عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

اولین کی اصل اور صرف تحقيق بتا ديجيے

اولیین امام سیبویہ کے نزدیک اصل میں وولیین قاعدہ وہ واؤ جو کلمہ کے شروع میں ہو اور مفتوح نہ ہو اسے بھی ہمزہ سے تبدیل کر دینا جائز ہے اور مفتوح ہونے کی صورت میں اسے ہمزہ سے بدلنا شاذ ہے اس قاعدے کے تحت پہلی واو کو ھمزہ سے بدلا تو اولیین ہوگیا

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

قیل کی اصل نیز اس میں کیا قاعدہ جاری ہوا ہے ؟

اصل میں قُوِلَ تھا قاعدہ ماضی مجہول میں واؤ یا یاء مکسور مَاقبل مضموم ہو اور ماضی معروف میں تعلیل بھی ہو چکی ہو تو اسے دو طریقوں سے پڑھنا جائز ہے پہلا طریقہ مَاقبل کو ساکن کر کے ان کی حرکت اس کی طرف منتقل کر دیں۔ اس صورت میں واو یاء سے بدل جائے گی دوسرا طریقہ واو اور یاء کو ساکن کر دیں۔ اس صورت میں یا ء، واو سے تبدیل ہوجائے گی یہ قاعدہ جاری ہوا تو قیل ہوگیا

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

اصاب میں کیا قاعدہ جاری ہوا ہے ؟

اصاب صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں أَصْیَب تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے یہ والا قاعدہ جاری ہوا

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

ایماءً کی صرفی تحقیق مع تعلیل

مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و ناقص یائی از باب افعال اصل میں اِءْمَایٌ تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ھمزہ سے بدلا تو اِءْمَاء ہوگیا قاعدہ ن اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلا تو ایماء ہوگیا

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

ماضی استمراری میں گردان ماضی کی ہوتی اور صیغہ مضارع کا کیوں استعمال کیا جاتا ہے جیسے کان یفعل کیوں استعمال ہوتا ہے

اس گردان میں اصل کردار کان کا ہوتا ہے کان ماضی کا معنی دیتا ہے اور مضارع کا صیغہ استمرار کا معنی پیدا کرتا ہے تو ان دونوں سے ملکر ماصی استمراری بن جاتی ہے یعنی ماضی کوئی کام پے درپے ہوتا رہا ہے جیسے کان یضرب وہ مارتا تھا یعنی بار بار اسے نے مارا ہے

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

تزید کے حروف اصلیہ کیا ہیں نیز اس میں کیا قاعدہ جاری ہوا ؟

صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل میں تَزْیِدُ تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو جاری ہوا تو یاء متحرک تھا ما قبل ساکن تھا یاء کی حرکت زاء کو دے دی تو تَزِیْدُ ہوگیا

صرف1 جواب
7 نومبر، 2024

الاباحة مىں کیا قاعدہ جاری ہوا ہے ؟

قاعدہ بابِ "افعال" اور "اِسْتِفْعَالٌ" کے مصدر میں عین کلمہ کی جگہ اگر واو یا یاء ہو تو واو یا یاء کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے واؤ اور یا کو الف سے بدل کر حذف کریں اور اس کے عوض آخر میں تاء کا اضافہ کر دیں یہ والا قاعدہ جاری ہوا ہے

صرف1 جواب
6 نومبر، 2024

تمن میں کیا تعلیل ہے

تمن میں ادغام ہوا جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے اصل میں یہ تمْنُنُ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کا دوسر جزء یعنی پہلا حرف ساکن اور دوسرا متحرک ہو والا قاعدہ جاری ہوا ہے

صرف1 جواب
6 نومبر، 2024

گردانوں کو یاد کرنے کے مختلف طریقے بتا دیں پلیز

فارسی کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ نحو کے لئے بادشاہ کا دماغ اور صرف کے لئے کتے کی زبان ہونی چاہئے اس کا مطلب یہ ہے کہ نحو پڑھنے کے لئے دماغ حاضر رہے اور چیزیں سمجھ آنی چاہیئیں اس کے بر عکس صرف کے لئے دماغ کی کم اور زبان کی زیادہ حاجت ہوتی ہے گردانیں یاد کرنے کے لئے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں اور یہ دماغی قوت کے لحاظ سے ہیں ذہین طالب علم دو چار بار پڑھنے سے یاد کر لیتا ہے اور کند ذہن بار بار پڑھنے سے یاد کر پاتا ہے گردان یاد کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ بار بار پڑھی جائے یہاں تک کہ زبان پر پانی کی طرح رواں ہو جائے ایک گردان بھی اگر ایسے یاد ہوگئی تو پھر مسئلہ نہیں ہوگا

