عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,697 جوابات شدہ سوالات

السلام علیکم وحمۃاللہ وبرکاتہ لم اور لماّ میں کیا فرق ہے ؟

لم اور لما دونوں فعل مضارع پر داخل ہو کر اسے ماضی منفی کر دیتے ہیں لیکن لم مطلقا ماضی میں نفی کرتا ہے جبکہ لما ماضی استمراری کے معنی میں نفی کرتا ہے جیسے لم یضرب نہیں مارا اس مرد نے لما ابھی تک نہیں مارا اس مرد نے

صرف1 جواب
14 ستمبر، 2024

تدخرون صیغہ کی مکمل صرفی تحقیق درکار ہے

صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل میں تتدَخِّرون تھا قاعدہ اگر باب "اِفْتِعَالٌ" کا عین کلمہ ت، ث، ج، ر، د، ذ، س، ش، ص، ض، ط يا ظ ہو تو تائے "اِفْتِعَالٌ" کو عین کلمہ کی جنس سے بدلنا جائز ہے لیکن پھر ادغام کرنا واجب ہوجائے گا اگر مذکورہ حروف باب تَفَعَّلٌ يا تَفَاعُلٌ کے فاء کلمہ میں واقع ہوں تو تائے "تَفَعَّلٌ" و "تَفَاعُلٌ" کو فاء کلمہ کا ہم جنس کرنا جائز اور بعد ابدال ادغام کرنا واجب ہوگا تاء کو دال سے بدل کر دال کا دال میں ادغام کیا تو تدخرون

صرف1 جواب
13 ستمبر، 2024

سوال یہ عرض ہے کہ کوئی ایسا واضح طریقہ ارشاد فرمائیے جس سے مصدر اور جامد کی پہچان ہو جاے انکی پہچان کیسے ہو بہت مشکل لگتا ہے؟؟؟

جامد ہر وہ چیز جو ہاتھوں سے محسوس ہو سکتی ہے مصدر وہ اسم جو فعل یعنی کام ہو چاہے کچھ بھی ہو جیسے مارنا بھاگنا دوڑنا یہ سب کام ہیں یہ مصدر ہیں چارجر موبائل چارپائی وغیرہ ہاتھ سے محسوس ہونی والی چیزیں جامد ہیں اس طرح آپ ستر فیصد پہچان کر سکتے ہیں

صرف1 جواب
8 ستمبر، 2024

فعل کسے کہتے ہیں فاعل کسے کہتے ہیں مفعول کسے کہتے ہیں فعل معروف و مجھول کسے کہتے ہیں

فعل وہ کلمہ جو اپنے معنی پر دلالت کرے اور تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس میں پایا جائے فاعل وہ لفظ جس کی طرف فعل کی نسبت کی جائے یا جو فعل کو کرنے والی ذات ہو مفعول جس پر فعل واقع ہو فعل معروف جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو فعل مجہول جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو

صرف1 جواب
10 ستمبر، 2024

Fal mazi bnana ka qaida

ان اقسام کو بنانے کے طریقے ماضی مطلق ثلاثی مجرد کے مصدر کے فاء اور لام کلمہ کو فتحہ دیں اور عین کلمہ پر تینوں حرکات آتی ہیں یعنی کبھی فتحہ کبھی کسرہ اور کبھی ضمہ ماضی قریب ماضی مطلق سے پہلے ’’قد‘‘ لگانے سے فعلِ ماضی قریب بن جاتا ہے ماضی بعید ماضی مطلق سے پہلے ’’کان‘‘ کا اضافہ کرنے سے فعلِ ماضی بعید بن جاتا ہے ماضی احتمالی ماضی مطلق کے شروع میں ’’لعل‘‘، ’’لعلمَا‘‘ یا ’’یکون‘‘ کا اضافہ کرنے سے ماضی احتمالی بن جاتا ہے ماضی تمنائی ماضی مطلق کے شروع میں ’’ ليت‘‘ يا ’’ليتما‘‘ کا اضافہ کرنے سے ماضی تمنائی بن جاتا ہے ماضی استمراری فعلِ مضارع کے شروع میں ’’کان‘‘ کا اضافہ کرنے سے فعلِ ماضی استمراری بن جاتا ہے

صرف1 جواب
8 ستمبر، 2024

اتقوا (ت پر تشديد اور زبر ہے) اس کی صرفی تحقیق ؟

اگر قاف پر پیش ہو تو صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں اوتقِیُوا تھا فائدہ "اِتَّصَلَ" اصل میں "اِوْتَصَلَ" تھا (واوساکن ماقبل مکسور) مگر اس میں واو کو یاء سے نہیں بدلا گیا؛ اس لیے کہ وہ "اِفْتِعَالٌ" کا فاء کلمہ ہے، اسی طرح اِجْلِوَّاذٌ میں واو ساکن کو یاء سے نہیں بدلا جاتا کیونکہ وہ مدغم ہے اس قاعدے کے تحت واو کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں پھر اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت قاف کو دیکر یاء کو حذف کر دیا تو اِتَّقُوا ہوگیا اگر قاف پر زبر ہو تو صیغہ جمع مذکر غائب ( بقیہ صرفی تحقیق اوپر والی ہے ) اصل میں اوتقَیُوا تھا واو کو تاء سے بدلنے کا قاعدہ اوپر آپ نے دیکھا ہے بقیہ یاء متحرک ما قبل مفتوح تھا یاء کو الف سے بدل کر اجتماع ساکنین سے گرایا تو اتَّقَوا ہوگیا

