عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 25 جوابات شدہ سوالات

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرکوئی آدمی یہ کہےکہ اللہ نے مچھروں کو بناکرغلطی کی ہے،مچھروں کو نہیں بنانا چاہیے تھا، اس کا فتویٰ ارشاد فرمائیں۔

جواب : اللہ کریم کی طرف غلطی کی نسبت کرنا کفر ہے ،لہذا جس شخص نے ایسا جملہ بکا اس پر توبہ کے ساتھ ساتھ تجدیدِ ایمان بھی لازم ہے،اگر شادی شدہ ہے،تو تجدیدِ نکاح بھی کرے۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

عقائد1 جواب
27 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضور یہ حدیث شریف مل سکتی ہیں کہ گستاخ رسول کعبہ شریف کے غلاف سے چمٹ گیا پھر بھی قتل کر دیا گیا؟

جواب : یہ واقعہ فتح مکہ کے دن ہوا ،ابن خطل گستاخ رسول غلاف کعبہ کے پیچھے چھپا اور اس سے چمٹ گیا ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ۔اس کا حوالہ درج ذیل ہے (صحیح البخاری ،حدیث نمبر :4286،جلد5،صفحہ 148،مطبوعہ دار طوق النجاة) عن أنس بن مالك رضي اللہ عنہ أنّ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم دخل عام الفتح وعلی رأسہ المغفر فلما نزعہ جاءہ رجل فقال: إنّ ابن خطل متعلق بأستار الكعبۃ فقال: اقتلوہ. واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

عقائد1 جواب
27 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جھوٹی بات پر یہ کہنا کیسا کہ اللہ جانتا ہے میں سچ بول رہا ہوں؟

جواب : کسی بھی جھوٹی بات پراللہ کو گواہ بنانا یا جھوٹی بات پرجان بوجھ کریہ کہنا کہ اللہ جانتا ہے یہ کلمۂ کفر ہے۔فقہائے کرام فرماتے ہیں:جو شخص کہے:''اللہ جانتا ہے کہ یہ کام میں نے کیا ہے حالانکہ وہ کام اس نے نہیں کیا ہے''تو اس نے کفر کیا۔(منح الروض صفحہ 511)(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب،صفحہ 582) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

عقائد1 جواب
27 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ : ایک مقرر صاحب نے دوران تقریر اس طرح کے الفاظ کہے ہیں کہ کچھ انبیا پیدائشی نبی ہوتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کچھ انبیا ایسے ہوتے جن کو بعد میں نبوت ملی جسے حضرت یوشع بن نون کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت کرتے رہے پھر ان کو نبوت عطا ہوئی ،پس جب مطالعہ کیا تو قرآن پاک میں جو میثاق کی آیت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیا کے نبی ہونے کا ذکر ہے۔قرآن حکیم میں ہے:وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ. تو اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ تمام انبیا پہلے ہی نبی ہوتے ہیں ، پیدائشی نبی ہوتے ہیں، البتہ اعلانِ نبوت الگ الگ وقت پر ہوا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی اعلانِ نبوت فرما دیا تھا ۔ اور قرآن حکیم میں ہے: اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ.اس آیت سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی: قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا تھا : وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ○هٰرُوْنَ اَخِی○۔تو ان کی دعا اللہ تعالی نے قبول فرمائی تھی ، اللہ فرماتا ہے : وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا۔ تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھی کچھ انبیا کو بعد میں نبوت عطا کی گئی ہے۔ تو کیا اسی طرح ہے یا تمام انبیا پیدائشی نبی ہوتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیں ۔

حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حضرت سیدنا ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اعلانِ نبوت کا حکم ہوا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی نبوت کسبی ہے ۔ یہ اپنی جگہ پر حق ہے کہ نبوت وہبی ہے اور ولایت بھی وہبی ہے جس پر آپ کی نقل کردہ آیت کر یمہ” وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “ گواہ ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے ان کو ہبہ کیا تو ” وَهَبْنَا “کی اضافت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت وہبی ہے ، کسبی نہیں ہے ۔ اور ” مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “فرمایا ” اپنی رحمت سے ہم نے ایسا کیا“۔ یہ نہیں ہے کہ” من دعاء موسیٰ“ اس طرح کا کوئی لفظ نہیں کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یا موسیٰ علیہ السلام کے عرض کرنے سے نہیں، ”مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “فرمایا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی یہ اپنی جگہ پر حق ہے مگر اللہ نے جو نبوت عطا فرمائی حضرت سید نا ہارون علیہ السلام کو یہ محض اللہ کے فضل و رحمت سے ہے، یہاں کسب کو کوئی دخل نہیں ہے ۔ وہ علمِ الٰہی میں پہلے ہی سے نبی تھے، جیسا کہ تمام انبیاے کرام ومرسلینِ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات علمِ الٰہی میں پہلے ہی سے نبی اور رسول تھے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کا علم نہیں تھا۔ اس لئے انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور جو اللہ کے پہلے سے نبی تھے تو اللہ نے ان کی نبوت کو ظاہر فرما دیا ، ان کی نبوت کو ظاہر کر دینا جو پہلے سے علم الٰہی میں تھا، اسی اظہار کا نام قبول ہو گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ” وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “ فرمایا کہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ہوا۔ اور قبول دعا کا مطلب صرف اتنا ہےکہ اللہ تعالی کے علم میں وہ پہلے سے نبی تھے مگر اس کا اظہار نہیں ہوا تھا۔ آپ نے قبولیت دعا کے طور پر ان کی نبوت کا اظہار فرما یا ۔ حضرت یوشع بن نون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت کی برکت سے ان کو نبوت نہیں ملی ہے۔ نبوت کسبی نہیں ہے بلکہ وہ بھی اللہ کی رحمت عالیہ اور اس کا فضل ہے ۔ مزید مذکورہ آیات کی تفسیر آپ تحقیق کے طور پردیکھ سکتے ہیں۔ یہ اپنی جگہ مسلّمات میں سے ہے کہ انبیا کی نبوت ، مرسلین عظام کی رسالت اور اولیاءاللہ کی ولایت یہ سب وہبی ہیں، ان میں سے کوئی کسبی نہیں ہے، ہاں بظاہر کہیں مجاہده نظر آتا ہے کہ اولیاء اللہ مجاہدہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو ولایت عطا فرماتا ہے ۔ لیکن مجاہدہ سبب نہیں ہے اور یہ کسب نہیں ہے ولایت کے لیے۔ بس یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ راضی ہو تا ہے اور اپنے فضل خاص سے انھیں ولایت دے دیتا ہے۔ انبیاے کرام کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے اپنی رحمت سے نبوت دے دیتا ہے اس میں کسی کے بھی کسب کا دخل نہیں ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم

عقائد1 جواب
21 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس طرح کہنے کا کیا حکمِ شرع ہے کہ اللہ اوپربیٹھ کردیکھ رہا ہے؟

یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ اوپربیٹھا ہے کفر ہے،کہنے والے کو اس سے توبہ کرنا لازم ہوگا اورتجدیدایمان وتجدیدنکاح کا بھی حکم دیا جائے گا۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

عقائد1 جواب
18 اکتوبر، 2024

سوال12 :کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں استغاثہ کرنا یا آپ سے مدد طلب کرنا یا آپ کی بارگا ہ میں یوں گزارش کرنا کہ ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘آپ ہمارے حق میں دعا فرمادیں یہ جائز ہے یا نہیں ؟

جواب : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرنا ، استعانت کرنا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کے لئے عرض کرنا اس عقیدے اور نظریے کے ساتھ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عطا اور اسی کی دی ہوئی طاقت و قدرت سے مدد فرماتے ہیں،نہ صرف جائز ، بلکہ مستحب اور شریعت کے نزدیک مستحسن و پسندیدہ عمل ہےاور قرآن و حدیث کی تعلیم کےعین مطابق ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ ’’یا‘‘ کہ ساتھ یا رسول اللہ یا حبیب اللہ وغیرہ الفاظ کہہ کر پکارنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ (اس کا تفصیلی جواب اور دلائل کے ساتھ جواب جاننے کے لئے اسی ایپ میں موجود آرٹیکل بنام "المدد یارسول اللہ کہنا کیسا" پڑھ لیجئے۔

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 11: مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیجئے کہ اگر کوئی شخص اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم کے لئےبد مذہب استاد یا بدبذہبوں کے مدرسے میں بھیجے تو اسے کیسے سمجھایا جائے ؟

جواب : یہ مسئلہ واقعۃ قابل غور ہے کے لوگ ہر ہر معاملے میں بہتر سے بہتر کا انتخاب کرتے اور اس بارے میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں لیکن دینی و مذہبی تعلیم کے لئے اس بارے میں بدقسمتی سے بہت کم سوچا جاتا ہے یاد رکھئے ؛ اسلامی تعلیمات کے مطابق بدمذہبوں کے ساتھ بیٹھنے،ان سے سلام و کلام کرنے کی سختی سےممانعت ہے چہ جائیکہ ان کو استاد بنانا،کسی بدمذہب کو استاد بنانا یا اپنے بچوں کو ان کے مدرسےمیں تعلیم حاصل کرنے کے لئےبھیجنا ہرگز جائز نہیں، کہ بدمذہب سے حاصل کیا ہواعلم بےدینی ہی لائیگا اس لئے کہ استاد کی صحبت بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے اس طرح بچے کا پاکیزہ اور ستھرا ذہن بے دینی کی طرف مائل ہو کر بد عقیدگی اختیار کر لے گا ، خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنے گا۔ علماء فرماتے ہیں : تلوار کے فتنے سے زیادہ بڑا فتنہ علم کا فتنہ ہے ۔خونخوار ظالم ایک بندے کی زندگی ختم کردیتا ہے مگر فتنہ گر گمراہ استادو عالم ہزار خاندانوں کی روحانی زندگی تباہ کر ڈالتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العٰلمین ارشاد فرماتا ہے: واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعدالذکریٰ مع القوم الظلمین ترجمہ کزالایمان: اور جوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (پارہ 07 سورۃالانعام آیت نمبر68) حدیث مبارک میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکمیعنی: تم اپنے آپ کو ان سے جدا رکھو اور اور ان کو اپنے سے دور رکھوایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کردیں اور فتنوں میں ڈال دیں۔(مسلم شریف، ، صفحہ 12مطبوعہ دارالحضارہ النشر والتوزیع) سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ارشاد فرمایا :وان لقیتموھم فلا تسلمواعلیہمترجمہ: جب ان بدمذہبوں سے ملو تو ان کو سلام نہ کرو۔(ابن ماجہ،حدیث نمبر 92 مطبوعہ ہ دارالحضارہ النشر والتوزیع) غور کریں جب ان بد مذہبوں سے سلام کر نے کا منع فرمادیا گیا تو ان سے تعلیم لینا یا انہیں اپنا استاد بنانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ حضرت ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ان ھذالعلم دین فانظروا عمن تأخذون دینکمیعنی : یہ علم ،دین ہے۔ تو دیکھ لو کہ اس کو کس سے حاصل کررہے ہو۔ (مشکٰوۃالمصابیح،کتابالعلم،جلد01مطبوعہ کراچی) اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم مفتی محمد وقارالدین علیہ الرحمہ وقار الفتاویٰ میں ہے ارشاد فرماتے ہیں کہ: جس کے عقیدے میں کچھ خرابی ہے اس سے بچوں کو تعلیم دلانا جائز نہیں ، اس لئے کہ استاد کی صحبت کا اثر بچوں پر پڑتا ہےاور وہ خالی الذھن بچوں کو اپنے عقائد بتا کر گمراہ کر دیتا ہے۔ (وقارالفتاویٰ جلد 01 ص 312 مطبوعہ کراچی)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 10:سیدنا علی المرتضی کو شیخین کریمین یعنی سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینا کیسا؟