صرف1 جواب
6 نومبر، 2024

راو میں کیا تعلیل ہوئی ؟؟

راوٍ اصل میں راوِیُن تھا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء کو ساکن کیا پھر نون تنوین اور یاء ساکن تھے تو یاء کو حذف کر دیا تو راوِنْ ہوگیا اب اس نون کو تنوین میں لکھیں تو راوٍ ہوگا

صرف1 جواب
4 نومبر، 2024

واوی اور یائ کو کیسے پہچانیں

واوی اور یائی کو پہچاننے کے لئے جس لفظ کی پہچان درکار ہو تو اس لفظ کی دیگر شکلیں جیسے اسم فاعل و مفعول ماضی مضارع مصدر دیکھیں جیسے خاف یخاف کا مصدر خوف ہے اسی طرح قام کا مصدر قیام ہے اب ان دونوں سے کچھ پتہ نہیں چلتا تو یقوم مضارع دیکھیں اسی طرح تھوڑا تتبع و تلاش کریں ایک اور طریقہ ہے کہ جس کلمے کو پہچاننا ہو اس کلمے کو دونوں جگہ المنجد یا قاموس میں تلاش کریں پہلے واؤ کے ساتھ پھر یاء کے ساتھ اگر دونوں میں سے کوئی معنی عبارت کے لحاظ سے پر فیکٹ ہو تو وہی ہوگا

صرف1 جواب
5 نومبر، 2024

مآب کونسا صیغہ ہے

مآب صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد مہموز الفاء و اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں مأْوَ ب تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا واو کی حرکت ہمزہ کو دے دی پھر یہ نقل کی جانے والی حرکت فتحہ تھی تو واؤ کو الف سے بدلا تو مأاب ہوگیا اب اس کو الف مدہ کی صورت میں لکھا تو مآب ہو گیا

صرف1 جواب
5 نومبر، 2024

إعادة كى اصل اور اس میں کیا قاعدہ جاری ہوا ہے؟

اعادۃ اصل میں اعواد تھا قاعدہ بابِ "افعال" اور "اِسْتِفْعَالٌ" کے مصدر میں عین کلمہ کی جگہ اگر واو یا یاء ہو تو واو یا یاء کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے واؤ اور یا کو الف سے بدل کر حذف کریں اور اس کے عوض آخر میں تاء کا اضافہ کر دیں مذکورہ بالا قاعدہ جاری ہوا

صرف1 جواب
6 نومبر، 2024

ان یصطادہ کی صرفی تحقیق ؟

یصطاد صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افتعال اصل میں یصتَیِد تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو یصتاد ہو گیا پھر قاعدہ ہے کہ باب افتعال کا فاء کلمہ ص ض ط ظ ہو تو تاء افتعال کو طاء سے بدل دیا جاتا ہے تاء افتعال کو طاء سے بدلا تو یصطاد ہو گیا

صرف1 جواب
17 اکتوبر، 2024

لم لم کونسا صیغہ ہے

یہ مشکل صیغوں میں سے ایک ہے لیکن آپ نے جو لکھا ہے یہ مشکل صیغہ نہیں ہے بلکہ اصل میں یوں پوچھا جاتا ہے لَمِ لَم لِم یعنی پہلے کے لام و میم دونوں مفتوح اور دوسرے کے لام پر فتحہ تیسرے کے لام پر کسرہ یہ صیغہ واحد متکلم فعل مضارع جحد بلم رباعی مجرد مضاعف از باب فعللۃ اصل میں لم الم لم تھا یسل والے قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت میم کو دیکر اسے حذف کیا تو لم لم لم ہو گیا

صرف1 جواب
3 نومبر، 2024

صرف صغیر میں 50 سے زیادہ صیغے ہوتے ہیں لیکن اسے سرف صغیر کہا جاتا ہے اور دوسری طرف صرف کبیر میں صیغے کم ہوتے ہیں لیکن اسے صرف ایک کبیر کہا جاتا ہے حالانکہ چھوٹے یا بڑے کی اصول سے دیکھا جائے تو پہلے والے کو صرف کبیر اور دوسری والی کو صرف صغیر کہنا بنتا ہے تو یہ کیوں کہا جاتا ہے ؟

صرف صغیر و کبیر کہنا صیغوں کی تعداد کے اعتبار سے نہیں بلہ صرف صغیر کو صغیر اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں ہر گردان سے دو تین چار صیغے شام ہیں اور کبیر کو کبیر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ایک ہی گردان کے سب صیغوں پر مشتمل ہوتی ہے

