آپ مجھے اس کتاب کا نام بتا دیجیے جس ثلاثی مجرد باب کا پتا لگا سکے
القاموس الوحید ڈکشنری میں ہو سکتا ہے
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
القاموس الوحید ڈکشنری میں ہو سکتا ہے
وہ کلمہ جس میں تین حروف اصلیہ ہوں اور کوئی زائد حرف نا ہو
مشق کرنے سے آئے گا
اسمِ مبالغہ کی تعریف وہ اسمِ مشتق جو فاعل میں مصدری معنی کی زیادتی پر دلالت کرے
اسم جامد ہے اس کا باب نہیں ہوگا
گردان والے سیکشن میں دیکھیں
تابعا اسم۔فاعل ہے اس سے اسم مفعول متبوع ہوگا
اسم جامد ہے اس کا اعراب نہیں ہوگا
وجہ اسم جامد ثلاثی مجرد مثال واوی
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع منفی معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
اتقی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں اِوْتَقَیَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا پھر واو باب افتعال کے فاء کلمہ میں تھی اس واؤ کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا تو اتَّقٰی ہوگیا
وَحْیٌ صیغہ مصدر ثلاثی مجرد لفیف مفروق از باب ضرب یضرب
أول کی صرفی تحقیق اور حروف اصلیہ میں مختلف اقوال ہیں امام سیبویہ کے نزدیک یہ صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد لفیف مقرون ہے اس کا فعل نہیں آتا اس وجہ سے اس کا باب نہیں ہوگا اصل میں أَوْوَل تھا دونوں واؤ جمع ہوئے پہلا ساکن دوسرا متحرک تھا دونوں کا ادغام کیا تو أَوَّل ہوگیا
الکبری اکبر اسم تفضیل کی مؤنث ہے صرفی تحقیق صیغہ واحد مؤنث اسم تفضیل ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم
ثلاثی مجرد وہ کلمہ جس میں تین حروف اصلی ہوں اور کوئی زائد نا ہو
مرضیا صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب سمع یسمع اصل میں مرضوی تھا یاء اور واؤ ایک کلمہ میں جمع ہوئے واو کو یاء سے بدلا پھر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو مرضی ہوگیا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے
اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں ہیں سب سے مختصر اور بنیادی کتاب تعلیم المتعلم ہے جس کا اردو ترجمہ راہ علم ہے اس کا مطالعہ کریں مزید مفتی قاسم صاحب کی کتاب ہے اور ایک کتاب عاشقان حدیث کے علم کی راہ میں سفر کرنے واقعات درج ہیں یہ کتاب مکتبہ المدینہ سے مل جائے گی یا ان کی ویبسائٹ پر موجود ہوگی عاشقاں حدیث لکھ کر سرچ کریں تو شاید آ جائے
صرف میں ثلاثی مجرد کے باب پہچاننے کے لئے ہمارے ہاں متداول طریقہ ڈکشنری سے دیکھنا ہوتا ہے اور اس کے قواعد کلیہ بھی ہوتے ہیں جو ابتدائی طالب علم کے لئے موزوں نہیں ہیں البتہ ثلاثی مزید فیہ کے بارہ ابواب کو بغیر یاد کر لیا جائے تو ان کی پہچان بغیر ڈکشنری دیکھے بھی ہو سکتی ہے
عَدَلَ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
فاعل وہ اسم ہوتا ہے جو فعل یا کسی کام کو کرے جیسے ضرب زید میں ضرب مارنے کا کام زید کر رہا ہے فاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے
اس کے حروف اصلیہ واو ل یاء ہیں دو حرف علت آئے تو لفیف اور اکھٹے نہیں ہیں تو مفروق جو پہلے جواب دیا تھا شاید اس میں مقرون ہو وہ غلط ہے
کوئی بھی اسم جس میں حروف اصلیہ کے علاوہ زائد حرف ہو وہ مزید فیہ ہوگا جیسے حمار میں الف زائد ہے تو یہ مزید فیہ ہوگا اور اگر کوئی حرف زائد نا ہو بس حروف اصلیہ ہوں تو مجرد ہوگا جیسے قلم میں تینوں حروف اصلیہ ہیں
فَعَلَ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح
صیغہ مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں اضتجاع تھا قاعدہ اگر باب اِفْتِعَالٌ کافاءکلمہ صاد، ضاد، طاء یا ظا ء ہو تو تائے اِفْتِعَالٌ کوطاءسے بدلنا واجب ہے، پھراگرفاء کلمہ طاء ہو تو ادغام واجب ہے، اور ظاء ہو تو تین صورتیں جائز ہیں اور اگر صاد یا ضاد ہو تو دو صورتیں جائز ہیں ظاء کی پہلی صورت طاء کوظاء کر کے دونوں کا ادغام کر دیں ظاء کی دوسری صورت ظاء کوطاء کر کے دونوں کا ادغام کر دیں ظاء کی تیسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں صاد اور ضاد کی پہلی صورت طاء کو فاء کلمہ کا ہم جنس کر دیں پھر ادغام کر دیں صاد اور ضاد کی دوسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں اس قاعدے کے تحت تاء افتعال کو طاء سے بدلا تو اضطجاع ہو گیا
صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب مفاعلہ
بیٹھا وہ ایک مرد
قالین صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں قالِیِین تھا یاء مکسور یا مضموم ما قبل مکسور ہو تو اس کو یاء کو ساکن کرنا واجب ہوتا ہے یاء کو ساکن کیا پھر دونوں یاء ساکن ہوگئیں تو پہلی یاء کو حذف کیا تو قالین ہوگیا
شعر اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
جی معلل صیغوں میں تعلیل کی صورت میں جو حرف تبدیل ہوگا یا ساکن ہوگا وہ فعل کے مقابلے میں آئے گا اگر حذف ہو جائے تو اس کے مقابلے کا حرف حذف ہو جائے گا
مولی اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون اصل میں مولَیُ وغیرہ ظوتا ہے اس یاء کو الف سے بدل دیتے ہیں
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب افتعال اصل میں یوتضح تھا قاعدہ وه واو یا یاء جو باب "اِفْتِعَالٌ"، "تَفَعَّلٌ" يا "تَفَاعُلٌ" کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاءسے بدل کر ادغام کر دیا جا تا ہے۔ (اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واو یا اء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو) اس قاعدے کے تحت واؤ کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا گیا ہے
ملحق برباعی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ثلاثی کلمے میں کسی حرف کا اضافہ کر کے اسے رباعی کے ہم وزن کیا جائے جیسے ضرب سے ضربب بنانا جو دحرج کے وزں پر ہے
انتھوا صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال اصل میں اِنْتَھِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدہ کے مطابق یاء کا ضمہ ہاء کو دیا پھر یاء کو حذف کر دیا
المصطفی صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افتعال اصل میں مصتفو تھا واو چوتھی جگہ یا اسے آگے واقع ہو تو اسے یاء بدلنا واجب ہوتا ہے واؤ کو یاء سے بدلا تو مُصْتَفَیُ ہوگیا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو مصتفی ہو گیا پھر باب افتعال کے فاء کلمہ میں صاد تھا تاء افتعال کو طاء سے بدلا تو مصطفی ہو گیا ہے
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
وہ کلمہ جس کے حروف اصلیہ میں کوئی حرف حرفِ علت ہو
وہ اثر یا علامت جو کسی عامل کی وجہ سے کلمے کے آخر میں ظاہر ہو
یہ آپ نے تشدید نون پر غلط لگائی ہے یہ صیغہ سَلْنَ ہوگا صیغہ جمع مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مہموز العین از باب فتح یفتح اصل میں اِسْئَلْنَ تھا ھمزہ متحرک تھا ما قبل ساکن ہمزہ کی حرکت ما قبل کو دیکر اس ہمزہ کو حذف کیا پھر امر والا ہمزہ سین کلمہ ( فاء کلمہ کے متحرک ہونے کی وجہ سے گر گیا تو سَلْنَ ہوگیا