جواب : سیدنا علی المرتضی کرّم اللہ وجہہ الکریم کو سیدنا ابو بکر صدیق و سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنھما پر فضیلت دینے والا شخص مبتدع یعنی بدعتی و گمراہ ہے ۔ امام بخاری رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ حضرت محمد بن حنفیہ جو امیر المومنین علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے فرزند ہیں ان سے روایت کرتے ہیں قال : قلت لأبي : أيّ الناس خیرٌ بعد النبي صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ؟ قال : (( أبو بکر، قال : قلت : ثم من ؟ قال : عمر ))۔یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ سے عرض کیا: کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’ابو بکر، میں نے عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا: عمر‘‘۔’’ (صحیح البخاري ، الحدیث ،3671 ،صفحہ 902، مطبوعہ دمشق) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راوی،حضور کا ارشاد ہے: أبو بکر وعمر خیر الأولین والآخرین وخیر أھل السموات وخیر أھل الأرضین إلّا النبیین والمرسلین ترجمہ:ابو بکر و عمر سوائے انبیائے کرام اور رسولوں کے سب اگلوں اور پچھلوں سے اور تمام اہل آسمان و اہل زمین سے افضل ہیں ۔(کنز العمال ،الحدیث32645،صفحہ1503،مکتبہ بیت الافکار) علامہ ابن نجیم المصری الحنفی علیہ الرحمہ شیخین پر حضرت علی کو فضیلت دینے والا کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں وان فضل علیاً علیھما فمبتدعترجمہ: اور اگر (رافضی)سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شیخین پر فضیلت دے تو وہ بدعتی و گمراہ ہے۔ (بحرالرائق، جلد 05، صفحہ 212، مطبوعہ بیروت) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن’’ فتاوی رضویہ ‘‘شریف میں فرماتے ہیں :’’اہل سنت وجماعت نصرہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ مرسلین ملائکۃ ورسل وانبیائے بشر صلوات اللہ تعالی وتسلیماتہ علیہم کے بعد حضرات خلفائے اربعہ رضوان اللہ تعالی علیہم تمام مخلوق ِالہٰی سے افضل ہیں ، تمام امم اولین وآخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت وعزت ووجاہت وقبول وکرامت وقرب وولایت کو نہیں پہنچتا۔ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ فضل اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے عطا فرمائے ، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ، پھر فاروق اعظم پھر عثمان غنی ، پھر مولی علی صلی اللہ تعالی علی سیدہم، ومولا ہم وآلہ وعلیہم وبارک وسلم۔ اس مذہبِ مہذب پر آیاتِ قرآنِ عظیم واحادیث ِکثیرہ ٔ حضورپرنور نبی کریم علیہ وعلی آلہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم وارشادات جلیلۂ واضحۂ امیر المؤمنین مولی علی مرتضی ودیگر ائمہ اہلبیت طہارت وار تضاواجماعِ صحابۂ کرام وتابعین عظام وتصریحاتِ اولیائے امت وعلمائے امت رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے وہ دلائل باہر ہ وحجج قاہر ہ ہیں جن کا استیعاب نہیں ہوسکتا ۔" (فتاوی رضویہ جلد 28، صفحہ 478، رضا فاونڈیشن)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

اللہ پاک کے نا م کے ساتھ "تعالی " یا "جلالہ" یا " عزوجل" کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ان کا مطلب کیاہے ؟

(۱)تعالی: کا مطلب : " بلند و بالا "(۲) عزوجل : کا مطلب : عزت و عظمت والا (۳) جلّ جلالہ: کا معنی: عظمتوں والا ؛ یہ سب قریب المعنی الفاظ ہیں اور ان سے مقصد اللہ تعالی کی کبریائی اور عظمت بیان کرنا ہے ۔ یہاں یہ بات یاد رہے اللہ پاک کے نام کے ساتھ لکھتے وقت صرف "ج" لگادینا یا "ع" بنادینا یہ درست نہیں ہے ۔ مکمل لکھنا چاہیئے۔ لفظ میاں کے حوالے سے انگلش ڈکشنری میں بھی مختلف معنی استعمال ہوئے ہیں : مثلاً: sir (۱)master (۲)lord (۳) (۴)husband(۵)father۔۔۔وغیرہ۔ (اردوکسفرڈ ڈکشنری ص1063)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 09 :کیا لفظ اللہ کے ساتھ میاں لگاسکتے ہیں ؟

جواب :میاں کا لفظ اللہ پاک کے نام کےساتھ استعمال کرنا درست نہیں ہے کہ اس کے بعض معانی ایسے ہیں جو اللہ تعالی کی شان کے لائق نہیں ہے، لہذا یہ لفظ اسم جلالت کے ساتھ استعمال نہ کیا جائے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے لفظ "میاں" کے حوالے سے سوال ہوا تو آپ نے اس کی ممانعت فرمائی سوال مع جواب درج ذیل ہے:سوال :رب العزت جل جلالہ وتعالٰی شانہ کی نسبت میاں اور صاحب کہنا یعنی اﷲ میاں اور اﷲ صاحب جائزہے یانہیں؟ اگر جائز ہو جب تو لعدم المانع دلیل کی ضرورت نہیں،اور اگر ناجائز ہو تو دلیل درکارہے،اس صورت میں جو اسے پسندکرے بلکہ فخرکرے کہ یہ الفاظ میرے مختصات میں سے ہیں،اس شخص کے واسطے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے؟جواب :حضرت رب العزت عزجلالہ پر لفظ صاحب کا اطلاق جائز،بلکہ حدیث میں وارد ہے: اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی المال والاھل ۔ اے اللہ! توہی سفر میں صاحب ہے،مال اور اہل کا تو ہی محافظ ہے۔(ت) اورمیاں کا اطلاق نہ کیا جائے کہ وہ تین معنی رکھتاہے ان میں دو رب العزت کے لئے محال ہیں،میاں آقا اور شوہر اور مرد عورت میں،زنا کا دلال لہذا اطلاق ممنوع اور اس پر افتخارجہل (فتاوی رضویہ جلد 14، صفحہ 613 رضا فاؤنڈیشن)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 08: کیا مرنے کے بعد انسان کی روح کا تعلق جسم سے ہوتا ہے ؟

