ابیٰ یابیٰ باب فتح يفتح کی صرف صغیر اور کبیر کیا ہوگی
ہماری ایپ کے کتاب والے سیکشن میں تیسیر ابواب الصرف کتاب ہوگی اس میں لکھی ہوئی ہوں گء
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
ہماری ایپ کے کتاب والے سیکشن میں تیسیر ابواب الصرف کتاب ہوگی اس میں لکھی ہوئی ہوں گء
سنوۃ
نیچے ملاحظہ فرمائیں
لم اور لما دونوں فعل مضارع پر داخل ہو کر اسے ماضی منفی کر دیتے ہیں لیکن لم مطلقا ماضی میں نفی کرتا ہے جبکہ لما ماضی استمراری کے معنی میں نفی کرتا ہے جیسے لم یضرب نہیں مارا اس مرد نے لما ابھی تک نہیں مارا اس مرد نے
ممَیَّز اسم مفعول ہوتا ہے
مضاعف
ہمارے مضامین والے سیکشن کا وزٹ کریں
اصدق صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
اجتنبا میں تثنیہ کی ضمیر کا اضافہ کیا تو اجتنب سے تثنیہ مذکر غائب اجتنبا بن گیا
راہ علم کتاب کا مطالعہ فرمائیں
نستعین اصل میں نستَعْوِن تھا اجوف کا قاعدہ نمبر دو لگایا تو واو کی حرکت ما قبل کو دی پھر واؤ ما قبل مکسور ہونے کی وجہ سے واو کو یاء سے بدل دیا
مصدر فعل کو کہتے ہیں جیسے کرنا ہونا مارنا پیٹنا دورڑنا ہنسنا رونا اب یہ سب کام ہیں اور کام مصدر ہوتا ہے
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل میں تتدَخِّرون تھا قاعدہ اگر باب "اِفْتِعَالٌ" کا عین کلمہ ت، ث، ج، ر، د، ذ، س، ش، ص، ض، ط يا ظ ہو تو تائے "اِفْتِعَالٌ" کو عین کلمہ کی جنس سے بدلنا جائز ہے لیکن پھر ادغام کرنا واجب ہوجائے گا اگر مذکورہ حروف باب تَفَعَّلٌ يا تَفَاعُلٌ کے فاء کلمہ میں واقع ہوں تو تائے "تَفَعَّلٌ" و "تَفَاعُلٌ" کو فاء کلمہ کا ہم جنس کرنا جائز اور بعد ابدال ادغام کرنا واجب ہوگا تاء کو دال سے بدل کر دال کا دال میں ادغام کیا تو تدخرون
اِفْتِعَالٌ ثلاثی مجرد کے فاء کلمہ سے پہلے ہمزہ اور فاء کلمہ کے بعد تاء کا اضافہ کر کے اسے "اِفْتَعَلَ" کے وزن پر لے آئیں
قانون نہیں لگتا بنانے کا طریقہ ہوتا ہے جیسے ضرْب سے ضرب بنانے کا طریقہ
موسی نبی کام نام ہے تو اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی کیوں کہ یہ عجمی نام ہے
ترتیب وار کنکریاں
اصل میں دعاو تھا قاعدہ واؤ یا ياء لام کلمہ میں الف زائدہ کے بعد واقع ہوں تو انہیں ہمزہ سے بدل دینا واجب ہے واو کو ھمزہ سے بدل دیا تو دعاء ہوگیا
جامد ہر وہ چیز جو ہاتھوں سے محسوس ہو سکتی ہے مصدر وہ اسم جو فعل یعنی کام ہو چاہے کچھ بھی ہو جیسے مارنا بھاگنا دوڑنا یہ سب کام ہیں یہ مصدر ہیں چارجر موبائل چارپائی وغیرہ ہاتھ سے محسوس ہونی والی چیزیں جامد ہیں اس طرح آپ ستر فیصد پہچان کر سکتے ہیں
اس کا باب سمع یسمع ہے معنی لمبی گردن والا ہونا ہے اور اس کی گردان خاف یخاف کی طرح آئے گی
ضرب پر مصدر سے ماضی بنانے کا قانون لاگو ہو سکتا ہے
ان حرف مشبہ بالفعل المسلمین اس کا اسم الفائزون خبر ان اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
فعل وہ کلمہ جو اپنے معنی پر دلالت کرے اور تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس میں پایا جائے فاعل وہ لفظ جس کی طرف فعل کی نسبت کی جائے یا جو فعل کو کرنے والی ذات ہو مفعول جس پر فعل واقع ہو فعل معروف جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو فعل مجہول جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو
ایپ کے گردان والے سیکشن میں یہ گردان لکھی ہوئی ہے
مصدر ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب
وہ کلمہ جس کے حروف اصلیہ میں سے کوئی حرف حرف علت ہو ( الف ،و ،ی ) ہو وہ معلل کہلاتا ہے
د ر ی
ان اقسام کو بنانے کے طریقے ماضی مطلق ثلاثی مجرد کے مصدر کے فاء اور لام کلمہ کو فتحہ دیں اور عین کلمہ پر تینوں حرکات آتی ہیں یعنی کبھی فتحہ کبھی کسرہ اور کبھی ضمہ ماضی قریب ماضی مطلق سے پہلے ’’قد‘‘ لگانے سے فعلِ ماضی قریب بن جاتا ہے ماضی بعید ماضی مطلق سے پہلے ’’کان‘‘ کا اضافہ کرنے سے فعلِ ماضی بعید بن جاتا ہے ماضی احتمالی ماضی مطلق کے شروع میں ’’لعل‘‘، ’’لعلمَا‘‘ یا ’’یکون‘‘ کا اضافہ کرنے سے ماضی احتمالی بن جاتا ہے ماضی تمنائی ماضی مطلق کے شروع میں ’’ ليت‘‘ يا ’’ليتما‘‘ کا اضافہ کرنے سے ماضی تمنائی بن جاتا ہے ماضی استمراری فعلِ مضارع کے شروع میں ’’کان‘‘ کا اضافہ کرنے سے فعلِ ماضی استمراری بن جاتا ہے
اصل اھدی تھا یاء کو بوجہ امر کے گرا دیا تو اھدِ ہوگیا
صیغہ واحد مؤنث غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب تفعل
ہماری ایپ کے گردان والے سیکشن میں موجود ہیں
اگر قاف پر پیش ہو تو صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں اوتقِیُوا تھا فائدہ "اِتَّصَلَ" اصل میں "اِوْتَصَلَ" تھا (واوساکن ماقبل مکسور) مگر اس میں واو کو یاء سے نہیں بدلا گیا؛ اس لیے کہ وہ "اِفْتِعَالٌ" کا فاء کلمہ ہے، اسی طرح اِجْلِوَّاذٌ میں واو ساکن کو یاء سے نہیں بدلا جاتا کیونکہ وہ مدغم ہے اس قاعدے کے تحت واو کو تاء سے بدل کر تاء کا تاء میں ادغام کیا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں پھر اس قاعدے کے تحت یاء کی حرکت قاف کو دیکر یاء کو حذف کر دیا تو اِتَّقُوا ہوگیا اگر قاف پر زبر ہو تو صیغہ جمع مذکر غائب ( بقیہ صرفی تحقیق اوپر والی ہے ) اصل میں اوتقَیُوا تھا واو کو تاء سے بدلنے کا قاعدہ اوپر آپ نے دیکھا ہے بقیہ یاء متحرک ما قبل مفتوح تھا یاء کو الف سے بدل کر اجتماع ساکنین سے گرایا تو اتَّقَوا ہوگیا
دنیا صیغہ واحد مؤنث اسم تفضیل ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں دنوی تھا قاعدہ "فُعْلٰی" کا وزن اسم جامد و اسمِ تفضیل میں ہو اور اس کے لام کلمہ میں واؤ ہو تو اسے یاء سے بدل دینا واجب ہے اس قاعدے کے مطابق واو کو یاء سے بدلا تو دنیا ہوگیا الظالمین صیغہ جمع مذکر سالم اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب جنۃ اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف اصل میں جِنْنَۃ تھا دونوں ہم جنس حروف کا ادغام کیا تو جنۃ ہوگیا
تری اصل میں تَرْأَی تھا قاعدہ ہمزہ متحرکہ ہو اور اس کا ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر اسے حذف کرنا جائز ہے اس قاعدے کے تحت ہمزہ کی حرکت راء کو دیکر ھمزہ کو حذف کیا تو تَرَیُ ہوگیا پھر یاء متحرک ما قبل ساکن کو الف سے بدلا تو تَرٰی ہوگیا
حیۃ اصل میں حَیْیَۃ تھا ایک یاء کو دوسری میں ادغام کیا تو حیۃ ہو گیا قاعدہ ایسے دو ہم جنس یا ہم مخرج حروف جن میں سے پہلا حرف ساکن غیر مدہ ہو تو پہلے حرف کا دوسرے میں ادغام کر دینا واجب ہے
