمع ہوئے دونوں متحرک تھے اور ان کا ما قبل ساکن تھا تو پہلے میم کی حرکت تاء کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو أَتِمُّوا ہوگیا

صرف1 جواب
23 اگست، 2024

یُسَمّٰی كونسا صیغه هے

یسمی صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل اصل میں یُسَمَّوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے مذکور قاعدے کے مطابق واو کو یاء سے بدلا تو یسمَّیُ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو یسمی ہوگیا

صرف1 جواب
23 اگست، 2024

اشتقاق کی قسمیں مع تعریف بتائین

اشتقاق کی تین قسمیں ہیں اشتقاق صغیر : دونوں کلموں ( مشتق منہ اور مشتق ) کے درمیان حروف اور ترتیب دونوں میں مناسبت ہو جیسے الضرب مصدر سے ضرب کہ ترتیب بھی ایک ہے اور حروف بھی ایک ہی ہیں اشتقاق کبیر : دو کلموں میں مناسبت فقط لفظ و معنی میں ہو ترتیب میں نا ہو جیسے جذب سے جبذ اب یہاں ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہے لفظ بھی دونوں کے ایک ہیں لیکن ترتیب الگ ہء جذب میں باء بعد ذال پہلے ہے جبذ میں باء پہلے اور ذال بعد میں ہے اشتقاق اکبر : دونوں کلموں میں فقط مخرج میں مناسبت ہو جیسے النھق مصدر سے نعق فعل بنایا گیا تو ان مصدر اور فعل میں مخرج ھاء اور عین کا حلق ہے تو یہی ان میں مناسبت ہے

صرف1 جواب
19 اگست، 2024

اشتقاق کی قسمیں بتادیجئے مع تعریف اور مثال جزاک اللہ خیرا

اشتقاق کی تین قسمیں ہیں اشتقاق صغیر : دونوں کلموں ( مشتق منہ اور مشتق ) کے درمیان حروف اور ترتیب دونوں میں مناسبت ہو جیسے الضرب مصدر سے ضرب کہ ترتیب بھی ایک ہے اور حروف بھی ایک ہی ہیں اشتقاق کبیر : دو کلموں میں مناسبت فقط لفظ و معنی میں ہو ترتیب میں نا ہو جیسے جذب سے جبذ اب یہاں ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہے لفظ بھی دونوں کے ایک ہیں لیکن ترتیب الگ ہء جذب میں باء بعد ذال پہلے ہے جبذ میں باء پہلے اور ذال بعد میں ہے اشتقاق اکبر : دونوں کلموں میں فقط مخرج میں مناسبت ہو جیسے النھق مصدر سے نعق فعل بنایا گیا تو ان مصدر اور فعل میں مخرج ھاء اور عین کا حلق ہے تو یہی ان میں مناسبت ہے

صرف1 جواب
20 اگست، 2024

اشتقاق کی قسمیں بتادیجئے مع تعریف اور مثال جزاک اللہ خیرا

اشتقاق کی تین قسمیں ہیں اشتقاق صغیر : دونوں کلموں ( مشتق منہ اور مشتق ) کے درمیان حروف اور ترتیب دونوں میں مناسبت ہو جیسے الضرب مصدر سے ضرب کہ ترتیب بھی ایک ہے اور حروف بھی ایک ہی ہیں اشتقاق کبیر : دو کلموں میں مناسبت فقط لفظ و معنی میں ہو ترتیب میں نا ہو جیسے جذب سے جبذ اب یہاں ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہے لفظ بھی دونوں کے ایک ہیں لیکن ترتیب الگ ہء جذب میں باء بعد ذال پہلے ہے جبذ میں باء پہلے اور ذال بعد میں ہے اشتقاق اکبر : دونوں کلموں میں فقط مخرج میں مناسبت ہو جیسے النھق مصدر سے نعق فعل بنایا گیا تو ان مصدر اور فعل میں مخرج ھاء اور عین کا حلق ہے تو یہی ان میں مناسبت ہے