جواب : جی ہاں بالکل روح کا تعلق مرنے کے بعد جسم سے رہتا ہے ۔ حدیث پاک میں یہ موجود ہے کہ "فیعاد روحہ"ترجمہ : اس کی روح کو لوٹا دیا جاتا ہے ۔ اسی لئے روح کو عذاب بھی محسوس ہوتا ہے ،قبر کی تکلیفیں یا راحتیں اسے محسوس ہوتی ہیں لہذا روح کا تعلق جسم سے مرنے کے بعد بھی قائم ہوتا ہے ۔ منح الروض الازھر شرح فقہ اکبر میں ہے: واعادۃ الروح‘‘ أي: ردّھا أو تعلقہا ’’إلی العبد‘‘ أي: جسدہ بجمیع أجزاءہ أو بعضہا مجتمعۃ أو متفرقۃ ’’في قبرہ حق‘ترجمہ : روح کا جسم کی طرف لوٹانا یعنی روح کو دوبارہ جسم میں لوٹانا یا روح کا بندے کے جسم سے قبر میں تعلق قائم ہونا خواہ تمام اجزاء کے ساتھ ہو یا بعض کے ساتھ یہ ( عقیدہ و نظریہ ) حق ہے ۔ (منح الروض الازھر شرح فقہ اکبرصفحہ 182مکتبۃ المدینہ) صاحبِ بہار شریعت مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :مرنے کے بعد بھی روح کا تعلق بدنِ انسان کے ساتھ باقی رہتا ہے، اگرچہ روح بدن سے جُدا ہو گئی، مگر بدن پر جو گزرے گی رُوح ضرور اُس سے آگاہ و متأثر ہوگی، جس طرح حارتِ دنار مں ہوتی ہے، بلکہ اُس سے زائد۔ دناض مں ٹھنڈا پانی، سرد ہَوا، نرم فرش، لذیذ کھانا، سب باتںر جسم پر وارِد ہوتی ہںگ ، مگر راحت و لذّت روح کو پہنچتی ہے اور ان کے عکس بھی جسم ہی پر وارِد ہوتے ہںم اور کُلفت و اذیّت روح پاتی ہے،اور روح کے لےہ خاص اپنی راحت واَلم کے الگ اسباب ہںک ، جن سے سُرور یا غم پدلاہوتا ہے، بعینہ سب حالتںیں برزخ میں ہیں ۔ ( بہارشریعت ، جلد 01، حصہ 01، صفحہ 100 مکتبۃ المدینہ)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال07: تقدیر میں جو لکھ دیا گیا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا تو دروودو سلام ،وظائف و دعا اور صدقات وغیرہ سے تقدیرکیسے بدل سکتی ہے؛ رہنمائی فرمادیجئے ؟

جواب : حدیث پاک میں ہے : الدعا ء یرد القضاءترجمہ: دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے ۔ (اس سے مراد وہی تقدیر ہے جو تقدیر معلق ہے ، فرشتوں کے صحائف میں تقدیر کا بدلنا اسی پر موقوف ہوتا ہے کہ اسے فلاں کی دعا مل گئی ؛ یا اس نے یہ چیز پڑھی تو اس کی برکت سے اسے شفا ء مل جائیگی ۔ اس لئے مسلمان کو وظائف اور درود و سلام وغیرہ یہ سب پڑھنا چاہیے۔لیکن یہ بات یاد رہے سب سے بڑا وظیفہ نماز ہے ، پھر ہر وظیفہ اس کے تابع ہے ۔ یعنی وظائف و عملیا ت وغیرہ ضرور کریں مگر اس میں مگن ہوکر فرائض سے غافل ہوجانا اور ضروری ذمہ داریوں سے غافل ہونا تو یہ رویہ درست نہیں ، نمازوں کی ادائیگی لازمی ہے اس کے ساتھ ساتھ ان وظائف کا پڑھنا ہو تو اس کی برکتیں ضرور ملتی ہیں ۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالی ارشاد فرماتا ہے :یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَهٗ اُمُّ الْكِتٰبِترجمہ: اللہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور برقرار رکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔ (پارہ 13، سورۃ الرعد، آیت نمبر39) حضور اقدصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:اکثر من الدعاء فإنّ الدعاء یردّ القضاء المبرم ترجمہ: کثرت سے دعا مانگا کرو کہ دعا قضائے مُبْرَم کو تبدیل کر دیتی ہے۔( یہاں قضائے مبرم سے مراد معلق بشبیہ المبرم ہے مطلقاً مبرم نہیں )(کنز العمال، کتاب الأذکار، ، الحدیث : 3117 جلد 1، صفحہ 28) علامہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : القضاء علی ضربین : مبرم و معلق فالاول:لا یتغیر والثانی : یمکن تغیرہترجمہ: تقدیر کی دو قسمیں ہیں ایک مبرم اور دوسری معلق ۔ پہلی قسم میں تبدیلی ممکن نہیں اور دوسری قسم میں تبدیلی ممکن ہے ۔( المعتقد المنتقد ، صفحہ 132، مکتبۃ دارالفقیہ) اعمال صالحہ کی وجہ سے تقدیر کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :" بعض اسباب سے عمر میں کمی زیادتی ہوتی ہے اور وہ بھی لوح محفوظ میں لکھی ہے ۔ پس قضا میں تغیر قضا کے مطابق روا ہے مثلاً : مقدر ہے کہ زید کی عمر ساٹھ برس کی ہوگی اور جو حج کریگا اسی برس زندہ رہے گا "۔ ( احسن الوعاء لآداب الدعا، صفحہ 244، مکتبۃ المدینہ)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال06: کیا انبیاءکرام علیھم السلام اعلان نبوت سے پہلے نبی نہیں ہوتے ؟

