عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 65 جوابات شدہ سوالات

سوال : میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوٸی شخص کسی کھانے کی دکان پر گیا ، اور کوٸی چیز خریدنے کا ارادہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہاں سے کوٸی چیز اٹھا کر چکھتا ہے اور ظاہر یہ کرتا ہے کہ خریدنے کا ارادہ ہے،ایسے شخص کے لٸے کیا حکم ہے؟

جواب : جب خریدنے کا ارادہ نہیں ہے ، صرف دکان یا ریڑھی پرآکر چکھتا اور ظاہر یہ کرتا ہے کہ خریدنا چاہ رہا ہے ، ایسا شخص گنہگار بھی ہے کہ دھوکا دے رہا ہے اور جو کچھ اس نے چکھا ہے اس کا بدل بھی اس پر دینا لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرکسی کے پاس بطورِ الیکٹریشن کام کرنے کی اجازت (اقامہ) ہے اور وہ موبائل فون کی مرمت کا کام کرتا ہے،تو کیا وہ یہ کرسکتا ہے یا اس کی آمدنی حرام ہوگی؟

جواب : اگرچہ اس شخص کا اقامہ ایک خاص پیشے مثلابجلی کے کام کے لیے ہے، لیکن موبائل فون کی مرمت ایک جائزاورحلال کام ہے،اوراگروہ شرعی طور پراس کام کو ٹھیک انجام دے رہا ہے،تو اس کی کمائی کو حرام نہیں کہا جائے گا۔ تاہم،قانونی نقطۂ نظرسے دیکھتے ہوئے،اگراس ملک میں اقامہ کی شرائط کے مطابق اس کا مخصوص پیشہ ضروری ہےاوروہ اقامہ کی شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہو،تواسے ملکی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے؛کیونکہ شرعی حکم یہی ہے کہ ملکی جائزقوانین کی پاسداری کرنا بھی ضروری ہے،تاکہ قانونی پیچیدگیوں اورخود کو ذلت پرپیش کرنے سے بچا جا سکے۔ شرعی اعتبارسے کمائی جائزہے،لیکن قانونی خلاف ورزیوں سے اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
27 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب bil l of exchange کی بیع کرنا جاٸز ہے یا نہیں؟

جواب : bill of exchange کی خریدوفروخت اصل میں قرض کی خریدوفروخت ہے ، اس میں ایک شخص اپنا واجب الادا قرض اس شخص یا ادارے کو بیچ رہا ہوتا ہے، جس پر اس کا قرض واجب نہیں ہے اور یہ جاٸز نہیں ہے۔ اس کے عدم جوازکاسبب یہ ہے کہ اس میں دھوکا ہےکیونکہ ممکن ہے مقروض کا دیوالیہ ہوجاۓ یا اس کے تمام املاک کسی حدثے میں ختم ہوجاۓ تو bill of exchange کی کوٸی value نہیں رہے گی۔ بعض علماء نے،اسے نقدی کی ادھار بیع کی بناء پر ربو الفضل میں شامل کرکے ناجاٸز قراردیا۔ (تفہیم المساٸل ، جلد 01، صفحہ 329) واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
25 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کہ بروکر بسا اوقات اس طرح کرتے ہیں کہ پراپرٹی کے مالک کو کم پیسے بتاتے ہیں اور خریدنے والے کو زیادہ پیسوں میں فروخت کرتے ہیں اور درمیان کے پیسے خود رکھ لیتے ہیں مثال کے طور پر ایک پراپرٹی پچاس لاکھ کی فروخت کرنے کے بعد پراپرٹی کے مالک کو کہاکہ یہ پینتالیس لاکھ کی فروخت کی ہے بروکر کا ایسا کرنا کیسا ہے؟اسے بروکرز کی اِصْطِلاح میں ٹاپ مارنا کہاجاتا ہے ۔

پوچھی گئی صورت میں بروکر کا اس طرح کرنا دھوکا اور حرام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بروکر ایک نمائندے کی حیثیت رکھتا ہے نہ ہی اس کا مال ہے اور نہ ہی رقم۔ لہٰذا بروکر پر یہ بات لازم ہے کہ پراپرٹی جتنے کی بھی فروخت ہوئی ہے اس کی کل رقم مالک کےحوالے کرے ۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
24 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی بروکر کو کہے کہ آپ میری پراپرٹی جتنے میں چاہیں فروخت کریں مجھے پچاس لاکھ روپے دے دیجئےگا تو اب اگر بروکر پراپرٹی باون لاکھ کی فروخت کرےاور دو لاکھ خود رکھ کر پچاس لاکھ پارٹی کو دے تو کیا یوں دو لاکھ روپے رکھنا اس بروکرکے لیے درست ہے؟ جبکہ پارٹی کو بھی سب حقیقت معلوم ہو۔

پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقۂ کار درست نہیں اس لئے کہ اُجْرت کا مُتَعَیَّن ہونا ضروری ہے جو کہ پوچھی گئی صورت میں مُتَعَیَّن نہیں ۔ البتہ اگر بروکر کی بروکری مُتَعَیَّن کردی جائے مثلاً بروکر کے ساتھ یہ طے کر لیا جائے کہ اس کام کے اتنے ہزار یا اتنے فیصد بروکری یا کمیشن تو بطورِ اُجْرت لازمی ملے گی اور ساتھ ہی ساتھ پارٹی بروکر کو یہ بھی اضافی پیشکش کر دے کہ اگر یہ پراپرٹی اتنے فیگر مثلاً پچاس لاکھ سے زیادہ کی بِکتی ہے تو تمام رقم بطورِ انعام آپ کی ہوگی تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُعَزَّوَجَلَّوَرَسُوْلُہ اَعْلَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
24 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مُفْتِیانِ شرع ِمتین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا تعلق انڈیا سے ہے اور ہماری مارکیٹ میں چین سے مال آتا ہے اور چین میں کسی چیز کی قیمت مثلاً 10روپے ہے، لیکن اپنی جان پہچان سے ہمیں وہ چیز 9.5 روپے میں ملی، تو کیا گاہَک کو ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ چین میں اس کا بھاؤ 10روپے ہے؟

اگر صرف اتنا ہی کہے کہ چین میں اس کا بھاؤ 10روپے ہے تو یہ جائز ہے کہ اس میں کوئی جھوٹ وغیرہ نہیں ہے،ہاں اگر اس نے یوں کہا کہ مجھے 10روپے میں ملی ہے حالانکہ اسے 9.5(ساڑھےنو)روپے میں ملی تھی، تو اب یہ جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ جھوٹ میں شامل ہوگا اور جھوٹ ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اللہ تَبَارَک وتعالٰی قراٰن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَاجْتَنِبُوۡا قَوْلَ الزُّوۡرِ﴿ۙ۳۰﴾ (پ17، الحج: 30) ترجمۂ کنز الایمان:اور بچو جھوٹی بات سے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
21 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آپ نے فرمایا اپنی چیز ہو تو جتنے پیسے مناسب سمجھیں اس میں بیچ سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب زیادہ پیسوں میں بیچتے ہیں تو حکومتی ادارے جرمانہ لگادیتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

ہم نے ایک شرعی حکم بیان کیا ہے۔ جہاں تک حکومت کی طرف سے ریٹ فکس کرنے کی بات ہے تو حکومت ہر چیز کا ریٹ فکس نہیں کرتی، مثال کے طور پر کپڑوں کا ریٹ فکس نہیں ہوتا، عام طور پر کھانے پینے کی اشیاء کا ریٹ مقرر ہوتا ہے، پیٹرول کا ریٹ مقرر ہوتا ہے، دواؤں کا ریٹ مقرر ہوتاہے اور اس کی خلاف ورزی پر پکڑ دھکڑ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثر چیزوں میں مارکیٹ میں آزادی ہوتی ہے ہر چیز کی قیمت حکومت مقرر نہیں کرتی۔ جن چیزوں میں حکومت پکڑ دھکڑ کرتی ہے وہاں تو ہم پابند ہیں کیونکہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش نہیں کر سکتے لہٰذا قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں بلکہ وہاں پر قانون کی پاسداری کرنا لازم ہوگا۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت علیہ الرَّحمہ لکھتے ہیں:”کسی جرمِ قانونی کا ارتکاب کرکے اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا بھی منع ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ،ج29،ص93)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
21 اکتوبر، 2024