چار کام کریں مطالعہ تکرار مشق ماہرین کے ساتھ تعلق و گفتگو
و ق ی
مثبت جس فعل کے ساتھ حرف نفی نا ہو معروف جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو مجہول وہ فعل جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو
سَنّ اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف نوب اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی ندب صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر رمضان اور مساجد پر اعراب کتاب سے دیکھ کر لگائے جا سکتے ہیں اگر کہیں شک ہو تو دوبارہ سوال کر لیں باب کا نام لکھ کر
فظلم ف الگ ہے اصل صیغہ اظلم ہے صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں اظتلم تھا تاء کو ظاء سے بدل کر ظاء کا ظاء میں ادغام کیا تو اظلم ہوگیا قاعدہ اگر باب اِفْتِعَالٌ کافاءکلمہ صاد، ضاد، طاء یا ظا ء ہو تو تائے اِفْتِعَالٌ کوطاءسے بدلنا واجب ہے، پھراگرفاء کلمہ طاء ہو تو ادغام واجب ہے، اور ظاء ہو تو تین صورتیں جائز ہیں اور اگر صاد یا ضاد ہو تو دو صورتیں جائز ہیں ظاء کی پہلی صورت طاء کوظاء کر کے دونوں کا ادغام کر دیں ظاء کی دوسری صورت ظاء کوطاء کر کے دونوں کا ادغام کر دیں ظاء کی تیسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں صاد اور ضاد کی پہلی صورت طاء کو فاء کلمہ کا ہم جنس کر دیں پھر ادغام کر دیں صاد اور ضاد کی دوسری صورت بغیر ادغام کے اپنی حالت پر رہنے دیں
اگر مشتق پوچھے ہیں تو وہ دو طرح کے وزن پر ہر فعل سے آ سکتے ہیں مَفعِل مَفْعَل بقیہ اس کے علاوہ اسم ظرف بہت ہیں مبنی بھی بیس تیس ہوں گے
ابواب کی علامات نَصَرَ یَنْصُرُ ماضی مفتوح العین اور مضارع مضموم العین ضَرَبَ یَضْرِبُ ماضی مفتوح العین اور مضارع مکسور العین سَمِعَ یَسْمَعُ ماضی مکسور العین اور مضارع مفتوح العین فَتَحَ یَفْتَحُ ماضی و مضارع دونوں مفتوح العین کَرُمَ یَکْرُمُ ماضی و مضارع دونوں مضموم العین حَسِبَ یَحْسِبُ ماضی و مضارع دونوں مکسور العین کَادَ یَکَادُ (کَوُدَ یَکْوَدُ) ماضی مضموم العین اور مضارع مفتوح العین فَضِلَ یَفْضُلُ ماضی مکسور العین اور مضارع مضموم العین فائدہ "نَصَرَ" "یَنْصُرُ"، "ضَرَبَ" "یَضْرِبُ" اور "سَمِعَ" "یَسْمَعُ" کو اُمُّ الابواب اور "فَتَحَ یَفْتَحُ"، "کَرُمَ" "یَکْرُمُ" اور "حَسِبَ" "یَحْسِبُ" کو فُروعُ الابواب کہتے ہیں
تحویل اصل واحد الی امثلۃ مختلف لمعان لا تحصل الا بھا
نَشَّرَ ہے تو یہ صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
طالق مذکر نہیں ہے بلکہ مونث ہی ہے کیوں طلاق مؤنث کے ساتھ خاص ہے
حروف مشبہ بالفعل چھ ہیں اَن اِن کأن لیت لعل لکن
کتب والے سیشن میں جائیں وہاں دو کتب خاصیات پر موجود ہیں
ایپ کے گردان والے سیکشن میں ملاحظہ فرمائیں
ہماری ایپ کے کتب والے سیشن میں دو کتابیں خاصیات پر موجود ہیں ان میں ملاحظہ فرمائیں
فَرِحِین کوئی مصدر نہیں ہے بلکہ یہ صیغہ جمع مذکر سالم صفت مشبہ سے ہے قرآن میں یوں استعمال ہوا ہے البتہ اس کا مصدر فَرْحٌ آیا ہے
انتقل صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