جواب :انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پیدائشی وصف نبوت سے متصف ہوتے ہیں ، اور جب حکم الٰہی ہوتا ہے تو وہ اپنی نبوت کا اظہار و اعلان کرتے ہیں، نبی سے نبوت کا زوال ماننا مثلاً : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ کہنا کہ آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی اس سے پہلے نبی نہ تھے ، یہ نبی سے نبوت کا زائل ہونا تسلیم کرنا ہے جسے علمائے کرام نے کفر لکھا ہے ۔ قرآن مجید میں انبیائے کے پیدائشی نبی ہونے پر متعدد آیات کریمہ موجود ہیں ۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ-قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْؕ-قَالُوْۤا اَقْرَرْنَاؕ-قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ(۸۱)ترجمہ:اوریادکروجباللہنےنبیوںسےوعدہلیاکہمیںتمہیںکتاباورحکمتعطاکروںگاپھرتمہارےپاسوہعظمتوالارسولتشریفلائےگاجوتمہاریکتابوںکیتصدیقفرمانےوالاہوگاتوتمضرورضروراسپرایمانلانااورضرورضروراسکیمددکرنا۔ (اللہنے) فرمایا :(اےانبیاء!) کیاتمنے (اسحکمکا) اقرارکرلیااوراس (اقرار) پرمیرابھاریذمہلےلیا؟سبنےعرضکی،’’ہمنےاقرارکرلیا‘‘ (اللہنے) فرمایا، ’’ تو(اب) ایکدوسرےپر (بھی) گواہبنجاؤاورمیںخود (بھی) تمہارےساتھگواہوںمیںسےہوں ۔( سورۃ آل عمران، آیت نمبر 81 پارہ 03) اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: قَالَاِنِّیْعَبْدُاللّٰهِﳴاٰتٰىنِیَالْكِتٰبَوَجَعَلَنِیْنَبِیًّاترجمہ :بچے نے فرمایا: بیشک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ۔ (سورۃ المریم ،آیت نمبر 30 پارہ16) پہلی آیت مبارکہ میں انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے جو وعدہ لیا گیا وہ اس دنیا میں آنے سے پہلے کا عہد ہے عالم ارواح میں یہ مجلس میثاق سجائی گئی اس آیت میں لفظ استعمال ہوئے "النبیین"کے،اسی طرح جو عہد لیا گیا اس میں "ثم جاءکم رسول"،یونہی دوسری آیت میں" وجَعَلَنِیْنَبِیًّا"حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا ہونے کے بعد اللہ کے حکم سے جھولے میں ہی کلام فرمایا ؛ یہ الفاظ خواد اعلان کررہے ہیں کے انبیائے کرام اپنی آمد سے قبل ہی صفت نبوت سے متصف تھے اور انبیائے کرام سے صفت نبوت کا زوال ماننا اور یہ کہنا کے پیدائشی نبی نہ تھے بعد میں نبوت ملی یہ کفر و گمراہی اور بے دینی کے سواء کچھ نہیں ۔ الشیخ محمد عبدالحق بن شاہ الھندی الحنفی علیہ الرحمہ سورہ مریم کی اس آیت کے حصے "جَعَلَنِیْنَبِیًّا" کے تحت لکھتے ہیں: روی عن الحسن انہ کان فی المھد نبیاً وکلامہ معجزتہترجمہ : امام حسن سے روایت ہے سیدنا عیسی علیہ الصلوٰۃ والسلام جھولے ( یعنی: بچپن)میں ہی وصف نبوت کے ساتھ متصف فرمادئے گئے تھے اور ان کام اس عمر میں کلا م کرنا یہ ان کا معجزہ تھا۔ (تفسیر نسفی جلد 05، ،سورہ المریم آیت نمبر 30، صفحہ 76) اما م ترمذی اپنی جامع میں ایک حدیث پاک نقل فرماتے ہیں:عَن اَبِی ھُرَیرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنہُ قَالَ: قَالُوايَارَسُولَاللَّهِصَلَّىاللهُعَلَيْهِوَسَلَّمَمَتَىوَجَبَتْلَكَالنُّبُوَّةُ؟"قال: "وَآدَمُبَيْنَالرُّوحِوَالْجَسَدِ" ھذا حدیث حسن صحیحترجمہ : لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے لیے نبوت کب واجب ہوئی تھی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" نبوت اس وقت واجب ہوئی جب آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے۔امام ترمذی نے اس حدیث کوحسن صحیح قرار دیا ۔ (جامع ترمذی ، حدیث 3609مطبوعہ کراچی) علامہ امام فضل رسول بدایونی علیہ الرحمہ نبی سے نبوت کے زوال کو ماننے والے کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : مَن جوَّزَ زَوَالَ النُّبُوَّۃِ مِن نَبِیّ ، فَاِنَّہ یُصِیرُ کَافِرًا، کذا فی "التمھید"ترجمہ : جو نبی سے نبوت کے زوالکو جائز مانے وہ کافر ہوجائیگا، اسی طرح تمھید میں ہے۔ (المعتقد المنتقد، صفحہ 212، مکتبۃ المدینہ)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 05: زید جو کہ ایک میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والا ہے ؛کہتا ہے کہ قرآن پاک اللہ تبارک وتعالی نے لوگوں کے لئے آسان فرمادیا ہے اورخود قرآن پاک میں فرمایا وَلَقَدْیَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَلِلذِّكْرِفَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ"لہذا ہر مسلمان کو چاہیئے کے خود قرآن پڑھیں اور اسے سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں کسی کے پاس جانے کی حاجت نہیں ہے ؛ کیا زید کا یہ کہنا درست ہے ؟

