تختص کیا ہفت اقسام میں سے مضاعف ثلاثی ہو گا؟
جی
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,697 جوابات شدہ سوالات
جی
جی تمام جامد ہوتے ہیں آپ والی مثال بھی جامد ہے
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں صِوْغَۃ تھا واؤ ساکن ما قبل مکسور کو یاء سے بدلا تو صیغۃ ہو گیا
جامد
غیر منصرف علمیت و تانیث معنوی
مشکل صیغے مصنف مفتی فیض احمد اویسی
ضرب سے
تزکیۃ باب تفعیل کا ایک وزن تفعلۃ بھی ہے یہ اسی وزن پر ہے اسی تسمیۃ بھی ہے
المکافی صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب مفاعلہ
لا ندعُ صیغہ جمع متکلم فعل نہی حاضر معروف ثلاثی مجرد ناقص واوی از باب نصر ینصر اصل میں لا ندعو تھا لاء نہی جازمہ کی وجہ سے واؤ گر گئی ہے
أُوْمِنَ اصل میں أء من تھا قاعدہ اگر کسی کلمہ میں دو ہمزہ آجائیں اور دوسرا ساکن ہو تو اسے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا واجب ہے اس قاعدے کے تحت دوسرے ہمزہ کو واؤ سے بدل دیا تو اومن ہوگیا صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ مہموز اللفاء از باب افعال
صیغہ واحد مؤنث اسم مفعول ثلاثی مجرد مہموز العین از باب فتح یفتح اصل میں مقروءۃ ہو گیا قاعدہ جب ہمزہ سے قبل واو مدہ زائدہ یا یاء مدہ زائدہ یا یاء تصغیر آ جائے تو ہمزہ کو ماقبل حرف حرف کے ہم جنس کرنا جائز اور پھر دونوں کا ادغام کرنا واجب ہے مندرجہ بالا قاعدہ جاری ہوا تو مقروۃ ہو گیا
اسمِ تفضیل کا بیان وہ اسمِ مشتق جو اس ذات پر دلالت کرے جس میں کسی کے مقابلے میں مصدری معنی کی زیادتی ہو وہ اسمِ مشتق جو فاعل میں مصدری معنی کی زیادتی پر دلالت کرے ان میں فرق یہ ہے کہ اسم مبالغہ میں کسی کے مقابلے میں زیادتی نہیں ہوتی اور اسم تفضیل میں کسی کے مقابلے میں زیادتی ہوتی ہے
اسم جامد ثلاثی مجرد مہموز العین اس قاعدے کے تحت ہمزہ کو واؤ سے بدل دیا قاعدہ ہمزہ ساکنہ کو اس کے ماقبل حرف کی حرکت کے مطابق حرفِ علت سے بدلنا جائز ہے
تنبیہ ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور اس کی حرکت کے مواقف حرفِ علت کے مخرج کے درمیان سے پڑھنا بین بین قریب، اور ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور ماقبل حرف کی حرکت کے موافق حرفِ علت کے مخرج کے درمیان سے پڑھنا بین بین بعید کہلاتا ہے۔ مثلا سَئَلَ میں بین بین قریب اور بعید ایک ہی ہے وہ ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور الف کے مخرج کے درمیان پڑھنا ہے ، کیونہ ہمزہ بھی مفتوح ہے اور اس کا ماقبل بھی مفتوح ہے۔ اور سَئِمَ میں ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور یا ء کے مخرج کے درمیان پڑھنا بین بین قریب ہے ، جبکہ ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور الف کے مخرج کے درمیان پڑھنا بین بین بعید ہے اور لَؤُمَ میں ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور واو کے مخرج کے درمیان پڑھنا بین بین قریب جبکہ ہمزہ کو اس کے اپنے مخرج اور الف کے مخرج کے درمیان پڑھنا بین بین بعید ہے
استطاع صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب استفعال اصل میں استَطْوَعَ تھا واؤ متحرک ما قبل ساکن تھا واؤ کی حرکت ما قبل کو دیکر واؤ کو الف سے بدلا تو استطاع ہو گیا
اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
مشورہ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی
اوپر سیدھی مضامین لکھا ہوا ہے وہاں بہت ساری مکمل تحریرات ہیں جس میں آپ اس بارے میں پڑھ سکتے ہیں
ان کے فرق کا کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہوتا یہ موقع محل سے پتہ چلتے ہیں