سوال : مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں کہ بعض اوقات کسٹمر ایک چیز خرید کر لے جانے کے بعد اسے واپس کرنے آتے ہیں تو کیا ہمارا اس سے وہ چیز لینا شرعا لازم ہوگا ؟ ہم نے دکان پر یہ لکھ کر لگابھی دیا ہے کہ خرہدا ہوا سامان واپس نہیں لیا جائیگا۔

جواب : خردی جانے والی چیز پر جب کسٹمر نے قبضہ کرلیا تو وہ قبضہ کرتے ہی مالک ہوگیا ، اب اگر بعد میں وہ واپس کرنے آتا ہے اور اس خریدی جانے والی چیز میں کوئی ایسا عیب بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے اسے واپس کیا جائے محض پسند نہ آنے کی صورت میں واپس کررہا ہے تو دکاندار کو اختیار ہے کہ وہ چیز واپس لے یا نہ لے ، ہاں اگر لے لیتا ہے تو یہ اس کی طرف سے مہربانی ہوگی ۔ہاں اگر اس خریدی جانے والی چیز میں ایسا عیب ہے ج دکاندار کے پاس سے ہی تھا تو اب دکاندار پر اس چیز کو واپس لینا لازم ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
19 اکتوبر، 2024

سوال : مفتی صاحب کیا ہم قربانی کا جانور کافر سے خرید سکتے ہیں ؟

جواب : مسلمان کا غیرمسلم سے خریدوفروخت کرنا شرعا درست ہے کیونکہ خریدوفروخت کے معاملے عقدکرنے والوں کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے، آپ جو قربانی کا جانور خرید رہے ہیں یا خریدینگے اگر وہ قربانی کے قابل ہے تو آپ اس غیرمسلم سے قربانی کاجانور خرید سکتے ہیں۔ اعلی حضرت امام اہلسنت لکھتے ہیں : ” غیر ذمی سے بھی خرید و فروخت، اجارہ و استیجار، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز اور خریدنا مطلقاً ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچنا ہر جائز چیز کا جس میں اعانتِ حرب یا اہانت اسلام نہ ہو۔ “ (فتاوٰی رضویہ،ج14،ص421،رضا فاونڈیشن،لاہور)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
18 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1)فریق اول نے ادویات کا کاروبار شروع کیا اور پھر پیسے کم ہونے کی وجہ سے جس کا پہلے ہی مقروض تھا ،اسے کاروبار میں شریک کرلیا اور قرض والی رقم اور کچھ ہزار نقد شامل کرلیے ،عقد شرکت یوں طے پایا کہ چھ ماہ کے لئے آپ کی رقم اس کا روبار میں شامل رہے گی اور چھ ماہ بعد آپ اپنی رقم جو کہ تین لاکھ بنتی ہے پوری کی پوری واپس لے لینا اور ماہانہ 20فیصد کے حساب سے نفع یا نقصان جوبھی رقم ہو وہ بھی لے لینا ،نفع نقصان کا مطلب یہ کہ اگر زیادہ نفع ہواتو زیادہ اور کم نفع ہواتو کم ملے گا،اور نقصان کی صورت میں بھی اس کی اصل رقم محفوظ ہی رہے گی ،اور یہ بھی طے ہوا کہ اگر آپ چاہیں گے تو انہیں شرائط پر چھ ماہ سے آگے بھی یہ معاہدہ چل سکتا ہے ،اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟یہ معاہدہ سوا مہینے تک چلا اور اس دوران کوئی نفع نہیں ہوا ۔ (2)اگر میں اس کو ختم کرکےاس قرض کے بدلے جو مجھ پر ہے کچھ مال اس دوسرے شخص کو بیچ دوں تو کیا اس سے شرکت ہوسکتی ہے ؟ وہ دوسرا شخص ساتھ کام نہیں کرے گا ۔