جواب:جو آیت مبارکہ سوال میں ذکر کی گئی اس کے بارے میں مفسرین کے اقوال جاننے سے پہلےعرض یہ ہے کہ ؛ زید کو کہا جائےکہ وہ اپنے میڈیکل کے شعبے کی کتابیں پڑھ کر خود اپنا کلینک کھول لے ، کسی ماہر ڈاکٹر سے تربیت نہ لے؛ اور یونہی سب کا آپریشن کرنا شروع کردے ۔اگر زید اس پر راضی ہوبھی جاتا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے اور کوئی دوسرا شخص یہ جانتے ہوئے کے زید جعلی ڈاکٹر ہے کبھی اس سے سردرد کی دوائی بھی نہیں لے گا ۔ شعبہ کوئی بھی ہواس سے متعلقہ کتابیں پڑھنے اور اسے سمجھنے پھر اس کے مطابق عمل کرنے کے لئے ایک رہنمااور استاد(teacher) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس بات کا کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کریگا اور جو انکار کریگا وہ ذی شعور نہیں ہوگا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں وہ کرتے ہیں جن کو خود قرآن پاک تجوید کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا۔ایسا شخص جب خود قرآن پڑھ کر خود ہی سمجھے گا اور پھراپنی سمجھ کے مطابق عمل کریگا تو وہ زمانہ میں ایک فتنہ ہی لائے گا ۔ زید کا یہ کہنا کے خود قرآن سمجھوکیونکہ قرآن آسان ہے یہ محض گمراہی و ضلالت کے سواء کچھ نہیں ؛ زید کو چاہیئے کے اس سے توبہ کرے اور اہل علم جو فہمِ قرآن و حدیث رکھنے والے ہیں ، علماء امت ومفتیان کرام ہیں ان کے پاس جاکرقرآن سیکھے اور اس پر عمل کرے ۔جہاں تک اس آیت "وَلَقَدْیَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَلِلذِّكْرِفَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ"(سورۃ القمر ، آیت نمبر 17)کا تعلق ہے تو علماء نے اس کی وضاحت فرمائی ہے وہ یہ کہ قرآن یاد کرنے کے لئے آسان ہے ، جو اسے یاد کرنا چاہے اس کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے اسے آسان فرمادیا ہے ۔ علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کے استاذ گرامی حضرت علامہ شیخ جلال الدین محمد بن احمد المحلی علیہ الرحمہ اس آیت مبارک کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں : سھَّلناہ لِلحفظترجمہ :ہم نے قرآن کوحفط کرنے کے لئے یعنی یاد کرنے کے لئے آسان کردیا ہے ۔(تفسیر جلالین ، جلد 03صفحہ 435، مطبوعہ کراچی) حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ اسی آیت مبارک کے تحت فرماتے ہیں : اس آیت میں قرآن کریم کی تعلیم و تعلم اور اس کے ساتھ اشتغال رکھنے اور اس کو حفظ کرنے کی ترغیب ہے اور یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ قرآن یاد کرنے والے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اس کا حفظ سہل و آسان فرمادینے ہی کا ثمرہ ہے کہ بچے تک اس کو یاد کرلیتے ہیں سوائے اس کے کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہوجاتی ہو۔ (خزائن العرفان،صفحہ 977، مکتبۃ الدینہ)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 04:اللہ رب العزت کے لئے لفظ" بھگوان " یا لفظ " رام " کہنا کیسا ؟

جواب : لفظ" بھگوان" اور لفظ"رام " یہ کفار کے اپنے معبودان باطلہ و فاسدہ کو پکارنے کے لئے مقرر کئے گئے نام ہے،اور انہی کا یہ شعار بھی ہیں ، حتی کے لفظ "رام " کے حوالے سے علمائے کرام نے لکھا کہ اللہ رب العزت کے لئے اس لفظ کا استعمال کفر ہے، کیونکہ لفظ رام کے معنی ہیں حلول کیا ہوااور یہ معنی شان باری تعالی کی عظمت و رفعت کے خلاف ہے ،اسی طرح لفظ بھگوان یہ دو لفظواں کا مرکب ہے بھگ کا مطلب ہے "عورت کی شرمگاہ" اور وان کا مطلب ہے" والا " لہذا جو شخص اس لفظ کے معنی جانتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ کے لئے استعمال کرے گا وہ کافر ہوجائیگا ، اس پرتجدید ایمان لازم ہوگا ، صاحب نکاح ہے تو وہ بھی ختم ہوگیا اور تجدید نکاح بھی لازم ہوگا البتہ اگر کوئی اس کے معنی نہیں جانتا اور پھر اللہ پاک کے لئے اس نے ان لفظوں کا استعمال کیا تو یہ قائل کافر نہیں ہوگا مگر یہ قول کفر ہی ہے اس لئے اس لاعلم شخص پر بھی توبہ و تجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہوگا ؛ لہذا ہر گز کسی مسلمان کو یہ روا(جائز) نہیں کے وہ اللہ تبارک و تعالی کو ان ناموں سے پکارے بلکہ انہی اسماء سے ذات باری تعالی کو یاد کرے جن کاتذکرہ قرآن و حدیث میں موجود ہے ۔ شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : بھگوان اور رام کے جو حقیقی معنی ہیں ان پر مطلع ہوتے ہوئے جو شخص اللہ عزوجل کو بھگوان یا رام کہے وہ بلاشبہہ کافر و مرتد ہے اس کے تمام اعمال حسنہ اکارت ہوگئے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی اس پر فرض ہے فوراً اس سے توبہ کرے پھر سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے تو پھر تجدید نکاح کرے۔ (فتاوی شارح بخاری، جلد 01، صفحہ 171 مطبوعہ کراچی)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 03: "اللہ کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں" اس جملے کا حکم شرعی بیان فرمادیجئے؟

