جنت یہ مذکر ہے یا مونث
لفظ جنت مؤنث ہے
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
لفظ جنت مؤنث ہے
لفظ قدوری اسم منسوب ہے جو قدور کی طرف نسبت کیا گیا ہے
اسباب تسعہ بمع شرائط کے ساتھ اسے ملحوظ رکھا جائے آسانی ہوگی
اس کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں کہ ایسی جمع جس سے آگے کوئی اس کی جمع مکسر نہ بن سکے جیسے مساجد ۔ مفاتیح وغیرہ
لاقٰی کا مضارع یُلاقِی اور اسم فاعل مُلاقی ہوگا
احیانا کا مادہ ح ی ن ہے
باب سمع یسمع
ثلاثی مجرد سے فعل مضارع واحد متکلم اور امر کا صیغہ بن سکتا ہے اور باب افعال سے فعل ماضی کا واحد مذکر غائب فعل مضارع کا واحد متکلم اور فعل امر کا واحد مذکر حاضر بن سکتا ہے
اس کا باب پہچاننے کے لئے آپ کو مضارع دیکھنا ہوگا جب مضارع دیکھیں گے تو خود ہی تعیین ہو جائے گی
اجتماع ساکنین کی دو صورتیں ہیں 1۔ علی حدہ اس صورت میں اجتماع ساکنین جائز ہے اس کی دو صورتیں بنتی ہیں وقف میں مطلقا اجتماع ساکنین جائز ہے دوسری صورت پہلا حرف مدہ ہو اور دوسرا مدغم ہو جیسے ضَالین 2۔ علی غیر حده علی حدہ کی دو صورتوں کے علاوہ بقیہ تمام مقامات پر اجتماع ساکنین علی غیر حدہ ہوگا، اجتماع ساکنین علی غیر حدہ جائز نہیں ہوتا۔ اس کو ختم کرنے کی مختلف صورتیں ہیں 1۔ اگر پہلا ساکن مدہ ہو تو اس کو حذف کر دیا جائے گا جیسے قُل بِع وغیرہ میں ہوتا ہے 2۔ اگر پہلا ساکن مدہ کے علاوہ کوئی حرف ہو تو اس اس کو حرکت دے دیں گے
اس کلمہ کے حروف اصلیہ ل ق ی ہیں
نہیں گناہ نہیں ہوگا
یہ صیغہ نہیں ہے بلکہ ف حرف عطف باء حرف جر اور ھا ضمیر مجرور متصل کا مجموعہ ہے
سفیرج سفرجل کی تصغیر ہے
نور الایضاح یا کوئی بھی کتاب ہو اس کے سمجھنے کے لیے چند اقدامات کرنے ہوتے ہیں 1 اگلے سبق کی تیاری اگلے سبق جو استاد نے پڑھانا ہے اس کی تیاری ضرور کریں تاکہ پڑھایا جانے والا سبق آپ کو کچھ نا پہلے سمجھ آ چکا ہو اور جو مقامات آپ کو تیاری کے دوران سمجھ نہ آئے ہوں ان پر توجہ حاصل کر سکیں 2 دہرائی جو سبق کلاس میں پڑھایا گیا ہے اس کی دہرائی اور کسی طالب علم کے ساتھ تکرار لازمی کریں کہ اس سے سبق پختہ ہوتا ہے اور مزید سمجھ بھی آ جاتا ہے 3 جو مقامات حل نا ہو رہے ہوں ان مقامات کے لئے اسی موضوع کی دیگر کتب سے استفادہ کریں سب سے پہلے دستیاب شروحات سے سمجھیں ورنہ دیگر فقہی کتب سے اس مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں با وجود ان تمام تر کوششوں کے اگر سمجھ نا آئے تو دوبارہ دیگر طلباء یا اساتذہ سے رجوع کریں اعراب کی پہچان کے لئے ہر ہر لفظ کے جو اعراب پڑھے گئے ہیں یا آپ پڑھ رہے ہیں انکو سمجھیں ان کی وجہ پر توجہ دیں اگر کہیں پھر بھی دل مطمئن نا ہو سکے تو اپنے ساتھی سے مدد لیں یا پھر اساتذہ سے مدد حاصل کریں ان شاء اللہ اس طریقے سے جس کتاب کو بھی پڑھیں گے وہ کتاب پختہ بھی ہوگی اور امتحان میں بہترین نتائج بھی حاصل ہوں گے
ینتھی کا مصدر انتھاء ہے باب افتعال اور حروف اصلیہ ن ھ ی ہیں
صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب تفعل حرکات و حروف کے مطابق یہی تحقیق ہوگی
لفظ کا لغوی معنی ہے پھینکنا
اسماء افعال وہ اسماء ہوتے ہیں جن میں افعال کے معانی پائے جاتے ہیں ان کو اسماء افعال اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ہیں تو اسماء ہی لیکن ان میں معانی افعال والے ہوتے ہیں یعنی وہ اسماء جو افعال کے معنی میں ہوتے ہیں
صغیہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں مواہ تھا وہ واو جو جمع کے عین کلمہ میں کسرہ کے بعد واقع ہو اسے یاء سے بدل دینا واجب ہے واؤ کو یاء سے بدلا تو مواہ سے میاہ ہوگیا نصاب الصرف اجوف قاعدہ نمبر12
اسم اور فعل دونوں بہت الگ الگ چیزیں ہیں اسم کسی چیز کا نام ہوگا جبکہ فعل کسی کام کو کہتے ہیں جو کسی کسی زمانے میں واقع ہوا ہو لفظی طور پر ان میں تین فرق واضح ہیں الف لام اسم پر ہوتا ہے تنوین اسم پر آتی ہے اور حرف جر اسم پر آتی ہے عبارت میں اگر کوئی اسم ہوگا تو اکثر ان تینوں میں سے کوئی نا کوئی چیز آ جاتی ہے
بدءٌ مصدر ہے حروف اصلیہ ب د ء ہیں اور باب فتح یفتح ہے
اس کا مصدر نوم آتا ہے
ان دونوں ابواب کا مضارع ایک ہے مگر ماضی الگ الگ ہے تو ماضی دیکھ کر تعین ہوگا کہ کونسا باب ہے
اس کا باب سمع یسمع آتا ہے
امام سیبویہ کے نزدیک ایسی صورت میں غیر منصرف ہوگا یعنی ایک پیش آئے گا
معتل کی چار قسمیں بنتی ہیں 1. مثال 2 . اجوف 3 ۔ ناقص 4 ۔ لفیف
اگر قالٍ ہو تو اسم فاعل بن سکتا ہے
نحو و صرف مد نظر رہیں اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کو کلمات کی پہچان ہو معانی پر نظر ہو اور اسی اعتبار سے عبارت پڑھنی چاہئے
جس نے یہ کہا کہ اللہ نے قیلولہ کیا اس نے کفر کیا پہلا قال اجوف واوی باب نصر ینصر سے ہے دوسرا قال اجوف یائی باب ضرب یضرب سے ہے
و علیکم السلام مبنی وہ چیز ہوتی ہے جس پر اعراب ظاہر نا ہوں تو جملہ باعتبار جملہ اعراب قبول نہیں کرتا کیوں کہ اس پر اعراب کسی جگہ آ ہی نہیں سکتا
صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد صحیح از باب کرم یکرم
صیغہ جمع متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
اینما اور حیثما دونوں اسم ظرف ہیں شرط کے معنج میں بھی استعمال ہوتے ہیں ان میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ہے
حال بھی بن سکتے ہیں اور خبر بھی
نحو پر عبور حاصل کرنے کے لیے قواعد نحویہ اچھے سے یادہوں اور ساتھ میں مشق بھی کرتے رہیں ان شاء اللہ آہستہ آہستہ نحو پر عبور حاصل ہوتا جائے گا
راعتْ صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر رَوَعَت اصل میں تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو راعت
صرفی تحقیق اس کی نہیں ہوگی کیوں کہ یہ عجمی اسم ہے
ڈائریکٹ نہیں آتا اگر متعدی بدو مفعول ہو تو آ سکتا ہے
قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
حال ذو الحال کی پہچان کا مخصوص طریقہ نہیں ہے
