تکرار مصدر کونسے باب سے ہے
تفعیل کا مصدر ہے
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
تفعیل کا مصدر ہے
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح ز ح م حروف اصلیہ الف زائدہ بر وزن فِعَال
اعطوا صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افعال اصل میں اعطووا تھا واو مضموم ما قبل مکسور تھا اسے یاء سے بدلا تو اعطیوا ہوگیا پھر یاء مضموم ما قبل مکسور تھا تو ناقص کا قاعدہ نمبر پانچ لگا یاء مضموم ما قبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو یاء کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر دی پھر اس یاء کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیا
جب فعل امر بنا تے ہے اگر فا کلمہ ساکن ہو تو الف وصلیہ لگا دو جیسے انصر اور جب فا کلمہ ساکن نہ ہو تو ایسے ہی بنا دیتے ہیں جیسے یقول سے قل
عفا صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں عفَوَ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو عفا ہوگیا
صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل أتیَت تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو اتات ہوگیا الف اور تاء میں اجتماع ساکنین ہوا تو الف کو گرا دیا تو اتت ہوگیا
صحیح صفت مشبہ ہے جمع: أَصِحَّاءُ، صِحَاحٌ، ـات. [ص ح ح]. (صِيغَة فَعِيل).
http://islamicdesk.com/feed/- https://play.google.com/store/apps/details?id=com.sarfkidunya
جواب دیا جا چکا ہے
جاء کے حروف اصلیہ ج ی ء ہیں
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح
وہ فعل جس کا سمجھنا مفعول بہ پر موقوف ہو وہ فعل متعدی ہوتا ہے۔ اور جس کا سمجھنا مفعول بہ پر موقوف نہ ہو وہ فعل لازم ہوتا ہے
صیغہائے ثلاثی مجرد سے ثلاثی مجرد کے اوازن مقصود ہوتے ہیں فعل کے چھ اوازن ہیں اور اسماء کے دس اوزان ضرب یضرب نصر ینصر فتح یفتح
یہ فعل ہے جمع مؤنث سالم اسم کی بنتی ہے
صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
المذروعات صیغہ جمع مؤنث سالم اسم مفعول ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح المکیلات صیغہ جمع مؤنث سالم اسم مفعول ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب اصل میں مکیُول تھا ایک تعلیل کے مطابق یاء کے ضمہ کو ما قبل کی طرف نقل کیا بعده یاء ساکن ما قبل مضموم تھی تو یاء کو واؤ سے بدلا تو مکوول ہوگیا پھر اجتماع ساکنین سے ایک واو کو حذف کیا تو مکول ہوگیا اجوف یائی ہونے کی وجہ سے کاف کے ضمہ کو کسرہ بدلا پھر واو کو یاء سے بدلا تو مکیل ہوگیا جمع مکیلات الموزونات صیغہ جمع مؤنث سالم اسم مفعول ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب
صیغہ تثنیہ مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف
لفظ صیغہ بر وزن فِعلۃٌ ہے صیغوں کو یاد رکھنے کے لئے گردانیں مضبوط ہوں وزن کرنے کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے اوازن یاد ہونے چاہیئیں
ایک کتاب ہے لسان الجنۃ اسکا مطالعہ کریں
کچھ مراحل ہیں ان کو اگر حل کر لیا جائے تو جلد ہی صرف پر گرفت حاصل ہوسکتی ہے قواعد کو اچھے سے یاد کیا جائے کوشش کریں کہ مثال سے قاعدہ یاد کریں ان کتابوں کو پڑھیں جن میں صیغوں پر قواعد جاری کیئے گئے ہوں مثلا تعلیلات خادمیہ اور صرف بھترال وغیرہ پھر بھر پور مشق کریں کم از کم دو چار سو صیغوں پر قواعد کا اجراء کریں
جواب دیا جا چکا ہے
حسب حسبا حسبوا حسبت حسبتا حسبن حسبت حسبتما حسبتم حسبت حسبتما حسبتن حسبت حسبنا
قال اصل میں قَوَل تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو قال ہوگیا
حشیشا اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مضاعف حروف اصلیہ ح ش ش حرف زائد ی حریرا بھی اوپر والے کی طرح ہے حروف اصلیہ ح ر ر حرف زائد یاء
فتح ہفتح
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
ڈاکٹر مظہر اقبال شامی ہے غالبا
لایلاف قریش میں ل جارہ ہے ایلاف قریش یہ مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب افعال ہے اصل میں اءلاف تھا تو دو ہمزہ کلمہ میں جمع ہوئے دوسرا ساکن تھا تو اسے یاء بدل دیا مہموز کے وجوبی قوانین کا پہلا قاعدہ نصاب الصرف سے ملاحظہ کریں قریش اسم مصغر اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