صرف1 جواب
2 نومبر، 2024

الصاخة صاد اور خا دونو مشدد ہے اس صغی کی تحقیق کیجئے اور اصل ضرور بتائے

صیغہ واحد مؤنث اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں صاخِخَۃ تھا دو ہم جنس حروف جمع ہوئے دونوں متحرک تھے اور ان کا ما قبل حرف مدہ تھا تو پہلے خاء کو ساکن کر کے دونوں کا ادغام کیا تو صاخخۃ ہو گیا

صرف1 جواب
29 اکتوبر، 2024

ناقص باب الدعاء کا مکمل تعلیلات بھیج دیں

ناقص صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر باب اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں بَوَب تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو باب ہو گیا الدعاء مصدر ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں الدعاو تھا قاعدہ ہے کہ واو طرف کلمہ میں الف کے بعد آئے تو اسے ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے واو کو ھمزہ سے بدلا تو الدعاء ہو گیا

صرف1 جواب
30 اکتوبر، 2024

ابواب کے خاصیات کی پہچان کیسے ہوگی

ابواب کی خاصیات سمجھنے کے لئے سب سے پہلے تو ہر باب کی خاصیات ازبر ہوں اور سمجھ بھی آ چکے ہوں اس کے بعد انہیں معانی کو ان ابواب میں تلاش کریں جیسے لبس ماخذ کا معنی ہوتا ہے ماخذ کو پہننا اب جس باب کی یہ خاصیت ہوگی اس میں کسی چیز کو پہننے کے جب معنی ہوں تو سمجھ جائیں یہاں لبس مأخذ پایا جا رہا ہے

صرف1 جواب
1 نومبر، 2024

یعطی فعل مجہول کی تعلیل فرمائیے گا

یُعطٰی اصل میں یُعطَوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واو کو یاء سے بدل دیا قاعدہ واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا جا تا ہے پھر اس قاعدے کے تحت یاء کو الف سے تو یُعْطٰی ہو گیا

صرف1 جواب
31 اکتوبر، 2024

یعطی یاء پر ضمہ ہے اسکی صرفی تحقیق کیجیے گا

یُعْطِی صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افعال اصل میں یُعْطِوُ تھا قاعدہ وہ واؤ جو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو اور اس سے پہلے ضمہ یا واو ساکن نہ ہو تو اسے یاء سے بدلنا واجب ہے۔ اس صورت میں اگر اس کا ماقبل مفتوح ہو تو اسے الف سے بدل دیں گے اس قاعدے کے تحت واو کو یاء سے بدل دیا تو یُعْطِیُ ہو گیا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو پھر اس قاعدے کے تحت یاء کو ساکن کر دیا تو یُعْطِیْ ہوگیا

صرف1 جواب
31 اکتوبر، 2024

صفت مشبہ کیا ہے؟

صفتِ مشبہہ کی تعریف وہ اسمِ مشتق جو اس ذات پر دلالت کرتا ہے جو اپنے مصدری معنی سے دائمی طور پر متَّصِف ہو یعنی صفت مشبہ فعل سے بنایا جانا والا اسم ہے اور یہ اسم یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس ذات کے ساتھ یہ معنی پائے جا رہے ہیں وہ ہمیشہ اس ذات کے ساتھ ہوں گے

صرف1 جواب
1 نومبر، 2024

نجد کی اصل کیا ہے صرف میں اس پر کونسا قاعدہ لگے گا

نجد اصل میں نَوجِدُ تھا قاعدہ جو واو ، علامتِ مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے در میان يا علامتِ مضارع مفتوحه اور فتحه کے درمیان ایسے کلمے میں ہو جس کا عین یا لام کلمہ حرف حلقی ہو تو اسے گرا دینا واجب ہے مذکور بالا قاعدہ جاری ہوا اور یاء حذف ہوئی

صرف1 جواب
31 اکتوبر، 2024

اللہ خالق کل شئ کی ترکیب کردیں

جملہ "اللہ خالق کل شیئ" کی ترکیب اس طرح ہوگی: اللّٰہُ: اسم جلالت مبتداء خَالِقُ: لفظ "خالق" مبتداء کی خبر کُلِّ : "کُلِّ" ما قبل کے لیے مضاف الیہ مجرور اور "شیئ" کے لیے مضاف شَيْءٍ: مضاف الیہ مجرور مکمل ترکیب: "اللّٰہُ" مبتداء، "خَالِقُ" مضاف خبر، "کُلِّ" مضاف الیہ ما قبل کے لیے اور مضاف ما بعد کے لیے اور "شَيْءٍ" مضاف الیہ

صرف1 جواب
1 نومبر، 2024

خاص کون سا صیغہ ہے

صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں خَاصِصُ تھا قاعدہ اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دونوں صاد کا ادغام ہوا ہے

صرف1 جواب
30 اکتوبر، 2024