کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بچے کا عقیقہ اس کے ختنہ سے پہلے کر سکتے ہیں؟
جواب : ختنے سے پہلے عقیقہ کروا سکتے ہیں،اس میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 14 جوابات شدہ سوالات
جواب : ختنے سے پہلے عقیقہ کروا سکتے ہیں،اس میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
اگرایک بڑے جانور کے سات حصوں میں عقیقہ کرنا چاہتے ہیں،تو عقیقہ ہو جائے گا ،اس میں لڑکے کے لیے بہتر ہے کہ دو حصے رکھے جائیں اور لڑکی کے لیے ایک حصہ رکھا جائے ،البتہ اگر کسی نےلڑکے کے عقیقے کا ایک حصہ رکھا،تب بھی عقیقہ ہوجائے گا ،کسی قسم کاکوئی گناہ نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
جواب : روشنی کا ایسا اہتمام ہو کہ ذبح شرعی میں غلطی کا نہ ، اس صورت میں رات کے وقت عقیقہ کرنا بلاکراہت جائز ہے اور اگر روشنی کا ایسا اتمام نہ ، ذبح شرعی میں غلطی کا ہوسکتی ہو تو اس صورت میں رات کے وقت عقیقہ کرنا مکروہ ہے البتہ اگر اس صورت میں بھی ذبح کی شرائط پائی گئی تو عقیقہ ہوجائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
جواب : بہار شریعت کا یہ مسئلہ بالکل درست ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ غنی پر تو قربانی پہلے سے واجب تھی ، اس پر جانور کی خریداری کی وجہ سے قربانی واجب نہیں ہوئی جبکہ فقیر پر قربانی کا وجوب جانور خریدنے کی وجہ سے ہوا ہے یعنی جیسے ہی فقیر نے اس جانور کو خریدا تو اس پر اسی جانور کی قربانی واجب ہے ، اسی وجہ یہ کہا گیا کہ جب اس کا یہ جانور چوری ہوگیا یا گم ہوگیا اور اب اس نے دوبارہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا تو اس خریداری کی وجہ سے اس پر اس جانور کی قربانی بھی واجب ہوگئی ، اب جب پہلا جانور مل گیا تواس جانور کی بھی خریداری کی وجہ سے قربانی واجب ہوئی تھی اور اب اس دوسرے جانور کی بھی خریداری کی وجہ سے قربانی واجب ہوئی تو دونوں کی واجب رہے گی اور غنی کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے اس پر قربانی کرنا پہلے ہی واجب تھا خریداری کی وجہ سے نہیں ہوا ، اسی وجہ سے اسے اختیار دیا گیا ۔ وفي «فتاوى أهل سمرقند» : الفقير إذا اشترى أضحية، فسرقت، فاشترى أخرى مكانها، ثم وجد الأولى، فعليه أن يضحي بهما، فرق بينه وبينما إذا كان غنياً، والفرق: أن الوجوب على الفقر بالشراء، والشراء يتعدد، فيتعدد الوجوب، والوجوب على الغني بإيجاب الشرع، والشرع لم يوجب الأضحية إلا واحدة. ترجمہ : فتاوی سمرقندی میں ہے کہ فقیر نے جب قربانی کے لئے جانور خریدا پھر اس کا جانور چوری ہوگیا اس کے بعد فقیر دوسرا جانور لے آیا اور پہلا اس کو (دوسراخریدنےکے بعد)مل گیا پس اس پر دونوں جانوروں کی قربانی لازم ہوگی ۔ اس صورت میں فقیر اور غنی کا مسئلہ جدا جدا ہے ۔ اور فرق یہ ہے کہ فقیر پر وجوب خریدنے کی وجہ سے ہوا ہے اور خریدنا متعدد بار ہوا تو وجوب بھی متعدد ہی ہوگا اور غنی پر واجب ہونا شریعت کی جانب سے تھا اور شرع میں ایک ہی قربانی کا وجوب ہے ۔
جواب : فربہ اور مہنگا جانور جو شرائط قربانی پر مکمل ہو تو اس کی قربانی کرنا افضل ہے لیکن ہمارے معاشرے میں قربانی جیسی عبادت میں نمود و نائش کا جو انداز اپنا یا جاتا ہے اس سے بچنا چاہیئے کیونکہ قربانی خالص رضائے الہی کے لئے ہے اور یہ انداز دکھلاوے اور ریاکاری کی طرف اشارہ کرتا ہے ، کیونکہ لوگوں کا رش لگوانا ، ویڈیو بنا بنا کر سوشل میڈیا پر چلانا، دوسروں کے کم قیمت یا کمزور جانور کو حقیر سمجھنا یہ سب علامات تکبر ہیں یاد رہے اللہ پاک اعمال کا ثواب اچھی نیت پر عطا فرماتا ہے اب کسی کا جانور اگر کم قیمت ہے یا فربہ نہیں ہے لیکن اس کی نیت خالص اللہ کی رضا کی ہے تو یہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہے اور زیادہ قیمت والا جانور ہو یا بہت فربہ ہو لیکن نیت اللہ کی رضا حاصل کرنے کی نہیں ہے تو پھر یہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوگا ، اس لئے ہمیں اعمال میں اپنی نیتوں کو بالکل صاف رکھنا چاہیے۔ اللہ رب العزت قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ترجمہ : اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے (پارہ 06، سورۃ المائدہ ، آیت 17) ایک اور مقام پر اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ ترجمہ : اللہ کو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ اُن کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔ حدیث پاک ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فَطِيبُوا بِهَا نَفْسَاً ترجمہ : پس تم خوش دلی سے قربانی کرو (جامع ترمذی ، حدیث 1493) مسند امام احمد بن حنبل کی روایت ہے کہ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا، وَأَسْمَنُهَا ترجمہ : افضل قربانی وہ ہے جو قیمت کے اعتبار سے اعلی اور خوب فربہ جانور کی ہو۔ (مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث 15494)
جواب : جی ہاں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری امت کی طرف سے قربانی فرمائی ہے البتہ یہاں یہ مسئلہ شرعی یاد رہے کہ جب واجب قربانی کی جائے گی تو تو بکرا ، بکری ، دنبہ اور بھیڑ وغیرہ میں فرد واحد کی طرف سے اور گائےو اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد کی طرف سے قربانی ہوسکتی ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا پوری امت کی طرف سے قربانی کرنا یہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے یا اس اس دعا سے مراد یہ ہے کہ "یااللہ پاک میری امت کو بھی اس قربانی کا ثواب عطا فرما" دوسری صورت میں اس پر ہر شخص عمل کرسکتا ہے کہ قربانی شرئط کے مطابق ہو اور اس کا ثواب پوری امت کو کردیا جائے جیساکہ پیار آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔ مشکوٰۃ المصابیح کی روایت ہے :وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهٖ لِيُضَحِّيَ بِهٖ قَالَ: “يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ” ثُمَّ قَالَ: “اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ” فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهٗ ثُمَّ ذَبَحَهٗ ثُمَّ قَالَ: “بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ” . ثُمَّ ضَحّٰى بِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ ترجمہ : روایت ہےحضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سینگ والے بکرے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلے،سیاہی میں بیٹھے،سیاہی میں دیکھے آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں فرمایا عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو،میں نے کرلیا پھر آپ نے چھری پکڑی اور بکرا پکڑکرلٹایا پھر اسے ذبح کیا پھر فرمایابِسْمِ اللهِ الٰہی اسے محمدصلی الله علیہ وسلم و آل محمدصلی الله علیہ وسلم و امت محمدصلی الله علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرماپھر اس کی قربانی کی۔ (مشکوۃ المصابیح ، کتاب الاضحیۃ ، حدیث 1454)
جواب : مستحب تو یہ ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی اس سے کھلائے اور یہ بھی جائز ہے کہ آپ یہ سارا گوشت اپنے پاس رکھ لیں یا سارا گوشت تقسیم کردیں البتہ اپنی قربانی کے گوشت کو بیچنا جائز نہیں ہے ۔ المحیط البرہانی میں ہے :ويستحب للمضحي أن يأكل من أضحيته، ويطعم منها غيره، وإن أكل الكل أو أطعم الكل جائزاً واسعاً،ترجمہ : قربانی کرنے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی قربانی کے جانور میں سے خود بھی کھائے اور اس سے دوسروں کو بھی کھلائے اور اگر یہ سارا گوشت خود ہی کھالیتا ہے یا سارا گوشت کسی اور کو کھلادیتا ہے تو اس کے لئے ایسا کرنا بھی جائز ہے۔ ( المحیط البرہانی فی فقہ النعمانی ، جلد 06، صفحہ 94، مطبوعہ بیروت )