عامل سے پتہ چلتا ہے عامل جار ہوگا تو مجرور ہوگا اور عامل ناصب ہوگا تو منصوب ہوگا اور پہچان یہی ہوگی عوامل یاد رکھیں
روٹی کوئی صیغہ نہیں ہے
انفروا صیغہ جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
مختلف نام آتے ہیں موجدین میں ابو مسلم معاذ الھراء کا نام مشہور ہے
اصل میں صَلَّوَ تھا واؤ چوتھی جگہ واقع ہوئی اسے یاء سے بدلا یاء متحرک ما قبل مفتوح تھی اسے الف سے بدلا تو صلی ہو گیا
قاعدہ نمبر 7 وه واو یا یاء جو باب "اِفْتِعَالٌ"، "تَفَعَّلٌ" يا "تَفَاعُلٌ" کے فاء کلمے میں آجائیں تو انہیں تاءسے بدل کر ادغام کر دیا جا تا ہے۔ (اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ واو یا اء ہمزہ سے تبدیل شدہ نہ ہو) اصل میں ایتسر تھا مذکورہ بالا قاعدہ لگا تو اتسر ہو گیا
نصیحت کرنا
اعراب تو لگے نہیں ہوئے ویسے مجھے یہ صیغہ یوں سمجھ آتا ہے لا یَحَضُّونَ صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع منفی معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب نصر ینصر اصل میں لایحضُضُون تھا دونوں ضاد متحرک تھے اور ما قبل ساکن تھا پہلے ضاد کی حرکت حاء کو دیکر دونوں کا ادغام کیا تو لایحُصُّون تھا
مصدر رباعی مجرد مضاعف از باب فعللۃ پہلے ہمزہ کو الف سے بدلنا جائز ہے یہی ایک قاعدہ جاری ہوگا
یلح اصل میں یَلُوحُ تھا اس سے پہلے کوئی جازم ہونا چاہئے اس جازم کی وجہ سے حاء کو ساکن کر دیا تو واؤ اور حاء دونوں ساکن ہو گئے تو واؤ کو گرا دیا تو یلح ہو گیا
ثلاثی مجرد کے باب معلوم کرنے کے لئے حروف اصلیہ تلاش کر کے اسے لغت میں ڈھونڈیں فھم باب سمع یسمع سے ہے نا کہ فتح یفتح سے
المسبوق صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب اس میں کوئی قاعدہ نہیں لگ رہا
دونوں اسم جامد ہیں
احمد صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع گردان اسم تفضیل
استفادہ مصدر ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب استفعال
لأشربن صیغہ واحد متکلم فعل مضارع بلام توکید و نون تاکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب سمع یسمع
علت کا مطلب ہوتا ہے بیماری یہ حروف بھی کلمے میں داخل ہو کر بیمار کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس میں کوئی تبدیلی کرنی پڑتی ہے
نیچے قاعدہ لکھا ہوا ہے
ضرب یضرب کے طریقے پر بنا لیں صرف حروف چینج کرنے ہیں حرکات ایک جیسی رہنے دیں
نیچے سکریں شارٹ میں قاعدہ بمع تعلیل لکھا ہوا ہے
قاعدہ نمبر 6 اگر ہمزہ مَفَاعِلُ کے الف کے بعد اور یاء سے پہلے واقع ہو تو اسے یا مفتوحہ سے بدلتے ہیں نیچے مکمل تعلیل و قاعدہ موجود ہے
موسی عجمی لفظ ہے اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی
یعذب صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
سواء کے مختلف معنی ہیں کبھی یہ صفت کے لئے آتا ہے اور کبھی جامد کے طور پر ویسے صفت مشبہ بروزن فعال بھی ہو سکتی ہے تو صرفی تحقیق یوں ہوگی صیغہ واحد مذکر صفت مشبہ ثلاثی مجرد لفیف مقرون از باب ضرب یضرب اور اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون بھی ہو سکتا ہے اصل میں سوای تھا یاء الف زائدہ کے بعد کلمے کے آخر میں واقع ہوئی تو اسے ہمزہ سے بدل دینا واجب تھا اسے ہمزہ سے بدلا تو سواء ہو گیا
قانتات اطاعت گزار عورتیں
تینوں اسم جامد ہیں
مراح الارواح میں اس کی وجہ یوں لکھی ہے کہ ضربتما میں تاء پر ضمہ اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ فاعل کی ضمیر ہے
لغت میں اس کا مادہ نہیں ملا غالبا عجمی زبان کا لفظ ہے
یستعلون فعل اس میں واؤ ضمیر فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