جواب : اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے صرف انہی ناموں کا یا صرف انہی صفات کا استعمال کیا جائے جو قرآن و حدیث و اسلاف سے منقول ہیں۔ یہ جملہ اگر چہ کفریہ نہیں ہے مگر اللہ پاک کے لئے ان لفظوں کا استعمال کرنا علمائے کرام نے صراحۃ منع فرمایا ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان لفظوں کا استعمال قرآن و حدیث میں نہیں ملتا ،دوسری وجہ کہ ان لفظوں کے معنی لغوی بھی شان باری تعالی کے مناسب نہیں ؛ خلاصہ کلام یہ کہ اللہ پاک کے لئے ان الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے البتہ ان لفظوں کی جگہ یہ کہا جائے کہ "اللہ پاک شھید و بصیر " ہے اللہ تبارک و تعالی کے لئے حاضر و ناظر کے الفاظ استعمال کرنے سے متعلق حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : "حاضر و ناظر کےجو معنی لغت میں ہیں ان کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان الفاظ کا بولنا جائز نہیں ہے ،حاضر کے معنی عربی لغت کی معروف و معتبر کتب "المنجد" اور "مختار الصحاح" وغیرہ میں یہ لکھے ہیں نزدیکی، صحن ، حاضر ہونے کی جگہ ، جو چیز کھلم کھلا بے حجاب آنکھوں کے سامنے ہو اسے حاضر کہتے ہیں اور ناظر کے معنی " مختارالصحاح" میں آنکھ کے ڈھیلے کی سیاہی جبکہ نظر کے معنی کسی امر میں تفکر و تدبر کرنا ، کسی چیز کا اندازہ کرنا ، اور آنکھ سے کسی چیز میں تأمّل کرنا لکھے ہیں ،ان دونوں لفظوں کے لغوی معنی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کو پاک سمجھنا واجب ہے ، بغیر تاویل ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ پر نہیں بولا جاسکتا اسی لئے اسماء الحسنیٰ میں حاضر و ناظر بطور اسم یا صفت شامل نہیں ہیں قرآن و حدیث میں یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی صحابہ کرام و تابعین یا ائمہ مجتہدین نے یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کئے ہیں (وقار الفتاوی جلد 01، صفحہ 66 مطبوعہ کراچی)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال02: اللہ پاک کے لئے لفظ " آپ " یا لفظ" فرماتے ہیں " کا استعمال کرنا کیسا؟

جواب :اللہ پاک وحدہ لاشرک ہے اس لئے ذات باری تعالی ٰ کے لئے زیادہ بہتر وہ الفاظ ہیں جو اس کی وحدانیت پر بھی دلالت کرنے والے ہولہذا دعا کرتے ہوئے یا اپنے کلام میں ذات باری تعالی ٰ کے لئے مفرد و واحد کے جملے استعمال کئے جائیں جیسے : اللہ فرماتا ہے، یا دعا میں اس طرح کہےیااللہ تو میری فلاں حاجت پوری فرما وغیرہ البتہ اگر کوئی شخص جمع کے جملے استعمال کرتا ہے تو یہ بھی جائز ہے ۔ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :" اللہ عزوجل کو ضمائر مفردسے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد ،احد، فرد، و تر ہے اور تعظیماً ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں" مزید فرماتے ہیں : بہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتاہے، مگر اس میں کفروشرک کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتا، نہ گناہ ہی کہاجائے گابلکہ خلاف اولی۔(فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 648 رضا فاؤندیشن)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

سوال 01: کیا یہ جملہ " اللہ ہر جگہ موجود ہے " شرعاً درست ہے ؟

جواب : یہ جملہ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوتا جارہا ہے، بالخصوص لاعلمی کی بنیاد پر والدین اپنے چھوٹے بچوں کو یہ جملہ سکھاتے ہیں ، علمائے کرام نے اس جملے کو بولنے کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے ، حتی کے اس جملے کے ظاہری معنی کا نظریہ رکھتے ہوئے کسی نے کہا تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائیگا کیونکہ اللہ پاک مکان (place) سے پاک ہے اور اس جملے میں اللہ رب العزت کے لئے مکان کا ثبوت ہوتا ہے نیز اسی جملے سےاللہ پاک کے لئے سمت (direction) اور جسم کا بھی ثبوت ہوتا ہے المختصر یہ جملہ کئی طرح کی برائیاں اپنےضمن میں لئے ہوئے ہے لہذا (جس نے اعتقاداً یہ جملہ کہا ) ایسے شخص پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہوگا نیز نکاح بھی تھا تو وہ بھی ختم ہوگیا ، اب تجدید نکاح بھی لازم ہوگا۔ نوٹ :بچوں کو والدین اللہ رب العزت کی ذات پاک کے لئے یہ جملہ سکھائیں " اللہ پاک کا علم و قدرت ہر جگہ ہے" امام برھان الدین حضرت علامہ سعد الدین التفتازانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ولا یتمکن فی مکان ۔۔۔واذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھۃترجمہ : اللہ پاک کسی مکان میں موجود ہونے سے پاک ہے ؛ جب ذات باری تعالی کے لئے مکان نہیں تو ثابت ہوا کہ اللہ پاک جہت(direction) سے بھی پاک ہے۔ (شرح عقائد نسفیہ ، صفحہ 130، مکتبۃ المدینہ) علامہ شیخ زین الدین بن ابراہیم المعروف ابن نجیم الحنفی فرماتے ہیں : یُکفَّر۔۔باثبات المکان لِلّٰہ تعالیٰ ترجمہ : جس نے اللہ پاک کے لئے مکان کو ثابت مانا اس کی تکفیر کی جائیگی ۔ ( البحرالرائق جلد 05صفحہ 202 مطبوعہ بیروت)

عقائد1 جواب
15 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب یہ کہنا کیسا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول چاہے تو فلاں کام ہو جائے گا

جواب۔اللہ اور اس کا رسول چاہے تو فلاں کام ہو جائے گا اس طرح کہنے کو حدیث شریف میں منع کیا گیا ہے لہذا اسکے بجائے یوں کہنا چاہیے کہ اللہ پھر اس کا رسول چاہے تو فلاں کام ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے عن حذیفۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم قال لا تقولوا ماشاءاللہ وشاء فلان ولکن قولوا ماشاءاللہ ثم شاء فلان (رواہ احمد و ابوداؤد) یعنی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ نہ کہو جو چاہے اللہ اور چاہے فلاں بلکہ یوں کہو جو چاہے اللہ اور پھر چاہے فلاں واللہ تعالیٰ اعلم ۔ (فتاوی فیض الرسول ج2ص527 مکتبہ اکبر بک سیلز لاہور)