جواب : قربانی کے گوشت کو تقسم کرنے کا مستحب طریقہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے تین حصے کرلئے جائیں ۔ ایک حصہ اپنے لئے رکھے ، دوسرا حصہ اپنے رشتہ داروں کے لئے اور تیسرا حصہ غرباء میں تقسیم کرنے کے لئے رکھے ۔ البتہ اگر کوئی شخص قربانی کا سارا گوشت اپنے لئے رکھ لیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے اور سارا گوشت غرباء میں تقسیم کردیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ گوشت کی تقسیم کا افضل طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وَالْأَفْضَلُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالثُّلُثِ وَيَتَّخِذَ الثُّلُثَ ضِيَافَةً لِأَقْرِبَائِهِ وَأَصْدِقَائِهِ وَيَدَّخِرَ الثُّلُثَ؛ ترجمہ : افضل یہ ہے کہ گوشت کا ایک تہائی صدقہ کرے ، ایک تہائی اپنے رشتہ داروں کے درمیان تقسیم کردے اور ایک تہائی اپنے استعمال کے لئے رکھے ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار ، جلد 06، صفحہ 382، مطبوعہ بیروت )
جواب : پیدائش کے بعد عقیقہ ساتویں دن کرنا مستحب ہے ۔ اس کا کوئی وقت متعین نہیں ہے اگر کوئی شخص پچاس یا سو سال کا ہوگیا اور اس کا عقیقہ نہیں ہوا تھا تو وہ اس عمر میں بھی اپنا عقیقہ کرسکتا ہے ۔ امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: جوانی یا بڑھاپے میں عقیقہ کرسکتا ہے یا نہیں ؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ جوانی بڑھاپے میں بھی اپنا عقیقہ کرسکتا ہے ۔ ( فتاوی رضویہ ، جلد نمبر 20، صفحہ نمبر 588رضا فاؤنڈیشن ) آپ مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں : عقیقہ ساتویں دن افضل ہے ،نہ ہوسکے تو چودھویں ،ورنہ اکیسویں ورنہ زندگی بھر میں جب کبھی ہو ۔ ( فتاوی رضویہ ، جلد نمبر 20، صفحہ نمبر 586رضا فاؤنڈیشن )
جواب : ایسا شخص جو ملک پاکستان سے باہر ہے اور اس کی قربانی ملک پاکستان میں ہورہی ہے تو اس قربانی کے درست ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس جگہ یہ شخص موجود ہے وہاں اور ملک پاکستا ن میں قربانی کا وقت موجود ہو ، اور جس جگہ یہ موجود ہے وہاں وقت قربانی گزر گیا اور پاکستان میں وقت قربانی باقی ہے تو اب اس شخص قربانی نہیں ہوگی ۔ یونہی اگر پاکستا ن میں وقت شروع ہی نہیں ہوا اور جس جگہ یہ شخص موجود ہے ہے وہاں وقت شروع ہوچکا ہے تو اس صورت میں بھی ، ابھی قربانی کرنا جائز نہیں ہے ۔ تفہیم المسائل میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن دامت برکاتہم العالیہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ :قربانی کا اصل سبب وقت ہی ہے، یینر صاحبِ قربانی کے ایامِ قربانی ہں اور ایامِ قربانی کے تعنب کے لئے قربانی کے مقام کا نہںن بلکہ صاحبِ قربانی کا اعتبار ہوگا۔ البتہ دن اور رات یا نماز عدر سے پہلے اور بعد کے لئے قربانی کے مقام کا اعتبار ہوگا۔پس خلاصۂ کلام یہ کہ اگر یورپی ممالک مںا مقم مسلمانوں کے ایامِ نحر شروع ہو چکے ہںک، مگر پاکستان مںص ابھی ایامِ نحر شروع نہںک ہوئے، تو پاکستان مںک اُن کی طرف سے قربانی قبل از وقت ہونے کی وجہ سے ادا نہں۔ ہوگی اور اگر یورپی ممالک مںک مقمے مسلمانوں کے ایامِ نحر گزر چکے ہںا، اگرچہ پاکستان مںق ابھی ایامِ نحر باقی ہں ، تو پاکستان مں ان کی طرف سے قربانی بعد از وقت ہونے کی وجہ سے جائز نہںت ہوگی۔ ایامِ نحر گزرنے کے بعد قربانی کے جانورکا صدقہ واجب ہوتا ہے، جانور کا ذبح کرنا صرف ایامِ قربانی کے ساتھ مشروط ہے۔ لہٰذا یورپ ودیگر ممالک مںا مقمہ مسلمانوں کی پاکستان مںِ قربانی صرف اُس صورت مںج جائز ہوگی کہ صاحبِ قربانی جس ملک مںد مقم ہے، وہاں ابھی ایامِ قربانی جاری ہوں اور جہاں قربانی کی جارہی ہے، وہاں کے اعتبار سے بھی قربانی کے ایام جاری ہوں اور وقت بھی درست ہو۔ (تفہم المسائل، ج8، ص212، مطبوعہ ضا ء القرآن پبلی کشنز )