تفعُّل
صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
یہ وہ حروف ہیں جو مضارع کے صیغے کے شروع میں آتے ہیں
جو معنی لفظ ہو
اسم فعل حرف
اسم کی تین قسمیں ہیں جامد جیسے زید بکر مشتق جیسے ضارب و مضرب مصدر جیسے ضرب و نصر
مضاعف کے 3 مہموز کے 3 مثال کے 5 اجوف 7 ناقص 6
معنی مکڑی کا جال
فعل کی مختلف اعتبار سے مختلف اقسام بنتی ہیں حروف صحیحہ و علت کے اعتبار سے چار قسمیں ہیں صحیح مضاعف مہموز معتل اور زمانے کے اعتبار سے تین قسمیں بنتی ہیں ماضی جیسے نصر مضارع جیسے ینصر امر جیسے اضرب
صوفی اسم منسوب ہے صوف + یاء نسبت
اسمِ تفضیل کا بیان وہ اسمِ مشتق جو اس ذات پر دلالت کرے جس میں کسی کے مقابلے میں مصدری معنی کی زیادتی ہو اسمِ تفضیل مذکر بنانے کا طریقہ فعلِ مضارع معروف سے علامتِ مضارع کو حذف کر کے اس کی جگہ ہمزہ مفتوحہ کا اضافہ کریں اور عین کلمہ کو فتحہ دیں اسمِ تفضیل مؤنث بنانے کا طریقہ فعلِ مضارع سے علامتِ مضارع کو حذف کریں، فاء کلمہ کو ضمہ دیں اور عین کلمہ کو ساکن کر کے آخر میں علامت تانیث (الف مقصورہ) بڑھادیں
صیغہ واحد اسم ظرف ثلاثی مجرد مہموز اللام از باب فتح یفتح
تصریف کہتے ہیں ایک صیغہ کو مختلف صیغوں کی طرف پھیرنا صرف کبیر اور صرف صغیر یہ اس کی اقسام ہیں صرف صغیر کہتے ہیں ایک مصدر کو بعض صیغوں کی طرف پھیرنا اور صرف کبیر ایک مصدر کو تمام صیغوں کی طرف پھیرنا
قال اصل میں قول تھا اجوف کے قاعدہ نمبر ایک کے مطابق واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو قال ہوگیا
یجتنب یجتنبان یجتنبون تجتنب تجتنبان یجتنبن تجتنب تجتنبان تجتنبون تجتنبین تجتنبان تجتنبن اجتنب نجتنب
اگر مادہ س ت ر سے ہے تو اس میں تین احتمال ہیں صیغہ واحد مؤنث غائب صیغہ واحد مذکر حاضر صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
یاء مشدد جو یائے نسبت کہلاتی ہے یہ بھی اسم کی علامت ہے
جس کلمہ کا عین کلمہ ہمزہ ہو۔
لا حرف ہے اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی ریب مصدر مصدر ثلاثی مجرد اجوف یائی ثلاثی مجرد از باب ضرب
مکرر سوال
خاصیات گویا کہ ترجمے میں مہارت حاصل کرنے کا بنیادی جزء ہیں اور عربی کلام کی لطافت کو سمجھنے کے لئے بہت اہم چیز ہے اور اپنے مزید معانی بنانے کے لئے فعل کو مختلف ابواب پر لانے کا قاعدہ ہیں مثلا کسب کا معنی ہوتا ہے عبد کا معنی ہوتا ہے عبادت کرنا لیکن تعبَّد کا معنی ہوتا ہے با تکلیف عبادت کرنا یا دکھاوے کے لئے عبادت کرنا اب اگر خاصیات معلوم ہوں گے تو ایک ہی مادے سے مختلف ابواب سے آنے والی گرداں کی وجوہات معلوم بھی ہوں گی اور زبان و کلام سمجھنا بھی آسان ہوگا
کس مصدر سے
توفنا توف فعل ہے نا ضمیر منصوب متصل توف صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفعل اصل میں توفی تھا بوجہ امر یاء حرف علت ساقط ہوگیا تو توف رہ گیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر اصل میں کون تھا واو متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو کان ہوگیا حروف اصلیہ ک و ن
وہ عبارت جو کتاب کا اصل حصہ حواشی شروع وغیرہ کے علاوہ جیسے بخاری شریف متن ہے جتنی بھی احادیث ہیں
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
جیسے ثلاثی کلمات کو ڈھونڈتے ہیں
صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب تعظین سے امر بنانے کے لیے علامت مضارع حذف کیا نون کو حذف کیا تو عظی بچا
لفظ اوس کی تصغیر ہے صیغہ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و اجوف واوی حروف اصلیہ ا و س معنی قبیلے کا نام ہے
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل مادہ ح م د معنی تعریف کیا ہوا
واحد مذکر غائب
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
یرضی صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب سمع یسمع اصل میں یرضَوُ تھا واؤ چوتھی جگہ واقع ہوئی اسے یاء سے بدلا تو یرضیُ ہوگیا یاء نصاب الصرف ناقص قاعدہ نمبر چار متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو یرضی ہوگیا نصاب الصرف ناقص قاعدہ نمبر ایک