صرف1 جواب
20 اگست، 2024

مقام صرف میں کیا ہے؟

مقام میں تین احتمال ہیں مَقَام ہو تو صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر مُقام اس صیغے میں تین احتمال ہیں ایک مصدر میمی دوم اسم ظرف تین اسم مفعول یہ تینوں ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال سے ہوں گے ان سب میں تعلیل ایک ہی ہوگی قاعدہ واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے بشرطیکہ قاعدہ نمبر 1 کی شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چھ 6 شرائط بھی اس میں پائی جائیں۔ (۱) واو اور یاء کے بعد حرف ساکن نہ ہو۔ لہذا مِقْوَالٌ میں یہ اصول جاری نہیں ہوگا (۲) واؤ اور یا والا کلمہ اسمِ تفضیل نہ ہو۔ جیسے: "اَقْوَلُ" (۳) وہ کلمہ فعلِ تعجب نہ ہو۔ جیسے: "مَااَقْوَلَہٗ" (۴) وہ کلمہ صفتِ مشبہہ بروزن "اَفْعَلُ" نہ ہو۔ جیسے: "اَسْوَدُ" (۵) وہ کلمہ ملحق نہ ہو۔ جیسے: "شَرْیَفَ" (۶) وہ کلمہ اسمِ آلہ نہ ہو۔ جیسے: "مِقْوَلٌ" تو اصل میں مُقْوَم یا مَقْوَمٌ تھا واؤ کی حرکت ما قبل قاف کو دیکر واؤ کو الف سے بدلا تو مقام ہوگیا لیکن اصل میں یہ اسم ظرف زیادہ استعمال ہوتا ہے بمعنی رہائش گاہ

صرف1 جواب
11 اگست، 2024

صرف صغیر میں اسم فاعل کے ساتھ فھو اور مفعول کے ساتھ فذاک کیوں آتا ہے

در اصل صفت کے صیغے کے لیے موصوف یا کسی معتمد کا ہونا ضروری ہے یعنی کوئی ایسا اسم پیچھے ہو جس کا یہ وصف بیان کرتے ہوں اسم فاعل و اسم مفعول دونوں صفت کے صیغے ہیں تو اسی وجہ سے ان کے پیچھے فھو اور فذاک کا اضافہ کیا ہے اب سوال ہے کہ ایک جگہ فھو اور دوسری جگہ فذاک کیوں لائے اسم فاعل کے ساتھ فھو لگانے کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہوسکتی ہے کہ یہ قیاس کے مطابق ہے کہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف ہے جبکہ اسم مفعول ڈے پہلے فذاک کا اضافہ اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ یہ قیاس سے بعید ہے کیوں کہ اسم مفعول میں نسبت مفعول کی طرف ہوتی ہے اور یہ خلاف قیاس ہے اس وجہ سے اسم اشارہ بعید لگایا ہے و اللہ اعلم بالصواب اور ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جیسے حروف کے مجموعہ بنائے جاتے ہیں جن کے کوئی معنی نہیں ہوتے جیسے خص ضغط قظ حروف مستعلیہ یا حروف قلقلہ کا مجموعہ وغیرہ یہ بھی ایسے ہو کہ طلباء کو اوزان یاد ہو سکیں اور ان کی کوئی وجہ خاص نا ہو ہو

صرف1 جواب
11 اگست، 2024

ثلاث کا آپ نے فرمایا کہ یہ مضاعف ہے ۔ کیا ایک جنس کے دو حروف چاہے فا اور عین کلمہ میں ہو چاہے یا عین اور لام کلمہ میں یا فا اور لام کلمہ میں ہوں وہ مضاعف ہی کہلائیں گے ۔ عین اور لام کلمہ میں ہونا ضروری نہیں ہے ؟؟؟ جیسےمدّ

عربی کتب یا فارسی کتب میں تو تعریف یہی ہے کہ مضاعف رباعی وہ کلمہ جس کے عین اور لام کلمہ میں دو حرف صحیح ایک جنس کے نا ہوں لیکن ان کے حواشی میں اس تعریف پر اعترضات کیئے جاتے ہیں اور ہماری اردو کتب میں مطلق تعریف ہوتی ہے جس کلمے میں دو حرف ایک جنس کے ہوں

