تسامینی کی صرفی تحقیق بتائے
سوال سمجھ نہیں آرہا
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
سوال سمجھ نہیں آرہا
فَتَحَ ، یَفْتَحُ
فعل امر ، صیغہ واحد مذکر حاضر اصل میں تَقِیُ تھا امر کی وجہ سے حرف علت گرگیا اور شروع سے علامت مضارع حذف کیا تو قِ ہوگیا
"🌹فنِ صرف میں مضبوطی کا آسان حل🌹" "✍️ ابو المتبسِّم عطاری" 👈 اِس فن پہ تو کتبِ کثیرہ تحریر کی گئی ہیں۔ اور وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ مزید کتب بھی لکھی جارہی ہیں۔ 👈 لیکن اِس فن میں مضبوطی حاصل کرنے کا ایک آسان طریقہ عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ اِس فن کو 5 حصوں پہ تقسیم کریں: 👈 "پہلا حصہ: تعارف علمِ صرف" (اِس میں صرف کی تعریف ، موضوع ، غرض ، سہ ، شش ، ہفت اقسام ، حروف اصلیہ و زائدہ کی پہنچان کا طریقہ وغیرہ یہ آئے گا) 👈 "دوسرا حصہ: أفعال کا بیان" (اِس میں آئے گا ماضی ، مضارع ، امر ، نہی وغیرہ اِن کی تعریفات اور بنانے کے طریقے اور اوزان بس) 👈 "تیسرا حصہ: أسماء کا بیان" (اِس میں آئے گا اسم فاعل ، مفعول ، ظرف ، آلہ ، تفصیل وغیرہ اِن کی تعریفات اور اوزان بس) 👈 "چوتھا حصہ: ابواب کا بیان" (اِس میں ثلاثی مجرد و مزید فیہ کے ابواب اور علامات کا تذکرہ بس) 👈 "پانچواں حصہ: قواعد کا بیان" (اِس میں مہموز ، مضاعف اور معتل کے کثیر الاستعمال قواعد بس اور کثیر الاستعمال قواعد تقریباً 24 ہیں) 👈 آپ اِن پانچ حصوں کو سمجھ کہ یاد کریں ان شاء الله عزوجل آپ کو صرف میں کمزوری باقی نہیں رہے گی۔ اب آپ کی مرضی ہے اِن پانچ حصوں کو پانچ دنوں میں پورا کریں یا پانچ ہفتوں میں۔
ابتداء یہ بات یاد رکھیں کہ ثلاثی مجرد کے تمام مصادر سماعی ہوتے ہیں یعنی اِن کا کوئ خاص وزن نہیں ہوتا. اب سوال یہ ہے کہ مصدر کیسے ڈھونڈیں تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ القاموس الوحید یا المنجد میں "ق ، و م" اس کا باب تلاش کریں. وہی پر اِس کا پہلا صیغہ (واحد مذکر غائب) ہوگا اور اسکے بعد اِس کا باب لکھا ہوگا پھر اِس کے بعد اُس کا مصدر لکھا ہوگا۔
جی ہاں ، جامد ہے
ماضی میں واحد مذکر غائب اور واحد مؤنث غائب میں ضمیر مستتر ہوتی ہے۔
باب تَفْعِیْلٌ
ان باقی پاروں کی صرفی تحقیق بھی جلد اپلوڈ کی جائے گی.