(1)یہ شرکت یامضاربت نہیں بلکہ قرض دے کر نفع لیناہے اور قرض دے کر نفع لینا سود ہے۔اس کے شرکت یا مضاربت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مضاربت میں مال ایک طرف سے ہوتا ہے نہ کہ دونوں طرف سے اور یہ شرکت بھی نہیں اگراس کے مقصود پرغور کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ قرض ہے کیونکہ یہاں شرائط قرض والی لگائی گئیں ہیں(مثلاً کاروبار میں نقصان کی صورت میں اس دوسرے شخص کا کوئی نقصان نہ ہوگا،اور اس کو بعد میں اس کی پوری رقم واپس مل جائے گی ) اور عقود میں مقصود کو ہی دیکھا جاتا ہے الفاظ کا اعتبار نہیں ہوتا۔ (2)اگر آپ اس معاہدہ کو ختم کرکے اُس قرض کے بدلے جو آپ پر لازم ہے اپنے مال کا کچھ حصہ مثلا نصف ،ثلث وغیرہ اس دوسرے شخص کو بیچ کر اس کے ساتھ عقد شرکت کرلیتے ہیں تو یہ جائز ہے کیونکہ چلتے کاروبار میں شرکت کا جائز طریقہ یہ ہوتا ہےکہ دوسرا شخص کاروبار والے کے مال کانصف ،تہائی ،یا دسواں جتنا بھی حصہ خریدنا چاہے ، خرید لے او ر اگر یہ خریداری اس قرض کے بدلے میں ہو جو مشتری نے بائع سے لینا ہے تو بھی جائز ہے۔خریدنے کے بعددونوں اس تمام مال میں عقد شرکت کرلیں یعنی آپس میں فیصد کے اعتبار سے نفع طے کرلیں مثلا50 فیصد نفع آپکا 50فیصد دوسرے کا یا 70فیصد آپ کا 30فیصد دوسرےکا،اور نفع طے کرنے میں یہ خیال رہے کہ جب وہ دوسرا شخص کام نہیں کرے گاتو اس کیلئے زیادہ نفع مقرر نہیں کرسکتے ۔اور اگر نقصان ہوا تو جس تناسب سے دونوں شریک ہیں اسی تناسب سے دونوں کا نقصان ہوگا ۔مثلاًاگر کاروبارپانچ لاکھ کا ہے تو دوسرے سے یوں کہے کہ میں نے اپنے کل مال کا دسواں حصہ پچاس ہزار کا آپ کو بیچا وہ دوسرا شخص اس کو قبول کر لے، بعد میں دونوں آپس میں عقد شرکت کرلیں۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

مارکیٹ میں کچھ لوگ ایسا بھی کرتے ہیں کہ جب کسی کو قرض لینا ہوتا ہے، تو وہ کسی دکاندار سے کہتا ہے کہ آپ کی دکان میں موجود یہ بائیک میں ادھار میں 60000 کی خریدتا ہوں اور رقم آہستہ آہستہ چھ مہینے میں آپ کو دوں گا اور پھر بائیک پر قبضہ بھی کرلیتا ہے ،پھر دکاندار وہی بائیک اس آدمی سے نقد میں 45000 کی خرید لیتا ہے ،تو کیا یہ عمل جائز ہے؟ دکاندار اسے بغیر پرافٹ کے قرضہ نہیں دینا چاہتااوراس شخص کو 45000 کی ضرورت ہوتی ہے ، تو یوں اسے اپنی مطلوبہ رقم مل جاتی ہے اور دکاندار کو نفع بھی مل جاتا ہے ، مگر یہ طریقہ کار شرعی طور پر درست ہے یا نہیں؟ اس کی راہنمائی فرمائیں۔

پوچھی گئی صورت میں یہ طریقہ کار ناجائز و گناہ اور اس طرح نفع کمانا بھی ناجائز وحرام ہے ۔اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بائع جب کوئی چیزبیچ دے، تو اس کی قیمت پر قبضہ کرنے سے پہلے پہلے وہی چیز اسی شخص یا اس کے وکیل سے کم قیمت میں نہیں خرید سکتا ، کیونکہ ابھی تک اس نے اس چیز کی اصل قیمت ادا ہی نہیں کی اور اصل قیمت کی ادائیگی سے پہلے ہی کم میں خریدنے سے دکاندار کو 15000 کا نفع ملے گا ، جو بِلاعوض حاصل ہورہا ہے اور یہ سُود کی ہی ایک صورت ہے ،لہٰذا اس طرح خریدنا اور نفع کمانا ،ناجائز وحرام ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں کہ کیا میں کاروبار شروع کرنے کے کٸے بینک سے قرض لے سکتا ہوں، کیونکہ کاروبار کے لٸے کوٸی بھی بڑی رقم دینے کو تیار نہیں ہوتااور مجھے ضرورت ہے؟

