لو وصلیہ، إن وصلیہ کی پہچان کا طریقہ بتادیجیے
ان کی پہچان عبارت میں یوں ہو سکتی ہے کہ ان سے پہلے واؤ آتا ہے اور اردو ترجمہ میں اگرچہ کا لفظ آتا ہے
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
ان کی پہچان عبارت میں یوں ہو سکتی ہے کہ ان سے پہلے واؤ آتا ہے اور اردو ترجمہ میں اگرچہ کا لفظ آتا ہے
ان سب کا ترجمہ میں ہمیشہ یا دوام و استمرار کا معنی آتا ہے جیسے ما زال زید قائما زید کھڑا ہی رہا اور ان کے شروع میں ما نافیہ ہے جس کی وجہ سے دوام کا معنی پیدا ہوتا ہے اس وجہ سے ما لاتے ہیں
صیغہ واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب افعال
مجرد اور مزید فیہ کے ترجمہ میں ابواب کی خاصیت کا فرق ہوتا ہے جیسے باب افعال ہمیشہ متعدی ہوتا ہے تو اب مجرد میں جو فعل لازم ہوگا وہ باب افعال پر جب آئے گا تو متعدی ہو جائے گا جیسے کرم مطلب عزت والا ہونا اور اکرم کا مطلب عزت دینا
بدل الکل اور عطف بیان میں کوئی واضح فرق نہیں ہے ایک فرق علی الاختلاف یہ بن سکتا ہے کہ عطف بیان معرفہ کے ساتھ خاص ہے جبکہ بدل معرفہ اور نکرہ میں ہو سکتا ہے
میں ضرور پڑھوں گا اگرچہ عید کا روز ہی کیوں نا ہو یہ ایک جملہ لکھا ہوا ہے اور یہاں اگرچہ کا استعمال ہوا ہے اردو میں اگرچہ اور عربی میں ان اور لو وصلیہ یہ لفظ اس بات کا فائدہ دیتے ہیں کہ شرط کا الٹ معنی اگر ہوگا تو وہ فعل جزاء کے زیادہ لائق ہے جیسے مذکورہ بالا مثال میں "اگرچہ عید کا دن ہو" یہ الفاظ بطور شرط ہیں کے عید کے دن بھی میں پڑھوں گا اور اس کے علاوہ دن جو کام کاج کے ہی دن ہوتے ہیں ان دنوں تو بدرجہ اولا پڑھوں گا یعنی عید کے علاوہ والے دن پڑھنے کے زیادہ لائق ہیں شرط و جزاء کے مقدم اور مؤخر ہونے کے دونوں قول موجود ہیں
باب افتعال
حروف نداء پانچ ہیں أ یا ایا ھیا ای
مبنی معرفہ بھی ہو سکتا ہے نکرہ بھی
منصرف ہے
لفظ موضوع مفرد اسم معرب مفرد منصرف صحیح اسم۔جامد ثلاثی مجرد اس کے حروف اصلیہ معلوم نہیں ہو سکے اس وجہ سے ہفت اقسام بتانا مشکل ہے
میم کے حرف عماد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ پیچھے سپورٹ دیتا ہے یا دو چیزوں کے درمیان فرق کرتا ہے جیسے نون وقایہ فعل کو کسرہ سے بچانے کے لئے آتا ہے تو اسے ضمیر عمار کہتے ہیں اسی طرح ضمیر فصل کو بھی ضمیر عماد کہتے ہیں
اسم جامد ثلاثی مجرد مضاعف
مضاف کے معرفہ میں سے ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی دوسرے معرفہ اسم کی طرف مضاف ہو لیکن منادی اگر مضاف ہو تو وہ اضافت کی وجہ سے مضاف نہیں ہوگا بلکہ منادی ہونے کی وجہ سے مضاف ہوگا یہ مطلب ہے
ینقاد صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ اجوف واوی از باب انفعال اصل میں ینقَوِد تھا واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدل دیا تو ینقاد ہو گیا
یہ مبنی ہے اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی تعلیل وغیرہ بھی نہیں ہوگی
