تسکن کونسا صیغہ ہے
واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب نصر ینصر
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب نصر ینصر
وزن پر چڑہائیں آسانی ہوگی
قوائد یاد رکھیں پھر ان کو اپلائے کریں
پہنچنا
ایک شی کو دوسری شی کے ساتھ اس طرح خاص کرنا کہ ایک کو جاننے سے دوسرے کا جاننا لازم آئے
خاصہ کے اعتبار سے چونکہ استفعال میں طلب چاہیے جو کہ یہاں پر ضروری نہیں تھی اسی اشکال کو ختم کردیا کہ استفعال اپنے معنی اصلی میں نہیں
اس کے بارے میں اختلاف ہے لیکن ایک قول کے مطابق یہ غیر منصرف ہے سب۔ الف ممدودہ ہے جوکہ دو سبب کے قائم مقام ہوتی ہے
کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی بلکہ یہ صفت ہوگا اور موصوف صفت میں مطابقت ہونی چاہیے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب
جی ہاں
یہ وہ ضمیر ہوتی ہے جو جملے سے پہلے آتی ہے اور جملے کی تفسیر کرتی ہے اگر ضمیر شان مذکر ہو تو اسکا استعمال مذکر کے لیے ہوگا ضمیر قصہ کا استعمال مؤنث کے لیے ہوگا
واحد مذکر اسم ظرف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر مادہ اصلی (ق۔و۔م)
ذلک اسم اشارہ الکتاب مشار الیہ اسم اشارہ اپنے مشار الیہ سے ملکر مبتدا لا ۔ لائے نفی جنس ریب ۔ اس کا اسم فیہ ۔ جار مجرور ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہوکر خبر لائے نفی جنس اپنے اسم و خبر سے ملکر مبتدا کی خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا
الکلمۃ ۔ مبتدا لفظ۔ موصوف وضع ۔فعل ماضی مجھول جو ضمیر نائب الفاعل ل ۔ حرف جر معنی۔ موصوف مفرد ۔ صفت موصوف ۔ صفت ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل اپنے نائب الفاعل اور ظرف لغو سے ملکر صفت موصوف ۔ صفت ملکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہوا
وہ کلمہ جس کے حروف اصلیہ میں ایک جنس کے دو حروف ہوں اور یہ کلمہ اگر رباعی کا ہو تو اسے مضاعف رباعی کہیں گے جیسے غرغرۃٗ
مفعول لہ منصوب ہوتا ہے
کچھ مقامات ہیں جہاں أِنّ پڑھیں گے جملے کے شروع میں قول یا اس کے مشتقات کے بعد علم یا شھد کے بعد
جی اگر نام کو مبتدا تو باقی خبر بن جائے گا ورنہ صفت
معرب
اسم کی نحوی لحاظ سے مختلف اعتبارات سے تقسیمات کی گئی ہیں: معرب و مبنی معرفہ و نکرہ واحد تثنیہ جمع تذکیر و تانیث منصرف و غیر منصرف
مُصرَّفٌ مفعّل باب تفعیل سے اسم مفعول کا صیغہ
معرب کی دو اقسام ہیں منصرف غیر منصرف غیر منصرف بھی معرب کی اقسام میں سے ہے۔
جب یہ مضاف ہو یا اس پر الف لام آ جائے۔ یا وزن شعری برقرار رکھنا ہو
کَوُدَ
نصر ینصر باب سے
صیغہ واحد مذکر، اسم مشتق، ثلاثی مجرد، صحیح سالم، از باب فتح یفتح
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح باب افعال
باب افتعال
علم الصرف کے معروف نام مع وجوہات ۔ 1۔علم الصرف ۔ سب سے عام اور معروف نام 2۔علم التصریف ۔ تصریف (الفاظ کی تبدیلی) کے اعتبار سے 3۔علم الابنیة ۔الفاظ کی ساخت (structure) کے لحاظ سے 4۔علم المیزان ۔ کیونکہ اس میں الفاظ کو ایک “وزن” (scale) پر پرکھا جاتا ہے 5۔علم الاشتقاق ۔ الفاظ کے مادّہ سے بننے کے اعتبار سے