جواب : بھینس کی قربانی بالکل جائز ہے کیونکہ یہ گائے کی جنس سے ہی ہے ، فقہائے کرام کی تصریحات بھینس کی قربانی کے جواز پر موجود ہیں ۔ سننِ ابو داؤد میں ہے:عن جابر بن عبد اللہ، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال:البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:گائے سات افراد کی طرف سے اور اونٹ بھی سات افراد کی طرف سے (قربان ہو سکتاہے )۔ (سننِ ابو داؤد ،کتاب الضحايا ، ،جلد2صفحہ 40 ،مطبوعہ لاہور) حدیثِ پاک میں"بقرۃ" کا لفظ استعمال کیا گیا اور بقرۃ ایک جنس ہے جس کے تحت مختلف قسم کے جانور آتے ہیں،ان میں سے ایک جاموس یعنی بھینس بھی ہے ،جیساکہ لسان العرب میں ہے:"البقر جنس والجاموس نوع من البقر" ترجمہ:گائے جنس ہے اور اسی کی قسم جاموس یعنی بھینس ہے۔ (لساب العرب ،جلد 6 ،صفحہ 51 ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:"حقیقت یہ ہے کہ علماء کے نزدیک بھینس کا گائے کی ہی نوع میں ہونا ثابت ہوا ،تو انہوں نے کہا کہ قرآن کا لفظِ بقر بھینس کو شامل ہے۔ " (فتاویٰ رضویہ ،جلد20،صفحہ 401،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
جواب : جس جانور کے پیدائشی سینگ آئے ہی نہیں ہیں تو ایسے جانور کی قربانی بلاکراہت جائز ہے جبکہ اس میں کراہت کی یا قربانی نہ ہونے کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: وَيُضَحِّي بِالْجَمَّاءِ هِيَ الَّتِي لَا قَرْنَ لَهَا خِلْقَةًترجمہ : جماء وہ جانور جس کے پیدائشی سینگ نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار ، جلد 6، صفحہ323 مطبوعہ بیروت)
جواب : والد صاحب اپنی قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کی طرف سے ان کی اجازت سے قربانی کرتے ہیں تو ان کا یہ عمل جائز ہے ، قربانی ہوجائے گی اگر چہ گھر کے بعض افراد صاحب نصاب نہ ہوالبتہ اتنا خیال ضرور کیا جائے کہ گھر کے بالغ افراد سے واضح اجازت لے لی جائے یا انہیں پہلے ہی یہ معلوم ہو کہ والد صاحب ان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں۔ نوٹ : بکرا/بکری، دنبہ/ بھیڑ ان میں صرف ایک ہی فرد شامل ہوسکتا ہے اور گائے ، اونٹ وغیرہ میں صرف سات افراد شامل ہوسکتے ہیں ، اس سے زیادہ شامل کئے گئے تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے : وَلَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ أَنْ يُضَحِّيَ عَنْ أَوْلَادِهِ الْكِبَارِ وَامْرَأَتِهِ إلَّا بِإِذْنِهِ، وَفِي الْوَلَدِ الصَّغِيرِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - رِوَايَتَانِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ تُسْتَحَبُّ وَلَا تَجِبُ بِخِلَافِ صَدَقَةِ الْفِطْرِترجمہ : کسی شخص کے لئے اپنی بالغ اولاد اور زوجہ کی طرف سے بغیر ان کی اجازت کے قربانی کرنا جائز نہیں ہے اور نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنے کے حوالے سے امام اعظم علیہ الرحمہ کے دو قول ہیں ، ظاہر الروایہ کے مطابق کہ نابالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے البتہ صدقہ فطر نابالغ کا ادا کرنا والد پر واجب ہے ۔
جواب : قربانی کے جانور کا نام رکھا جاسکتا ہے بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف جانوروں اور مختلف اشیاء کے نام رکھنا ثابت بھی ہے ۔ امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی علیہ الرحمہوالرشاد میں نقل فرماتے ہیں :قال: كانت منائح رسول الله صلى الله عليه وسلم من الغنم عشرا.الأولى: عجوة.الثانية: زمزم.الثالثة: سقيا.الرابعة: بركة. الخامسة: ورسة.السادسة: إطلال.السابعة: إطراف.الثامنة: قمرة.التاسعة: غوثة أو غوثيّةوعنز تسمى اليمن.ترجمہ: ابن سعد سے روایت ہے کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی دس دودھ دینے والیاں بکریاں تھی (ان کے مختلف نام تھے ) :(1)عجوہ(2)زمزم(3)سُقیا(4)بَرَکۃ(5)ورسۃ (6)اطلال (7)اطراف(8)قمرہ(9)غوثیۃ(10) یُمن (سبل الہدیٰ والرشاد ، جلد 7، صفحہ 412، مطبوعہ بیروت) اس روایت سے یہ بات ظاہر ہوئی کے جانوروں کے نام رکھنا جائز ہے اور سیرت رسول سے اس کا واضح ثبوت بھی ملتا ہے ۔