اسم مصدر ثلاثی مزید فیہ صحیح از باب تفعیل
مسلما منصوب ہے کام کی خبر ہونے کی وجہ سے
یوم معرب ہے محل اعراب معرب کے لئے بھی آتا ہے اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس محل میں نصب کا اعراب آئے گا
نکرہ محضہ وہ نکرہ جو نا مضاف ہوں دوسرے نکرہ کی طرف نا اس کی صفت وغیرہ ہو یعنی تخصیص کی کوئی صورت نا ہو
ملائکۃ منصرف ہے اگرچہ یہ جمع منتھی الجموع کے وزن پر ہے لیکن جمع منتھی الجموع کے آخر میں گوک تاء آ جائے تو وہ غیر منصرف نہیں ہوتا
بتاویل اسم مفعول ہو کر حال بنے گا القرآن سے
اسم کی دو قسیم ہیں فعل اور حرف ۔
ک حرف جر ہی ہے اور یہاں ضرب مراد اللفظ ہوگا تو اس صورت میں یہاں بطور اسم ہوگا نا کہ فعل
صرفی تحقیق نہیں ہوگی کیوں کہ یہ اسم فعل ہے اور اسم فعل کی صرفی تحقیق نہیں ہوتی
ثلاثی مجرد اور مزید فیہ میں بعض اوقات ترجمہ یکساں ہوتا ہے لیکن عموما ثلاثی مجرد سے مزید فیہ مختلف معانی کے حصول کے لئے بنایا جاتا ہے اور وہ ترجمہ لفظ اور سیاق و سباق سے ہی متعین ہوگا مثلا اگر مجرد کا مادہ نصر لیں تو اس کا مطلب ہوگا مدد کرنا لیکن اسی کو باب استفعال میں لے جائیے تو اس میں طلب کا معنی ہوگا یعنی مدد مانگنا اگر باب تفعیل پر لے جائیے تو طلب مبالغہ کے معنی ہو سکتے ہیں یہ معانی خاصیات ابواب بھی کہلاتے ہیں
خالدین صیغہ جمع مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب نصر ینصر
قال فعل ہے نسوۃ فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو جائے گا
پہلا صیغہ ضرور کرے گا وہ مرد دوسرا صیغہ ضرور کریں گے وہ سب مرد
یہ خود عامل ہے البتہ معمول نہیں ہوتا اس کا معمول فاعل اور مفاعیل ہوتے ہیں
پہلے کا معنی ہے وہ چلا گیا دوسرے کا معنی ہوگا وہ لے جایا گیا
تقی سے قی کی نہیں بنے گا بلکہ قِ بنے گا علامت مضارع کو حذف کیا پھر فعل امر کے آخر میں حرف علت یا تھا تو اسے حذف کیا تو قِ بنا پھر صیغہ واحد مونث حاضر قی تقین فعل مضارع سے بنے گا ایسے ہی بس آخر سے نون اعرابی اور شروع سے فعل امر گرے فا
سبحان مضاف رب مضاف یاء ضمیر متکلم مضاف الیہ مرکب اضافی ہو کر موصوف الاعلیٰ صفت موصوف صفت ملکر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر مفعول مطلق سبحت فعل کا اس میں انت ضمیر فاعل فعل فاعل مفعول مطلق ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
جاء فعل بعلبک فاعل فعل فاعل ملکر جملہ فعلیہ خبریہ
س ہ ر
پھیرنا
جزاء الاحسن اور احسن الجزاء کا عطف خیرا کثیرا پر ہے
