غاب صیغہ کی صرفی تحقیق
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب ضرب یضرب اصل میں غَیَبَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو غاب ہو گیا
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب ضرب یضرب اصل میں غَیَبَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو غاب ہو گیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع جحد بلم معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں لم یجُوز تھا واؤ پہلے ساکن تھا لم کی وجہ سے زاء بھی ساکن ہو گیا پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے حرف علت واؤ کو گرایا تو لم یجز ہو گیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل میں صَیَرَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف کے ساتھ بدلا تو صار ہوگیا
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَجْوُزُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ج کو دے دی
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَجْوُزُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ج کو دے دی
مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
مصدر ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب
جائز صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں جاوز تھا قاعدہ ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا
جائز صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں جاوز تھا قاعدہ ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا
اصل میں یہ صیغہ اراق بر وزن افعل ہی تھا اس میں ھاء خلاف قیاس زائدہ ہے
اِمام اسم جامد ثلاثی مجرد مہموز الفاء مضاعف (امام ،نماز پڑھانے والا شخص) اَمَام سابقہ صرفی تحقیق معنی سامنے آگے
یہ ایک فرضی صیغہ ہے قلتم کی طرح بس
کسی بات کی توضیح و تشریح کرنا
آپ نے صیغہ درست نہیں لکھا یہ صیغہ اصل میں اَنَّمُنََ ہے اور یہ صیغہ اصل میں أنْ نَمُنَّ صیغہ جمع متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر ان کی نون کا نمن کے نون میں ادغام کیا تو انمن ہو گیا
اصل میں داعِوَۃ تھا قاعدہ ہے کہ تاء تانیث سے پہلے واؤ ما قبل مکسور ہو تو واؤ کو یاء سے بدل دینا واجب ہے واؤ کو یاء سے بدلا تو داعِیۃ ہوگیا
یہ امر ہے اصل میں ادعو تھا آخر سے واؤ بوجہ امر گر گئی
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
تمام چیزیں جو فعل میں بتائی جاتی ہیں جیسے کہ صیغہ گردان کا نام سہ اقسام شش اقسام ہفت اقسام باب یہ چھ چیزیں بتائی جائیں گی
کانِکان صیغہ تثنیہ مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح یہ صیغہ بس تمرین کے لئے ہے اسی وجہ سے کھول کر کان کان لکھا جاتا ہے اس کا مادہ لغت میں دستیاب نہیں تھا جس وجہ سے باب نہیں بتایا
صیغہ جمع مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز العین و مضاعف از باب انفعال اصل میں اِنْنَأْنْنَ تھا پہلے نون کا دوسرے نون میں اور تیسرے نون کا چوتھے نون میں ادغام کیا تو اِنّ أَنَّ ہوا
شِئْتَ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی ومہموز اللام از باب سمع یسمع اصل میں شَیَئْتَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو شائْت ہوگیا اب الف اور ہمزہ ساکن ہیں الف کو حذف کیا تو شَئْتَ ہو گیا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے اس قاعدے کے تحت شین کو کسرہ دیا تو شِئْتَ ہو گیا
یُمَحِّص صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب قاعدہ ن اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اصل میں أقْلَلُ تھا قاعدہ نمبر تین کے مطابق پہلے لام کی حرکت قاف کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو أَقَلُّ ہو گیا
صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب قاعدہ ن اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اصل میں أقْلَلُ تھا قاعدہ نمبر تین کے مطابق پہلے لام کی حرکت قاف کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو أَقَلُّ ہو گیا
یُظْھِر صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