ہفت اقسام کی پہچان کے لیے تھوڑی مشق کریں ہر قسم کے بہت سارے الفاظ آپ کے حافظے میں محفوظ ہوں تو ان شاء اللہ آسانی رہے گی
اس میں تسلسل سمجھ آیا ہے کاف ضمیر ہے تسلسل مصدر رباعی مزید فیہ مضاعف از باب تفعلل جیسے تدحرج
یتبعون پیروی کرتے ہیں یا کریں گے وہ سب مرد یغنی بے پرواہ کرتا ہے یا کرے گا وہ مرد
أُحْمِرَّ اُدْھِمَّ
صرفی تحقیق اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف اصل میں کَفْفٌ تھا دونوں فاء کا ادغام کر دیا تو کفٌّ ہوگیا نحوی تحقیق لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مونث واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
یہ اعراب درست نہیں ہیں یا تو ہمزہ پر فتح ہوگی یا قاف ساکن ہوگا بہر حال صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم (جب قاف ساکن ہو تو ) ھمزہ پر فتحہ ہو تو صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم
نَنْسِی بنے گا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل میں یتَذَکَّرُ تھا قاعدہ اگر باب "اِفْتِعَالٌ" کا عین کلمہ ت، ث، ج، ر، د، ذ، س، ش، ص، ض، ط يا ظ ہو تو تائے "اِفْتِعَالٌ" کو عین کلمہ کی جنس سے بدلنا جائز ہے لیکن پھر ادغام کرنا واجب ہوجائے گا اگر مذکورہ حروف باب تَفَعَّلٌ يا تَفَاعُلٌ کے فاء کلمہ میں واقع ہوں تو تائے "تَفَعَّلٌ" و "تَفَاعُلٌ" کو فاء کلمہ کا ہم جنس کرنا جائز اور بعد ابدال ادغام کرنا واجب ہوگا اس قاعدے کے تحت تاء کو ذال سے بدل کر ذال کا ذال میں ادغام کیا تو یذکر ہوگیا
وہ نون جو فعل مضارع کے صیغوں میں آتا ہے چاروں تثنیہ دونوں جمع مذکر اور واحد مؤنث میں
وہ لفظ جس کے ذریعے مستقبل میں کسی کام کو طلب کیا جائے
فعل
اسم فاعل کا معنی حدوثی ہوتا ہے یعنی تینوں زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں پایا جاتا ہے اور صفت مشبہ کا معنی دائمی ہوتا ہے یعنی اس میں زمانے کا اعتبار نہیں ہوتا صفت مشبہ فعل لازم سے بالعموم اور اور باب سمع و کرم سے جو افعال آتے ہیں ان سے اکثر آتی ہے اسم مبالغہ وہ اسم ہوتا ہے جو فاعل کی طرح ہی ہوتا ہے اس میں معنی کی زیادتی ہوتی ہے جیسے معطار بہت خوشبو والا مضراب بہت مارنے والا وغیرہ یہ بھی ہرباب سے آ سکتا ہے
فتح یفتح
یہ دونوں لفظ جمع کے وزن پر ہیں اطولاء بر وزن افعلاء اور اطولۃ بر وزن افعلۃ ہے یہ صیغے فرضی بنائے گئے ہیں ط و ل سے اس وزن پر جمع نہیں ہوتی اگر ایسی کوئی جمع حقیقت میں ہو تو اس کی تعلیل ہو جائے گا
چار حرکات پے در پے کسی کلمہ میں جمع نہیں ہوسکتیں جیسے ضَرَبَ سے ضَرَبْتَ بنایا تو باء کو ساکن کر دیا کیوں باء کو حرکت دیتے چار حرکات پے در پے ہو جاتیں
ہماری ایپ کے گردان والے سیکشن میں لکھی ہوئی ہے
صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر اصل أَعْوُذُ تھا واو متحرک ما قبل حرف صحیح ساکن تھا واؤ کی حرکت ما قبل کو دی تو أَعُوذُ ہوگیا
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
یہ اسم فعل بمعنی امر ہے اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی
ح ی ی
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح تعلیل نہیں ہوئی
ابواب کی خاصیات سمجھنے کے لیے خاصیات ابواب الصرف مکتبۃ المدینہ سے چھپی ہوئی کا مطالعہ فرمائیں