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی بمعنی ( کھڑا ہونا ) باب نصر ینصر
عربی عبارت کو اعراب (زبر، زیر، پیش) کے ساتھ صحیح پڑھنے اور سمجھنے کے لیے باقاعدہ مطالعہ اور چند بنیادی علوم سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ کام صرف لفظی ترجمہ سے نہیں بلکہ قواعد (grammar) سے آتا ہے۔ ابتدائی طور پر 3 چیزوں پر توجہ دی جائے 1۔ لغت 2۔ صرف 3۔ نحو ان شاءاللہ عربی علوم اعراب کے ساتھ پڑھنے ۔ سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہوگی
صیغہ واحد مذکر حاضر تَضْرِبُ واحد متکلم أَضْرِبُ جمع متکلم نَضْرِبُ میں ضمیر وجوبا مستتر ہوتی ہے اس کے علاؤہ صیغوں میں ضمیر جوازا مستتر ہوتی ہے ۔۔
14
جی ہاں یہ اسم ظرف ہے اصل مَقْوَمٗ ہے قاعدہ لگا واؤ یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دیکر اسے الف سے بدلنا واجب ہے پھر مَقَامٗ ہوا
عقلی طور پر: جو کام کر رہا ہے وہ جملے کا مرکزی عنصر ہے، اس لیے عربی میں اسے رفع (بلند درجہ) دیا۔جس کی بناء پر فاعل مرفوع ہوتا ہے جو کہ اس کی پہچان ہے ۔
جو کس خاص شخص ۔ جگہ کا نام ہو اور اس کی 7 اقسام ہیں
واحد مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء باب نصر ینصر
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ لفیف مفروق باب افعال اصل اَوْفِیُوْا۔
تثنیہ مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب نصر ینصر
ب حرف جر اسم مضاف مجرور لفظ اللہ اسم جلالت مضاف الیہ جار مجرور ملکر ظرف مستقر فعل محذوف اقرء کے اقرء فعل انا فاعل ظرف سے ملکر جملہ فعلیہ لفظاً خبریہ معنی انشائیہ ہوا۔
جی کچھ کتب ہیں ان کا استعمال کریں جیسے عربی کا معلم ۔ اس میں قوائد بھی ہیں اور ساتھ ساتھ اجراء بھی اسی طرح العربیۃ بین یدیک یہ بھی اچھی کتاب ہے عربی کے حوالے سے ان کا استعمال کریں
صیغہ صیغہ جمع مذکر مصدری معنی گمراہ ہونا سہ اقسام اسم فاعل شش اقسام ثلاثی مجرد ہفت اقسام مضاعف ثلاثی ازباب ضَرَبَ ، یَضْرِبُ اصلی حروف ض ، ل ، ل اصل اَلضَّآلِّیْنَ
زھرا کا معنی کلی ہے
کلمہ کی تین اقسام ہیں مستقل بالمفھومیۃ کے اعتبار سے اسم ۔ فعل۔ حرف۔
ضرب کی میں مضارع مکسور العین ہوتا ہے جبکہ فتح میں مضارع مفتوح العین ہوتا ہے اسی طرح اسم ظرف کے صیغوں میں فرق آتا ہے
یہ اشعار فارسی میں ہیں، ان کا اردو مفہوم یہ ہے: جس لفظ کی حالت (آخر) ہمیشہ ایک ہی رہے اور نہ بدلے، وہ مبنی ہوتا ہے۔ اور جس لفظ کی حالت بار بار بدلتی رہے، وہ معرب ہوتا ہے۔
تاکل صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مہموز الفاء باب نصر ینصر تتناول صیغہ واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب تفاعل
بھت چیزیں
اصل میں قول تھا قاعدہ واؤ یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو چند شرائط کے ساتھ الف سے بدلنا واجب ہے پھر قال ہوا
