آداب کی صرفی تحقیق
اسم جامد ثلاثی مجرد مہموز الفاء اصل أأداب تھا دو ہمزہ جمع ہوئے دوسرا ساکن تھا اسے پہلے ہمزہ کی حرکت کے موافق حرف علت سے بدلا تو أاداب ہوگیا لکھنے میں آداب ہوگا
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
اسم جامد ثلاثی مجرد مہموز الفاء اصل أأداب تھا دو ہمزہ جمع ہوئے دوسرا ساکن تھا اسے پہلے ہمزہ کی حرکت کے موافق حرف علت سے بدلا تو أاداب ہوگیا لکھنے میں آداب ہوگا
وہ کلمہ جس میں تین حرف اصلیہ ہوں اور کوئی زائد حرف نا ہو
دع کا مصدر وَدْعًا ہے
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں نَوَس تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو ناس ہوگیا
اسم جامد ثلاثی مجرد مہموز الفاء و ناقص واوی اصل میں أمَوَۃ تھا آخر سے واو سماعا خلاف قیاس حذف ہوئی
فعل وہ کلمہ جو دوسرے کلمہ سے ملے بغیر اپنے معنی پر دلالت کرے اور اس کا معنی کسی زمانے (ماضی، حال یا مستقبل) سے ملا ہوا ہو جیسے: ضَرَبَ
صیغہ جمع مؤنث حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لَوَمْتُن تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو لامتن ہوا الف اور میم میں اجتماع ساکنین ہوا تو الف کو گرا دیا پھر لام ( فاء کلمہ ) کو ضمہ دیا گیا قاعدہ نمبر 5 جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے
اسم غیر منصرف کی علامت نہیں ہوتی اس کے اسباب ہیں جن کی تعداد نو ہے
ڈبل سوال
صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
عبد الولی کا مطلب ہے ولی کا بندہ
ہماری ایپ میں گردان والے سیکشن میں ہوں گی
گردان والے سیکشن میں دیکھیں
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افعال اصل میں أَتْمِمُوا تھا دو ہم جنس حروف جمع ہوئے دونوں متحرک تھے اور ان کا ما قبل ساکن تھا تو پہلے میم کی حرکت تاء کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو أَتِمُّوا ہوگیا
سوال سمجھ نہیں آیا
کان صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں کَوَنَ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو کان ہوگیا
یسمی صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل اصل میں یُسَمَّوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے مذکور قاعدے کے مطابق واو کو یاء سے بدلا تو یسمَّیُ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو یسمی ہوگیا
نیچے لکھے ہوئے ہیں
صرف صغیر کسی کلمہ کو اس کے بعض صيغوں کی طرف پھیرنا صرف کبیر کسی کلمہ کو اس کے تمام صيغوں کی طرف پھیرنا
گردان کی تعریف اسم یا فعل کے کسی صیغہ کو مختلف صیغوں کی طرف پھیرنا ، اسے عربی میں صرف یا تصریف بھی کہتے ہیں صرف صغیر کسی کلمہ کو اس کے بعض صيغوں کی طرف پھیرنا صرف کبیر کسی کلمہ کو اس کے تمام صيغوں کی طرف پھیرنا
اصل میں وَقَیَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو وقٰی ہوگیا
الحاق کی تعریف ثلاثی یا رباعی مجرد میں کسی حرف کی زیادتی کر کے اس کو رباعی یا خماسی کے ہم وزن کرنا الحاق کہلاتا ہے فائدہ نمبر 1 جسے ہم وزن کیا جائے اسے مُلْحَق اور جس کے ہم وزن کیا جاۓ اسے مُلْحَق بِهٖ کہتے ہیں
ہماری اسی ایپ میں جا کر گردان والا سیکشن چیک کریں
ھدی اصل میں ھُدَیُنْ تھا ( تنوین اصل میں نون ساکن ہوتی ہے اس وجہ سے کھول کر لکھا ہے ) یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا پھر الف اور نون دونوں ساکن تھے تو الف کو گرا دیا تو ھُدَنْ ہوگیا اگر اس کو تنوین کی صورت میں لکھیں تو ھُدًی ہوگا
اللہ پاک ہے
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب تفعیل
قَوَلَ اصل تھی
صرف کو یاد کرنے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی مشق کریں تو یوں یاد ہوگی اور آگے بھی یاد رہے گی ۔صرف قواعد یاد رکھ لئے تو جلد ہی بھول جائیں گے