خماسی مجرد فعل یا اسم مشتق نہیں ہو سکتے بلکہ اسم جامد ہوگا
یستعمل کی صرف صغیر کے لئے گردان کے سیکشن میں جائیں اور وہاں اس باب کی گردان کے مطابق بنا لیں
یکشف کا باب ضرب ہے
متقین بر وزن مُفْتَعِیْن ہوگا متقین میں لام کلمہ جو کہ یاء تھا وہ محذوف ہے اور موجودہ یاء یہ جمع کی کے تو میزان سے بھی یاء کے مقابل لام کلمہ محذوف ہوگا
ہمزہ وصلیہ کی مثال قالت اخرج اس مثال میں اخرج کا ہمزہ ہمزہ وصلیہ ہے
وہ فعل جس میں حال و استقبال کا معنی پایا جائے
یکشف کا باب ضرب یضرب ہے
صیغہ واحد مؤنث غائب یا واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب استفعال اصل میں تستَطْوِع تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا تو اس کی حرکت ما قبل کو دیکر واؤ یاء سے بدل دیا تو تستطیع ہو گیا
جس لفظ کے حروف اصلیہ معلوم کرنے ہوں اس کی مختلف تعبیرات دیکھیں ان میں آنے والے ایک جیسے الفاظ حروف اصلیہ ہوں گے جیسے علم عالم معلوم علامہ علوم وغیرہ ان سب میں ع ل م ہیں جو ہر جگہ ہیں لہذا یہ حروف اصلیہ ہیں
فتح صیغہ ہے مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح مکۃ اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف
مبتدا وہ کلمہ ہوتا ہے جس کے بارے میں خبر دی جائے یہ ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے
تحتوی صیغہ واحد مؤنث غائب یا واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون از باب افتعال اصل میں تحتَوِیُ تھا یاء مضموم ما قبل مکسور تھا اسے ساکن کر دیا تو تَحتَوِی ہوگیا قاعدہ واو مضموم ماقبل مضموم اور یا مضموم ماقبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واو مدہ نہ ہو
گردان والے سیکشن میں جا کر ثلاثی مجرد کے باب نصر ینصر اور ضرب یضرب کی گردانوں میں فعل مضارع مثبت معروف کی گردانیں دیکھیں
جی کام کر رہے ہیں
اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل جیسے کلام ہوتا ہے
ثلاثی مجرد کے ابواب کی معرفت کے لئے لغت کی مدد لیں ثلاثی مزید فیہ کے ابواب کے لئے ان کے ابواب کی علامات یاد ہوں گردانیں یاد ہوں
اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو تمام مخارج سے حروف لیئے گئے تاکہ تمام طرح کے حروف میں مناسبت ہو جائے جیسے ف شفوی عین حلقی اور لام جوف دہن سے ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ فعل کا معنی ہوتا ہے کام کرنا اور ہر فعل بھی کام ہوتا ہے تو اس ویہ سے اس کا انتخاب کیا گیا ہے کہ مناسبت رہے
معنوی فرق بھی واضح ہے کہ لام امر فعل مضارع پر داخل ہو کر اس میں امر کے معنی پیدا کرتا ہے اور لام تاکید فعل کے معنی میں تاکید پیدا کرتا ہے نون توکید ثقیلہ اور خفیفہ میں واضح فرق نہیں ہے
جن صیغوں کے آخر میں نون خفیفہ نہیں آتی وہ چھ صیغے ہیں چاروں تثنیہ اور دو جمع مؤنث غائب و حاضر کے اس کی وجہ نیچے موجود ہے
سَفَّاک صیغہ واحد مذکر اسم مبالغہ ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل میں زَیَدتم تھا یاء کو الف سے بدل کر حذف کر دیا اور باب کی مناسبت سے زاء کو کسرہ دیا تو زدتم ہوگیا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے
رب میں بہت سارے اقوال ہیں یہ صیغہ مصدر ثلاثی مجرد مضاعف ہے اصل میں رَبِبٌ تھا پہلی باء کو ساکن کر کے دونوں کا ادغام کیا تو رب ہوگیا
گردانیں کم از کم ضرور یاد ہوں اور ابواب کی علامات بھی
ابھی تک ایڈ نہیں ہوئیں ہمارا اس پر کام جاری ہے
