سار یسیر کی تعلیل کیا ہے
سار اصل میں سَیَر تھا اجوف کا قاعدہ نمبر ایک لگا اس پر یسیر اصل میں یَسْیِر تھا اس میں اجوف کا قاعدہ نمبر دو جاری ہوا
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
سار اصل میں سَیَر تھا اجوف کا قاعدہ نمبر ایک لگا اس پر یسیر اصل میں یَسْیِر تھا اس میں اجوف کا قاعدہ نمبر دو جاری ہوا
اولیین امام سیبویہ کے نزدیک اصل میں وولیین قاعدہ وہ واؤ جو کلمہ کے شروع میں ہو اور مفتوح نہ ہو اسے بھی ہمزہ سے تبدیل کر دینا جائز ہے اور مفتوح ہونے کی صورت میں اسے ہمزہ سے بدلنا شاذ ہے اس قاعدے کے تحت پہلی واو کو ھمزہ سے بدلا تو اولیین ہوگیا
رب مصدر ثلاثی مجرد مضاعف اصل میں رَبْبٌ تھا دو حروف ہم جنس جمع ہوئے پہلا ساکن دوسرا متحرک تھا دونوں کا ادغام کیا تو رب ہوگیا اس میں ادغام کا یہی قاعدہ جاری ہوگا لیکن اس میں مزید اقوال بھی ہیں اسم فاعل صفت مشبہ اسم مبالغہ وغیرہ کے
اسمِ فاعل کی تعریف وہ اسمِ مشتق جو اس ذات پر دلالت کرے جس کے ساتھ فعل قائم ہو
اصل میں قُوِلَ تھا قاعدہ ماضی مجہول میں واؤ یا یاء مکسور مَاقبل مضموم ہو اور ماضی معروف میں تعلیل بھی ہو چکی ہو تو اسے دو طریقوں سے پڑھنا جائز ہے پہلا طریقہ مَاقبل کو ساکن کر کے ان کی حرکت اس کی طرف منتقل کر دیں۔ اس صورت میں واو یاء سے بدل جائے گی دوسرا طریقہ واو اور یاء کو ساکن کر دیں۔ اس صورت میں یا ء، واو سے تبدیل ہوجائے گی یہ قاعدہ جاری ہوا تو قیل ہوگیا
العاری اصل میں العاریُ تھا ناقص کا دوسرا قاعدہ ہے کہ قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء کو ساکن کیا گیا ہے
علم الصرف کی مشہور ہفت اقسام میں سے ایک قسم لفیف کی ہے لفیف وہ کلمہ ہوتا ہے جس میں بیک وقت حروف اصلیہ میں دو حروف علت ہوں اگر یہ حروف علت ملے ہوئے ہوں تو لفیف مقرون ہوگا اور اگر جدا جدا ہوں لفیف مفروق ہوگا
اصاب صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں أَصْیَب تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے یہ والا قاعدہ جاری ہوا
مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و ناقص یائی از باب افعال اصل میں اِءْمَایٌ تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ھمزہ سے بدلا تو اِءْمَاء ہوگیا قاعدہ ن اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلا تو ایماء ہوگیا
اس گردان میں اصل کردار کان کا ہوتا ہے کان ماضی کا معنی دیتا ہے اور مضارع کا صیغہ استمرار کا معنی پیدا کرتا ہے تو ان دونوں سے ملکر ماصی استمراری بن جاتی ہے یعنی ماضی کوئی کام پے درپے ہوتا رہا ہے جیسے کان یضرب وہ مارتا تھا یعنی بار بار اسے نے مارا ہے
قدرت کسی سے نہیں بنا
قادر قدرت سے بنا ہے نا کہ قدرت قادر سے
صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل میں تَزْیِدُ تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو جاری ہوا تو یاء متحرک تھا ما قبل ساکن تھا یاء کی حرکت زاء کو دے دی تو تَزِیْدُ ہوگیا
ق ص د حروف اصلیہ ہیں
اس صیغے میں دو احتمال ہیں ایک باب مفاعلہ کا ماضی دوسرا باب افعال سے ماضی آرس اگر باب مفاعلہ سے ہو تو اصل میں أارس تھا اس میں کوئی قاعدہ جاری نہیں ہوا بلکہ صرف اصل رسم الخط کے تحت اسے آرس لکھا جاتا ہے
باب افعال سے ہے کوئی قاعدہ جاری نہیں ہوا حروف ج ز ء ہیں
ابقی فعل ہے صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید ناقص یائی از باب افعل اصل میں ابقَیَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو ابقٰی ہوگیا
یصلِیُ تھا اصل میں قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو یہ والا قاعدہ جاری ہوا ہے
الامۃ کے حروف اصلیہ ء م و ہیں اصل میں أموۃ تھا واؤ کو خلاف قیاس حذف کر دیا
صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء و ناقص یائی از باب ضرب یضرب
مؤاخذۃ مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب مفاعلہ
حسب اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
صیغہ واحد متکلم فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
و ط ء باب سمع یسمع
