عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

مسلون ی سی مسلمی کیسے بنا

مسلمون ی سے مسلمی کیسے بنا مشہور قاعدہ ہے کہ اضافت کے وقت تثنیہ اور جمع کی نون گر جاتی ہے تو نون جمع کو گرایا تو مسلموی ہو گیا قاعدہ ن ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدہ کے تحت واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا اور یاء کی مناسبت سے میم کے ضمہ کو کسرہ سے بدلا تو مسلمی ہو گیا

صرف1 جواب
29 مئی، 2025

آخر کی تعلیل

آخَر در اصل أأخر تھا قاعدہ: کسی کلمے میں دو ہمزہ جمع ہو جائیں اور پہلا متحرک اور دوسرا ساکن کو تو دوسرے ہمزہ کو پہلے ہمزہ کی حرکت کے مطابق حرف علت سے بدلنا واجب ہے تو أأخر میں دوسرے ہمزہ کو پہلے ہمزہ کی حرکت فتحہ کے مطابق الف سے تبدیل کیا تو أاخر ہو گیا اب لکھنے میں یہ آخر ہوتا ہے

صرف1 جواب
27 مئی، 2025

صرفی لحاظ سے اتقو

اتقُوا صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں اوتقیوا تھا ناقص کا قاعدہ نمبر پانچ لگایا تو یاء حذف ہوئی قاعدہ وه واو یا یاء جو باب "اِفْتِعَالٌ"، "تَفَعَّلٌ" يا "تَفَاعُلٌ" کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاءسے بدل کر ادغام کر دیا جا تا ہے۔ (اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واو یا اء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو) اور یہ قاعدہ لگایا تو واؤ تاء بدل کر تاء میں ادغام ہوگئی ہے

صرف1 جواب
18 اگست، 2024

اھدنا صراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیہم والضالین کی ترکیب

اھد فعل اس میں انت ضمیر فاعل الصراط موصوف المستقیم صفت موصوف صفت ملکر مبدل منہ صراط مضاف الذین اسم موصول انعمت فعل تاء ضمیر فاعل علیھم جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ موصول صلہ ملکر موصوف غیر مضاف المغضوب علیہم معطوف علیہ و لا الضالین معطوف معطوف علیہ معطوف ملکر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر صفت موصوف صفت ملکر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر بدل مبدل منہ بدل ملکر مفعول بہ اھد فعل کا اھد فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ

صرف1 جواب
21 مئی، 2025

اقتت کونسا صیغہ ہے

صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مثال واوی اس باب تفعیل اصل میں یہ صیغہ وقتت تھا قاعدہ : وہ واؤ جو کلمہ کے شروع میں ہو اور مفتوح نہ ہو اسے بھی ہمزہ سے تبدیل کر دینا جائز ہے اور مفتوح ہونے کی صورت میں اسے ہمزہ سے بدلنا شاذ ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا

صرف1 جواب
20 مئی، 2025

نم فعل امر کی تعلیل کیا ہے

نُم صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں أُنْوُم تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن ہونے کی وجہ سے واؤ کی حرکت نون کو دے دی تو واؤ اور نون ساکن جمع ہوگئے واؤ کو حذف کر دیا تو أنم ہو گیا اب فعل امر کا فاء کلمہ متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نا رہی تو اسے حذف کر دیا تو نم ہو گیا

صرف1 جواب
14 مئی، 2025

َاسْتَوْصُوْا. اس کی صرف تحقیق؟

اسی اعراب کے ساتھ صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب استفعال اصل میں استوصِیُوا تھا قاعدہ : اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کو حذف کر کے صاد کو ضمہ دیا ہے

صرف1 جواب
16 مئی، 2025

المتصل کی صرفی تحقیق

صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب افتعال اصل میں موتصل تھا قاعدہ وه واو یا یاء جو باب "اِفْتِعَالٌ"، "تَفَعَّلٌ" يا "تَفَاعُلٌ" کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاءسے بدل کر ادغام کر دیا جا تا ہے۔ (اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واو یا اء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو) اس قاعدے کے تحت واؤ کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا تو متصل ہو گیا

صرف1 جواب
27 اپریل، 2025

الکلام ما تضمن كلمتين بالاسناد ولا يتاتى ذلك الا في اسمين او اسم وفعل کی نحوی ترکیب

الکلام مبتدا ما موصولہ تضمن فعل اس میں ھو ضمیر فاعل کلمتین مفعول بہ بالاسناد جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ موصول صلہ ملکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ و لایتاتی فعل ذلک اسم اشارہ اس کا فاعل الا حرف استثناء فی جار اسمین معطوف علیہ او حرف عطف اسم و فعل معطوف علیہ معطوف ملکر معطوف ہوئے معطوف علیہ معطوف ملکر مجرور جار مجرور مستثنی مفرغ ہو کر ظرف لغو فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ

صرف1 جواب
5 مئی، 2025

میرا سوال یہ ہے کہ قرآن کی اس آیت می واذ قلنا لالملاءکة أسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس یہا اس آیت می فسجدوا مزکر کا صیغہ ہے اور اس کا فاعل ھن ضمیر ہے جو ملاءکة کی طرف راجع ہے تو یہا فسجدوا مزکر کا صیغہ کیوں آیا أخبرنی شکریہ