یہ لیں ہماری نحو کی ایپ https://play.google.com/store/apps/details?id=com.nahwkidunya
شَرُفَ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب کَرُمَ يَکْرُمُ
کیونکہ صرف کا لغوی معنی پھیرنا ہے چونکہ اس علم میں ایک صیغہ کو مختلف صیغوں کی طرف پھیرا جاتا ہےاسلئے اس علم کو علم صرف کہتے ہیں
جو لفظ اپنا معنیٰ خود ظاہر کرے جیسے: زَیْدٌ
حروف زائدہ دس ہیں جن کا مجموعه سألتمونيها اليوم يا اليوم تنساه ہے یعنی جو زائد حروف ہوں گے وہ ہمیشہ انہی حروف میں سے ہوں گے۔ اسکے علاوہ حروف اصلیه ہوتے ہیں
صیغہ سمجھ نہیں آرہا ہے. اگر صیغہ پوچھیں تو اعراب کے ساتھ پوچھیں یا عبارت سینڈ کریں
کیونکہ اس پر الف لام ہے اسلئے یہ اسم ہے
جمع مذکر حاضر ،
فعل امر ، صیغہ واحد اصل میں اِرْءَیْ ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر پھر ہمزہ کو حذف کردیا شروع میں ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی تو ہمزہ وصلی گرگیا۔ اور امر کی وجہ سے آخر سے حرف علت گرگیا تو رَ ہوگیا۔
وَعَدَ اصل صیغہ ہے اور یہ ضرب یضرب باب سے ہے
http://islamicdesk.com/feed/Seeghon-ki-pehchaan-ka-tareeqa https://play.google.com/store/apps/details?id=com.sarfkidunya
فعل ماضی معروف سے بنا۔
ص ، و ، ر
کیونکہ صرف اسم جامد ہی خماسی ہوتا ہے
مجرد کے مصادر سماعی ہیں. اِس کے باب کی پہنچان لغت سے کریں گے. اور مزید فیہ کے مصادر قیاسی ہیں۔
اگر یہ کسی کا نام ہے تو یہ جامد کا صیغہ ہے
ان شاء اللّٰه عزوجل بہت جلد
صرف کا معنی پھیرنا ہے یعنی ایک صیغہ کو دوسرے صیغہ کی طرف پھیرنا
یہ فَتَحَ سے ہے. فَتَحَ کی گردان کے مطابق اِس کی صرف صغیر بنا لیں.
ھ ، ب ، ب یہ مضاعف ہے اور ازباب: نَصَرَ یَنْصُرُ
ریب اصل پہ ہے اور یہ مصدر ہے
باب تفعیل کا مصدر
ترجمہ کے بہت سارے طریقے ہیں. ایک طریقہ نہیں ہے
1) ابوک 2) اخوک 3) حموک 4) ھنوک 5) فوک 6) ذو مال
صیغہ وا مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فی از باب انفعال مصدر انفعال
مصدر ، ثلاثی مجرد سے
صفت مشبہ
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مجہول
مصدر وہ اسم جس سے دوسرے کلمات مشتق (بنتے) ہوں اور وہ خود کسی سے مشتق نہ ہو اور اس کے اردو ترجمہ میں اکثر نا آتا ہے
اگر وزن پہ پورا ہے تو اصل اور اگر وزن پہ پورا نہیں ہے تو معلّل
کیونکہ لم مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کر دیتا ہے۔
عَصَیَ ، یاء متحرک ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے یاء کو الف سے بدلہ تو عَصَا ہوگیا
مصدر ہے۔
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب يضرب
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف اجوف ثلاثی مجرد از باب نصر ینصر نی ضمیر منصوب متصل
ابواب کی علامات کا یاد ہونا ضروری ہے. پھر اِن علامات کے ذریعے ابواب کی پہنچان کرلیں
صیغہ جمع مذکر حاضر
"اِئْلِفْ" ہمزہ ساکن ماقبل مکسور ہونے کی وجہ سے ہمزہ کو یاء سے بدل لیا۔ (یاد رکھیں اِس میں تخفیف ہوئ ہے آپ اِس کو مخَفف کہیں گے)
رباعی مزید فیہ سے واحد مؤنث کا صیغہ مطلب: اطمینان ، قرار ، سکون
جامد ہے
بالکل اسمِ مشتق کی بھی صرفی ہوسکتی ہے اور اسمِ جامد کی بھی
وہ ہمزہ زائدہ جو وصل کلام( یعنی ملا کر پڑھنے کی صورت) میں گر جائے۔