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح
یہ دونوں منصرف ہیں
یہ اسم مصدر ہے اور اس کا باب تفعیل ہے
قاعدہ بابِ "افعال" اور "اِسْتِفْعَالٌ" کے مصدر میں عین کلمہ کی جگہ اگر واو یا یاء ہو تو واو یا یاء کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے واؤ اور یا کو الف سے بدل کر حذف کریں اور اس کے عوض آخر میں تاء کا اضافہ کر دیں یہ والا قاعدہ جاری ہوا ہے
تمن میں ادغام ہوا جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے اصل میں یہ تمْنُنُ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کا دوسر جزء یعنی پہلا حرف ساکن اور دوسرا متحرک ہو والا قاعدہ جاری ہوا ہے
مطرد باب افتعال سے ہے اصل میں متطرد تھا قاعدہ اگر باب اِفْتِعَالٌ کافاءکلمہ صاد، ضاد، طاء یا ظا ء ہو تو تائے اِفْتِعَالٌ کوطاءسے بدلنا واجب ہے، پھراگرفاء کلمہ طاء ہو تو ادغام واجب ہے، یہ والا قاعدہ جاری ہوا ہے
ثلاثی مزید فیہ کے بارہ ابواب ہیں
فارسی کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ نحو کے لئے بادشاہ کا دماغ اور صرف کے لئے کتے کی زبان ہونی چاہئے اس کا مطلب یہ ہے کہ نحو پڑھنے کے لئے دماغ حاضر رہے اور چیزیں سمجھ آنی چاہیئیں اس کے بر عکس صرف کے لئے دماغ کی کم اور زبان کی زیادہ حاجت ہوتی ہے گردانیں یاد کرنے کے لئے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں اور یہ دماغی قوت کے لحاظ سے ہیں ذہین طالب علم دو چار بار پڑھنے سے یاد کر لیتا ہے اور کند ذہن بار بار پڑھنے سے یاد کر پاتا ہے گردان یاد کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بار بار پڑھی جائے یہاں تک کہ زبان پر پانی کی طرح رواں ہو جائے ایک گردان بھی اگر ایسے یاد ہوگئی تو پھر مسئلہ نہیں ہوگا
ضرب یضرب
صیغہ جمع مونث سالم اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل
راوٍ اصل میں راوِیُن تھا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء کو ساکن کیا پھر نون تنوین اور یاء ساکن تھے تو یاء کو حذف کر دیا تو راوِنْ ہوگیا اب اس نون کو تنوین میں لکھیں تو راوٍ ہوگا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت مجہول ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
واوی اور یائی کو پہچاننے کے لئے جس لفظ کی پہچان درکار ہو تو اس لفظ کی دیگر شکلیں جیسے اسم فاعل و مفعول ماضی مضارع مصدر دیکھیں جیسے خاف یخاف کا مصدر خوف ہے اسی طرح قام کا مصدر قیام ہے اب ان دونوں سے کچھ پتہ نہیں چلتا تو یقوم مضارع دیکھیں اسی طرح تھوڑا تتبع و تلاش کریں ایک اور طریقہ ہے کہ جس کلمے کو پہچاننا ہو اس کلمے کو دونوں جگہ المنجد یا قاموس میں تلاش کریں پہلے واؤ کے ساتھ پھر یاء کے ساتھ اگر دونوں میں سے کوئی معنی عبارت کے لحاظ سے پر فیکٹ ہو تو وہی ہوگا
ترید صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں تُرْیِدُ تھا یاء متحرک ما قبل حرف ساکن تھا یاء کی حرکت ما قبل راء کی طرف نقل کی تو تُرِید ہوگیا
مآب صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد مہموز الفاء و اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں مأْوَ ب تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا واو کی حرکت ہمزہ کو دے دی پھر یہ نقل کی جانے والی حرکت فتحہ تھی تو واؤ کو الف سے بدلا تو مأاب ہوگیا اب اس کو الف مدہ کی صورت میں لکھا تو مآب ہو گیا
ثلاثی مزید فیہ کے بارہ ابواب ہیں جن میں سے ایک باب افعال کا ہے
قائما اصل میں قاوما تھا قاعدہ ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے بدلا تو قائما ہوا
مَفَرٌّ اصل میں مَفْرَرٌ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت پہلے راء کی حرکت فاء کو دیکر دونوں کا ادغام کیا ہے
صیغہ واحد مذکر اسم مبالغہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل
لم یَعُد صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں تھا لم یَعْوُد واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا اس کی حرکت عین کو دی تو کم یَعُود ہوگیا اب واؤ اور دال ساکن ہیں تو واؤ کو حذف کر دیا