عقائد1 جواب
27 ستمبر، 2024

سوال۔ مفتی صاحب غیر خدا کو سجدہ کرنے کا کیا حکم ہے ۔

جواب۔ سجدے کی دو قسمیں ہیں: ایک سجدہ عبادت ہے، یہ صرف اللہ کریم کے لئے ہے، اس کے علاوہ کبھی بھی کسی کے لئے جائز نہیں رہا۔ دوسرا سجدۂ تعظیمی، یہ پہلے مخلوق کے لئے کرنا جائز تھا کہ ملائکہ نے آدم علیہ السَّلام کو تعظیماً سجدہ کیا، پھر مصطفےٰ جانِ رَحْمت ﷺ نے اس سے بھی منع فرما دیا اور فرمایا کہ اگر اس کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو اس کے حق کی ادائیگی کے لئے کرے۔ (فیض القدیر،ج 5،ص419، تحت الحدیث:7481)

عقائد1 جواب
27 ستمبر، 2024

مفتی صاحب یہ کہنا کیسا ہے کہ اللہ تعالی ہر جگہ پایا جاتا ہے۔

جواب۔یہ کہنا کہ اللہ تعالی ہر جگہ پایا جاتا ہے کلمہ کفر ہے بات یہ ہے کہ جو چیز جگہ میں موجود ہوتی ہے جگہ اس کو گھیرے ہوتی ہے وہ جگہ میں محدود ہوتی ہے اور اللہ تعالی کو نہ کوئی چیز گھیر سکتی ہے نہ محیط ہو سکتی ہے۔(فتاوی شارح بخاری جلد اول ص177

عقائد1 جواب
26 ستمبر، 2024

مفتی صاحب کیا اللہ تعالی کے لئے عاشق کا لفظ بولنا جائز ہے یا نہیں ؟

اللہ رب العٰلمین کے لئے لفظ "عاشق " کا استعمال جائز نہیں ہے کیونکہ عشق کہتے ہیں محبت کی اس منزل کو جس میں جنون پیدا ہوجائےاور جنون باری تعالی کے لئے محال(ناممکن ) ہے کہ ہر وہ لفظ جس میں تنقیص کا ذرہ بھر بھی شبہ ہو اللہ رب العٰلمین کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ اعلی ٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے یہی سوال ہو ا کہ: اللہ تعالی کو عاشق اور سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا معشوق کہنا جائز ہے یا نہیں؟آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا : ناجائز ہے کہ معنیٰ عشق اللہ عزوجل کے حق میں محال قطعی ہے اور ایسا لفظ بے ورودِ ثبوت شرعی حضرت عزت کی شان میں بولنا ممنوع ِ قطعی ۔ ردالمحتار میں ہے : مجرد ایھام المعنی المحال کاف فی المنعترجمہ : صرف معنی محال کا وہم ممانعت کے لئے کافی ہے ۔ ( فتاوی رضویہ ، جلد 21،صفحہ 114، رضا فاؤنڈیشن ) فتاوی شارح بخاری میں ہے : عشق کا حقیقی معنیٰ محبت کی وہ منزل جس میں جنون پیدا ہوجائے ۔ ( فتاوی شارح بخاری، جلد 01، صفحہ 281)

عقائد1 جواب
8 ستمبر، 2024

مفتی صاحب سوال عرض ہے کہ کیا جنت میں ہم گھوڑے پر سواری کر سکیں گے یا نہیں ؟

جنت میں جنتی جس چیز کی خواہش کرے گا ،وہ پوری کر دی جائے گی ۔لیکن ضروری یہ ہےکہ ہم اُن چیزوں کی طرف توجہ کریں،جو جنت میں جانے کے ظاہری اسباب ہیں،یعنی نیک امور اختیار اور گناہوں سے اجتناب کریں۔

عقائد1 جواب
11 جولائی، 2024

اکثر لبرلز کی طرف سے یہ اعتراض سننے کو ملتا ہے کہ مولویوں کو جدید علوم خاص کر ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ یہ لوگ دنیاوی معاملات میں بالکل کورے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیئے؟

یہ اعتراض عموما وہی لوگ کرتے ہیں، جو خود مولویوں سے جان چھڑا کر، دنیاوی علم حاصل کرنے کے بعد بھی ترقی نہیں کرسکتے اور اس کا ذمہ دار مولویوں اور علماء کو ٹھہراتے ہیں۔چلیں بالفرض قبول کرلیتے ہیں کہ مولویوں کوجدید علوم کا کچھ بھی معلوم نہیں، تو اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ لبرل بھی چاند پر نہ جاسکے؟ چلیں مان لیا مولوی نے ترقی کرنے کے خلاف سخت حرام ہونے کا فتوی دے دیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی کو کفر و حرام قرار دے دیا ہے۔ لیکن لبرل تو لبرل ہے، وہ کسی کا پابند ہی نہیں، جب وہ دیگر معاملات میں مولوی کے فتوے کو نہیں مانتا،تو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے فتوی کو کیوں مان کر ترقی سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟۔۔۔ اگر ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کریں،تو معلوم ہوجائے گا کہ علماء اور مولویوں کے خلاف یہ باتیں، در حقیقت ان کی قلبی بھڑاس ہے، کیونکہ یہ دیسی لبرلز دنیا جہاں کے علوم کے پیچھے پڑنے کی ترغیب کے باوجود، ایک عرصہ تک خود چاند پر جا نہیں سکے اور اپنی اس شکست کو تسلیم کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ لہذا الزام علماء اور مولویوں کے فتووں کودیتے ہیں۔جس سے خود بھی دین سے دور ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں۔چنانچہ ایک مثبت فکر رکھنے والے کو ان کی طرف سے ہونے والے اعتراضات سے فکر مند نہیں ہونا چاہیئے۔

عقائد1 جواب
7 مئی، 2024

جب کویٰ مسلمان میت کو ایصال ثواب کرتا ہے تو کیا میت کو اسکا علم ہو جاتا ہے کہ کس نے اسے ثواب ایصال کیا ہے ؟

جی بلکل جب کویٰ مسلمان میت کے لۓ ایصال ثواب کرتا ہے تو وہ اسے پہچانتی ہے اور خوش ہوتی ہے جس طرح حیات میں کسی کو تحفہ دیں تو وہ مسرت کا اظہار کرتا ہے اسی طرح میت بھی خوش ہوتی ہے۔

عقائد1 جواب
4 مئی، 2024