عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

ماسطااعو سے سرفی تحقیق

صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی منفی معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب استفعال اصل میں استَطْوَعوا تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا واو کی حرکت ما قبل کو دیکر واؤ کو الف سے بدلا تو استطاعوا ہو گیا اور اس میں سے تاء کثرت استعمال سے ساکت ہوئی ہے

صرف1 جواب
4 ستمبر، 2024

الســــــــــــــلام علیـــــــــــــکم سر میں نے کافی بار لوگوں سے کہتے ہوئے سنا ہے۔ کہ عائش اور خدیج حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کا نام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہے۔ آپ رہنمائی فرمادیجئے جزاکم اللہ خیرا کثیرا

عائش اور خدیج یہ ترخیم کر کے استعمال کرتے ہوں گے ترخیم میں کلمہ میں آخری حرف کو حذف کر دیا جاتا ہے

صرف1 جواب
4 ستمبر، 2024

مضاف کی کیا پہچان ہے جملے میں کہا استعمال ہوتا ہے ؟

مضاف کی کوئی خاص پہچان نہیں ہوتی البتہ کچھ طریقے ہیں جن سے پہچان ہو سکتی ہے 1 جب نکرہ اسم اور معرفہ آئیں تو نکرہ مضاف ہو سکتا ہے 2 جب ضمیر سے پہلے اسم آ جائے جیسے غلامہ غلامی وغیرہ تو تو یہ اسم مضاف ہوگا 3 ترجمے سے پہچان ہو سکتی ہے جب ترجمہ میں کا کی کے تیرا میرا ہمارا کا لفظ آئے تو اس صورت میں ان الفاظ کے بعد آنے والا لفظ مضاف ہوگا جیسے غلام زید کا ترجمہ ہوگا زید کا غلام غلامنا کا ترجمہ ہوگا ہمارا غلام

صرف1 جواب
1 ستمبر، 2024

اسلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ ۔میرا سوال ہیکہ اگر کوئی صیغہ سامنے آجاۓ اسکو حل کرنے کیلئے سب سے پہلے کیا کریں گے ۔ جزاک اللّٰہ

سب سے پہلے وزن معلوم کریں وزن معلوم کرنے کے لئے حروف اصلیہ تلاش کریں اس کے بعد صیغے کو سامنے رکھیں قیاس کے مطابق جو قواعد جاری ہوتے ہیں وہ کریں

صرف1 جواب
27 اگست، 2024

صفت و صیغہ صفت میں کوئ فرق ہے کیا ،مادہ اور مشتق منہ کی تعریفات بذریعہ مثال سمجھا دیں جزاکم اللہ خیرا

صفت عام ہے یہ موصوف کی صفت کو بھی کہتے ہیں اور صیغہ صفت مراد وہ صیغہ جو فعل سے مشتق کیا جائے مادہ کہتے ہیں کسی بھی کلمے کے حروف اصلیہ کو اور مشتق منہ وہ کلمہ جس سے کوئی دوسرا کلمہ بنایا جائے

صرف1 جواب
2 ستمبر، 2024

لَنْ يُشَادَّ اعراب لگا دیے اب بتادیں اس کی صرفي تحقیق بتادیں جلدی ..... ؟

صیغہ واحد مذکر فعل مضارع جحد بلم معروف ( مجہول بھی اسی طرح آتا ہے) ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب مفاعلہ اصل میں یشادِدَ تھا دو ہم جنس حرسف جمع ہوئے دونوں متحرک تھے اور ان کا ما قبل مدہ تھا تو پہلے دال کی حرکت حذف کر کے دونوں کا ادغام کیا تو لن یشاد ہوگیا ہے

صرف1 جواب
2 ستمبر، 2024

مؤنث کی کتنی قسمیں ہیں

مختلف اعتبار سے مختلف اقسام ہیں اولا مؤنث حقیقی وہ مؤنث جس کے مقابلے میں نر جاندار ہو مؤنث سماعی وہ مؤنث جس کے مقابلے میں نر جاندار نا ہو اس کو مؤنث مجازی بھی کہتے ہیں پھر علامت تانیث کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں مؤنث لفظی وہ مونث جس میں علامت تأنیث لفظا موجود ہو مؤنث معنوی وہ مؤنث جس میں علامت تأنیث لفظوں میں موجود نا ہو