تخفون صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال اصل میں تُخْفِیُون تھا قاعدہ اگر لام کلمہ میں یا مضموم ہو اور اس کا ماقبل مکسور ہو اور اس کے بعد واو جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کی طرف نقل کر کے یاء کواجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کر دیتے ہیں اس قاعدہ کی تحت یاء کو کو حذف کر کے فاء کے ضمہ دیا اصدق صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعل اصل میں تصدق تھا تاء کو صاد سے بدل کر صاد کا صاد میں ادغام کر کے شروع میں ہمزہ وصلیہ لگا دیا
صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل نہی بلام توکید و نون توکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
لا تسقطنان صیغہ جمع مؤنث حاضر فعل نہی بلام توکید و نون توکید ثقیلہ معروف ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ ایک قول کے مطابق مہموز الفاء
شاشی ایک علاقہ غالبا شاش کی طرف نسبت ہے
صیغہ اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف واوی اصل میں صِوْغَۃ تھا واؤ ساکن درمیان کلمہ میں کسرہ کے بعد آئی تو اسے یاء سے بدل دیا تو صیغۃ ہو گیا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افعال
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب
صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب
مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
محتکر صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افتعال
صیغہ واحد مؤنث اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
منابر جمع مکسر ہے منبر کی صیغہ جمع مکسر اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
یماری صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب مفاعلہ
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مضاعف از باب افعال
مؤمنین صیغہ جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب افعال معنی ایمان لانے والے لوگ
متوقد صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ مثال واوی از باب تفعل
أنبئکم صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام از باب تفعیل
جس لفظ کے ترجمے میں کرنا یا ہونا کے معنی ہوں وہ مصدر ہوتا ہے یعنی آپ نے لفظ کا ترجمہ کرنا ہے اگر وہ لفظ کوئی فعل یا کام کرنے کے معنی پر مشتمل ہو اور اس میں زمانہ بھی نا ہو تو مصدر ہوگا
جہات اسم جامد ثلاثی مجرد مثال واوی لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مونث جمع مؤنث سالم معرب جمع مؤنث سالم اعراب لفظی اعراب بالحرکت
مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
صیغے کی تعلیل کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کلمے کے حروف اصلیہ تلاش کریں حروف اصلیہ ملنے کے بعد واو یاء ہوں گے تو تعلیل ہوگی ورنہ نہیں اگر حروف اصلیہ میں جہاں واؤ یا یاء تھی وہ اپنی حالت پر ہے تو کوئی تعلیل نہیں ہوئی اگر واؤ یا یاء موجود نہیں تو پھر اس کے مناسب قواعد دیکھیں کیوں کہ وہ لفظ یاء یا واؤ ہوں گے وہ الف سے بدلے ہوں گے یا ساکن ہوں گے یاء حذف ہوں گے یہ تین تعلیلات ہو سکتی ہیں اگر الف سے بدلا ہے تو واو یاء کو الف سے بدلنے کے قواعد دیکھیں حذف ہوئے ہیں تو قواعد میں دیکھیں کہاں حذف ہوتے ہیں یوں دیکھتے جائیں
صیغے کی تعلیل کرنے کے لئے سب سے پہلے اس کلمے کے حروف اصلیہ تلاش کریں حروف اصلیہ ملنے کے بعد واو یاء ہوں گے تو تعلیل ہوگی ورنہ نہیں اگر حروف اصلیہ میں جہاں واؤ یا یاء تھی وہ اپنی حالت پر ہے تو کوئی تعلیل نہیں ہوئی اگر واؤ یا یاء موجود نہیں تو پھر اس کے مناسب قواعد دیکھیں کیوں کہ وہ لفظ یاء یا واؤ ہوں گے وہ الف سے بدلے ہوں گے یا ساکن ہوں گے یاء حذف ہوں گے یہ تین تعلیلات ہو سکتی ہیں اگر الف سے بدلا ہے تو واو یاء کو الف سے بدلنے کے قواعد دیکھیں حذف ہوئے ہیں تو قواعد میں دیکھیں کہاں حذف ہوتے ہیں یوں دیکھتے جائیں