صرف1 جواب
10 ستمبر، 2024

الدنیا کون سا صیغہ ہے الظلمین ،جِنًۃ کونسے صیغے ہہیں

دنیا صیغہ واحد مؤنث اسم تفضیل ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں دنوی تھا قاعدہ "فُعْلٰی" کا وزن اسم جامد و اسمِ تفضیل میں ہو اور اس کے لام کلمہ میں واؤ ہو تو اسے یاء سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے مطابق واو کو یاء سے بدلا تو دنیا ہوگیا الظالمین صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب جنۃ اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف اصل میں جِنْنَۃ تھا دونوں ہم جنس حروف کا ادغام کیا تو جنۃ ہوگیا

صرف1 جواب
13 ستمبر، 2024

تری میں کیا تصرف ہوا ہے

تری اصل میں تَرْأَی تھا قاعدہ ہمزہ متحرکہ ہو اور اس کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر اسے حذف کرنا جائز ہے اس قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت راء کو دیکر ھمزہ کو حذف کیا تو تَرَیُ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل ساکن کو الف سے بدلا تو تَرٰی ہوگیا

صرف1 جواب
12 ستمبر، 2024

حیة میں کیا تعلیل ہوئ ہے۔اگر ہوئ ہے تو اصل میں کیا تھا اور کونسا قاعدہ جاری ہوا ہے

حیۃ اصل میں حَیْیَۃ تھا ایک یاء کو دوسری میں ادغام کیا تو حیۃ ہو گیا قاعدہ ایسے دو ہم جنس یا ہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کر دینا واجب ہے

صرف1 جواب
9 ستمبر، 2024

برائے مہربانی درجہ زیل الفاظوں کی صرف تحقیق کر کے دیجئے. سن نوب ندب. رمضان اور مساجد یہ الفاظ نور العزہ کے ہی اور برائے مہربانی ان پر اعراب بھی لگا کر دیں.

سَنّ اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف نوب اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی ندب صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر رمضان اور مساجد پر اعراب کتاب سے دیکھ کر لگائے جا سکتے ہیں اگر کہیں شک ہو تو دوبارہ سوال کر لیں باب کا نام لکھ کر

صرف1 جواب
12 ستمبر، 2024

فَظَّلَمَ کون سا صیغہ ہے

فظلم ف الگ ہے اصل صیغہ اظلم ہے صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں اظتلم تھا تاء کو ظاء سے بدل کر ظاء کا ظاء میں ادغام کیا تو اظلم ہوگیا قاعدہ اگر باب اِفْتِعَالٌ کافاءکلمہ صاد، ضاد، طاء یا ظا ء ہو تو تائے اِفْتِعَالٌ کوطاءسے بدلنا واجب ہے، پھراگرفاء کلمہ طاء ہو تو ادغام واجب ہے، اور ظاء ہو تو تین صورتیں جائز ہیں اور اگر صاد یا ضاد ہو تو دو صورتیں جائز ہیں ظاء کی پہلی صورت طاء کوظاء کر کے دونوں کا ادغام کر دیں ظاء کی دوسری صورت ظاء کوطاء کر کے دونوں کا ادغام کر دیں ظاء کی تیسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں صاد اور ضاد کی پہلی صورت طاء کو فاء کلمہ کا ہم جنس کر دیں پھر ادغام کر دیں صاد اور ضاد کی دوسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں

صرف1 جواب
9 ستمبر، 2024

Salasi mujrab ki 6 iqsaam bta da

ابواب کی علامات نَصَرَ یَنْصُرُ ماضی مفتوح العین اور مضارع مضموم العین ضَرَبَ یَضْرِبُ ماضی مفتوح العین اور مضارع مکسور العین سَمِعَ یَسْمَعُ ماضی مکسور العین اور مضارع مفتوح العین فَتَحَ یَفْتَحُ ماضی و مضارع دونوں مفتوح العین کَرُمَ یَکْرُمُ ماضی و مضارع دونوں مضموم العین حَسِبَ یَحْسِبُ ماضی و مضارع دونوں مکسور العین کَادَ یَکَادُ (کَوُدَ یَکْوَدُ) ماضی مضموم العین اور مضارع مفتوح العین فَضِلَ یَفْضُلُ ماضی مکسور العین اور مضارع مضموم العین فائدہ "نَصَرَ" "یَنْصُرُ"، "ضَرَبَ" "یَضْرِبُ" اور "سَمِعَ" "یَسْمَعُ" کو اُمُّ الابواب اور "فَتَحَ یَفْتَحُ"، "کَرُمَ" "یَکْرُمُ" اور "حَسِبَ" "یَحْسِبُ" کو فُروعُ الابواب کہتے ہیں