صرف1 جواب
31 اگست، 2024

اسلام وعلیکم ، مجھے آپکا ایپ بہت پسند آیا اور بہت مفید بھی ہے ۔ میری ایک درخواست ہے کہ جو قران ضیغہ ہے اس میں ہر لفظ کے اگر گردان اور سارے صیغے کی دستیابی اگر ہو جائے تو بہت بہتر ہونگا۔ میں ابھی قران کو سمجھ کر پڑھنا سیکھ رہا ہوں لیکن لفظ کی گردان اور ضیغ آسانی سے نہیں مل رہے ہیں جس کی وجہ سے سمجھنے میں بہت پریشانی ہو رہی ہے۔ جو ضیغہ کا آبشن ہے اس میں صرف چند مثالیں ہی موجود ہے ۔

محترم المقام اللہ تعالی آپ کو پر اپنا خصوصی کرم فرمائے ہم مسلسل کام کر رہے ہیں کہ بہتر سے بہتر طریقے سے اس پر کام ہو

صرف1 جواب
31 اگست، 2024

اسم فاعل اور فاعل میں کیا فرق ہے واضح کریں

اس فرق کو سمجھنے کے لئے بنیادی طور پر ان کی تعریفات سمجھ لیں اسم فاعل : وہ اسم جو فعل سے مشتق کیا جائے اس ذات پر دلالت کرنے کے لئے جس کے ساتھ یہ فعل قائم ہو فاعل : وہ اسم جس کی طرف فعل یا شبہ فعل کی اسناد کی جائے فروق اسم فاعل ہمیشہ فعل سے مشتق ہوتا ہے جبکہ فاعل مشتق و غیر مشتق دونوں ہو سکتے ہیں اسم فاعل کا اعراب بدلتا رہتا ہے جبکہ فاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے اسم فاعل سے پہلے فعل کا ہونا ضروری نہیں لیکن فاعل سے پہلے فعل یا شبہ فعل لازمی ہوگا اسم فاعل میں ذات اور وصف کا معنی ہوتا ہے جیسے ضارب کا معنی ہے مارنے والا شخص جبکہ فاعل میں ایسا ہونا ضروری نہیں اس کے علاوہ بھی فروق ہو سکتے ہیں

صرف1 جواب
30 اگست، 2024

اَلْاَوّلُ (پہلا) اکثر کتابوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی صرفی تحقیق فرما دیں اور حروف اصلیہ بھی بتا دیں اور یہ بھی بتا دیں اس کی ماضی مضارع کس طرح آئے گی ؟

حروف اصلیہ میں مختلف اقوال ہیں اول صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد لفیف مقرون اس کا فعل استعمال نہیں ہوتا اس وجہ سے اس کا باب نہیں ہے اصل میں أوول تھا واو کا واو میں ادغام کیا تو اول ہوگیا یہ صرفی تحقیق امام سیبویہ کے قول پر ہے کبھی کبھار بطور ظرف استعمال ہوتا ہے

صرف1 جواب
27 اگست، 2024

.. ثلاثی مزید فیہ کی کچھ گردانوں میں کچھ صیغے زیادہ کیوں آتے ہیں جیسے ادھیمام مصدر سے امر کے واحد مذکر حاضر کے صیغے ادھام میم کے زبر اور زیر دونوں طرح ہے اور ادھامم صیغہ بھی ہے اسکی وجہ بتا دیجیے

قاعدہ نمبر دو ہم جنس حروف ایک کلمے میں اکٹھے ہوں، ان میں سے پہلا حرف متحرک اور دوسرا سکون عارضی کی وجہ سے (بوجہ امر یا بوجہ حرف جازم) ساکن ہو تو اسے تین طریقوں سے پڑھنا جائز ہے اور اگر پہلے حرف کا ماقبل مضموم ہو تو ضمہ دینا بھی جائز ہے اس قاعدے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے

صرف1 جواب
30 اگست، 2024

لم اصل میں کیا تھا اور اس کا معنی کیا ہے جلدی جواب ارسال کریں مہربانی ہوگی

شاید آپ لُمْ پوچھنا چاہ رہے ہیں لم قل کی طرح ہے اصل میں ألوُم تھا واؤ کی حرکت ما قبل کو دی اور واؤ اور میم دونوں ساکن تھے (میم امر کی وجہ سے مجزوم ہے ) تو واو کو گرا دیا اب ھمزہ وصلیہ بھی گر گیا کیوں کہ فا کلمہ متحرک ہے تو لم بچ گیا

صرف1 جواب
28 اگست، 2024

علی کا معنی ،صرفی اور نحوی تحقیق کریں؟

علیٌّ کا معنی بلندی والا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں علیو تھا سید والے قانون کے تحت واو کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو علی ہوگیا نحوی تحقیق لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب جاری مجری صحیح اعراب بالحرکت اعراب لفظی

صرف1 جواب
24 اگست، 2024