جو اپنا معنی بیان کرنے میں کسی زمانے کا محتاج نہ ہو
جمع مذکر حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی باب افعال
بطن مضاف مبتدا زید مضاف الیہ ک حرف جر بئر مجرور جار مجرور ملکر ثابت اسم فاعل ھو اس فاعل اسم فاعل اپنے فاعل سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہوکر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ۔ ترجمہ ( زید کا پیٹ کنوئیں جیسا ہے)
الف لام کا ہونا اضافت کا ہونا مبنی ہونا غیر منصرف ہونا۔۔
مادہ اصلی ق۔و۔م
اسم۔مصدر از باب افتعال اصل میں وُقْیَۃ تھا یاء متحرک ما قبل ساکن کی حرکت قاف کو دیکر اسے الف سے بدلا تو وُقاۃ ہو گیا پھر واؤ کو خلاف قیاس تاء سے بدلا تو تُقاۃ ہو گیا
لغت کا استعمال ہے عموما یہ مشکل مجرد کے ابواب میں پیش آتی ہے لیکن قاموس وغیرہ میں اشارے ہوتے ہیں جس سے معلوم ہو جاتا ہے
ما ولا کا اسم مرفوع اور خبر منصوب
تین ہیں أن لو أما
جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مزید فیہ اجوف یائی باب تفاعل۔
عربی الفاظ اور جملوں میں صحیح اعراب، ترکیب اور معنی قائم رکھنا تاکہ زبان کا مفہوم درست اور واضح رہے۔ اور عربی لکھنے اور بولنے میں ترکیبی اغلاط سے بچنا۔
اچھے انداز سے قوائد یاد کریں نحوی قوائد ترکیبی قواعد مرفوعات منصوبات مجرورات توابع پھر ان کا انطباق کریں جیسے وجہ رفع وجہ نصب ۔ اسی طرح کرتے رہیں اچھی ہو جائے گی عبارت
صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی/یائی از باب سمع یسمع قرآن پاک میں صیغہ اجوف یائی سے استعمال ہوا ہے جیسے لن تنالو البر اغل میں یہ صیغہ یوں بنتا ہے اِنْیَلِی یاء متحرک ما قبل حروف صحیح ساکن تھا تو یاء کی حرکت ما قبل کی طرف نقل کر دی وور یاء کو الف سے بدلا تو أِنالی ہو گیا (اجوف قاعدہ نمبر 2) اب فاء کلمہ (نون) متحرک ہونے کی وجہ سے ہمزہ وصلیہ کی ضرورت نہیں تھی اسے حذف کیا تو نالی ہو گیا خَافِی بھی اسی طرح کا صیغہ ہے
"بِلِّی" یہ صیغہ بر وزن فِرِّی ہے صیغہ واحد مؤنث حاضر فعل امر حاضر معروف ثلاثی مجرد مضاعف از باب ضرب یضرب
باب نصر ینصر سے واحد متکلم ہوگا فعل مضارع کا پہلے والے سوال میں آپ نے حرکات نہیں لگائی تھیں اسی وجہ سے جواب میں دقت ہوئی ہے
حال کے متعلق قواعد کو ذھن میں رکھیں آسانی ہوگی جیسے ۔ حال ہمیشہ منصوب ہوتا ہے حال اکثر نکرہ ہوتا ہے اس کے علاؤہ دیگر کتب سے اس کو پڑھیں آسانی ہوگی ۔
مضاف اور مضافالیہ کے درمیان اصل میں ایک حرفِ جار مقدر ہوتا ہے، مگر وہ ظاہر نہیں کیا جاتا۔ یہ معنی کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ کبھی لام کبھی من کبھی فی کبھی کاف وغیرہ ۔ الغرض مضاف کا تعلق مضافالیہ سے جس معنی میں ہو، وہی حرفِ جار مقدر سمجھا جائے گا۔
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب افعال ۔
یہ باب سمع یسمع سے ہے
مصطفین مصطفٰی کی جمع مذکر سالم بحالت نصبی و جری ہے
اس صیغہ کی اصل "تَرٰی" ہے