"لبیک کی اصل:" أُلِبُّ لَكَ إِلْباَبَيْنِ ہے أُلِبُّ فعل کو بطور قیاس وجوباً حذف کردیا باقی رہا لَكَ إِلْباَبَيْنِ پھر اس کے بعد لَكَ کے لام کو حذف کر دیا تو رہ گیا كَ إِلْباَبَيْنِ پھر إِلْباَبَيْنِ کو مزید فیہ سے مجرد کر دیا تو ہو گیا کَ لَبِیِّنِ پھر اِس کے بعد كَ ضمیر کو آخر میں لگا دیا تو ہو گیا لبینک پھر نون تثنیہ اضافت کی وجہ سے ساقط ہو گیا تو "لبّیک" رہ گیا
جمع مذکر غائب ، ازباب تَفَاعُل
علمِ صرف ایسے اصول و ضوابط جن کے ذریعے ایک کلمہ سے دوسرا کلمہ بنانے اور اس میں تبدیلی کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔
جی آسکتے ہیں
یَرْءَیُ ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر ہمزہ کو گرا دیا
"صرفی اجراء کرنے کا طریقہ" ازقلم: ابو المتبسِّم ایاز صرف تو پڑھ لیتے ہیں لیکن صرفی اجراء نہیں آتا ؟ کسی کلمے پر صرف کا اجراء کیسے کیا جائے ؟ اور صرفی اجراء میں کیا کیا سوالات پوچھے جائیں گیے ؟ اس طرح کے سوالات کہی طلباء کرام اساتذہ کرام سے معلوم کرتے ہیں۔ اور کتابوں میں اِن سوالات کا جواب تلاش کرتے ہیں لیکن پھر بھی بعض طلباء فرماتے ہیں کہ سمجھ نہیں آرہا کیا کریں ؟ صرف یاد تو کرلیتے ہیں لیکن ہمیں اجراء کرنا نہیں آتا ؟ اِس طرح کے تمام تر سوالات کا خلاصہ یہ کہ "صرفی اجراء کرنے کا طریقہ" کیا ہے ؟ اس کا جواب بالکل سہل انداز میں لکھنے کی سعی کی ہے اُمید کرتا ہوں کہ ان شاء اللّٰه عزوجل آپ کو صرفی اجراء کرنے کا طریقہ سمجھ آجائے گا۔ 1: صیغہ واحد ہے یا تثنیہ یا جمع ؟ 2: مذکر ہے یا مئونث ؟ غائب ہے یا حاضر یا متکلم ؟ 3: سہ اقسام میں کیا ہے: اسم ، فعل ، حرف ؟ 4: اگر اسم ہے تو اسماء کی کونسی قسم سے ہے ؟ 5: اگر فعل ہے تو کونسا فعل ہے ؟ 6: اور یہ فعل کس حالت میں ہے: مرفوع یا منصوب یا مجزوم ؟ 7: شش اقسام میں کیا ہے: ثلاثی یا رباعی یا خماسی ؟ 8: یہ صیغہ ہفت اقسام میں کیا ہے ؟ 9: اس صیغے کا باب کونسا ہے ؟ اور اس کی علامت کیا ہے ؟ 10: اس صیغے میں "تعلیل یا تخفیف یا ادغام" ہوئ ہے یا نہیں ؟ 11: اگر ہوئ ہے تو پورا صیغہ مع قاعدے کے بیان کریں۔ یہ ہے صرفی اجراء کرنے کا بالکل آسان انداز اُمید کرتا ہوں کہ آپ کو بخوبی سمجھ آگیا ہوگا۔ "اہم نوٹ:" مذکورہ بالاطریقہ اختیار کرتے ہوئے اگر آپ عربی کتابوں کا مطالعہ کریں گیے۔ تو ان شاء اللّٰه عزوجل عربی کلمات کے تلفظ میں خطأ نہیں ہوگی۔ شروع شروع میں اتنے سارے سوالات حل کرنے میں آپ کا کافی وقت صرف ہوگا۔ لیکن چند دنوں میں اس طرح مشق کرنے سے آپ کا ذہن کُھل جائے گا۔ اور صرف مضبوط ہوجائے گی۔
یہ جامد ہے. اور جامد میں باب کی تعیین نہیں ہوتی۔
جاننا
صرف میں گردانیں یاد کرنے سے صرف پختہ ہوتی ہے۔
مصدر
ماضی معروف کا ترجمہ ؛ گزرا وہ ایک مرد ماضی مجہول کا ترجمہ ؛ گزارا گیا وہ ایک مرد
اِس کی شروحات تو بہت ساری ہیں. لیکن معاون یہ کتاب بہتر ہے شرح شذ العرف فی فن الصرف مصنف: سلیمان العیونی
الصاق باب افعال سے ہے اور اسکا معنی ملانا ہے۔
جس میں تعلیل ہو تو وہ معلّل اور جس میں تعلیل نہ ہو تو وہ غیر معلّل
ایک علم ہے۔ جس کے ذریعے سے عربی کلمات کا تلفظ درست ہوتا ہے
اسم ہے
لُتْ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف از باب نصر ینصر اسکی اصل لُوْتْ تھا اجتماع ساکنین کی وجہ سے و کو گرا دیا تو لُتْ ہوگیا۔ امر کی تکرار اغراء و تحذیر کے لیے ہوتی ہے۔
دَعَوْ یہ صیغہ ہے۔ اِس کی تعلیل یہ ہے جمع مذکر غائب اصل میں دَعَوُوْ تھا واؤ متحرک ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے واؤ کو الف سے بدلہ پھر الف کو اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرا دیا تو دَعَؤ ہوگیا۔