صیغہ واحد اسم جامد ثلاثی مجرد ناقص واوی اس میں مختلف اقوال ہیں اس کی اصل میں
لِم تو کوئی صیغہ نہیں بنتا لُم بن سکتا ہے جیسے قل ہے
اشتقاق کی تین قسمیں ہیں اشتقاق صغیر : دونوں کلموں ( مشتق منہ اور مشتق ) کے درمیان حروف اور ترتیب دونوں میں مناسبت ہو جیسے الضرب مصدر سے ضرب کہ ترتیب بھی ایک ہے اور حروف بھی ایک ہی ہیں اشتقاق کبیر : دو کلموں میں مناسبت فقط لفظ و معنی میں ہو ترتیب میں نا ہو جیسے جذب سے جبذ اب یہاں ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہے لفظ بھی دونوں کے ایک ہیں لیکن ترتیب الگ ہء جذب میں باء بعد ذال پہلے ہے جبذ میں باء پہلے اور ذال بعد میں ہے اشتقاق اکبر : دونوں کلموں میں فقط مخرج میں مناسبت ہو جیسے النھق مصدر سے نعق فعل بنایا گیا تو ان مصدر اور فعل میں مخرج ھاء اور عین کا حلق ہے تو یہی ان میں مناسبت ہے
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف یائی
سوال سمجھ نہیں آیا
نساء منصرف ہے اس کے آخر میں الف ممدودہ برائے تانیث نہیں بلکہ وہ اصلی ہے الف ممدودہ کے غیر منصرف کا سبب بنے کے لئے شرط ہے کہ وہ زائدہ ہو
مولا کا مادہ و ل ی ہے وزن مفعل
وہ کلمہ جس کے حروف اصلیہ میں ایک حرف اصلی ہمزہ ہو
اشتقاق کی تین قسمیں ہیں اشتقاق صغیر : دونوں کلموں ( مشتق منہ اور مشتق ) کے درمیان حروف اور ترتیب دونوں میں مناسبت ہو جیسے الضرب مصدر سے ضرب کہ ترتیب بھی ایک ہے اور حروف بھی ایک ہی ہیں اشتقاق کبیر : دو کلموں میں مناسبت فقط لفظ و معنی میں ہو ترتیب میں نا ہو جیسے جذب سے جبذ اب یہاں ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہے لفظ بھی دونوں کے ایک ہیں لیکن ترتیب الگ ہء جذب میں باء بعد ذال پہلے ہے جبذ میں باء پہلے اور ذال بعد میں ہے اشتقاق اکبر : دونوں کلموں میں فقط مخرج میں مناسبت ہو جیسے النھق مصدر سے نعق فعل بنایا گیا تو ان مصدر اور فعل میں مخرج ھاء اور عین کا حلق ہے تو یہی ان میں مناسبت ہے
اشتقاق کی تین قسمیں ہیں اشتقاق صغیر : دونوں کلموں ( مشتق منہ اور مشتق ) کے درمیان حروف اور ترتیب دونوں میں مناسبت ہو جیسے الضرب مصدر سے ضرب کہ ترتیب بھی ایک ہے اور حروف بھی ایک ہی ہیں اشتقاق کبیر : دو کلموں میں مناسبت فقط لفظ و معنی میں ہو ترتیب میں نا ہو جیسے جذب سے جبذ اب یہاں ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہے لفظ بھی دونوں کے ایک ہیں لیکن ترتیب الگ ہء جذب میں باء بعد ذال پہلے ہے جبذ میں باء پہلے اور ذال بعد میں ہے اشتقاق اکبر : دونوں کلموں میں فقط مخرج میں مناسبت ہو جیسے النھق مصدر سے نعق فعل بنایا گیا تو ان مصدر اور فعل میں مخرج ھاء اور عین کا حلق ہے تو یہی ان میں مناسبت ہے
مقام میں تین احتمال ہیں مَقَام ہو تو صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر مُقام اس صیغے میں تین احتمال ہیں ایک مصدر میمی دوم اسم ظرف تین اسم مفعول یہ تینوں ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال سے ہوں گے ان سب میں تعلیل ایک ہی ہوگی قاعدہ واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے بشرطیکہ قاعدہ نمبر 1 کی شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل چھ 6 شرائط بھی اس میں پائی جائیں۔ (۱) واو اور یاء کے بعد حرف ساکن نہ ہو۔ لہذا مِقْوَالٌ میں یہ اصول جاری نہیں ہوگا (۲) واؤ اور یا والا کلمہ اسمِ تفضیل نہ ہو۔ جیسے: "اَقْوَلُ" (۳) وہ کلمہ فعلِ تعجب نہ ہو۔ جیسے: "مَااَقْوَلَہٗ" (۴) وہ کلمہ صفتِ مشبہہ بروزن "اَفْعَلُ" نہ ہو۔ جیسے: "اَسْوَدُ" (۵) وہ کلمہ ملحق نہ ہو۔ جیسے: "شَرْیَفَ" (۶) وہ کلمہ اسمِ آلہ نہ ہو۔ جیسے: "مِقْوَلٌ" تو اصل میں مُقْوَم یا مَقْوَمٌ تھا واؤ کی حرکت ما قبل قاف کو دیکر واؤ کو الف سے بدلا تو مقام ہوگیا لیکن اصل میں یہ اسم ظرف زیادہ استعمال ہوتا ہے بمعنی رہائش گاہ