سب سے پہلے قواعد کو یاد کریں پھر کا ان اجراء کریں پھر معلوم ہو جائے گا کہ اس میں کونسا قانون جاری ہوا ہے ۔۔
اصل میں اَوْفِیُوْا تھا قاعدہ ۔ لام کلمے میں یاء مضموم ماقبل مکسور مابعد واؤ جمع ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دیکر یاء کو حذف کرنا واجب ہے پھر اَوْفُوْا ہوا
آخر میں عدل تحقیقی ہے۔
اصل میں یُقْوِمُوْنَ تھا قاعدہ۔ واؤ یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دیا واجب ہے پھر یُقِوْمُوْنَ ہوا پھر قاعدہ لگا واؤ ساکن ماقبل مکسور کو یاء سے بدلنا واجب ہے پھر یُقِیْمُوْنَ ہوا
یقلْنَ اصل میں یَقْوُلْنَ قاعدہ لگا ۔۔ واؤ یا یاء متحرک ماقبل حرف صحیح ساکن ہو تو اس کی حرکت ماقبل کو دینا واجب ہے پھر اجتماع ساکنین کی وجہ سے واؤ ساقط ہوگیا پھر قاعدہ لگا ۔۔ جب اجوف کا عین کلمہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرجائے اور مضارع مضوم العین ہو تو فاء کلمے کو ضمہ دیں گے ۔۔ مذکورہ صیغوں میں یہ تعلیل جاری ہوئی ہے ۔۔
صیغہ واحد اسم آلہ کبریٰ ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح ۔۔
جو اسباب منع صرف بیان کیئے گئے ہیں ان کو دیکھئے وہ پائے جا رہے ہیں یا نہیں مثلا کسی اسم میں تانیث کی علامت تاء ہو تو ساتھ میں دیکھیں کے علمیت ہے یا نہیں اسی طرح جمع منتھی الجموع کا وزن وغیرہ دیکھیں
بعض حروف صرف نصب دیتے ہیں وہ حروف نداء ہیں ، حرف استثناء الا اور بعض نصب اور رفع دونوں عمل کرتے ہیں وہ حروف مشبہ بالفعل ، ما و لا مشبھتان بلیس
واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد لفیف مفروق باب ضرب یضرب ۔۔
اس کا موضوع صیغے کے اعتبار سے کلمہ ہے
اس کے مختلف معانی ہیں جیسے 1۔کنارہ 2۔اردہ کرنا 3۔مثل 4۔طریقہ
ماء کی اصل"مَوَہٌ" ہے میم اور واو پر زبر۔۔۔ یہاں اجوف کا قاعدہ جاری ہوا کہ جب کسی اسم کے عین کلمہ میں فتحہ کے بعد واو متحرک ہو تو اسے الف سے بدل دیتے ہیں۔۔ تو یہ موہ سے ماہ ہو گیا۔ اب اصول یہ ہے کہ جہاں دو حرف خفی ایک جگہ جمع ہو جائیں تو ایک کو حذف کر دیا جاتا ہے یا کسی اور حرف سے بدل دیا جاتاہے اور عام طور پر اس صورت میں حرف علت ہی کو گرایا جاتا یا تبدیل کیا جاتا ہے اسی طرح یہاں دو حرف خفی (الف اور ھاء) ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں لیکن چونکہ اہل عرب کسی حرف میں ایک بار تعلیل کر لیں تو دوبارہ نہیں کرتے، اس لیے یہاں الف کو نہیں بدلا گیا کہ وہ پہلے ہی ایک حرف سے بدل کر لایا گیا ہے تو اس کی جگہ ھاء کو ہمزہ سے بدل دیا۔ (المصباح المنير في غريب الشرح الكبير)
جی ہاں فعل اور شبہ فعل کے متعلق ہوتے ہیں جار مجرور ۔۔۔
دو صورتیں ہیں 1 سماعا ( جو عرب سے سنا ہوا ہو) 2 وجوبا اس کی تین صورتیں ہیں اغراء و تحذیر اشتغال منادی
واحد متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
غیر منصرف بذات خود معرب ہے
