عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,696 جوابات شدہ سوالات

ذلک الکتاب لاریب فیہ اس کی ترکیب کرو

ذلک اسم اشارہ الکتاب مشار الیہ اسم اشارہ اپنے مشار الیہ سے ملکر مبتدا لا ۔ لائے نفی جنس ریب ۔ اس کا اسم فیہ ۔ جار مجرور ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہوکر خبر لائے نفی جنس اپنے اسم و خبر سے ملکر مبتدا کی خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا

صرف1 جواب
11 اپریل، 2026

الکلمہ لفظ وضع لمعنی مفرد نحوی اجرا کردیں

الکلمۃ ۔ مبتدا لفظ۔ موصوف وضع ۔فعل ماضی مجھول جو ضمیر نائب الفاعل ل ۔ حرف جر معنی۔ موصوف مفرد ۔ صفت موصوف ۔ صفت ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل اپنے نائب الفاعل اور ظرف لغو سے ملکر صفت موصوف ۔ صفت ملکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا

صرف1 جواب
12 اپریل، 2026

علم الصرف کے کتنے نام ہیں

علم الصرف کے معروف نام مع وجوہات ۔ 1۔علم الصرف ۔ سب سے عام اور معروف نام 2۔علم التصریف ۔ تصریف (الفاظ کی تبدیلی) کے اعتبار سے 3۔علم الابنیة ۔الفاظ کی ساخت (structure) کے لحاظ سے 4۔علم المیزان ۔ کیونکہ اس میں الفاظ کو ایک “وزن” (scale) پر پرکھا جاتا ہے 5۔علم الاشتقاق ۔ الفاظ کے مادّہ سے بننے کے اعتبار سے

صرف1 جواب
14 مارچ، 2026

عربی عبارت کو اعراب لگا کر سمجھنے کیلئے مطالعہ کر نے کیلئے کیا ضرورت ہے ارشاد فرمائیں

عربی عبارت کو اعراب (زبر، زیر، پیش) کے ساتھ صحیح پڑھنے اور سمجھنے کے لیے باقاعدہ مطالعہ اور چند بنیادی علوم سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ کام صرف لفظی ترجمہ سے نہیں بلکہ قواعد (grammar) سے آتا ہے۔ ابتدائی طور پر 3 چیزوں پر توجہ دی جائے 1۔ لغت 2۔ صرف 3۔ نحو ان شاءاللہ عربی علوم اعراب کے ساتھ پڑھنے ۔ سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہوگی

صرف1 جواب
5 اپریل، 2026

اسلام علیکم سوال ہے کہ جو طالب علم ابھی صرف اور نحو آدھی پڑھچکے ہے لیکن جب خود سے عربی عبارت بناتے ہیں تو پتہ نہیں چلتا کہ جملہ کیسے جوڑتے جائیں اگر آپ مختصر اصول بتادے کہ ترتیب کیا ہو نی چاہئے والسلام

جی کچھ کتب ہیں ان کا استعمال کریں جیسے عربی کا معلم ۔ اس میں قوائد بھی ہیں اور ساتھ ساتھ اجراء بھی اسی طرح العربیۃ بین یدیک یہ بھی اچھی کتاب ہے عربی کے حوالے سے ان کا استعمال کریں

صرف1 جواب
11 مارچ، 2026

کشف کا مضارع یکشِفُ ہے تو پھر یہ باب ضرب یضرب سے ہے جس کو یہ علم نہیں ہے کہ اس کا مضارع یکشِفُ آتا ہے اس کو کیسے پتہ چلے گا یہ باب ضرب یضرب سے ہے یعنی ثلاثی مجرد کے ابواب کو پہچاننے کا کوئی طریقہ ہے یا یاد کرنے ہوں گے

لغت کا استعمال ہے عموما یہ مشکل مجرد کے ابواب میں پیش آتی ہے لیکن قاموس وغیرہ میں اشارے ہوتے ہیں جس سے معلوم ہو جاتا ہے