بینک سود کے بغیر قرض نہیں دیتا اور کاروبارکے لیے سودی قرض لینا حرام ہے اورسودی قرض لینے والے پر توبہ کرنا فرض ہے۔لہٰذا پوچھی گئی صورت میں بینک سے قرض لینے کی اجازت نہیں ہے ۔ روزی دینے والی ذات اللہ کریم کی ہے ، اُسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے ، انسان کے مقدرمیں جتنارزق ہے ،وہ اسے مل کرہی رہے گا،اس یقین کے ساتھ حلال ذرائع سے اسے طلب کیاجائے ،حرام کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ ہماری کمپنی والے آسان قرض کی سہولت دے رہے ہیںجس کو لینے کے بعد ہم حج کے لٸے جاسکتے ہیں، کیا اس طرح ہمارا حج اداہوجاۓ گا؟

کمپنی جب اپنی جانب سے یہ سہولت دے رہی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوٸی ناجاٸز و غیرشرعی شق نہیں لگارہی تو آپ کا کمپنی سے قرض لے کر حج کے لٸے جانا بالکل جاٸز ہے ،اس طرح آپ کا فرض بھی ادا ہوجاۓ گا۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

سوال: زید بہت زیادہ مقروض ہوچکا ہے، کیا وہ اپنے قرض کی اداٸیگی کے لٸے خود کو کسی جگہ قادیانی یا غیرمسلم ظاہر کرسکتا ہے؟

زید کا اپنے قرض کی اداٸیگی کے لٸے خود کو قادیانی یا غیر مسلم ظاہر کرنا جاٸز نہیں ہے بعض علماء کے نزدیک تو زید خود ایسا کرنے سے مسلمان ہی نہیں رہے گا اگرچہ وہ یہ کہے کہ میں دل سے نہیں ہوا تھا۔ زید قطعا اس فعل شنیع کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے اور اگر ایسا کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا تو اب اس سے تجدید ایمان بھی کریں اور شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی کرے۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’بَیِّن وواضح کہ یہاں کوئی صورتِ اِکراہ نہ تھی اور بِلا اِکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر ، اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ، عامہ علما فرماتے ہیں کہ اس سے نہ صرف مخلوق کے آگے ،بلکہ عند ﷲبھی کافر ہوجائے گا کہ اس نے دین کو معاذ اللہ کھیل بنایا اور اس کی عظمت خیال میں نہ لایا۔ امام علامہ فقیہ النفس فخر الدین اوزجندی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ خانیہ میں فرماتے ہیں:’’رجل کفر بلسانہ طائعاو قلبہ علی الایمان یکون کافراً ،ولا یکون عندﷲ مؤمنا ‘‘ ترجمہ:جس شخص نے زبان سے بخوشی کلمہ کفر کہا ،حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے، تو وہ کافر ہوجائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن نہ ہوگا۔ حاوی میں ہے:’’من کفر باللسان وقلبہ مطمئن بالایمان فھو کافرولیس بمؤمن عند ﷲ ‘‘ترجمہ: جس نے زبان سے کفر بَکا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے، تو وہ کافر ہے اور اﷲتعالیٰ کے نزدیک وہ مومن نہیں ہے۔ “(فتاوی رضویہ ،جلد27،صفحہ125،126 ،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور) زید کو چاہئے کہ وہ اللہ عزوجل کی رحمت پہ بھروسہ رکھے ،دین اسلام کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑے ،نماز ،روزہ وغیرہ فرائضِ اسلام کی پابندی کرے اور کام کی تلاش میں کوشش کرتا رہے ، اور اللہ عزوجل پر توکل کرے کہ رزق تو اسی نے عطافرمانا ہے اور وہ اپنے ڈرنے والے بندوں کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا ، جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا﴾ترجمہ کنز الایمان :’’اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا ،اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، تو وہ اسے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔‘‘ (پارہ 28،سورۃ الطلاق ،آیت 2 ، 3) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

میرا سوال یہ ہے کہ میں فرانس کی ایک کمپنی میں اکاونٹس کی جاب کرتا ہوں، یہ کمپنی غیرمسلموں کی ہے لیکن یہ کمپنی مسلمانوں سے سود پر قرض کرلیتی ہے، مجھے کسی نے بتایا تھا کہ کافر سے سود کا معاملہ نہیں ہوتا توکیا میں اس کمپنی میں کام کرسکتا ہوں ؟