تعرف النحو و الصرف بمطالعتہ کتب النحو و الصرف و بالاجراء النحو و الصرف
<p>. صیغوں کی پہنچان کیسے ہو ❓</p><p> ابتداء سے لیکر انتہاء تک معلَّل اور غیر معلَّل صیغہ پہنچاننے کے حوالے سے ایک رہنما تحریر</p><p>✍️ ابو المتبسِّم عطاری</p><p>👈 فنِ صرف پڑھنے کا مقصد یہ ہے کہ صرف پڑھنے کے بعد صیغوں کی پہنچان حاصل ہو کہ یہ صیغہ معلّل ہے یا غیر معلَّل یعنی ایک صیغہ کی مکمل پہنچان حاصل ہو۔</p><p>👈 جب صیغوں کی پہنچان حاصل ہوگی تو پھر جاکہ اُس صیغہ کے مطابق درست ترجمہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ ورنہ اگر پہنچان نہیں ہوئ تو ترجمہ کرنا مشکل ہوگا۔</p><p>👈 اب صیغوں کی پہنچان کے لئے ضروری ہے کہ علمِ صرف آتا ہو ، صرف کی بنیادی اصطلاحات یاد ہوں۔ کیونکہ صرف کے بغیر کبھی بھی صیغوں کی پہنچان حاصل نہیں ہوگی۔</p><p>👈 صرف سمجھنے ، یاد کرنے کے بعد صیغوں کی پہنچان کیسے حاصل ہو ؟</p><p> اِس کا آسان طریقہ کار درج ذیل ہے:</p><p><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>1:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> جو صیغہ آپ کے پاس آئے سب سے دیکھیں کہ یہ صیغہ واحد ہے یا تثنیہ یا جمع ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>2:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> مذکر ہے یا مؤنث ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>3:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> غائب ہے یا حاضر یا متکلم ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>4:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> سہ اقسام میں کیا یے ؟</p><p> (اسم یا فعل )</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>5:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> اگر فعل ہے تو فعل کی اقسام میں کونسی قسم ہے ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>6:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> اگر اسم ہے تو اسمِ مشتق کی کونسی قسم ہے ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>7:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> شش اقسام میں کونسی قسم سے تعلق ہے ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>8:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> ہفت اقسام میں کونسی قسم سے تعلق ہے ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>9:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> حروفِ اصلیہ کونسے ہیں ؟</p><p> <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>10:</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> یہ صیغہ کِس باب سے ہے ؟</p><p> (ثلاثی مجرد ہے ، تو کونسے باب سے ، اگر مزید فیہ سے تعلق ہے تو مزید فیہ کے کونسے باب سے وعلی ھذا القیاس)</p><p>👈 اِس کے بعد اب آپ کے لئے صیغہ کی پہنچان بالکل آسان ہو جائے گی کہ یہ صیغہ معلّل ہے یا غیر معلَّل ؟</p><p>👈 معلَّل اور غیر معلَّل صیغوں کو پہنچاننے کے 4 طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ کے مطابق غیر معلَّل صیغہ پہنچانا جائے گا اور تین طریقوں سے معلَّل صیغہ پہنچانا جائے گا۔