اس کا آسان اور مختصر طریقہ یہ ہے کہ ہر وہ اسم جس کے آخر میں الف اور نون ہوں اگر اس سے پہلے تین حرف یا تین سے زائد موجود ہوں تو وہ عموما الف نون زائدتان ہوں گے جیسے عثمان،سعدان،قربان،قرآن وغیرہ یہ اکثر جگہ آپ کو کام آئے گا لیکن یہ یاد رکھئے گا کہ بعض اوقات نون اصلی ہوتا ہے اور الف صرف زائد ہوتا ہے تو اس مقام پر یہ اوپر والا طریقہ جاری نہیں ہوگا جیسے حسان ،منان ،حنان وغیرہ میں نون اصلی ہے
سب سے پہلے بات کہ ناصر منصور وغیرہ اسماء جب بطور علم ہوں گے تو صرفی تحقیق میں جامد ہوں گے یا مشتق ؟ یہ سوال پہلا بنتا ہے اگر اسکا جواب تلاش کر لیا جائے تو امید ہے مکمل بات ہی سمجھ آ جائے گی در اصل صرفی تحقیق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی کلمہ کو اس کے صیغہ اور ہیئت سے جاننا مثلا ضرب کیا ہے حروف اصلیہ کیا ہیں وغیرہ جو چیزیں ہوتی ہیں ان سب سے بحث ہوتی ہے تو لفظ ناصر یا منصور کی جب صرفی تحقیق ہوگی تو یہ اسماء مشتقہ ہوں گے کہ ینصر سے بنے ہیں اب چاہے اسم فاعل کے معنی میں استعمال ہوں یا علم کے طور پر کیوں کہ علم طور پر بھی اگر استعمال ہوں تو ان کا اشتقاق ختم نہیں ہوگا بلکہ اشتقاق باقی رہے گا صرف اشتقاق والا معنی نہیں آئے گا اب اس پر مزید بحث ہوتی ہے کہ یہ تو مشتق والے معنی میں ہے ہی نہیں تو اس کا جواب سادہ سا ہے کہ آپ نے لفظ کو اشتقاقی پہلے سے دیکھنا ہوتا ہے جب مشتق ہوا تو ظاہر ہے اسی وقت اس کا معنی اسم فاعل والا تھا تبھی تو اس معنی کی مناسبت سے کسی کا نام بنا ہے ورنہ تو اس کا مطلب ہی کچھ نہیں ہوگا اس کے بہت سے دلائل دیئے جا سکتے ہیں بہر حال جب یہ بات پتہ چل گئی کہ مشتق ہے تو الف کو زائد شمار نہیں کریں گے یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اس کلمہ کو مجرد کہنا ہمارے ہاں عرف ہے ورنہ الف حروف زوائد میں سے ہی ہے اور جس میں بھی ہوگا وہ حرف زائد ہوگا اور کلمہ مزید فیہ ہوگا
استحوذ میں یقول اور یبیع والا قانون جاری ہوتا ہے لیکن اس میں جاری نہیں ہوتا یہ خلاف قیاس ہے
الحمد پر الف لام استغراق کا ہے جس کا معنی ہے تمام تعریفیں ۔۔۔
مفسِر/ تفسیر وہ لفظ یا جملہ ہوتا ہے جو پچھلے جملے کی وضاحت کر رہا ہوتا ہے اس کا معنی وغیرہ بتا رہا ہوتا ہے اور جس لفظ کی تفسیر بتا رہا ہو اسے مفسَر کہتے ہیں
صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
صیغہ واحد متکلم فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب مفاعلہ
جو اسم نکرہ کسی چیز سے ابھام دور کرے
اس سے مراد تین اقسام (اسم ۔ فعل ۔ حرف ) ہیں
ایسے اصول و ضوابط جس کے ذریعے ایک کلمے سے دوسرا کلمہ بنانے اور ان کو آپس میں ملانے کا طریقہ معلوم ہو
نام ینام یہ دو باب سے آتا ہے نصر اور سمع اگر نصر سے لیں گے تو قال یقول کی طرح گردان ہوگی اور اگر سمع سے لیں گے تو خاف یخاف کی طرح گردان اور تعلیل بنے گی
بشریۃ اس اسم کے آخر میں یاء برائے مصدر ہے اسم جامد / مصدر صناعی ثلاثی مزید فیہ صحیح اسم جامد کے ساتھ اس اسم کو مصدر صناعی بھی کہہ سکتے ہیں
اسباب کو اچھے انداز سے یاد کریں تمارین کو حل کریں پھر اعراب لگانے کی کوشش کریں بمع وجہ ۔۔
فعل فعل ماضی مطلق مثبت معروف سَکَتَ یَسْکُتُ