عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

یَجُوزُ کی صرفی تحقیق

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَجْوُزُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ج کو دے دی

صرف1 جواب
15 نومبر، 2024

یجوز کی تعلیل اور قاعدہ

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَجْوُزُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ج کو دے دی

صرف1 جواب
18 اکتوبر، 2024

جَا ئِزٌ کی صرفی تحقیق

جائز صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں جاوز تھا قاعدہ ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا

صرف1 جواب
15 نومبر، 2024

جائز کا صرفی اجراء

جائز صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں جاوز تھا قاعدہ ہر وہ واؤ اور یاء جو اسمِ فاعل کے عین کلمہ میں ہو اسے ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ اُسکی ماضی میں تعلیل ہو چکی ہو اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا

صرف1 جواب
16 اکتوبر، 2024

نیں نےاھراق صیغہ کےبارےمیں پوچھاتھاتوجواب ملاکہ یہ واحدمذکرغایب باب افعال کہ صیغہ ہے اب سوال یہ ہےکہ باب افعال سےتوافعل کےوزن پرآتی ہے نہ کہ افعال کی وزن پر یہ تو افعال کی وزن پرہے براہ کرم صحیح جواب دے

اصل میں یہ صیغہ اراق بر وزن افعل ہی تھا اس میں ھاء خلاف قیاس زائدہ ہے

صرف1 جواب
14 نومبر، 2024

شءت اصل میں کیا تھا تعلیل بتایءں

شِئْتَ صیغہ واحد مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی ومہموز اللام از باب سمع یسمع اصل میں شَیَئْتَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو شائْت ہوگیا اب الف اور ہمزہ ساکن ہیں الف کو حذف کیا تو شَئْتَ ہو گیا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے اس قاعدے کے تحت شین کو کسرہ دیا تو شِئْتَ ہو گیا

صرف1 جواب
14 نومبر، 2024

أقل کا صرفی اجرا

صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب قاعدہ ن اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اصل میں أقْلَلُ تھا قاعدہ نمبر تین کے مطابق پہلے لام کی حرکت قاف کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو أَقَلُّ ہو گیا

صرف1 جواب
14 نومبر، 2024

اقل صیغہ بتا دیں تعلیل بھی

صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب قاعدہ ن اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے مذکورہ بالا صورت میں اگر ماقبل حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو اس حرف کی طرف نقل کر کے ادغام کریں گے اصل میں أقْلَلُ تھا قاعدہ نمبر تین کے مطابق پہلے لام کی حرکت قاف کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو أَقَلُّ ہو گیا

صرف1 جواب
9 اگست، 2024

نم اور سل کی تعلیل وصیغوی تحقیق کیا ہے جزاکم اللہ خیرا کثیرا

نُم صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں أُنْوُم تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا اس کی حرکت نون کو دے دی تو واؤ اور میم دو ساکن جمع ہوئے واؤ کو حذف کیا تو أُنُم ہوگیا اب امر کا پہلا کلمہ متحرک تھا تو ھمزہ وصلیہ کی ضرورت نا رہی تو اسے بھی حذف کیا تو نُم بچ گیا سل صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مہموز العین از باب فتح یفتح اصل میں أِسئَل تھا قاعدہ ہمزہ متحرکہ ہو اور اس کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر اسے حذف کرنا جائز ہے اس قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کے ہمزہ کو حذف کیا پھر امر کا پہلا حرف ساکن ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلیہ کو حذف کیا تو سَل بچ گیا

صرف1 جواب
13 نومبر، 2024

خفيّاً،شقيّاً،عتيّاً ان كى مكمل صرفى تحقيق بتاديں حروف اصليہ کے ساتھ

خفیا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب سمع یسمع اصل میں خَفِیْیٌ تھا دونوں یاء کا آپس میں ادغام کر دیا تو خفیّ ہوا قاعدہ ایسے دو ہم جنس یا ہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کر دینا واجب ہے شقیا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب سمع یسمع اصل میں شقُوْو تھا قاعدہ "فُعُوْلٌ" کے آخر میں دو واو جمع ہو جائیں تو دونوں کو یاء سے بدل کر ان میں ادغام کرنا واجب ہے اور بعد ادغام عین کلمہ کا ضمہ کسرہ سے بدل دیا جائے گا عُِتِیا اس میں دو احتمال ہیں مصدر یا صفت مشبہ مصدر ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر یا صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں یہ بھی عتوو تھا بر وزن فعول قاعدہ نمبر "فُعُوْلٌ" کے آخر میں دو واو جمع ہو جائیں تو دونوں کو یاء سے بدل کر ان میں ادغام کرنا واجب ہے اور بعد ادغام عین کلمہ کا ضمہ کسرہ سے بدل دیا جائے گا