</p><p>👈 غیر معلَّل صیغہ پہنچاننے کا طریقہ:</p><p> سب سے پہلے آپ اُس صیغہ سے زائد علامات (ماضی ، مضارع ، امر ، نہی ، اسم فاعل ، مفعول وغیرہ کی علامات) کو ختم کریں۔ علامات کو ختم کرنے کے بعد اب آپ دیکھیں کہ آپ کے پاس باقی حروف کتنے بچے ہیں اگر تین حروف باقی بچے ہیں اور اِس مادے سے لغت میں معنی میں بھی آرہا ہے تو سمجھو یہ صیغہ غیر معلَّل ہے یعنی اِس میں کوئ تعلیل وغیرہ نہیں ہوئ ہے۔</p><p> مثلاً: اَلْمَغْضُوْبُ</p><p> الف لام برائے تعریف اِس کو بھی حذف کیا تو <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>مَغْضُوْبٌ</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> ہوا</p><p>👈 پھر مَغْضُوْبٌ سے اسم مفعول کی علامت میم ، واؤ حذف کیا تو <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>غضب</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> ہوا۔</p><p> اور اِس کا معنی لغت سے تلاش کیا تو مصدری معنی غضب کرنا ملا اور یہی معنی یہاں پہ مراد ہے۔</p><p> اور یہی اِس صیغہ کے اصلی حروف ہیں اور تینوں حروف صیغہ میں باقی ہیں تو یہ صیغہ غیر معلَّل ہے۔</p><p>👈 معلَّل صیغہ پہنچاننے کا طریقہ:</p><p> معلَّل صیغہ پہنچاننے کے تین طریقے ہیں جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:</p><p>پہلا طریقہ:</p><p> صیغہ سے زائد علامات حذف کرنے کے بعد اگر معنی لغت سے نہ آئے تو سمجھو اِس کا کوئ حرف کسی سے بدلا ہوا ہے یعنی اِس میں تعلیل ہوئ ہے۔</p><p> مثلاً: قَالَ</p><p> اگر لغت سے ق ، ا ، ل سے معنی دیکھیں گے تو معنی نہیں آئے گا تو اب آپ نے الف کی جگہ واؤ ، یاء کو رکھ کہ معنی تلاش کرنے ہیں کہ کس حرف سے معنی آرہا ہے۔ اگر ق ، ی ، ل سے معنی آئے تو سمجھو اِس کے اصلی حروف ق ، ی ، ل ہے۔</p><p> اور اگر ق ، و ، ل سے معنی آئے تو سمجھو اِس کے اصلی حروف <strong>ق ، و ، ل</strong> ہیں۔</p><p>👈 دوسرا طریقہ:</p><p> زائد علامات حذف کرنے کے بعد تین حروف سے کم حروف باقی بچے تو سمجھو کوئ حرف حذف ہے اِسلئے کہ کوئ صیغہ تین حروف سے کم نہیں ہوتا۔ اب حذف شدہ حرف یا فاء کلمہ سے حذف ہوا ہوگا یا عین کلمہ سے یا لام سے۔</p><p>👈 اِس کے لئے آپ کو معتل ، مدغم اور مخفف کے قواعد کا یاد ہونا ضروری ہے۔ پھر غور کریں کہ فاء کلمہ میں کوئ حرف حذف ہوسکتا ہے یا عین کلمہ میں یا لام کلمہ</p><p> اگر فاء کلمہ میں حرف کو مانیں تو کیا معتل الفاء کا ایسا کوئ قاعدہ ہے جس میں فاء کلمہ حذف ہوتا ہو۔ اگر ہاں تو پھر فاء کلمہ کو رکھ کہ ایک صورت بنائیں اور کسی وزن پہ لے کہ جائیں پھر لغت سے معنیٰ دیکھیں اسی طرح سے عین و لام کلمہ میں رکھ کہ دیکھیں کہ کس جگہ پہ حرف حذف ہے۔</p><p> مثلاً: تَدَعُ</p><p> علامت مضارع حذف کرنے کے بعد <strong>دَعُ</strong> بچتا ہے اور دو حرف والا کوئ صیغہ نہیں ہوسکتا تو سمجھ آگئ کہ ایک حرف حذف ہے۔</p><p> اب فاء کلمہ میں واؤ یا یاء کو رکھ کہ لغت میں معنی دیکھو کہ واؤ سے معنی آرہا ہے یا یاء سے۔ </p><p> جس سے معنی آئے اُس کے ساتھ اِس صیغہ کی اصلی شکل بنائیں</p><p> اِس صیغہ کا معنی واؤ کے ساتھ آرہا ہے تو واؤ کے ساتھ رکھ کہ اِس کی شکل و صورت بنائیں اور اِس کی اصل صورت یہ بنی گی</p><p> تَوْدَعُ </p><p> اب واؤ علامت مضارع اور فتحہ کے درمیان آئ اور یہ ایسا کلمہ ہے جس کے لام کلمہ میں حرفِ حلقی بھی ہے تو واؤ کو حذف کردیا تو تَدَعُ ہوگیا۔