اسجدوا کا فاعل واؤ ضمیر ہے اور یہ ضمیر حاضر راجع نہیں ہوتی اس وجہ سے یہاں مذکر استعمال ہوا ہے

صرف1 جواب
10 مئی، 2025

ثلث اور مثلث میں وصف کیسے ہے حالانکہ وصف تو ذات مبھم پر دلالت کرتا ہے اور ثلث اور مثلث کا معنی تو مبھم نہیں بلکل معلوم ہے کہ 2 سے اوپر اور 4 سے کم پر دلالت کرتے ہیں جواب ضرور چاہئے

دراصل آپ نے جو وصف کی تعریف کی ہے وہ مکمل نہیں ہے اور اس کی تشریح بھی آپ نہیں سمجھ پائے مختصرا : وصف وہ اسم ہوتا ہے جو غیر واضح ذات پر دلالت کرتا ہے اس کی چند صفات کے ساتھ تو مثنی یا ثلاث وغیرہ جب کہیں استعمال ہوتے ہیں تو یہ ایک غیر مبھم ذات جو موصوف باثنین یا ثلاثۃ ہوتی ہے اور یہ دو ہونا یا تین ہونا یہ وصف ہوتا مثلا حدیث پاک میں ہے صلاۃ اللیل مثنی مثنی اب یہاں مثنی مثنی یہ ایک ذات مبھم یعنی رکعات پر دلالت کر رہی ہے اور ساتھ میں اس کا وصف بھی ہے دو ہونا اور آپ نے جو ثلاث کا معنی بیان کیا ہے یعنی دو سے اوپر اور چار سے نیچے یہ وصف والا معنی ہے یہ ذات نہیں ہے

صرف1 جواب
7 مئی، 2025

فعل اور حرف کی نحوی تحقیق کا طریقہ بیاں کر دیجیے ۔۔

فعل کی صرفی تحقیق یوں ہوتی ہے لفظ ،موضوع، مفرد، فعل، یہ چار چیزیں شروع میں بتائیں گے اس کے بعد وہ معرب ہے یا مبنی یہ بتائیں گے اور اگر معرب ہے تو اعراب بتائیں گے نوٹ: فعل ماضی اور امر مبنی ہیں اور فعل مضارع معرب ہوتا ہے حرف کی نحوی تحقیق لفظ، موضوع، مفرد، حرف اب آگے حرف کی کونسی قسم ہے عاملہ یا غیر عاملہ عاملہ ہے تو کونسی قسم ہے اور کس حرف یا حرکت پر مبنی کے بتائیں گے جیسے : لا لفظ، موضوع، مفرد، حرف، حرف غیر عاملہ مبنی علی السکون

صرف1 جواب
7 مئی، 2025

صفۃ اصل میں کیا تھا اس میں کیا تعلیل ہوئ ہے۔

صِفَۃٌ اصل میں وِصف تھا مندرجہ ذیل قاعدے کے مطابق تعلیل ہوئی ہے قاعدہ: مثال واوی کا مصدر اگر فعل کے وزن پر ہو تو اس کے واؤ کو حذف کر کے عین کلمہ کو کسرہ دیتے ہیں ، اور واؤ محذوفہ کے عوض آخر میں ’ۃ‘ کا اضافہ کر دیتے ہیں ہاں اگر مصدر فعل کے وزن پر ہو تو عین کلمہ کو بعض اوقات فتحہ دیتے ہیں

صرف1 جواب
8 مئی، 2025

فاعل اور اسم فاعل میں فرق بیان کریں مثالوں سے ؟

بنیادی فرق یہ ہے کہ فاعل اس کلمے کو کہتے ہیں جس کی طرف فعل یا شبہ فعل کی نسبت کی جائے اور اسم فاعل وہ کلمہ جس کو فعل سے مشتق کیا جائے تاکہ اس بات پر دلالت کرے کہ فعل ذات کے ساتھ قائم ہے مزید فرق یہ ہیں کہ فاعل مشتق و غیر مشتق دونوں ہوتے ہیں جیسے ضرب زید و ناصر اور اسم فاعل مشتق ہوتا ہے جیسے ضارب جو یضرب سے بنا ہے فاعل کا کوئی مخصوص وزن نہیں ہوتا جبکہ اسم فاعل کا اپنا ایک مخصوص وزن ہوتا ہے جیسے ناصر ضارب اسم فاعل کے ساتھ فعل کا ہونا ضروری نہیں جبکہ فاعل کے ساتھ فعل یا شبہ فعل کا ہونا ضروری ہے فاعل ضمیر بھی ہوتی ہے جبکہ اسم فاعل ضمیر نہیں ہو سکتی مزید فرق بھی بنائے جا سکتے ہیں

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

الف ممدودہ کے اقسام تو زیادہ ہے عبارت میں ممدودہ تانیثی کا پتہ کیسے لگے گا جو کہ غیر انصراف کا سبب ہو

الف ممدودہ جو غیر منصرف کا سبب بنتا ہے اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ زائد ہوگا اور تین حروف کے بعد ہی ہوگا چوتھی یا پانچویں جگہ آئے گا جیسے کساء رداء میں الف ممدودہ ہے لیکن یہ ھمزہ در اصل حرف اصلی کی جگہ آیا ہے اور حمراء میں جو الف ممدودہ ہے یہ زائد ہے اس وجہ سے حمراء غیر منصرف ہوگا

صرف1 جواب
7 مئی، 2025