صرف1 جواب
30 جنوری، 2026

نالی کون سا صیغہ ہے؟

صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی/یائی از باب سمع یسمع قرآن پاک میں صیغہ اجوف یائی سے استعمال ہوا ہے جیسے لن تنالو البر اغل میں یہ صیغہ یوں بنتا ہے اِنْیَلِی یاء متحرک ما قبل حروف صحیح ساکن تھا تو یاء کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر دی وور یاء کو الف سے بدلا تو أِنالی ہو گیا (اجوف قاعدہ نمبر 2) اب فاء کلمہ (نون) متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہیں تھی اسے حذف کیا تو نالی ہو گیا خَافِی بھی اسی طرح کا صیغہ ہے

صرف1 جواب
23 فروری، 2026

حقیقت میں مضاف اور مضاف الہ میں حرف جار مقدر ہوتا ہے اب کون کون سا حرف مقدر ہوتا ہے

مضاف اور مضاف‌الیہ کے درمیان اصل میں ایک حرفِ جار مقدر ہوتا ہے، مگر وہ ظاہر نہیں کیا جاتا۔ یہ معنی کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ کبھی لام کبھی من کبھی فی کبھی کاف وغیرہ ۔ الغرض مضاف کا تعلق مضاف‌الیہ سے جس معنی میں ہو، وہی حرفِ جار مقدر سمجھا جائے گا۔

صرف1 جواب
19 فروری، 2026

یقلن تقلن لن یقول ان کی تعلیلات کر دیں

یقلْنَ اصل میں یَقْوُلْنَ قاعدہ لگا ۔۔ واؤ یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے واؤ ساقط ہوگیا پھر قاعدہ لگا ۔۔ جب اجوف کا عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرجائے اور مضارع مضوم العین ہو تو فاء کلمے کو ضمہ دیں گے ۔۔ مذکورہ صیغوں میں یہ تعلیل جاری ہوئی ہے ۔۔

صرف1 جواب
19 جنوری، 2026

الماء کی تعلیل بیان کیجئے گا

ماء کی اصل"مَوَہٌ" ہے میم اور واو پر زبر۔۔۔ یہاں اجوف کا قاعدہ جاری ہوا کہ جب کسی اسم کے عین کلمہ میں فتحہ کے بعد واو متحرک ہو تو اسے الف سے بدل دیتے ہیں۔۔ تو یہ موہ سے ماہ ہو گیا۔ اب اصول یہ ہے کہ جہاں دو حرف خفی ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک کو حذف کر دیا جاتا ہے یا کسی اور حرف سے بدل دیا جاتاہے اور عام طور پر اس صورت میں حرف علت ہی کو گرایا جاتا یا تبدیل کیا جاتا ہے اسی طرح یہاں دو حرف خفی (الف اور ھاء) ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں لیکن چونکہ اہل عرب کسی حرف میں ایک بار تعلیل کر لیں تو دوبارہ نہیں کرتے، اس لیے یہاں الف کو نہیں بدلا گیا کہ وہ پہلے ہی ایک حرف سے بدل کر لایا گیا ہے تو اس کی جگہ ھاء کو ہمزہ سے بدل دیا۔ (المصباح المنير في غريب الشرح الكبير)

صرف1 جواب
27 نومبر، 2024

میرا سوال ہے کہ میں اکثر الف و نون زائدتان شناخت صحیح طریقے سے نہیں کر پاتا براۓ مہربانی آسان طریقہ شناخت کرنے کا ارشاد فرمائیں

اس کا آسان اور مختصر طریقہ یہ ہے کہ ہر وہ اسم جس کے آخر میں الف اور نون ہوں اگر اس سے پہلے تین حرف یا تین سے زائد موجود ہوں تو وہ عموما الف نون زائدتان ہوں گے جیسے عثمان،سعدان،قربان،قرآن وغیرہ یہ اکثر جگہ آپ کو کام آئے گا لیکن یہ یاد رکھئے گا کہ بعض اوقات نون اصلی ہوتا ہے اور الف صرف زائد ہوتا ہے تو اس مقام پر یہ اوپر والا طریقہ جاری نہیں ہوگا جیسے حسان ،منان ،حنان وغیرہ میں نون اصلی ہے