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفاعل اصل میں توارَیَ تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو تواری ہوگیا
سوال واضح کریں
وہ علم جس میں ایک کلمہ سے دیگر کلمات بنانے کا طریقہ جانا جائے
صیغہ واحد تکلم فعل مضارع مثبت معروف اجوف یائی از باب افعال اس کی ماضی أراد ہے
قلن اصل میں قَوَلْن تھا واؤ متحرک کو الف سے بدلا تو قالن ہوگیا الف اجتماع ساکنین سے گر گیا تو قَلن ہوگیا پھر مندرجہ ذیل قاعدہ کے تحت فاء کو ضمہ دیا گیا ہے جب اجوف کی ماضی معروف یا مجہول میں عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گر جائے تو فاء کلمہ کو ضمہ دیا جائے گا (جبکہ اجوف واوی مفتوح العین یا مضموم العین ہو) ورنہ (جبکہ اجوف يائی ہو یا اجوف واوی مکسور العین ہو تو) کسرہ دیں گے
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفعل اصل میں تمنَیُون تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدکا تو تمناون ہوگیا واؤ اور الف دونوں ساکن تھے الف کر حذف کیا تو تمنَون ہوگیا
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں منھوی تھا سید والا قانون جاری ہوا واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کا یاء میں ادغام کیا تو منھی ہوگیا
عالمین جمع مذکر سالم اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح ع ل م حروف اصلیہ
صیغہ جمع مذکر غائب فعل امر غائب و متکلم معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
فائدہ "نَصَرَ" "یَنْصُرُ"، "ضَرَبَ" "یَضْرِبُ" اور "سَمِعَ" "یَسْمَعُ" کو اُمُّ الابواب اور "فَتَحَ یَفْتَحُ"، "کَرُمَ" "یَکْرُمُ" اور "حَسِبَ" "یَحْسِبُ" کو فُروعُ الابواب کہتے ہیں
قاعدہ نمبر 1 واو یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا جا تا ہے
توالی اربعہ والا قانون یہ ہے کہ چار حرکات پے درپے جمع نہیں ہو سکتے
امر کے چھ صیغے ہیں
پہلے لفظ سمجھ نہیں آیا سوق اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی ( بمعنی بازار ) سوق مصدر ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر ( چلانا) زائدۃ صیغہ واحد مؤنث ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب روایۃ مصدر ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
وجدنا صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب
ہماری ایپ کے گردان والے سیکشن میں دیکھیں
صیغہ واحد صفت مشبہ ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب
ھاتوا اسم فعل بمعنی امر لا یدخل فیھا التصریف
صیغہ جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
جہاد مصدر ہے ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ ویسے اس کا لغوی معنی ہے دشمن سے لڑنا لیکن جب یہ فی کے صلہ کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا معنی ہوتا ہے بھرپور کوشش کرنا
یہ اسم فعل ہے اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی
ہماری گردان والے سیکشن میں دیکھیں
کس باب سے
جہاد مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ جہاد و مجاہدہ دونوں مصدر استعمال ہوتے ہیں