صرف و نحو پڑھانے یا کسی بھی فن کو پڑھانے کا طریقہ کار پڑھنے اور پڑھانے والے کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے آپ طلباء کو ان کتب سے شروع کروائیں جو انہوں نے پہلے پڑھ لی ہیں اس سے طلباء کا پہلے سے مطالعہ اور آپ کی تفہیم اس کتاب کو باریکی سے پڑھانے میں مدد دے سکتے ہیں اس میں اہم یہ ہے کہ آپ قواعد کو کس طریقے سے اور کتنی مقدار میں اجراء کرواتے ہیں اگر آپ مکمل اجراء کروائیں گے تو ممکن ہے طلباء اس کے متحمل نا ہوں اور اگر بلکل اجراء نہیں کرواتے تو ممکن ہے کہ طلباء کو کوئی فائدہ نا ہو درمیانی راہ یہ ہے کہ طلباء کو ایک ہی عبارت پر مختلف قواعد کا اجراء کروائیں جیسے اس میں فاعل کا کوئی قاعدہ جاری ہو رہا ہو تو وہ بھی بتائیں اور موصوف صفت یا اضافت کا کوئی قاعدہ جاری ہو رہا ہو وہ بھی بتائیں یوں طلباء کو مشق کے ساتھ لیکر چلیں
یہ لفظ مذکر ہے
یہ کوئی مخصوص کلمہ یا مخصوص اصطلاح نہیں ہے
وہ کوئی گردان نہیں ہوتی معنی حاصل کرنے کے لئے بس شروع میں کوئی اسم تفضیل کا صیغہ جس میں شدت کے معنی پائے جائیں لگا دیں جیسے اشد احمراره اور صیغہ چینج کرنے کے لئے ضمائر چینج کرتے جائیں
شروع میں ہمزہ استفہامیہ ہے اور ہمزہ وصلیہ محذوف ہے اصل صیغہ أَاِفتری تھا صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افتعال
صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ملحق برباعی مجرد صحیح از باب فیعلۃ مادہ: ھ م ن
سواء مصدر علیھم جار مجرور ملکر ظرف لغو مصدر ظرف لغو سے ملکر خبر مقدم أ تسویہ انذرت فعل تاء ضمیر فاعل علیھم جار مجرور ملکر ظرف فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف علیہ ام عاطفہ لم تنذر فعل انت ضمیر علیھم جار مجرور ملکر ظرف لغو فعل فاعل ظرف لغو ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر معطوف معطوف علیہ معطوف دونوں جملے ہمزہ تسویہ کے ساتھ ملکر مصدر مؤول ہو کر مبتدا مؤخر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
ما موصولہ بہ جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثبت کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل فعل فاعل ظرف مستقر ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صلہ موصول صلہ ملکر مبتدا الاستنصار خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
علم اسم ہی ہوتا ہے اور لفظ اللہ علم ہے
یہاں فرعون منصرف ہے کیوں یہاں علم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وصف۔مشہور یعنی باطل ہے
فرعون غیر منصرف ہے
مصدر ثلاثی مجرد صحیح از باب ضرب یضرب
صیغہ واحد اسم آلہ ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب اصل میں مِوزان تھا واؤ ساکن ما قبل مکسور کو یاء سے بدلہ تو میزان ہو گیا
شین پر ضمہ کے ساتھ درست تلفظ ہے
من مبتدا ھی مبتدا ثانی ل جار ابتداء الغایۃ مرکب اضافی ہو کر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابتۃ کے متعلق اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مبتدا ثانی اپنی خبر سے ملکر جملہ اسمیہ خبریہ ہو من کی خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
قاف پر ضمہ تھا اس کو کسرہ سے بدک یاء کی مناسبت سے
شعیب خود تصغیر ہے
قاعدہ کلمہ کے آخر میں کسرہ کے بعد واو واقع ہو تو اسے یاء سے بدل دینا واجب ہے