صرف1 جواب
11 ستمبر، 2024

کف ( "ک" پر زبر ہے اور "ف" پرتشدید اور پیش ہے) اسکی صرفی تحقیق اور نحوی دونوں تحقیق کردیں جلدی سے ؟

صرفی تحقیق اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف اصل میں کَفْفٌ تھا دونوں فاء کا ادغام کر دیا تو کفٌّ ہوگیا نحوی تحقیق لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مونث واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت

صرف1 جواب
11 ستمبر، 2024

اُطْلُقُ كى صرفى تحقىق

یہ اعراب درست نہیں ہیں یا تو ہمزہ پر فتح ہوگی یا قاف ساکن ہوگا بہر حال صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم (جب قاف ساکن ہو تو ) ھمزہ پر فتحہ ہو تو صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم

صرف1 جواب
10 ستمبر، 2024

یٙذّٙکّٙرُ کون سے باب سے ہے

صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل میں یتَذَکَّرُ تھا قاعدہ اگر باب "اِفْتِعَالٌ" کا عین کلمہ ت، ث، ج، ر، د، ذ، س، ش، ص، ض، ط يا ظ ہو تو تائے "اِفْتِعَالٌ" کو عین کلمہ کی جنس سے بدلنا جائز ہے لیکن پھر ادغام کرنا واجب ہوجائے گا اگر مذکورہ حروف باب تَفَعَّلٌ يا تَفَاعُلٌ کے فاء کلمہ میں واقع ہوں تو تائے "تَفَعَّلٌ" و "تَفَاعُلٌ" کو فاء کلمہ کا ہم جنس کرنا جائز اور بعد ابدال ادغام کرنا واجب ہوگا اس قاعدے کے تحت تاء کو ذال سے بدل کر ذال کا ذال میں ادغام کیا تو یذکر ہوگیا

صرف1 جواب
11 ستمبر، 2024

اسم فاعل اور صفت مشبہ میں کیا فرق ہے،اور اسم مبالغہ کی وضاحت فرما دیں نیز یہ کونسے ابواب آتے ہیں جزاکم اللہ خیرا

اسم فاعل کا معنی حدوثی ہوتا ہے یعنی تینوں زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں پایا جاتا ہے اور صفت مشبہ کا معنی دائمی ہوتا ہے یعنی اس میں زمانے کا اعتبار نہیں ہوتا صفت مشبہ فعل لازم سے بالعموم اور اور باب سمع و کرم سے جو افعال آتے ہیں ان سے اکثر آتی ہے اسم مبالغہ وہ اسم ہوتا ہے جو فاعل کی طرح ہی ہوتا ہے اس میں معنی کی زیادتی ہوتی ہے جیسے معطار بہت خوشبو والا مضراب بہت مارنے والا وغیرہ یہ بھی ہرباب سے آ سکتا ہے

صرف1 جواب
12 ستمبر، 2024

اطولاء اطوِلۃ پر یقول یبیع قانون کیوں جاری نہیں ہوتا ہے حالنکہ اس میں یقول یبیع کے تمام شرائط موجود ہے۔

یہ دونوں لفظ جمع کے وزن پر ہیں اطولاء بر وزن افعلاء اور اطولۃ بر وزن افعلۃ ہے یہ صیغے فرضی بنائے گئے ہیں ط و ل سے اس وزن پر جمع نہیں ہوتی اگر ایسی کوئی جمع حقیقت میں ہو تو اس کی تعلیل ہو جائے گا

صرف1 جواب
7 ستمبر، 2024

سوال قُلْنَ کی تعلیل کیا ہے

قلن اصل میں قَوَلْن تھا واؤ متحرک کو الف سے بدلا تو قالن ہوگیا الف اجتماع ساکنین سے گر گیا تو قَلن ہوگیا پھر مندرجہ ذیل قاعدہ کے تحت فاء کو ضمہ دیا گیا ہے جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے

صرف1 جواب
3 ستمبر، 2024

افتتان ،سوق،،ذائدتہ،روایتہ کی صرفی تحقیق

پہلے لفظ سمجھ نہیں آیا سوق اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی ( بمعنی بازار ) سوق مصدر ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر ( چلانا) زائدۃ صیغہ واحد مؤنث ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب روایۃ مصدر ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب

صرف1 جواب
3 ستمبر، 2024

لفظ جہاد کی صرفی لغوی تحقیق کیاہے مثلا کس باب سے،کونسا صیغہ ہے،ج کے کسرہ یا فتح کے ساتھ ہے اور ثلاثی مجرد و مزید فیہ میں باعتبار صلہ معنیٰ میں کیا فرق آئے گا،کتب کی مراجعت سے واضح سمجھ نہیں پایا راہنمائی فرما دیں جزاکم اللہ خیرا کثیرا

جہاد مصدر ہے ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ ویسے اس کا لغوی معنی ہے دشمن سے لڑنا لیکن جب یہ فی کے صلہ کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے بھرپور کوشش کرنا

صرف1 جواب
3 ستمبر، 2024