صرف1 جواب
20 اگست، 2024

ایام کی صرفی تحقیق اور تعلیل بیان کر دیجیۓ

ایام اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون اصل میں ایوام تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے تو ایوام میں واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو ایام ہوگیا حروف اصلیہ ی و م

صرف1 جواب
12 اگست، 2024

قل کا اجراء کرو ؟

صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل أُقْوُلْ تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو جاری ہوا تو واو کی حرکت ما قبل کو دی پھر واؤ اور لام دو ساکن جمع ہوئے تو واو حذف کر دی پھر فاء کلمہ متحرک ہونے کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصلیہ برائے امر کی حاجت نا رہی تو پیچھے قل بچ گیا

صرف1 جواب
20 اگست، 2024

لم تجز کی صرفی تحقیق بیان کردیجیے مع تعلیل

لم تجز صیغہ واحد مذکر حاضر یا صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لم تجُوزُ تھا لم کی وجہ سے زاء کو ساکن کیا تو واؤ اور زاء دونوں ساکن ہونے کی وجہ سے واو کو گرا دیا تو لم تجز ہوگیا

صرف1 جواب
12 اگست، 2024

یتقی کونسا صیغہ ہے

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال قاعدہ وه واو یا یاء جو باب "اِفْتِعَالٌ"، "تَفَعَّلٌ" يا "تَفَاعُلٌ" کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاءسے بدل کر ادغام کر دیا جا تا ہے۔ (اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واو یا اء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو) اصل میں یوتقی تھا واو کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا تو یتقی ہوگیا

صرف1 جواب
11 اگست، 2024

لترون کون سا صیغہ ہے

لتَرَوُنَّ صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت بللام توکید و نون توکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد مہموز العین و ناقص یائی از باب فتح یفتح اصل میں لَتَرْأَیُونّ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح تھا یاء کو الف سے بدلا پھر یاء اور واؤ دونوں ساکن تھے تو یاء کو حذف کر دیا پھر بچا لترأون پھر یاء ہمزہ متحرک ما قبل مفتوح تھا ھمزہ کی حرکت ما قبل کو دیکر ھمزہ کو حذف کیا تو لترون بچ گیا نون ثقیلہ جب جمع مذکر سالم کا صیغہ ہو اور ناقص ہو تو حرف علت گرا کر واو ضمیر کو ضمہ دیتے ہیں

صرف1 جواب
11 اگست، 2024

ایام صیغہ اور تعلیل بیان کر دیں

صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون مادہ ی و م قاعدہ نمبر 11 ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اصل میں ایوام تھا مذکورہ بالا قاعدہ کے مطابق واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو ایام ہو گیا

صرف1 جواب
9 اگست، 2024

مرئية کی صرفی تحقیق بتا دیجیے جزاک اللہ خیرا

مرئیۃ اصل میں مرءویۃ تھا قاعدہ # واو اور یاء ایک کلمہ میں جمع ہوں اور ان میں سے پہلا ساکن ہو تو واؤ کو یاء سے بدل دینا واجب ہے اور یاء کا یاء ثادغا۔ کرنا واجب ہے مرءویۃ میں واؤ کو یاء سے بدلا تو مرءییۃ ہوگیا پھر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو مرءیَّۃ ہوگیا پھر یاء کی مناسبت سے ھمزہ کے فتحہ کو کسرہ دیا تو مرئِیَّۃ ہوگیا صیغہ واحد مؤنث اسم مفعول ثلاثی مجرد مہموز العین و ناقص یائی از باب فتح یفتح

صرف1 جواب
18 اگست، 2024

مقیم کی تعلیل کیسے ہو گی

مقیم اصل میں مُقْوِمٌ تھا قاعدہ واؤ یا یاء متحرک ہوں ان کا ما قبل ساکن ہو تو ان دونوں کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کرنا واجب ہے واؤ کی حرکت کاف کو دی تو مُقِوْمٌ ہوگیا قاعدہ واؤ درمیان کلمہ میں ساکن ہو اور اس سے پہلے کسرہ ہو تو واؤ کو یاء بدل دینا واجب ہے واؤ کو یاء سے بدلا تو مُقِیْمٌ ہوگیا

صرف1 جواب
17 اگست، 2024