میرا مشورہ ہے مسلسل مشق کریں یہ مستقل طریقہ ہے
گردانیں یاد ہونی چاہیئں پہچان آسان ہوگی
ھمَّام کا مطلب ہے پختہ ارادے والا بلند ہمت شخص
ہماری ایپ میں قواعد کے سیکشن میں مہموز کے جوازی اوروجوبی قاعدہ دیکھیں وہاں لکھا ہوا ہے مکمل
صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں قَوَلوا تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا تو قالوا ہو گیا
صیغہ واحد اسم آلہ کبری ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب اصل میں مِوزان تھا واو ساکن ما قبل مکسور کو یاء سے بدلا تو میزان ہوگیا
حروف اصلیہ پہچاننا خصوصا کسی معلل لفظ میں اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آپ کی ویکیبلری کیسی ہے آپ کے پاس لفظ کی مختلف صورتیں موجود ہیں ان میں مشترک آنے والے حروف حروف اصلیہ ہوں گے اس سے بہتر طریقہ ہے کہ آپ کی ویکبلری اچھی ہو بہت سارے الفاظ کی صرفی تحقیق کریں اس پریکٹس کی وجہ سے آپ خود فرق محسوس کرنا شروع کریں گے
لغت میں عموما فعل کے ساتھ مصادر لکھے ہوتے ہیں المعانی ڈاونلوڈ کر لیں
بار بار پڑھیں یہاں تک کہ زبان پر چڑھ جائیں
حروف نداء وہ حروف جن کے ذریعے کسی کو مخاطب کیا جائے یا ایا ھیا ای اور ھمزہ مفتوحہ یہ پانچ حرف نداء ہیں
فعل وہ کلمہ جو اپنے معنی پر خود دلالت کرے اور اس کا معنی تینوں زمانوں میں سے کسی زمانے سے ملا ہوا نا ہو
لت کا معنی ہوتا ہے گوندھنا لتٌّ ہو تو صیغہ مصدر ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر لتَّ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر
لألزمن صیغہ واحد متکلم فعل مضارع بلام توکید و نون تاکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع کاف ضمیر منصوب متصل مفعول بہ محلا منصوب
زید اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف یائی
نبَّأ صیغہ ہے نا ضمیر متکلم ضمیر منصوب متصل ہے صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام از باب تفعیل اگر نَبَّأْنا ہوں ھمزہ ساکنہ ہو تو صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام از باب تفعیل
اس کے لئے کچھ پریکٹس کرنی ہوگی صیغوں کی پہچان ہونے تک بقیہ حروف اصلیہ معلوم ہوں تو با آسانی پتہ چل سکتا ہے
صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
سبق یاد کرنے کے دو وقت ہیں جو میرے مجرب ہیں ایک صبح کے وقت جبکہ رات کو جلدی سوئے ہوں یا نیند پوری ہو یہ وقت فجر کے بعد اور فجر سے پہلے کا ہے اور دوسرا بہترین وقت مغرب کے بعد کا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو بہت بھوک نا لگی ہو بلکہ نارمل ہوں تو ان شاء اللہ آپ کو فائدہ محسوس ہوگا
کسی بھی علم کو یاد کرنے اور ہمیشہ یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ بار بار سبق کو پڑھیں چاہے تو اس کے لئے ایک تسبیح رکھ لیں اور مخصوص تعداد مقرر کر کے اتنی بار پڑھیں جیسے ایک سبق ملا تو اس کو سو بار پڑھیں روزانہ پڑھنے کے علاوہ روزانہ پیچھے کم از کم دو دن کے سبق کی دھرائی بھی کریں اور ساتھ میں ہفتہ وار یاد کیئے ہوئے کی دھرائی اور کسی کو سنانے کی ترکیب ہونی چاہئے اس کے علاوہ اسی موضوع یا سبق سے متعلق درسی کتب کے علاوہ کتب کا مطالعہ بھی ضرور کریں ان شاء اللہ ایک ہفتہ کر کے دیکھیں آپ کو اطمینان قلبی محسوس ہوگا