یعنِیُ تھا اصل میں قاعدہ واؤ مضموم ما قبل مضموم یاء مضموم ما قبل مکسور کو ساکن کر دینا واجب ہے بشرطیکہ اس کے بعد واؤ مدہ نا ہو اس قاعدے کے تحت یاء ساکن کر دیا
مقالۃ مصدر ثلاثی مجرد اجوف واوی از باب نصر ینصر
تواصوا صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب تفاعل اصل میں تواصَیُوا تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو تواصاوا ہو گیا پھر الف اور واؤ دونوں ساکن جمع ہوئے تو الف کو حذف کر دیا تو تواصَوا ہو گیا
میقات اسم جامد ثلاثی مزید مثال واوی
لم یبع اصل میں لم یبیِع تھا اجتماع ساکنین والا قانون جاری ہوا
میم پر دو زبر نہیں ہوں گے یاء پر ہوں گے صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مجرد ناقص یائی از باب ضرب یضرب اصل میں مرموی تھا قاعدہ ہر وہ واو جو دوسرے حرف سے بدلی ہوئی نہ ہو اگر کسی غیر ملحق کلمہ میں ياء کے ساتھ جمع ہو جائے اور ان میں پہلا حرف (واو ہو یا یاء) ساکن ہو تو واو کو یاء سے بدل کر یا کا یاء میں ادغام کرنا واجب ہے اس قاعدہ کے تحت واو کو یاء سے بدل کر دونوں کا ادغام کر دیا
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ مثال واوی اصل میں موراث تھا قاعدہ نمبر 2 واؤ ساکن ماقبل مکسور کو (ی) سے بدلنا واجب ہے (بشرطیکہ ، باب "اِفْتِعَالٌ" کا فاء کلمہ نہ ہو، اور نہ مدغم ہو) اس قاعدے کے تحت واو کو یاء سے بدل دیا
اگر یَسَّرَ ہے تو صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مثال یائی از باب تفعیل اگر یَسِّر ہے تو صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ مثال یائی از باب تفعیل
مذاکرات مذاکرۃ کی جمع ہے مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
اس میں تعلیل نہیں ہوئی
اسم جامد ثلاثی مجرد اجوف یائی و مہموز اللام
اس میں تعلیل نہیں ہوئی
جی
اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی کیوں کہ یہ اسم فعل ہے اور اسم فعل کی صرفی تحقیق نہیں ہوتی
لازم ہے الجامع الغموض میں اسے لازم و متعدی دونوں لکھا ہوا ہے
جی درست ہے
یہ دو لفظوں نسخ و تعلیق سے مرکب ہے یہ فارسی ترکیب ہے صیغہ نہیں ہے
معلل وہ لفظ جس میں کوئی حرف علت ہو اور غیر معلل وہ لفظ جس میں کوئی حرف علت نا ہو
یہ دونوں مادے لغت میں نہیں ہیں
اپنی اصل پر ہے
باب نصر سے آتا ہی نہیں ہے
صیغہ جمع مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
اسم جامد ثلاثی مزید فیہ صحیح حروف اصلیہ س ح ر
صیغہ واحد متکلم / واحد مذکر حاضر / واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی از باب افتعال اصل میں اختَیَرْت تھا یاء متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا تو اختارت ہوگیا اب الف اور راء دونوں ساکن ہیں تو الف کو گرا دیا تو اخترت ہو گیا
جامد وہ کلمہ جو کسی دوسرے کلمے سے نا بنا ہو
وزن فعل کا مطلب ہوتا ہے کہ فعل کا وزن در اصل اسماء اور افعال کے عربی زبان میں مخصوص اوزان ہوتے ہیں تو وزن فعل کا مطلب ہوتا ہے وہ خاص وزن جو فعل میں پایا جاتا ہو اور اسم میں نا ہوتا ہو
اس پر اعراب واضح نہیں ہیں صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع مثبت مجہول ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب اصل یُقْیَسون تھا یاء متحرک ما قبل ساکن تھا یاء کی حرکت ما قبل دے دی اب یاء ما قبل مفتوح تھا یاء کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر دی تو یہ یقاسون ہو گیا