جاء فعل الذی اسم موصول نصر فعل ھو ضمیر فاعل جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ موصول صلہ ملکر جاء کا فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
نکرہ کی تخصیص مختلف طریقوں سے ہوتی ہے جیسے نکرہ کا نکرہ طرف مضاف ہونا یا نکرہ کا نکرہ سے موصوف ہونا
ثلاثی مزید فیہ کے بارہ ابواب ہیں
زید موصوف القائم صفت موصوف صفت ملکر مرکب توصیفی
اس عبارت سے لفظ ما حرف نفی ہے اس کا کوئی اعراب نہیں ہوگا کیوں کہ لفظ معمول نہیں بنتا اور اعراب تو معمول کا ہوتا ہے
لفظ حنیفۃ غیر منصرف ہے علمیت اور تانیث کی وجہ سے
ثلاثی مجرد میں سے باب کرم یکرم ہمیشہ لازم ہوتا ہے بقیہ ابواب متعدی اور لازم دونوں ہو سکتے ہیں
شہد لفظ کے مختلف معنی ہیں حاضر ہونا عالم ہونا گواہ ہونا اللہ کی راہ میں مارا جانا ایک ہی لفظ کے معنی ہیں تو ان میں باہمی فرق اعتباری ہے یعنی مختلف مواقع کے اعتبار سے معنی تبدیل ہوتے ہیں لیکن ایک معنی قدر مشترک ہے جو تمام معانی میں پایا جاتا ہے اور وہ ہے حضور گواہ بھی موقع پر حاضر ہوتا ہے اللہ کی راہ میں مارے جانے والے کو شہید اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے پاس فرشتے حاضر ہوتے ہیں وغیرہ
اس کتاب میں دس مختلف قسم کے عقائد کے متعلق تفصیل بیان کی گئی ہے لیکن اس میں طوالت ہے اور بعض جگہ القابات اور اردو کے مشکل الفاظ استعمال کیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے طلباء کو عقیدہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اس کتاب کو سمجھانا دو مرحلوں میں ہوگا اولا مخصوص عقیدہ آسان الفاظ میں طلباء کو از بر کرایا جائے (یہی کتاب کا مقصود ہے) ثانیا اردو عبارت کی تفہیم کی جائے مشکل الفاظ کی جگہ آسان الفاظ استعمال کیئے جائیں
لفظ مفرد پر رفع و نصب و جر تینوں اعراب پڑھے جا سکتے ہیں اعراب پڑھنے کی وجوہات رفع اس بناء پر کہ یہ لفظ کی صفت ہے نصب اس بناء پر کہ یہ لفظ معنی یا لفظ سے حال بنے گا اور جر اس بناء پر کہ یہ لفظ معنی کی صفت ہوگا
یَخِثِّمُونی صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال اصل میں یختثمون تھا اگر باب "اِفْتِعَالٌ" کا عین کلمہ ت، ث، ج، ر، د، ذ، س، ش، ص، ض، ط يا ظ ہو تو تائے "اِفْتِعَالٌ" کو عین کلمہ کی جنس سے بدلنا جائز ہے لیکن پھر ادغام کرنا واجب ہوجائے گا اس قاعدے کے تحت تاء کو ثاء سے بدل دیا پھر اسی ثاء کی حرکت خاء کی طرف نقل کر کے دونوں کا ادغام کیا تو یخثمون صیغہ بنا
بے ہمزۂ وصل کے پانچ باب ہیں جو مندرجہ ذیل تحریر ہیں اِفْعَالٌ بابِ "اِفْعَالٌ" کے شروع میں ہمزہ قطعیہ زائدہ ہوتا ہے تَفْعِیْلٌ بابِ "تَفْعِیْلٌ" میں عین کلمہ مشدد ہوتا ہے مُفَاعَلَۃٌ بابِ "مُفَاعَلَۃٌ" میں فاء کلمہ کے بعد الف زائدہ ہوتا ہے تَفَعُّلٌ بابِ "تَفَعُّلٌ" میں فاء کلمہ سے پہلے تاء زائدہ اور عین کلمہ مشدد ہوتا ہے تَفَاعُلٌ بابِ "تَفَاعُلٌ" میں فاء کلمہ سے پہلے تاء زائدہ اور فاء کلمہ کے بعد الف زائدہ ہوتا ہے