</p><p>👈 تیسرا طریقہ:</p><p> زائد علامات حذف کرنے کے بعد بھی تین حروف باقی رہتے ہیں۔ پھر بھی وہ صیغہ معلّل ہوتا ہے۔ وہ اِس طرح سے کہ اِس صیغہ کا کوئ وزن صحیح نہیں بن رہا ہوتا تو سمجھ جائیں کہ اِس میں حرکات میں تبدیلی ہوئ ہے۔ اگرچہ حروف باقی ہیں</p><p> مثلاً: یَقُوْلُ</p><p> اگر علامت مضارع یاء حذف بھی کردیں تو بھی تین حروف باقی رہتے ہیں لیکن وزن صحیح نہیں بن رہا تھا وہ ایسے کہ مضارع کا ایسا کوئ غیر معلَّل صیغہ نہیں ہے جس کا فاء کلمہ متحرک ہو اور عین کلمہ ساکن ہو۔ </p><p> اب جب فاء کلمہ کا ساکن کیا اور عین کلمہ کو حرکت دی تو وزن درست بن گیا <span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span><strong>یَقْوُلُ</strong><span style="color: rgb(0, 0, 0);">"</span> بروزن یَنْصُرُ</p><p>👈 یاد رہے! آپ اِس طرح سے ہر دن چند صیغوں پہ تکرار کریں ، غور و فکر ہیں وقت زیادہ ضرور لگے گا لیکن ان شاء اللّٰه عزوجل چند دنوں کے بعد آپ خود محسوس کریں گے کہ اب میرے اندر تبدیلی آئ ہے۔ اور کوئ صیغہ مشکل نہیں لگ رہا۔ جتنی زیادہ آپ مشق کریں گے ، تکرار کریں گے اُسی قدر آپ کی صرف بہتر سے بہتر ہوتی رہے گی۔</p><p><br></p>
جواب کیلئے اس لنک پر کلک کرکے تحریر پڑھیں http://islamicdesk.com/feed/taleel-ka-tariqa https://play.google.com/store/apps/details?id=com.sarfkidunya
اسم فاعل ، واحد مؤنث
اسم مفعول واحد مؤنث
جمع مذکر حاضر
واحد مذکر غائب ، اصلی حروف ء ، د ، و
اصلی حروف ح ، و ، ط
ابھی صرف پہلے پارے کے معلل صیغے ہیں۔ بقیہ جلد ڈالے جائیں گے ایپ میں
صیغہ جمع متکلم فعل مضارع مثبت معروف
ابو الاسود الدؤلي
جامد
اِس کے بارے میں کیا بتانا ہے.
کلمات ثلاثہ سے مراد: اسم ، فعل ، حرف اِن کو سہ اقسام بھی کہتے ہیں۔
وہ کلمہ جس کے حروف اصلیہ میں دو حروف علت ہوں تو اس کلمہ کو لفیف کہتے ہیں۔ مرکبات سے مراد وہ اسماء و افعال جو بیک وقت ہفت اقسام میں سے دو مختلف اقسام سے تعلق رکھتے ہوں مثلا "اَلْاَلُوُ" یہ مہموز الفاء بھی ہے اور ناقص بھی ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ لفیف کا کلمہ میں دو حروف علت ہوتے ہیں اور مرکبات وہ کلمہ جو بیک وقت ہفت اقسام میں سے دو مختلف اقسام سے تعلق رکھتے ہے۔
کیونکہ حموک صرف مونث کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
قَالَ اصل میں قَوَلَ تھا۔ اس میں اجوف کا پہلا قانون جاری ہوا یعنی واؤ متحرک ماقبل مفتوح ہونے کی وجہ سے واؤ کو الف سے بدلہ تو قَالَ ہوگیا۔
قاعدہ نمبر 1 واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا جا تا ہے دَعَوَ، دَعَا واؤ کو الف سے بدل دیا گیا دَعَا
ابو الاسود دوئلی
اصل میں تَدَعُ تھا۔ امر بنانے کی وجہ سے شروع میں علامت مضارع حذف کی اور آخر کو ساکن کیا تو دَعْ ہوگیا۔
باب تفعیل
لَمَّا الظرفية: یہ خاص ہے ماضی کے ساتھ، ويكون جوابها فعلا ماضياً، نحو الآية: (فلما نجاكم إلى البر أعرضتم) (الإسراء: ٦٧) («فلما»: الفاء حسب ما قبلها. «لَمَّا»: ظرف زمان متضمن معنى الشرط مبني على السكون في محل نصب مفعول فيه
عامل ہے. اس وجہ سے نون اعرابی گراتا ہے.
طریقہ یا ارادہ
معلّل سے مراد: جس میں حرفِ علت ہو اور اُس میں تعلیل ہو غیر معلّل سے مراد: جس میں حرفِ علت ہو اور اُس میں تعلیل نہ ہو
فعل نہی معروف کا صیغہ ہے
<p class="ql-align-right">باب افعال</p><p class="ql-align-right">اَفْطَرَ ، یُفْطِرُ ، اِفْطَارٌ</p>