در اصل صفت کے صیغے کے لیے موصوف یا کسی معتمد کا ہونا ضروری ہے یعنی کوئی ایسا اسم پیچھے ہو جس کا یہ وصف بیان کرتے ہوں اسم فاعل و اسم مفعول دونوں صفت کے صیغے ہیں تو اسی وجہ سے ان کے پیچھے فھو اور فذاک کا اضافہ کیا ہے اب سوال ہے کہ ایک جگہ فھو اور دوسری جگہ فذاک کیوں لائے اسم فاعل کے ساتھ فھو لگانے کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہوسکتی ہے کہ یہ قیاس کے مطابق ہے کہ فعل کی نسبت فاعل کی طرف ہے جبکہ اسم مفعول ڈے پہلے فذاک کا اضافہ اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ یہ قیاس سے بعید ہے کیوں کہ اسم مفعول میں نسبت مفعول کی طرف ہوتی ہے اور یہ خلاف قیاس ہے اس وجہ سے اسم اشارہ بعید لگایا ہے و اللہ اعلم بالصواب اور ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جیسے حروف کے مجموعہ بنائے جاتے ہیں جن کے کوئی معنی نہیں ہوتے جیسے خص ضغط قظ حروف مستعلیہ یا حروف قلقلہ کا مجموعہ وغیرہ یہ بھی ایسے ہو کہ طلباء کو اوزان یاد ہو سکیں اور ان کی کوئی وجہ خاص نا ہو ہو
صیغہ واحد اسم تفضیل ثلاثی مجرد لفیف مقرون امام سیبویہ کے مذھب پر اس کا فعل نہیں آتا تو باب بھی نہیں ہوگا اصل میں أَوْوَل تھا دونوں واؤ کا ادغام کیا تو أول ہوگیا
عربی کتب یا فارسی کتب میں تو تعریف یہی ہے کہ مضاعف رباعی وہ کلمہ جس کے عین اور لام کلمہ میں دو حرف صحیح ایک جنس کے نا ہوں لیکن ان کے حواشی میں اس تعریف پر اعترضات کیئے جاتے ہیں اور ہماری اردو کتب میں مطلق تعریف ہوتی ہے جس کلمے میں دو حرف ایک جنس کے ہوں
جی عجمی اسماء کی صرفی تحقیق نہیں ہوتی حوالہ نیچے موجود ہے الممتع الکبیر
تراجعوا باب تفاعل سے ہے
گردان کی تعریف اسم یا فعل کے کسی صیغہ کو مختلف صیغوں کی طرف پھیرنا ، اسے عربی میں صرف یا تصریف بھی کہتے ہیں صرف صغیر کسی کلمہ کو اس کے بعض صيغوں کی طرف پھیرنا صرف کبیر کسی کلمہ کو اس کے تمام صيغوں کی طرف پھیرنا
گردان کی تعریف اسم یا فعل کے کسی صیغہ کو مختلف صیغوں کی طرف پھیرنا ، اسے عربی میں صرف یا تصریف بھی کہتے ہیں صرف صغیر کسی کلمہ کو اس کے بعض صيغوں کی طرف پھیرنا صرف کبیر کسی کلمہ کو اس کے تمام صيغوں کی طرف پھیرنا
ایام اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون اصل میں ایوام تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے تو ایوام میں واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو ایام ہوگیا حروف اصلیہ ی و م
یہ اسم مصدر ہے فعل متعدی أدی یؤدی از باب تفعیل
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح
الاحکام صیغہ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح حروف اصلیہ ح ک م نحوی اجراء لفظ موضوع مفرد اسم جمع مکسر معرفہ مذکر معرب جمع مکسر منصرف اعراب لفظی اعراب بالحرکت
وقنا میں قِ صیغہ ہے صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد لفیف مفروق از باب ضرب یضرب وقی یقی سے
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل أُقْوُلْ تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو جاری ہوا تو واو کی حرکت ما قبل کو دی پھر واؤ اور لام دو ساکن جمع ہوئے تو واو حذف کر دی پھر فاء کلمہ متحرک ہونے کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصلیہ برائے امر کی حاجت نا رہی تو پیچھے قل بچ گیا
اقسام حروف میں دو طرح کے حرف ہیں حرف علت و صحیح ہو تو پھر ہفت اقسام صحیح مہموز وغیرہ بنتی ہیں سات قسمیں اگر اقسام حروف سے مراد حرف زائد و غیر زائد ہے تو پھر شش اقسام بنتی ہیں
کام جاری ہے عنقریب اپلوڈ کیئے جائیں گے
جیسے تفعلل کی ہے نصاب الصرف یا تیسیر ابواب الصرف میں دیکھیں
تفاعل ملحق برباعی مزید فیہ نہیں ہے