اسم مشتق وہ اسم ہے جو کسی دوسرے کلمہ فعل یا اسم سے بنایا جائے اور اسم جامد وہ اسم ہوتا ہے جو کسی دوسرے کلمہ سے نا بنایا گیا
ثلاثی مزید فیہ کے ابواب ثلاثی مزید فیہ کے بارہ ابواب ہیں ان ابواب میں جن کے شروع میں ہمزہ ہے وہ ہمزۂ وصل کے ابواب ہیں سوائے باب افعال کے اس کے شروع میں ہمزہ قطعیہ ہے اور بقیہ ابواب بے ہمزۂ وصل ہیں اِفْتِعَالٌ بابِ "اِفْتِعَالٌ" میں فاء کلمہ کے بعد تاء زائدہ ہوتی ہے اِنْفِعَالٌ بابِ "اِنْفِعَالٌ" میں فاء کلمہ سے پہلے نون زائدہ ہوتا ہے اِسْتِفْعَالٌ بابِ "اِسْتِفْعَالٌ" میں فاء کلمہ سے پہلے سین اور تاء زائدہ ہوتے ہیں اِفْعِلَالٌ بابِ "اِفْعِلَالٌ" کا لام کلمہ مشدَّد ہوتا ہے اِفْعِیْلَالٌ بابِ "اِفْعِیْلَالٌ" کا لام کلمہ مشدد اور اس سے پہلے الف زائدہ ہوتا ہے اِفْعِیْعَالٌ بابِ "اِفْعِیْعَالٌ" میں عین کلمہ کا تکرار اور ان کے درمیان واؤ زائدہ ہوتی ہے اِفْعِوَّالٌ بابِ "اِفْعِوَّالٌ" میں عین کلمہ کے بعد واؤ مشدد زائد ہوتا ہے اِفَّعُّلٌ بابِ "اِفَّعُّلٌ" میں فاء اور کلمہ کلمہ مشدد ہوتا ہے اِفَّاعُلٌ بابِ "اِفَّاعُلٌ" میں فاء کلمہ مشدد اور اس کے بعد الف زائدہ ہوتا ہے اِفْعَالٌ بابِ "اِفْعَالٌ" کے شروع میں ہمزہ قطعیہ زائدہ ہوتا ہے تَفْعِیْلٌ بابِ "تَفْعِیْلٌ" میں عین کلمہ مشدد ہوتا ہے مُفَاعَلَۃٌ بابِ "مُفَاعَلَۃٌ" میں فاء کلمہ کے بعد الف زائدہ ہوتا ہے تَفَعُّلٌ بابِ "تَفَعُّلٌ" میں فاء کلمہ سے پہلے تاء زائدہ اور عین کلمہ مشدد ہوتا ہے تَفَاعُلٌ بابِ "تَفَاعُلٌ" میں فاء کلمہ سے پہلے تاء زائدہ اور فاء کلمہ کے بعد الف زائدہ ہوتا ہے
در اصل یہ صیغہ فارھبُونِی تھا اہل عرب میں یہ رواج ہے کہ وہ کلمہ کے آخر میں بعض یاء کو حذف کر دیتے ہیں قرآن پاک میں کئی امثلہ موجود ہیں
فاعل کا صیغہ نسبت کے لیے بھی آتا ہے اسے فاعل ذی کذا کہتے ہیں نیز نسبت کے لیے اسم جامد سے جو صیغہ فعال کے وزن پر بنایا جاتا ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہے تمییز ہمیشہ نکرہ ہوتی ہے
واعظون کا مطلب ہوتا ہے وعظ و نصیحت کرنے والے لوگ
علم صرف کا موضوع ہیئت کے اعتبار سے کلمہ ہے
انحاء
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں طَوَعَۃ تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو طاعَۃ ہو گیا
وہ کلمہ جو اپنے معنی پر بذاتِ خود دلالت کرے تینوں زمانوں میں سے کسی کا محتاج نہ ہو جیسے زید
قال اصل میں قول تھا اجوف کا قاعدہ جاری ہوا کہ واو مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے
تعریفات کو مدے نظر رکھیں آسانی ہوگی جیسے مصدر کے اردو ترجمے میں (نا) آتا ہے مشتق جو مصدر سے بنا ہو جیسے نَصْرٗ سے نَصَرَ جامد جو نہ کسی سے بنا ہو نہ اس سے دوسرے الفاظ بنیں جیسے زید
مراض اصل میں مراضِیٌ تھا اگر تنوین کو کھول کر لکھیں گے تو مراضِیُن ہو جائے گا یرمی والا قانون جاری کر کے یاء کو ساکن کیا اور پھر اسے اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیا تو مراضن ہو گیا اب اسی نون کو تنوین کی صورت لکھیں گے تو مراضٍ ہوگا