لام عہد خارجی لام جنس لام استغراق بھی ہو سکتی ہے البتہ یہ مقام تعریف میں ہونے کی وجہ سے لام جنس مراد لینا زیادہ بہتر ہے
مبتدا محذوف نہیں ہے
یہ اصل میں یدَوَیْنِ تھا واؤ کو خلاف قیاس حذف کیا تو یدین ہو گیا
ھل،أ یہ حروف استفہام ہیں ان کے علاوہ سب اسماء استفہام ہیں
مبتدا اسم ہوتا ہے جار مجرور اسم نہیں ہیں
واؤ کا واؤ میں ادغام ہوتا ہے اور کوئی تعلیل نہیں ہوتی
دونوں ایک ہی ہیں حروف استفہام أ اور ھل ہیں اس کے علاوہ بقیہ اسماء استفہام ہیں ان میں فرق یہ ہے کہ حروف استفہام حرف ہوتے ہیں اور اسماء استفہام اسماء یعنی اسم ہوتے ہیں
البر مبتدا الکر ذو الحال ب جار ستین ممیز درھما تمییز ممیز تمییز ملکر مجرور جار مجرور ملکر ظرف مستقر ثابت کے متعلق منہ جار مجرور محذوف ظرف ثابت اسم فاعل اس میں ھو ضمیر فاعل اسم فاعل اپنے فاعل اور ظرف مستقر و لغو سے ملکر شبہ جملہ اسمیہ ہو کر خبر مبتدا خبر ملکر جملہ اسمیہ خبریہ
ندبہ : جس چیز سے تکلیف ہو یا جس چیز میں تکلیف ہو اسے نداء کرنا ندبہ کہلاتا ہے جیسے زید م جائے تو زید کو پکارنا وا زیداہ (ہائے زید ،ہائے میرا بیٹا) سر میں درد کے تو سر کو پکارنا وا رأساہ (ہائے میرا سر ،ہائے میرا بازو) مندوب جس کو پکارا جائے اسے کہتے ہیں
لفظ موضوع مفرد اسم نکرہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
اسماء عدد میں معاملہ تھوڑا مختلف ہوتا ہے یعنی جن اسماء عدد میں گول تاء ہوتی ہے وہ مذکر استعمال ہوتے ہیں اور جن میں گول نہیں ہوتی جیسا کہ آپ کی مثال میں خمسا یہ مؤنث ہوتے ہیں تو۔اس وجہ سے ضمیر بھی مؤنث کی لائی گئی ہے
الحسنات اور سیئات منصوب ہیں یہ دونوں جمع مؤنث سالم ہیں اور جمع مؤنث سالم کی حالت نصبی کسرہ سے آتی ہے
عشرون ممیز درھما تمییز ہے
یدری صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی از باب افعال ک ضمیر منصوب متصل ہے
افعال متصرفہ وہ افعال ہوتے ہیں جن کی گردانیں ماضی مضارع امر بنتے ہیں افعال غیر متصرفہ جن سے مکمل گردانیں ماضی مضارع امر نہیں آتے بلکہ ماضی یا مضارع یا دو گردانیں بنتی ہیں
الجاریۃ بمعنی کشتی یا لونڈی ہو تو اسم جامد ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی
ماضی مجرد میں جگ مجہول بناتے ہیں تو۔فاء کلمہ۔مضموم ہوتا ہے محترم تو اسی وجہ سے قاف (فاء کلمہ) مضموم ہے
نصاب الصرف اجوف کے قواعد میں سے قاعدہ نمبر2 کی پہلی شرط پڑھ لیں
ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے جہاں ترجمہ لازم پکڑ لو والا فٹ ہو رہا ہو وہاں اسم فعل تم پر والا ترجمہ ہو تو جار مجرور
صحیح صرفی اس کلمہ کو کہتے ہیں جس میں ف ع ل کے مقابلے میں حرف علت نا ہو جبکہ نحو میں صحیح سے مراد وہ کلمہ ہوتا ہے جس کے آخر میں حرف علت نا ہو تو یوں ہر صحیح صرفی صحیح نحوی تو ہوگا لیکن ہر صحیح نحوی صحیح صرفی ہو ضروری نہیں