کسی بھی صیغہ کی فورا پہچان کے لیے ایک وقت تک پریکٹس کرنی پڑتی ہے پھر جا کر یہ ملکہ حاصل ہوتا ہے آپ مشق کرنا شروع کریں تو آہستہ آہستہ آپ میں بھی یہ ملکہ پیدا ہو جائے گا
قرآن مصدر ثلاثی مجرد مہموز اللام از باب فتح یفتح اگر قرآن مجید والا قرآن ہو تو اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام
مدت اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف ہفت اقسام مضاعف اصل میں مُدْدَۃٌ تھا دال کا دال میں ادغام کیا تو مدَّۃ ہوگیا
لم تجز صیغہ واحد مذکر حاضر یا صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لم تجُوزُ تھا لم کی وجہ سے زاء کو ساکن کیا تو واؤ اور زاء دونوں ساکن ہونے کی وجہ سے واو کو گرا دیا تو لم تجز ہوگیا
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں ادعو تھا بوجہ امر آخر سے واؤ حرف علت گر گیا تو ادعو ہوگیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال قاعدہ وه واو یا یاء جو باب "اِفْتِعَالٌ"، "تَفَعَّلٌ" يا "تَفَاعُلٌ" کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاءسے بدل کر ادغام کر دیا جا تا ہے۔ (اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واو یا اء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو) اصل میں یوتقی تھا واو کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا تو یتقی ہوگیا
یستنکر صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب استفعال حروف اصلیہ ن ک ر
اس کا مصدر مسارعۃ ہے اور اس کا باب مفاعلۃ ہے
سارعت پر اعراب نہیں لگایا تو اس میں تین احتمال ہیں تاء ساکن ہو تو صیغہ واحد مؤنث غائب تاء پر فتحہ ہو تو صیغہ واحد مذکر حاضر تاء پر کسرہ ہو تو صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
لتَرَوُنَّ صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت بللام توکید و نون توکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد مہموز العین و ناقص یائی از باب فتح یفتح اصل میں لَتَرْأَیُونّ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح تھا یاء کو الف سے بدلا پھر یاء اور واؤ دونوں ساکن تھے تو یاء کو حذف کر دیا پھر بچا لترأون پھر یاء ہمزہ متحرک ما قبل مفتوح تھا ھمزہ کی حرکت ما قبل کو دیکر ھمزہ کو حذف کیا تو لترون بچ گیا نون ثقیلہ جب جمع مذکر سالم کا صیغہ ہو اور ناقص ہو تو حرف علت گرا کر واو ضمیر کو ضمہ دیتے ہیں
قلسی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ملحق برباعی مجرد صحیح اصل میں قَلْسَیَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو قلسٰی ہوگیا
لیضربَن صیغہ ہے صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت بلام توکید و نون تاکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
آخر صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مہموز الفاء اس کا فعل استعمال نہیں ہوتا اس لئے اس کا باب نہیں ہوگا
یسیر صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل میں یَسْیِرُ تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو لگا کر یاء کی حرکت ما قبل کو دی تو یَسِیْرُ ہوگیا
صلوۃ اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعیل اصل میں صَلَوَۃ تھا ناقص کا قاعدہ نمبر ایک لگایا واو کو الف سے بدلا تو صلٰوۃ ہوگیا
مضاف صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال اصل میں مُضْیَفٌ تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو لگایا اور یاء کی حرکت ما قبل کو دیکر یاء کو الف سے بدل دیا
اسم جامد کی پہچان کا نارمل طریقہ یہ ہے کہ وہ اسم جو کسی ایسی چیز پر دلالت کرے جو کسی چیز کا نام ہو کوئی فعل یا کام نا ہو اور نا ہی صفت والا معنی ہو جیسے زید بکر رنگ گدھا گھوڑا