صرف1 جواب
27 جون، 2025

اسم فاعل یا اس مفعول پر آنے والے علم جیسے ناصر، منصور ، یہ شش اقسام میں کیا ہونگے، ثلاثی مجرد یا مزید فیہ ، اگر ہم مجرد پڑھتے ہیں تو قاعدہ ہم نے پڑھا ہے مجرد سے مشتقات ہونے والے کلمات بھی مجرد کہلائیں گے بھلے ان میں کوئی زائد حرف بھی آجائے۔ لیکن علم ہونے کی وجہ سے یہ جامد ہیں اور جامد کسی سے مشتق نہیں ہوتا۔ اب کیا مزید فیہ ہونگے ؟؟ کیوں کہ ناصر میں الف زائدہ بھی ہے، اب یہ مشتق نہیں ہے، تو اوپر بیان کردہ قاعدہ بھی جاری نہیں ہوگا اس حوالے سے کیا فرماتے ہیں آپ اگر مجرد ہے تو وجہ بھی بیان کر دی جائے بینوا و توجروا

سب سے پہلے بات کہ ناصر منصور وغیرہ اسماء جب بطور علم ہوں گے تو صرفی تحقیق میں جامد ہوں گے یا مشتق ؟ یہ سوال پہلا بنتا ہے اگر اسکا جواب تلاش کر لیا جائے تو امید ہے مکمل بات ہی سمجھ آ جائے گی در اصل صرفی تحقیق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کلمہ کو اس کے صیغہ اور ہیئت سے جاننا مثلا ضرب کیا ہے حروف اصلیہ کیا ہیں وغیرہ جو چیزیں ہوتی ہیں ان سب سے بحث ہوتی ہے تو لفظ ناصر یا منصور کی جب صرفی تحقیق ہوگی تو یہ اسماء مشتقہ ہوں گے کہ ینصر سے بنے ہیں اب چاہے اسم فاعل کے معنی میں استعمال ہوں یا علم کے طور پر کیوں کہ علم طور پر بھی اگر استعمال ہوں تو ان کا اشتقاق ختم نہیں ہوگا بلکہ اشتقاق باقی رہے گا صرف اشتقاق والا معنی نہیں آئے گا اب اس پر مزید بحث ہوتی ہے کہ یہ تو مشتق والے معنی میں ہے ہی نہیں تو اس کا جواب سادہ سا ہے کہ آپ نے لفظ کو اشتقاقی پہلے سے دیکھنا ہوتا ہے جب مشتق ہوا تو ظاہر ہے اسی وقت اس کا معنی اسم فاعل والا تھا تبھی تو اس معنی کی مناسبت سے کسی کا نام بنا ہے ورنہ تو اس کا مطلب ہی کچھ نہیں ہوگا اس کے بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں بہر حال جب یہ بات پتہ چل گئی کہ مشتق ہے تو الف کو زائد شمار نہیں کریں گے یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اس کلمہ کو مجرد کہنا ہمارے ہاں عرف ہے ورنہ الف حروف زوائد میں سے ہی ہے اور جس میں بھی ہوگا وہ حرف زائد ہوگا اور کلمہ مزید فیہ ہوگا

صرف1 جواب
12 جنوری، 2026

مفسر اور تفسیر کو کیسے ڈیفائن کرے اور مفسر اور تفسیر کا جملہ مل کر کیا بنتا ہے نیز معطوف اور معطوف علیہ مل کر کیا بنتے ہیں کونسا جملہ بنتا ہے

مفسِر/ تفسیر وہ لفظ یا جملہ ہوتا ہے جو پچھلے جملے کی وضاحت کر رہا ہوتا ہے اس کا معنی وغیرہ بتا رہا ہوتا ہے اور جس لفظ کی تفسیر بتا رہا ہو اسے مفسَر کہتے ہیں

صرف1 جواب
5 جنوری، 2026

آج سے 13 دن پہلے فاطمہ عطاریہ کی آئ ڈی سے سوال ہوا تھا کہ نام ینام کا باب تو جواب میں سمع یسمع بتایا گیا برائے مدینہ اسکی وضاحت کردیں ۔۔ اسکا باب تو نصر ینصر ہے

نام ینام یہ دو باب سے آتا ہے نصر اور سمع اگر نصر سے لیں گے تو قال یقول کی طرح گردان ہوگی اور اگر سمع سے لیں گے تو خاف یخاف کی طرح گردان اور تعلیل بنے گی

صرف1 جواب
2 جنوری، 2026