نُم صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں أُنْوُم تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا اس کی حرکت نون کو دے دی تو واؤ اور میم دو ساکن جمع ہوئے واؤ کو حذف کیا تو أُنُم ہوگیا اب امر کا پہلا کلمہ متحرک تھا تو ھمزہ وصلیہ کی ضرورت نا رہی تو اسے بھی حذف کیا تو نُم بچ گیا سل صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مہموز العین از باب فتح یفتح اصل میں أِسئَل تھا قاعدہ ہمزہ متحرکہ ہو اور اس کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر اسے حذف کرنا جائز ہے اس قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کے ہمزہ کو حذف کیا پھر امر کا پہلا حرف ساکن ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلیہ کو حذف کیا تو سَل بچ گیا
خفیا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب سمع یسمع اصل میں خَفِیْیٌ تھا دونوں یاء کا آپس میں ادغام کر دیا تو خفیّ ہوا قاعدہ ایسے دو ہم جنس یا ہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کر دینا واجب ہے شقیا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب سمع یسمع اصل میں شقُوْو تھا قاعدہ "فُعُوْلٌ" کے آخر میں دو واو جمع ہو جائیں تو دونوں کو یاء سے بدل کر ان میں ادغام کرنا واجب ہے اور بعد ادغام عین کلمہ کا ضمہ کسرہ سے بدل دیا جائے گا عُِتِیا اس میں دو احتمال ہیں مصدر یا صفت مشبہ مصدر ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر یا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں یہ بھی عتوو تھا بر وزن فعول قاعدہ نمبر "فُعُوْلٌ" کے آخر میں دو واو جمع ہو جائیں تو دونوں کو یاء سے بدل کر ان میں ادغام کرنا واجب ہے اور بعد ادغام عین کلمہ کا ضمہ کسرہ سے بدل دیا جائے گا
مصدر میمی ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر
عالمین صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع عالمین لام کے فتحہ کے ساتھ صیغہ جمع مذکر سالم اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب انفعال
جی
قِ فعل امر اصل میں اِوقِی تھا
مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و ناقص یائی از باب افعال اصل میں اِءْمَایٌ تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ھمزہ سے بدلا تو اِءْمَاء ہوگیا قاعدہ ن اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلا تو ایماء ہوگیا
م و ہ
صیغہ واحد مذکر غائب، فعل ماضی، مثبت معروف، صحیح از باب ضرب یضرب
اسم۔جامد ثلاثی مجرد صحیح
اس میں کوئی تعلیل نہیں ہوئی حروف اصلیہ ی ق ظ ہیں
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر یبدو تھا یاء کسی جازم کی وجہ سے گری ہے
صرفی دائر کار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ صیغے کی صرفی تحقیق یعنی صیغہ سہ اقسام شش اقسام ہفت اقسام باب وغیرہ بتانا
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب تفعل
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں اراق تھا ھاء خلاف قیاس زائدہ ہے
کسرہ پڑھیں گے یا تو یہ مصدر میمی ہوگا یا اسم ظرف ہوگا اور ان دونوں صورتوں میں یہ مَفْعِل کے وزن پر آتا ہے
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں اتْتَبِعوا تھا دو تاء جمع ہوئیں پہلی ساکن دوسری متحرک تھی تو دونوں کا ادغام کیا تو اِتَّبعوا ہوگیا
اصل جملہ یوں ہے کثرت استعمال خفت کا تقاضہ کرتی ہے یعنی جب ایک چیز بہت زیادہ استعمال ہو تو اس میں تخفیف کر دی جاتی ہے اس میں کچھ کمی واقعی ہوتی ہے
حروف اصلیہ أ ی ی اصل میں أَیَیَات تھا درمیان والی یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے لکھا تو أایات ہوا مدہ صورت میں لکھیں گے تو آیات ہوگا
دونوں ایک جیسے ہیں صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
قاعدہ ن ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اصل میں سیْوِد تھا مذکورہ بالا قاعدے کے مطابق تعلیل کی تو سید ہو گیا
حروف اصلیہ ر ج و اصل میں یرجُوُ تھا قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو
المزمل صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل المتزمل تھا تاء کو زاء سے بدل کر زاء کا زاء میں ادغام کیا تو مزمل ہوگیا
ثلاثی مزید فیہ کا ایک باب ہے
المزمل صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل المتزمل تھا تاء کو زاء سے بدل کر زاء کا زاء میں ادغام کیا تو مزمل ہوگیا
کلمہ کا تین اقسام میں منحصر ہونا سماعی ہے
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی
لفظ کے اللہ کے حروف اصلیہ میں ایک قول یہ ہے کہ ء ل ہ ہیں اصل میں ال ألاه تھا کثرت استعمال سے درمیان والا ہمزہ ساقات کر کے لام کا لام میں ادغام کیا تو اللہ ہوگیا ہے
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
اس میں کوئی قاعدہ جاری نہیں ہوا
نیچے تصویر بھیجی ہے مکمل تعلیل ملاحظہ فرمائیں
http://islamicdesk.com/feed/6623e1e4afb9fa1bba20642c https://play.google.com/store/apps/details?id=com.sarfkidunya یہ ایک لنک ہے مزید ہمارے مضامین والے حصے میں جا کر صیغہ کی پہچان یا صرف پہچان لکھ کر سرچ کریں گے تو مکمل تحریر دستیاب ہوگی
ثلاثی مجرد کے ابواب کی پہچان لغت سے ہوتی ہے یعنی جس کلمے کا باب معلوم کرنا ہو اس کے حروف اصلیہ لیکر لغت میں تلاش موقع مناسبت سے جس فعل کے معنی مناسب ہوں وہی فعل ہوگا آگے اس کا باب بھی لکھا ہوگا بعض اوقات ماضی کا صیغہ لکھتے ہیں اور آگے مضارع کے عین کلمہ کی فقط حرکت لکھی ہوتی ہے جیسے نصر -ُ اور بعض اوقات باب کا پہلا حرف لکھا ہوتا ہے جیسے نصر کے لئے نون اور سمع کے سین لکھا ہوتا ہے
نون اعرابی فعل مضارع کے سات صیغوں کے آخر میں آنے والی نون ہے وہ سات صیغے یہ ہیں چاروں تثنیہ کے صیغے، دونوں جمع مذکر و مؤنث کے صیغے ، صیغہ واحد مؤنث حاضر
تبدو صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں تبدُوُ تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں واؤ یا یاء مضموم ہو اور ان کا ماقبل بھی مضموم یا مکسور ہو اور ان کا مابعد واو جمع يا یائے مخاطبہ نہ ہو تو ان کی حرکت کو حذف کر دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ساکن کر دیا تو تبدُوْ ہوگیا
ارجاء مادہ ر ج و صیغہ مصدر ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب افعال اصل میں ارجاو تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا تو ارجاء ہو گیا
حروف اصلیہ ا م و اصل میں اماو تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا تو اماء ہو گیا
واحد میں تعلیل کر کے احد نہیں بنا بلکہ یہ دونوں صیغے الگ ہیں اَحَدٌ اصل میں وَحَدٌ تھا قاعدہ وہ واؤ جو کلمہ کے شروع میں ہو اور مفتوح نہ ہو اسے بھی ہمزہ سے تبدیل کر دینا جائز ہے اور مفتوح ہونے کی صورت میں اسے ہمزہ سے بدلنا شاذ ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا گیا ہے اگر چہ ہے شاذ
فعل نفی وہ فعل ہوتا ہے جس میں بس نفی مقصود ہوتی ہے جبکہ فعل نہی میں کسی فعل سے مستقبل میں روکنے کا حکم دیا جاتا ہے
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افتعال اصل میں اشتَدَدَ تھا قاعدہ نمبر 2 اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت پہلی دال ساکن کر کے دونوں کا ادغام کیا تو اشتَدَّ ہو گیا
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل نہی حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال اصل میں لا تعتدِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت دال کو نقل کر کے یاء کو حذف کر دیا
تبتغی صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن ساکن کرنا واجب ہوتا ہے اس وجہ سے یاء کو ساکن کر دیا
صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب تفعل
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مجرد مہموز الفاء از باب نصر ینصر
"کُلْ" ، "خُذْ" اور "مُرْ" اصل میں "اُءْکُلْ" ، "اُءْخُذْ" اور "اُءْمُرْ" تھے ، قاعدہ نمبرا کے مطابق "أُوْکُلْ" "أُوْخُذْ" ، اور "أُوْمُرْ" ہونا چاہیے تھا لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے دوسرے ہمزہ کو گرا دیا، پھر ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی لہذا اسے بھی گرا دیا تو یہ "کُلْ" "خُذْ" اور "مُرْ" ہوگئے قاعدہ نمبر 1 اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے قاعدہ نمبر 1 اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے
"کُلْ" ، "خُذْ" اور "مُرْ" اصل میں "اُءْکُلْ" ، "اُءْخُذْ" اور "اُءْمُرْ" تھے ، قاعدہ نمبرا کے مطابق "أُوْکُلْ" "أُوْخُذْ" ، اور "أُوْمُرْ" ہونا چاہیے تھا لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے دوسرے ہمزہ کو گرا دیا، پھر ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی لہذا اسے بھی گرا دیا تو یہ "کُلْ" "خُذْ" اور "مُرْ" ہوگئے قاعدہ نمبر 1 اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے
تراجم ترجمۃ کی جمع ہے اصل کے اعتبار سے مصدر ہے لیکن یہ "حالات زندگی" کو بھی کہتے ہیں مصدر رباعی مجرد صحیح از باب فعللۃ
صفتِ مشبہہ کی تعریف وہ اسمِ مشتق جو اس ذات پر دلالت کرتا ہے جو اپنے مصدری معنی سے دائمی طور پر متَّصِف ہو
تعالی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفاعل اصل میں تعالو تھا واو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو تو اسے یاء بدل دینا واجب ہوتا ہے لہذا واؤ کو یاء سے بدلا تو تعالَیَ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو تعالی ہوگیا
صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
خاصمت صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
ہمارے ہاں عجم میں اساتذہ پڑھاتے وقت طلبہ کی ذہن کی تیزی کے لئے کچھ الفاظ جو عربی صیغہ بننے کے متحمل ہو سکتے ہیں ان کی مشق کرواتے تھے ان میں ایک کان ہے جو اردو زبان میں ایک عضو کو کہتے ہیں اب یہ ایک صیغہ بھی بن سکتا ہے کان صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اسی طرح ناک اور اور بازو ہیں بازو صیغہ جمع مذکر ہے
یات باب ضرب یضرب تعلیل کوئی نہیں ہوئی بس حرف جازم کی وجہ سے آخر میں سے یاء گر گئی ہے
ہمارے ہاں جو پاکستان کی فقہ کی کتب چھپی ہوئی ہیں اس میں واؤ پر غلطی سے ہمزہ لگا دیا جاتا ہے ورنہ مومیا درست ہے یعنی ف کلمہ واؤ ہوگا
اعوذ صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں أَعْوُذُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ما قبل عین کی طرف نقل کر دی
وہ کلمہ جو خود کسی نے بنا ہو یعنی جامد وہ کلمہ ہوتا ہے جس سے مزید صیغے نا بنیں بلکہ وہ کسی محسوس کی جانے والی چیز کا نام ہو جیسے گھڑی میز کرسی وغیرہ
پڑھائی میں دل لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ اولا آپ اپنی مطالعہ کی عادت بنائیں مثلا روزانہ کچھ صفحات یا مقرر کر کے پڑھنا شروع کر دیں جب یہ عادت پختہ ہو جائے تو اس پر مزید اضافہ کرتے جائیں مسلسل اس اقدام سے مطالعہ کرنا اور پڑھنا آپ کی طبیعت کا حصہ ہو جائے گا اس کے علاوہ مفید طریقہ یہ ہے کہ علمی تکرار کریں اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے مطالعہ میں کمی پائی جائے گی تو آپ پھر پڑھنا شروع کریں گے تاکہ آئندہ تکرار میں آپ غالب رہیں ان طریقوں سے دل لگایا جا سکتا ہے
مشتری صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال اگر یہ حالت رفعی یا جری میں ہو تو یاء پر ضمہ یا کسرہ ہوگا اور یہی اس کی اصل ہوگی پھر اس پر قاعدہ جاری ہوتا ہے کہ یاء مضموم یا مکسور ہو اور ما قبل مکسور ہو تو یاء کو ساکن کرنا واجب ہے اسی قاعدے کے تحت حالت جری و رفعی میں یاء ساکن رہے گی حالت نصبی میں یاء ہر فتحہ ظاہر ہوگا
محمد مبتدا کریم خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب فتح یفتح اصل میں اس کا باب ضرب یضرب تھا وذر یَذِر اسی باب ضرب کی مناسب سے مثال کا قاعدہ جاری ہوا کہ اصل میں یَوذِرُ تھا واو علامت مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے درمیان واقع ہوئی تو اس واؤ کو حذف کر دیا تو یَذِرُ ہوگیا اب باب اس کا فتح استعمال ہوتا ہے
نصر ینصر
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی و مہموز اللام از باب ضرب یضرب اصل میں جَیَئْتَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو جائْتَ ہوگیا الف اور ہمزہ دونوں ساکن تھے الف کو حذف کر دیا جَئْتَ ہوگیا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے پھر اس قاعدے کے تحت جیم۔کو کسرہ دیا
یعود صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَعْوُدُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ما قبل عین کو دے دی
نَتیجۃ حصیلۃ ثمرۃ
تعال اسم فعل ہے اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی اعرف صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں أَرْیَدْتُ تھا یاء متحرک ما قبل ساکن تھی اس کی حرکت ما قبل راء کو دیکر سے الف سے بدلا تو الف اور دال دونوں ساکن تھے الف کو گرا دیا تو أَرَدْتُ ہو گیا قاعدہ ایسے دو ہم جنس یا ہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کر دینا واجب ہے دال اور تاء دونوں ساکن تھے دال کا تاء میں ادغام کیا تو اردتُّ ہوگیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب فتح یفتح