جی یہ لفظ جامد ہے
منصرف
محنت کی جائے تو ہو سکتی ہے
الف مفاعل کا قانون یا شرائف کا قانون یہ ہے کہ مفاعل کے وزن جو جمع بنائی جائے تو اس کے الف کے بعد واؤ اور یاء ہوں تو ان کو ہمزہ سے بدلنا واجب ہے بشرطیکہ وہ واؤ یا یاء زائدہ ہوں
صیغہ واحد اسم مبالغہ ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
جس فعل سے صیغہ بنتے ہوں اسے متصرف کہتے ہیں
منصرف ہے
مثل مضاف ہوتا ہے اور اپنے مابعد مضاف الیہ ملکر خبر بنتا ہے مبتداء محذوف کی
جی ہو سکتی ہے
یہ حرف ہے
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفاعل
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
قواعد یاد ہوں گردانیں یاد ہوں اور مشق بھی چلتی رہے
نحو کے جو مشہور امام ہیں وہ صرفکے بھی امام ہیں
لفظ یا سین یہ مبنی ہے
سؤال اپنی اصل پر ہے
لا نفی جنس رجل اس کا اسم افضل صیغہ اسم تفضیل اس میں ھو ضمیر فاعل من جار کاف ضمیر مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو اسم تفضیل اپنے فاعل اور ظرف لغو سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر لاء نفی جنس اپنے اسم و خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
دو الگ الگ مبتدا نہیں ہوتے لیکن معطوف علیہ معطوف ہو کر بن سکتے ہیں
جمع مؤنث غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
یلقون صغیہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال اصل میں یلقِیُون تھا یاء مضموم ما قبل مکسور اور اس کے بعد واو جمع تھی یاء کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کی پھر یاء اور واؤ میں اجتماع ساکنین ہوگیا تو یاء کو حذف کر دیا پھر یلقون ہوگیا
وہ مفعول جس کے سبب فعل کا واقع ہو اسے مفعول لہ کہتے ہیں جیسے ضَرَبْتُہ تَادِیْبًا
کاد افعال مقاربہ میں سے ہے اور یہ خبر کے قریب ہونے پر دلالت کرتا ہے اس کا عمل فعل ناقص کی طرح ہوتا ہے اور اس کی خبر فعل مضارع ہوتی ہے جیسے یَکاد الْبرْقُ یَخْطَفُ
صرفی تحقیق مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
کسی کلمے میں دو ساکنین کا ایک ساتھ آجانا التقاءساکنین کہلاتا ہے
ماضی مضموم العین سے صفت مشبہ کا صیغہ فَعِیْلٗ کے وزن پر آتا ہے
منع صرف کے اسباب کی شرائط کو مدے نظر رکھا جائے تو کسی بھی علم پر منصرف اور غیر منصرف کا حکم آسان ہو جائے گا جیسے زید منصرف ہے عمر غیر منصرف ہے
زینب غیر منصرف ہے دو سبب کی وجہ سے 1۔تانیث معنوی اس شرط کے ساتھ کہ تین حرف سے زائد ہو 2۔ علم
ضَرَبَ فعل کی اصل ضَرْبٗ مصدر ہے
اسباق کے مطابق قواعد کے پیش نظر تمارین کو حل کریں آسانی ہوگئی
حروف جارہ 17 ہیں با و تا و کاف و لام و واؤ منذ مذ خلا ربّ حاشا من عن علی حتی الی فی عدا
افعال مدح دو ہیں نِعْمَ اور حَبَّذَا افعال ذم بھی دو ہیں بِئْسَ اور سَاءَ
حرف علت تین ہیں ا،و،ی