کسی بھی علم کو یاد کرنے اور ہمیشہ یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ بار بار سبق کو پڑھیں چاہے تو اس کے لئے ایک تسبیح رکھ لیں اور مخصوص تعداد مقرر کر کے اتنی بار پڑھیں جیسے ایک سبق ملا تو اس کو سو بار پڑھیں روزانہ پڑھنے کے علاوہ روزانہ پیچھے کم از کم دو دن کے سبق کی دھرائی بھی کریں اور ساتھ میں ہفتہ وار یاد کیئے ہوئے کی دھرائی اور کسی کو سنانے کی ترکیب ہونی چاہئے اس کے علاوہ اسی موضوع یا سبق سے متعلق درسی کتب کے علاوہ کتب کا مطالعہ بھی ضرور کریں ان شاء اللہ ایک ہفتہ کر کے دیکھیں آپ کو اطمینان قلبی محسوس ہوگا
اس کے لئے راہ علم کتاب کا مطالعہ فرمائیں اور ہمارے مضامین والے سیکشن کا وزٹ لازمی کریں وہاں اس موضوع پر کئی مضامین لکھے ہوئے موجود ہیں
یہ لفظ اختلاط ہوگا مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
صیغہ واحد مؤنث اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
اس میں ایک قاعدہ سمجھ آ رہا ہے کہ باسمک میں ھمزہ وصل پڑھنے میں نہیں آئے گا
قوّٰمون صیغہ جمع مذکر سالم اسم مبالغہ ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر
معلل صیغوں کا وزن نکالنے کے لیے اگر اس معلل صیغے میں حرف علت کو کسی دوسرے حرف سے تبدیل کر دیا گیا ہو تو وزن میں اسی بدلے ہوئے حرف کی جگہ اصل کو فرض کر کے وزن کریں گے تبدیل کا اعتبار نہیں ہوگا جیسے قَاْل اصل میں قَوَل تھا تو اصل کے اعتبار سے وزن تھا فَعَلَ تو جب واؤ کو الف سے بدل دیا تو قال ہونے کے با وجود وزن فَعَل ہی نکلے گا اگر موزون میں کوئی حرف علت محذوف ہو تو وزن میں بھی حذف کریں گے جیسے قل بر وزن فُل ہے کیوں کہ قل سے عین کلمہ واؤ محذوف ہے لہذا وزن سے بھی حذف کر دیا
لِأُمْنَعْ صیغہ واحد متکلم فعل امر غائب و متکلم مجہول ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح اعراب اور ہیں تو دوبارہ حرکات لگا کر بھیجیں
صرف کا موضوع کلمہ بحیثیت صیغہ ہے یعنی علم الصرف میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کلمہ کے حروف ان کی ترتیب اور حرکات و سکنات وغیرہ
صرف کا موضوع کلمہ بحیثیت صیغہ ہے یعنی صرف میں کسی کلمے کے حرکات و سکنات و ترتیب حروف سے بحث کی جاتی ہے
جاء سے امر جِئْ آئے گا اصل میں اِجْیِء تھا یاء متحرک ما قبل ساکن کی حرکت جیم کو دی پھر ھمزہ وصلیہ کی ضرورت نہیں تھی اسے حذف کر دیا جِیْءْ ہوگیا ھمزہ اور یاء دونوں ساکن ہیں یاء کو حذف کر دیا تو جِئ ہوگیا باب ضرب یضرب
اس کی پہچان کا قاعدہ کلیہ نہیں ہے ایک طریقہ ہے جس سے حروف اصلیہ اور تعلیل دونوں کا پتہ چل سکتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ لفظ کی مختلف صورتیں دیکھیں تو جو حروف ہر جگہ آ رہے ہوں وہی حروف اصلیہ ہوں گے اور مصدر میں یا کہین بھی ان حروف میں سے کوئی موجود نا ہو تو سمجھیں تعلیل ہوئی ہے جیسے قضی یقضی قاضی یہ تین لفظ ہیں ان میں ق ض ی ہر جگہ ہیں اور یہ حروف اصلیہ ہیں اب اس کا مصدر قضاء آئے گا تو ھمزہ یاء کی جگہ ہے جس سے با آسانی آپ معلوم کر سکتے ہیں یہاں کوئی تعلیل ہوئی ہے
یہ بروزن فَعْلَل ہے
الرسل جمع مکسر ہے اور جمع مکسر واحد مؤنث کی طرح کا حکم رکھتا ہے اس وجہ ذلک کی جگہ تلک آیا ہے
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں یتْتَخذ تھا دونوں تاء کا ادغام کر دیا تو یتخذ ہوگیا صاحب علم الصیغہ کے نزدیک اس کے حروف اصلیہ ت خ ذ ہیں
سبق یاد کرنے کے لئے سب اہم چیز ہوتی ہے اسے سمجھنا سمجھ آنے کے بعد آپ کو پچاس فیصد تو یاد ہو جائے گا اس کے بعد آپ اس کو بار بار پڑھیں جب تک تمام مفہوم ذہن میں بیٹھ نا جائے مزید معلومات کے لیے راہ علم کتاب پڑھنا بہت مفید ہوگا
صفت مشبہ
ان شاء اللہ بہت جلد