بتاویل مصدر اس وقت کہتے ہیں جب حروف مصدریہ میں سے کوئی حرف جملہ فعلیہ کے ساتھ آئے تو اس وقت وہ جملہ مصدر مؤول ہوتا ہے اور بتاویل مفرد کا مطلب یہ ہے کہ کوئی جملہ کسی ایسے مقام پر آئے جہاں مفرد آتا ہے جیسے حال ، صفت یا خبر وغیرہ تو ایسے جملے کو بتاویل مفرد کہتے ہیں
نصیر صفت مشبہ ہو لازمی نہیں اسم مبالغہ بھی ہو سکتا ہے
سکران غیر منصرف ہے وصف اور الف نون زائدہ کی وجہ سے اور اس کی مؤنث بھی فعلی کے وزن پر آتی ہے
ایک شرط ہے اس قاعدے کی کہ واؤ اور یاء کے بعد حرف ساکن نا ہو جبکہ یہاں واؤ اور یاء کے بعد یاء ساکن ہے
لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح اعراب لفظی اعراب بالحرکت
مسند الیہ وہ اسم ہوتا ہے جس کی طرف فعل یا خبر کی طرف نسبت کی جائے جیسے مبتدا فاعل وغیرہ مسند الیہ ہوتے ہیں
جمع مکسر
النهج القويم في إعراب القرآن الكريم سورة الفلق آية ١ سورة الفل {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (1)} قُلْ: فعل أمر مبنيّ على السكون والفاعل ضمير مستتر فيه وجوبًا تقديره: أنت. أَعُوذُ: فعل مضارع مرفوع بالضمة، والفاعل ضمير مستتر فيه وجوبًا تقديره: أنا. بِرَبِّ: جارّ ومجرور متعلّقان بـ"أعوذ". الْفَلَقِ: مضاف إليه مجرور بالكسرة. وجملة "قل" استئنافية لا محلّ لها من الإعراب. والجملة الفعلية "أعوذ" وما بعدها في محلّ نصب مفعول به (مقول القول).
جی مؤنث سماعی ہے
فعل تعجب فعل مضارع سے بنتا ہے
مصدر ثلاثی مجرد اجوف یائی از باب ضرب یضرب
ھدی اسم مقصور ہے تقدیرا حالت رفعی میں ہے اسم مقصور وہ اسم ہوتا ہے جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو اسم مقصور پر اگر الف لام ہو یا وہ مضاف ہو رہا ہو تو اس صورت میں الف یا کھڑی زبر آتی ہے اور اگر یہ دونوں نا ہوں تو اس وقت دو زبر لکھی جاتی ہے لیکن یہ حرکت اعراب کی نہیں ہوتی
افاعل میں ہمزہ وصلیہ اور ہمزہ وصلیہ مکسور ہوتا ہے اکثر
جامد کا لغوی معنی ہوتا ہے رکا ہوا ٹھہرا ہوا
وہ صفات کے صیغے جو صرف مؤنث کے ساتھ خاص ہیں ان کا اصول یہ ہے کہ اگر وہ صفت موصوف میں فی الحال پائی جا رہی ہے تو اس وقت صفت کے صیغے میں گول تاء لگاتے ہیں اور اگر فی الوقت نہیں پائی جا رہی بلکہ پائی جا سکتی ہے تو اس وقت بغیر گول تاء کے استعمال کرتے ہیں جیسے حائض اور حائضہ ان دونوں میں یہی فرق ہوگا
یہ دونوں مصادر ہیں
گردان رٹی جاتی ہے سمجھی نہیں جاتی
اچھے انداز سے پریکٹس کریں پھر تکرار کریں ان شاءاللہ فائدہ ہوگا
اس میں اذا اسم ظرف ہے مفعول فیہ بنے گا
اس کی علامات میں سے مفعول بہ ہونا بھی ہے کیوں کہ مفعول بہ فقط اسم ہوتا ہے فعل یا حرف نہیں ہو سکتا
جملہ اگر اسم سے شروع ہو تو اسے مبتدا کہتے ہیں
کئ طرح ہوتا ہے جیسے موصولہ استفہامیہ شرطیہ مصدریہ زائدہ اس کے علاوہ بھی
مصدری معنی "سونا" ہے
قائم خبر مقدم زید مبتدا مؤخر جملہ اسمیہ خبریہ
زید موصوف ابن مضاف خالد مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہو کر صفت موصوف مرکب توصیفی ہوئے