اعادۃ اصل میں اعواد تھا قاعدہ بابِ "افعال" اور "اِسْتِفْعَالٌ" کے مصدر میں عین کلمہ کی جگہ اگر واو یا یاء ہو تو واو یا یاء کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے واؤ اور یا کو الف سے بدل کر حذف کریں اور اس کے عوض آخر میں تاء کا اضافہ کر دیں مذکورہ بالا قاعدہ جاری ہوا
الصلاۃ اصل میں صَلَوَۃ تھا واو متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو صلاۃ ہوگیا ہے ناقص کا پہلا قاعدہ
اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ مثال واوی و مہموز اللام از باب تفعل
یصطاد صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افتعال اصل میں یصتَیِد تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو یصتاد ہو گیا پھر قاعدہ ہے کہ باب افتعال کا فاء کلمہ ص ض ط ظ ہو تو تاء افتعال کو طاء سے بدل دیا جاتا ہے تاء افتعال کو طاء سے بدلا تو یصطاد ہو گیا
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی
یہ مشکل صیغوں میں سے ایک ہے لیکن آپ نے جو لکھا ہے یہ مشکل صیغہ نہیں ہے بلکہ اصل میں یوں پوچھا جاتا ہے لَمِ لَم لِم یعنی پہلے کے لام و میم دونوں مفتوح اور دوسرے کے لام پر فتحہ تیسرے کے لام پر کسرہ یہ صیغہ واحد متکلم فعل مضارع جحد بلم رباعی مجرد مضاعف از باب فعللۃ اصل میں لم الم لم تھا یسل والے قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت میم کو دیکر اسے حذف کیا تو لم لم لم ہو گیا
مضارع کی چار علامت ہمزہ نون تاء اور یاء ہیں الف علامت مضارع میں سے نہیں ہے
اَکْنُس صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں تھا قَوَمُوا واو متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدل تو قامو ہوگیا
فیھا گی حرف جر اور ھاء ضمیر سے مرکب کلمہ ہے کوئی صیغہ نہیں ہے
تفعیل
فِعل اس کا مطلب ہوتا ہے کام اس معنی کے لحاظ سے جامد ثلاثی مجرد صحیح
تعلمی میں کوئی تعلیل نہیں ہوئی
صرف صغیر و کبیر کہنا صیغوں کی تعداد کے اعتبار سے نہیں بلہ صرف صغیر کو صغیر اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں ہر گردان سے دو تین چار صیغے شام ہیں اور کبیر کو کبیر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی گردان کے سب صیغوں پر مشتمل ہوتی ہے
جس میں نفی نہی نا ہو وہ مثبت ہوتا ہے
میرے خیال میں آپ میت کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال
پوری گردان لکھی ہوئی ہے ہمارے ایپ کے گردان والے سیکشن میں
ہمزہ وصلی ہے لیکن جب حرف نداء یا داخل ہوگا تو اس وقت یہ ہمزہ قطعی ہوگا
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل، ثلاثی مجرد، صحیح از باب سمع یسمع
صیغہ واحد مؤنث اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں صاخِخَۃ تھا دو ہم جنس حروف جمع ہوئے دونوں متحرک تھے اور ان کا ما قبل حرف مدہ تھا تو پہلے خاء کو ساکن کر کے دونوں کا ادغام کیا تو صاخخۃ ہو گیا
ناقص صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر باب اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں بَوَب تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو باب ہو گیا الدعاء مصدر ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں الدعاو تھا قاعدہ ہے کہ واو طرف کلمہ میں الف کے بعد آئے تو اسے ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے واو کو ھمزہ سے بدلا تو الدعاء ہو گیا
لفظ حج در اصل مصدر بمعنی ارادہ و قصد کے ہے اور یہ عبادت مخصوصہ کا نام بھی ہے باعتبار عبادت اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف اصل میں حَجْجٌ تھا دو ہم جنس حروف جمع ہوئے پہلا ساکن دوسرا متحرک تھا دونوں کا ادغام کیا تو حجٌّ ہوگیا
ابواب کی خاصیات سمجھنے کے لئے سب سے پہلے تو ہر باب کی خاصیات ازبر ہوں اور سمجھ بھی آ چکے ہوں اس کے بعد انہیں معانی کو ان ابواب میں تلاش کریں جیسے لبس ماخذ کا معنی ہوتا ہے ماخذ کو پہننا اب جس باب کی یہ خاصیت ہوگی اس میں کسی چیز کو پہننے کے جب معنی ہوں تو سمجھ جائیں یہاں لبس مأخذ پایا جا رہا ہے
صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں علیو تھا سید والے قانون کے تحت واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو علی ہوگیا
یُعطٰی اصل میں یُعطَوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واو کو یاء سے بدل دیا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا جا تا ہے پھر اس قاعدے کے تحت یاء کو الف سے تو یُعْطٰی ہو گیا
اللہ پر الف پر زبر اس لئے پڑھا جاتا ہے کہ الف پر اصل میں ہی زبر ہے جس اسم پر بھی الف لام آتے ہیں ان پر فتحہ یعنی زبر ہی ہوتا ہے صرف لفظ اللہ خاص نہیں ہے
صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم / سمع۔یسمع
صیغ جمع مکسر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر مفرد ناصبۃ
اردو میں البتہ لیکن اور بے شک یقینا ضرور کے معنی میں آتا ہے دونوں معنی کے اعتبار سے ترجمہ یوں ہوگا لکنْ انا اجتھد و اللہ لاجتہد اننی اجتہد
لَاَجْتَھِدَنَّ
صیغہ واحد اسم آلہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
منیب صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب افعال اصل میں مُنْوِبٌ تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا واؤ کی حرکت ما قبل کو دیکر واؤ کو یاء سے بدل دیا تو مُنِیب ہوگیا
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب افعال
یُعْطِی صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افعال اصل میں یُعْطِوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واو کو یاء سے بدل دیا تو یُعْطِیُ ہو گیا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو پھر اس قاعدے کے تحت یاء کو ساکن کر دیا تو یُعْطِیْ ہوگیا
صیغہ واحد مؤنث اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
صفتِ مشبہہ کی تعریف وہ اسمِ مشتق جو اس ذات پر دلالت کرتا ہے جو اپنے مصدری معنی سے دائمی طور پر متَّصِف ہو یعنی صفت مشبہ فعل سے بنایا جانا والا اسم ہے اور یہ اسم یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس ذات کے ساتھ یہ معنی پائے جا رہے ہیں وہ ہمیشہ اس ذات کے ساتھ ہوں گے
شبہ فعل درج ذیل اسماء ہیں اسم فاعل اسم مفعول صفت مشبہ اسم مبالغہ
اس لفظ سے گردان نہیں بنتی مصدر دوسرا ہے گردان کا
نجد اصل میں نَوجِدُ تھا قاعدہ جو واو ، علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے در میان يا علامتِ مضارع مفتوحه اور فتحه کے درمیان ایسے کلمے میں ہو جس کا عین یا لام کلمہ حرف حلقی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے مذکور بالا قاعدہ جاری ہوا اور یاء حذف ہوئی
جملہ "اللہ خالق کل شیئ" کی ترکیب اس طرح ہوگی: اللّٰہُ: اسم جلالت مبتداء خَالِقُ: لفظ "خالق" مبتداء کی خبر کُلِّ : "کُلِّ" ما قبل کے لیے مضاف الیہ مجرور اور "شیئ" کے لیے مضاف شَيْءٍ: مضاف الیہ مجرور مکمل ترکیب: "اللّٰہُ" مبتداء، "خَالِقُ" مضاف خبر، "کُلِّ" مضاف الیہ ما قبل کے لیے اور مضاف ما بعد کے لیے اور "شَيْءٍ" مضاف الیہ
جامد
جامد
لفظ دیکھ کر سوال یہی سمجھ آیا کہ صیغہ پوچھنا مقصود ہے۔ صیغہ جمع متکلم، فعل مضارع مثبت معروف، ثلاثی مزید فیہ، اجوف واوی، از باب استفعال
صیغہ ماضی و مصدر دونوں صورتوں میں جواب بن جائے گا۔ صیغہ واحد مذکر غائب، فعل ماضی مثبت معروف، ثلاثی مجرد، صحیح از باب فتح یفتح
صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر مصدر لَوق
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں دَعَوَ تھا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا جا تا ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو الف سے بدل دیا
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں خَاصِصُ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دونوں صاد کا ادغام ہوا ہے
باب تفعل ہے تعلیل کے لئے اعراب لگائیں
مفرد منصرف صحیح
بین بین قریب اور بعید دونوں علم التجوید وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ادائیگی سے سمجھ آتے ہیں
جامد ہی ہیں
اسم تفضیل ہے باب ضرب یضرب
جامد