عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

اَطاَبَتْ کی صرفی تحقیق بتا دیجیے..

صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال اصل میں اَطوَبت تھا قاعدہ واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے مندرجہ بالا قاعدہ کے مطابق تعلیل ہوئی

صرف1 جواب
1 فروری، 2025

َیَغْدُواْ کی صرفی تحقیق بتا دیجیے

صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں یَغْدِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کو حذف کیا تو یغدُوا ہو گیا

صرف1 جواب
28 جنوری، 2025

تجدان کا صیغہ حل کرے اور امصص کا بھی حل کرے

تجدان صیغہ تثنیہ مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب اصل میں توجِدان تھا قاعدہ جو واو ، علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے در میان يا علامتِ مضارع مفتوحه اور فتحه کے درمیان ایسے کلمے میں ہو جس کا عین یا لام کلمہ حرف حلقی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے اس قاعدہ کے تحت واؤ کو گرا دیا تو تجدان ہو گیا امصص صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر

صرف1 جواب
26 جنوری، 2025

تتمان کا صیغہ حل کرے

تَتِمَّان صیغہ تثنیہ مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب اصل میں تتْمِمَان تھا نیچے والے قاعدے کی دوسری شق کے مطابق پہلے میم کی حرکت تاء کو دیکر دونوں کا ادغام کیا گیا ہے قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے

صرف1 جواب
26 جنوری، 2025

یہ جو قرانی صیغوں کے سیکشن میں معلل اور غیر معلل صیغوں کاآپشن ہے ان کا کیا مطلب ہے تفصیل کے ساتھ مثال بھی دے کر بتائیں ؟

ہماری ایپ میں قرآن کریم کے صیغوں کی صرفی تحقیق کی گئی ہے غیر معلل وہ صیغے ہوتے ہیں جن میں تعلیل نہیں ہوئی جبکہ معلل وہ صیغے ہوتے ہیں جن میں تعلیل ہو چکی ہے

صرف1 جواب
19 دسمبر، 2024

جِیْ کونسا صیغہ ہے

صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد لفیف مفروق از باب ضرب یضرب اصل میں یہ تجی سے بنایا گیا تو امر بنانے کے لیے علامت مضارع حذف کیا اور آخر سے حرف علت گرایا تو جِ ہو گیا جیسے قِ ہوتا ہے قرآن پاک میں بھی قِ آیا ہے اب یہ صیغہ واحد مذکر حاضر تھا اس کے آخر میں یاء مخاطہ کی ضمیر کا اضافہ کیا تو یہ جِی بن گیا

صرف1 جواب
20 جنوری، 2025

مَغْلُوبٌ اور مُدَّکِرٍ کی صرفی تحقیق بیان کریں ؟

مغلوب صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب مدکر صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں مذتکر تھا مندرجہ ذیل قاعدے کے تحت مزید تبدیلی واقع ہوئی قاعدہ اگر باب "اِفْتِعَالٌ" کا فاء کلمہ دال، ذال يا زاء ہو توتائے "اِفْتِعَالٌ" کو دال سے بدل دیناواجب ہے پھر اگر فاء کلمہ دال ہو تو دال کا دال میں ادغام کرنا واجب ہے اور ذال ہو تو تین صورتیں جائز ہیں ذال کی پہلی صورت دال کو ذال سے بدلکر ادغام کر دیں ذال کی دوسری صورت ذال کو دال سے بدلکر ادغام کر دیں ذال کی تیسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں

صرف1 جواب
22 جنوری، 2025

صیغہ کیسے تلاش کریں؟

پہلے سہ اقسام میں سے ایک سلیکٹ کریں۔ پھر اس کے مطابق بتائیے کہ یہ فعل ہے تو اس کی کون سی قسم ہے اور اگر اسم مشتق ہے تو اس کی کون سی قسم ہے اس کے بعد کتنے افراد کے لیے استعمال ہوا ہے اور پھر مذکر و مونث کی صورت ہو تو اس کی وضاحت پھر تعداد حروف اصلیہ و زائدہ کا اعتبار دیکھتے ہو ثلاثی، رباعی یا خماسی میں سے سیلیکٹ کریں اور آخر میں کس مصدر سے ہے اس کی وضاحت۔

صرف1 جواب
26 جنوری، 2025

مُفِیْقًا کی صرفی تحقیق اور اس کے حروف اصلی کیا ہیں کونسا قاعدہ لگا

صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال مادہ: ف و ق بمعنی اصل حالت پر آنا اصل میں مُفْوِق تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے واؤ کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر کے اس واو کو یاء سے بدل دیا قاعدہ واؤ ساکن ماقبل مکسور کو (ی) سے بدلنا واجب ہے (بشرطیکہ ، باب "اِفْتِعَالٌ" کا فاء کلمہ نہ ہو، اور نہ مدغم ہو) تو مفیقا ہو گیا

صرف1 جواب
16 جنوری، 2025

یعظکم کی صرفی تحقیق کر دیں

یعظ صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب اصل یَوعِظ تھا قاعدہ جو واو ، علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے در میان يا علامتِ مضارع مفتوحه اور فتحه کے درمیان ایسے کلمے میں ہو جس کا عین یا لام کلمہ حرف حلقی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واو کو حذف کیا تو یعظ ہو گیا

صرف1 جواب
15 جنوری، 2025

حارت اور الفاظ اور احتمال کونسے صیغے ہیں مکمل صرفی تحقیق کر دیں جزاک اللہ خیرا

حارتْ صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل میں حَیَرت تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو حارت ہو گیا الفاظ صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح احتمال مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال

صرف1 جواب
18 جنوری، 2025

سلام جناب میرا سوال ہے کہ مَجْثِیٌّ میں تعلیل کیسے ہوگی؟

مجثی اصل میں مجثُویٌ تھا قاعدہ ن ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدہ کے تحت واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا ہے

صرف1 جواب
22 جنوری، 2025

تالی صرفی لحاظ سے کونسا صیغہ ہے ؟

تالی صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں تالِوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واو کو یاء سے بدل دیا اور یاء مضموم ما قبل مکسور ہوتو اسے ساکن کرنا واجب ہوتا ہے اس وجہ سے یاء کو ساکن کر دیا تو تالِیْ ہو گیا ہے

صرف1 جواب
21 جنوری، 2025

مقروۃ اصل میں کیا تھے اور ان میں قانون کیسے جاری ہوا

قاعدہ جب ہمزہ سے قبل واو مدہ زائدہ یا یاء مدہ زائدہ یا یاء تصغیر آ جائے تو ہمزہ کو ماقبل حرف حرف کے ہم جنس کرنا جائز اور پھر دونوں کا ادغام کرنا واجب ہے اصل میں مقروء تھا مندرجہ بالا قاعدہ کے تحت ہمزہ کو واؤ سے بدل کر واؤ کا واؤ میں ادغام کیا تو مقروۃ ہو گیا

صرف1 جواب
15 جنوری، 2025