صرف1 جواب
23 ستمبر، 2024

ایماءً کی صرفی تحقیق مع تعلیل بیان فرما دیں

مصدر ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء و ناقص یائی از باب افعال اصل میں اِءْمَایٌ تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت یاء کو ھمزہ سے بدلا تو اِءْمَاء ہوگیا قاعدہ ن اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو یاء سے بدلا تو ایماء ہوگیا

صرف1 جواب
13 نومبر، 2024

سید کی تعلیل

قاعدہ ن ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اصل میں سیْوِد تھا مذکورہ بالا قاعدے کے مطابق تعلیل کی تو سید ہو گیا

صرف1 جواب
11 نومبر، 2024

ثلاثی مجرد ابواب کی پہچان کیسے ممکن ہے؟

ثلاثی مجرد کے ابواب کی پہچان لغت سے ہوتی ہے یعنی جس کلمے کا باب معلوم کرنا ہو اس کے حروف اصلیہ لیکر لغت میں تلاش موقع مناسبت سے جس فعل کے معنی مناسب ہوں وہی فعل ہوگا آگے اس کا باب بھی لکھا ہوگا بعض اوقات ماضی کا صیغہ لکھتے ہیں اور آگے مضارع کے عین کلمہ کی فقط حرکت لکھی ہوتی ہے جیسے نصر -ُ اور بعض اوقات باب کا پہلا حرف لکھا ہوتا ہے جیسے نصر کے لئے نون اور سمع کے سین لکھا ہوتا ہے

صرف1 جواب
8 نومبر، 2024

تبدوا صيغه اور تعليل بتا ديجيے

تبدو صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں تبدُوُ تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں واؤ یا یاء مضموم ہو اور ان کا ماقبل بھی مضموم یا مکسور ہو اور ان کا مابعد واو جمع يا یائے مخاطبہ نہ ہو تو ان کی حرکت کو حذف کر دینا واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ساکن کر دیا تو تبدُوْ ہوگیا

صرف1 جواب
11 نومبر، 2024

واحد مین کیا تعلیل کر کے احد بنایا گیا

واحد میں تعلیل کر کے احد نہیں بنا بلکہ یہ دونوں صیغے الگ ہیں اَحَدٌ اصل میں وَحَدٌ تھا قاعدہ وہ واؤ جو کلمہ کے شروع میں ہو اور مفتوح نہ ہو اسے بھی ہمزہ سے تبدیل کر دینا جائز ہے اور مفتوح ہونے کی صورت میں اسے ہمزہ سے بدلنا شاذ ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کو ہمزہ سے تبدیل کیا گیا ہے اگر چہ ہے شاذ

صرف1 جواب
11 نومبر، 2024

اِشْتَدَّ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟

صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افتعال اصل میں اشتَدَدَ تھا قاعدہ نمبر 2 اگر دونوں ہم جنس حروف متحرک ہوں اور ان کا ماقبل حرف بھی متحرک یا مدہ ہو تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کر کے ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت پہلی دال ساکن کر کے دونوں کا ادغام کیا تو اشتَدَّ ہو گیا

صرف1 جواب
9 نومبر، 2024

لا تعتدوا کونسا صیغہ ہےاس کی صرفی تحقیق بتا دے

صیغہ جمع مذکر حاضر فعل نہی حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال اصل میں لا تعتدِیُوا تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت دال کو نقل کر کے یاء کو حذف کر دیا

صرف1 جواب
24 اکتوبر، 2024

خُذْ ۔ کی تعلیل

"کُلْ" ، "خُذْ" اور "مُرْ" اصل میں "اُءْکُلْ" ، "اُءْخُذْ" اور "اُءْمُرْ" تھے ، قاعدہ نمبرا کے مطابق "أُوْکُلْ" "أُوْخُذْ" ، اور "أُوْمُرْ" ہونا چاہیے تھا لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے دوسرے ہمزہ کو گرا دیا، پھر ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی لہذا اسے بھی گرا دیا تو یہ "کُلْ" "خُذْ" اور "مُرْ" ہوگئے قاعدہ نمبر 1 اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے قاعدہ نمبر 1 اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے

صرف1 جواب
28 اکتوبر، 2024

خذُ کی صر فی تحقیق؟ 🩵🩵

"کُلْ" ، "خُذْ" اور "مُرْ" اصل میں "اُءْکُلْ" ، "اُءْخُذْ" اور "اُءْمُرْ" تھے ، قاعدہ نمبرا کے مطابق "أُوْکُلْ" "أُوْخُذْ" ، اور "أُوْمُرْ" ہونا چاہیے تھا لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے دوسرے ہمزہ کو گرا دیا، پھر ہمزہ وصلی کی ضرورت نہ رہی لہذا اسے بھی گرا دیا تو یہ "کُلْ" "خُذْ" اور "مُرْ" ہوگئے قاعدہ نمبر 1 اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے

صرف1 جواب
10 نومبر، 2024

تعالٰی کی صرفی تحقیق؟ 🥺🥺

تعالی صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص واوی از باب تفاعل اصل میں تعالو تھا واو چوتھی جگہ یا اس سے آگے واقع ہو تو اسے یاء بدل دینا واجب ہوتا ہے لہذا واؤ کو یاء سے بدلا تو تعالَیَ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو تعالی ہوگیا

صرف1 جواب
30 جولائی، 2024

کان ناک اور بازو کونسا صیغے ہے

ہمارے ہاں عجم میں اساتذہ پڑھاتے وقت طلبہ کی ذہن کی تیزی کے لئے کچھ الفاظ جو عربی صیغہ بننے کے متحمل ہو سکتے ہیں ان کی مشق کرواتے تھے ان میں ایک کان ہے جو اردو زبان میں ایک عضو کو کہتے ہیں اب یہ ایک صیغہ بھی بن سکتا ہے کان صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اسی طرح ناک اور اور بازو ہیں بازو صیغہ جمع مذکر ہے

صرف1 جواب
10 نومبر، 2024

أعوذ صیغہ کی صرفی تحقیق

اعوذ صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں أَعْوُذُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ما قبل عین کی طرف نقل کر دی

صرف1 جواب
8 اکتوبر، 2024

پڑھائی میں لزت لانے کا طریقہ پڑھائی میں دل لگانے کا طریقہ

پڑھائی میں دل لگانے کا طریقہ یہ ہے کہ اولا آپ اپنی مطالعہ کی عادت بنائیں مثلا روزانہ کچھ صفحات یا مقرر کر کے پڑھنا شروع کر دیں جب یہ عادت پختہ ہو جائے تو اس پر مزید اضافہ کرتے جائیں مسلسل اس اقدام سے مطالعہ کرنا اور پڑھنا آپ کی طبیعت کا حصہ ہو جائے گا اس کے علاوہ مفید طریقہ یہ ہے کہ علمی تکرار کریں اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے مطالعہ میں کمی پائی جائے گی تو آپ پھر پڑھنا شروع کریں گے تاکہ آئندہ تکرار میں آپ غالب رہیں ان طریقوں سے دل لگایا جا سکتا ہے

صرف1 جواب
12 اکتوبر، 2024

مشتری کی صرفی تحقیق ؟

مشتری صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال اگر یہ حالت رفعی یا جری میں ہو تو یاء پر ضمہ یا کسرہ ہوگا اور یہی اس کی اصل ہوگی پھر اس پر قاعدہ جاری ہوتا ہے کہ یاء مضموم یا مکسور ہو اور ما قبل مکسور ہو تو یاء کو ساکن کرنا واجب ہے اسی قاعدے کے تحت حالت جری و رفعی میں یاء ساکن رہے گی حالت نصبی میں یاء ہر فتحہ ظاہر ہوگا

صرف1 جواب
17 اکتوبر، 2024

تَذَرَھُمْ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟

صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب فتح یفتح اصل میں اس کا باب ضرب یضرب تھا وذر یَذِر اسی باب ضرب کی مناسب سے مثال کا قاعدہ جاری ہوا کہ اصل میں یَوذِرُ تھا واو علامت مضارع مفتوحہ اور کسرہ کے درمیان واقع ہوئی تو اس واؤ کو حذف کر دیا تو یَذِرُ ہوگیا اب باب اس کا فتح استعمال ہوتا ہے

صرف1 جواب
9 نومبر، 2024

جِْئتُ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟؟

صیغہ واحد مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی و مہموز اللام از باب ضرب یضرب اصل میں جَیَئْتَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو جائْتَ ہوگیا الف اور ہمزہ دونوں ساکن تھے الف کو حذف کر دیا جَئْتَ ہوگیا قاعدہ جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے پھر اس قاعدے کے تحت جیم۔کو کسرہ دیا

صرف1 جواب
9 نومبر، 2024

یَعُوْدُنِیْ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟

یعود صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل میں یَعْوُدُ تھا قاعدہ نمبر 2 واو یا یاء کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ان کی حرکت مَاقبل کو دینا واجب ہے اور اگر يہ حرکت فتحہ ہو تو واو یا یا کو الف سے بدلنا بھی واجب ہے اس قاعدے کے تحت واؤ کی حرکت ما قبل عین کو دے دی

صرف1 جواب
9 نومبر، 2024

اَرَدْتُّ کی صرفی تحقیق کیا ہو گی ؟؟

صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال اصل میں أَرْیَدْتُ تھا یاء متحرک ما قبل ساکن تھی اس کی حرکت ما قبل راء کو دیکر سے الف سے بدلا تو الف اور دال دونوں ساکن تھے الف کو گرا دیا تو أَرَدْتُ ہو گیا قاعدہ ایسے دو ہم جنس یا ہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کر دینا واجب ہے دال اور تاء دونوں ساکن تھے دال کا تاء میں ادغام کیا تو اردتُّ ہوگیا

صرف1 جواب
7 نومبر، 2024