استبان استبانا استبانو استبانت ۔۔۔۔۔ اُستُبِین اُستُبِینااُستُبِینوا
پانچ کثیر الاستعمال ہیں تین قلیل استعمال کل آٹھ ابواب ہیں
جی
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
۔۔؟؟؟
اتیان
دحرج کی گردان پر قیاس کر لیں
ضروری نہیں
بلکل دس ہزار گھنٹے مطالعہ مشق تکرار بحث مباحثہ ماہرین کی صحبت یہ سب چیزیں داخل ہیں
الضحی اسم جامد ثلاثی مجرد ناقص واوی اصل الضُحَو تھا واو متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو ضحی ہوگیا
تخلیل مصدر ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب تفعیل
ایحاء صیغہ مصدر ثلاثی مزید فیہ مثال واوی و ناقص یائی از باب افعال اصل اوحای تھا واو ساکن درمیان کلمہ میں کسرہ کے بعد واقع ہوئی تو یاء سے بدل گئی موقن والا قاعدہ جاری ہوا اور یاء الف زائدہ کے بعد طرف کلمہ میں آئی تو ہمزہ سے بدل گئی دعاء کساء والا قانون
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
أن نمن اصل صیغہ یوں ہے ان مصدریہ ناصبہ ہے نمن صیغہ جمع متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر أن کی نون کو نمن کی نون میں مد غم کیا تو أن نَّمن ہوگیا
ص ل و
نصاب الصرف ملاحظہ فرمائیں
مصدر ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں دعاو تھا واو طرف کلمہ میں الف زائدہ کے بعد آئی اسے ھمزہ سے بدلا تو دعاء ہوبیا
یہ صیغہ درست ہے
صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز العین از باب فتح یفتح س ء ل
مکرر سوال
اولا کوئی ایک متن حفظ کر لیں ثانیا مسلسل مشق کریں روزانہ کے دو چار صیغے ضرور حل کریں اور مختلف کتب کا مطالعہ کریں بہت جلد صرف سمجھ آنا شروع ہو جائے گی
اس میں آپ کا سوال کیا ہے
ہمزہ وصلی ہے عند التباس میں ہمزہ ساقط ہوگا
بعض اوقات فاعَل کا وزن اسم آلہ کا معنی دیتا ہے لیکن اسے اسم آلہ نہیں کہا جاتا صیغہ جمع مذکر سالم اسم۔جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح اگر عالم کو علم سے اسم آلہ مشتق مانیں تو پھر صرفی تحقیق یوں ہوگی صیغہ واحد اسم آلہ ثلاثی مجرد صحیح از باب علم لیکن قیاسی وزن نہیں ہے بلکہ سماعی ہے
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر حروف اصلیہ ط ل ب
یلج صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب اصل میں یولج تھا واو علامت مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے درمیان آئی تو اسے گرا دیا تو یلج ہوگیا
نام صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں نامون تھا واو کسرہ کے بعد آئے تو اسے کسرہ بدل دیتے ہیں (ناقص قاعدہ نمبر 3 نصاب الصرف ) تو نامین ہوگیا پھر یاء مضموم ما قبل مکسور تھی اسے ساکن کر دیا ( ناقص نصاب الصرف قاعدہ نمبر 2) تو نامیْن ہوگیا اجتماع ساکنین سے یاء حذف ہوگئی تو نامن ہوگیا جو جب نون کو تنوین کی صورت لکھیں گے تو نامٍ ہوگا
اس کی گردان نہیں ہوتی
باب کرم یکرم ہمیشہ ان افعال کے لئے آتا ہے جو صفات جبلی و فطری ہوں اور یہ صفات ہمیشہ صفت مشبہ کے صیغے میں پائی جاتی ہیں اس لئے باب کرم سے اسم فاعل کء بجائے صفت مشبہ کا صیغہ آتا ہے
باب تفعیل مصدر کے تقریبا چھ اوزان ہیں تفعیل تفعلۃ تفعال فعال
افعال اور اسماء مشتقہ میں صیغہ بحث / گردان / شش اقسام ہفت اقسام باب جوامد میں واحد ہو تو اسم کی اقسام یعنی جامد شش اقسام ہفت اقسام تثنیہ یا جمع مکسر/ سالم ہو یا اسم منسوب و مصغر ہو تو پہلے یہ دونوں چیزیں بھی بتا سکتے ہیں
اس کا جواب موجود ہے سرچ کریں
عبارت بھیجیں
ماضی یعنی گزرا ہوا زمانہ جو زمانہ ہمارے گفتگو کے زمانے سے پہلے کا ہوتا ہے
وہ فعل جو زمانۂ گزشتہ پر دلالت کرے زمانہ گزشتہ وہ زمانہ ہوتا ہے جو ہمارے گفتگو کے زمانے سے پہلے کا ہوتا ہے
جی باب تفعیل ہے کتابت کی غلطی کے
صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب تفعیل اصل وقتت تھا واو مضموم کو ہمزہ سے بدلنا جائز ہے تو وقتت سے اقتت ہوگیا
فعال پر مختلف اعراب آسکتے ہیں یہ جمع کا بھی وزن ہے صفت مشبہ اسم مبالغہ مصدر اور نسبت کا بھی وزن ہے اگر فاء پر کسرہ دیں تو جمع کا وزن ہے جیسے رجل سے رجال اگر فاء پر فتحہ عین پر تشدید دیں تو صفت مشبہ وغیرہ اوازن بنیں گے