ان حرف شرط ہے وھبت فعل ہے اور یہ اصل پر ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی
الرباعی اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح حروف اصلیہ ر ب ع آخر میں یاء مشدد ہے جو کہ نسبت کی ہے
خطایا اصل میں خطاءِءُ تھا بروزن فعائل
نصاب الصرف کے آخر میں سے مشکل صیغے دیکھ لیں
معد صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افعال مُعْدَدٌ تھا دو ہم جنس حروف جمع ہوئے دونوں متحرک تھے ان کا ما قبل ساکن تھا پہلے دال کی حرکت عین کو دیکر دال کا دال میں ادغام کیا تو مُعَدٌّ ہوگیا
صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد لفیف مقرون (اس کا باب یا فعل استعمال نہیں ہوتا بر مذھب سیبویہ ) اصل میں أوْوَل تھا دونوں واؤ کا ادغام کیا تو أَوَّل ہوگیا یہ امام سیبویہ کا مذھب ہے اس کے علاوہ بھی مذاھب ہیں
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد لفیف مقرون از باب ضرب یضرب
عاصیا اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
الرباعی اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح حرف اصلی ر ب ع
اقل اسم فاعل نہیں ہے بلکہ اسم تفضیل کا صیغہ ہے
صلاۃ اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب تفعیل اصل میں صَلَوَۃٌ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو صلاۃ ہوگیا
یطمئن صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ملحق برباعی مزید فیہ مہموز اللام از باب افعِلَّال حروف اصلیہ ط م ء ن مصدر اطمئنان اس میں تعلیل کوئی نہیں ہوئی
صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون مادہ ی و م قاعدہ نمبر 11 ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اصل میں ایوام تھا مذکورہ بالا قاعدہ کے مطابق واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو ایام ہو گیا
سل اصل میں اِسْئَل تھا ھمزہ متحرک ما قبل مفتوح تھا اس کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر کے اسے حذف کر دیا اور ھمزہ وصلیہ جو شروع میں ہے اس کی ضرورت ہی نا رہی کیوں کہ فا کلمہ متحرک ہے تو سل ہوگیا
کانت صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں کَوَنَتْ واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو کانت ہو گیا
ن ف ق
تدلی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفعل
سمع کی ترکیب یوں ہونا ممکن ہے سمع فعل ھو ضمیر فاعل جملہ فعلیہ خبریہ
رسول صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
مصدر ثلاثی مجرد مہموز الفاء از باب فتح یفتح
مرئیۃ اصل میں مرءویۃ تھا قاعدہ # واو اور یاء ایک کلمہ میں جمع ہوں اور ان میں سے پہلا ساکن ہو تو واؤ کو یاء سے بدل دینا واجب ہے اور یاء کا یاء ثادغا۔ کرنا واجب ہے مرءویۃ میں واؤ کو یاء سے بدلا تو مرءییۃ ہوگیا پھر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو مرءیَّۃ ہوگیا پھر یاء کی مناسبت سے ھمزہ کے فتحہ کو کسرہ دیا تو مرئِیَّۃ ہوگیا صیغہ واحد مؤنث اسم مفعول ثلاثی مجرد مہموز العین و ناقص یائی از باب فتح یفتح
ضرب صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
لفظ ثلاث ہفت اقسام میں مضاعف ہے اور لفظ یوم ہفت اقسام میں لفیف مقرون ہے
دنیا اصل میں دنوی تھا
مقیم اصل میں مُقْوِمٌ تھا قاعدہ واؤ یا یاء متحرک ہوں ان کا ما قبل ساکن ہو تو ان دونوں کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کرنا واجب ہے واؤ کی حرکت کاف کو دی تو مُقِوْمٌ ہوگیا قاعدہ واؤ درمیان کلمہ میں ساکن ہو اور اس سے پہلے کسرہ ہو تو واؤ کو یاء بدل دینا واجب ہے واؤ کو یاء سے بدلا تو مُقِیْمٌ ہوگیا
س ی ر
بیگن تو صیغہ نہیں بن سکتا گاف عربی میں نہیں ہوتا آلو صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء و ناقص واوی از باب نصر ینصر ہے مادہ أ ل و