پوچھی گئی صورت میں اگر وہ کمپنی ، جس میں آپ کام کر رہے ہیں، اس میں کسی بھی مسلمان کاکوئی شئیر شامل نہیں ،بلکہ وہ کمپنی خالصتاً کفارکی ہے ،تو اس کمپنی کو کوئی مسلمان قرض دے اور اس پر نفع حاصل کرے، اوراس نفع کووہ سودسمجھ کرنہ لے توجائز ہے ، پس ایسی صورت میں آپ کا وہاں نوکری کرنا بھی جائز ہے۔البتہ اگر وہ کمپنی مسلمانوں کو سود پر قرض دینے کا بھی کام کرتی ہے، تو آپ کا اس کے حساب کتاب کی نوکری کرنا، جائز نہیں ہو گا۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

مفتی سے میرا یہ سوال ہے کہ مجھے اپنے کاروبار کو مزید چلانے کے لیے کچھ رقم چاہیے ، میں نے اپنے دوست سے وہ رقم بطور ادھار لینی ہے ،اس میں ہم یوں طے کر رہے ہیں کہ جو مال میں بیچوں گا اس کے ایک پیس کے حساب سے ایک مخصوص اماؤنٹ اپنے دوست کو نفع کے طور پر دوں گا البتہ اس کی اصل رقم میرے پاس ہی رہے گی اور جب مجھے لوٹانا ہوگا تو میں واپس بھی لوٹا دوں گا کیا میرا اس طرح کر دینا درست ہے ؟

پوچھی گئی صورت میں بیان کردہ طریقہ خالص سود ہے کہ قرض دے کر نفع لینا ہے اور اسی کو سود کہتے ہیں ، اس کا لینا دینا ناجائز و حرام ہے ۔ اللہ عز وجل قرآنِ مجید میں سود کی حرمت کے متعلق ارشاد فرماتا ہے : ﴿ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ﴾ ترجمۂ کنز الایمان:”اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود کو ۔ “ (پارہ 3 ، سورۃ البقرۃ ، آیت 275 ) نفع کے ساتھ مشروط قرض کے متعلق سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے فرمایا :”کل قرض جر منفعۃ فھو ربا “ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لائے سود ہے ۔ ( نصب الرایہ ، جلد 4 ، صفحہ 60 ، مطبوعہ مؤسسۃ الریان ، بیروت ) صحیح مسلم میں ہے:’’ عن جابر رضی اللہ تعالی عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اٰکلَ الربا و موکلَہ و کاتبَہ و شاھدیہ ‘‘ ترجمہ : سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، سود لکھنے والے اور سود کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ ( الصحیح لمسلم ، کتاب البیوع ، باب الربا، جلد 2 ، صفحہ 27 ، مطبوعہ کراچی ) سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں قرض پر نفع کے متعلق فرماتے ہیں:”قطعی سود اور یقینی حرام و گناہِ کبیرہ و خبیث و مردار ہے ۔ “ ( فتاوی رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 269 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور ) ایسا قرض لینے ، دینے والے کے متعلق فرماتے ہیں:” اگر قرض دینے میں یہ شرط ہوئی تھی ، تو بے شک سود و حرامِ قطعی و گناہِ کبیرہ ہے ۔ ایسا قرض دینے والا ملعون اور لینے والا بھی اسی کے مثل ملعون ہے ۔ “ ( فتاوی رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 278 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
10 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ ایک کمپنی ہے جو low quality کا مال تیار کرتی ہے اور اپنے اس مال پر ایک famous quality brand کا logo لگادیتی ہے پھر کسٹمر کو بغیر بتائے اپنا وہ مال مارکیٹ میں بیچتی ہے ، کیا اس طرح کرنا شریعت کے اعتبار سے جائز ہے ؟

جواب : ہرگز نہیں ، یہ شرعا، قانونااور اخلاقا ہر اعتبار سے غلط ہے ۔ شرعی اعتبار سے یہ جھوٹ اور دھوکا ہے اور ملکی قانون بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ، یہ کمپنی جس برانڈ کا logoاستعمال کررہی ہے اگر وہ رجسٹرڈ کمپنی کا ہے تو اُس کمپنی والے اس پر قانونی کاروائی بھی کرسکتے ہیں نیز اخلاقی اعتبار سے بھی دیکھا جائے ہر سلیم الطبع شخص اس عمل کی مذمت ہی کریگا۔ مسلم شریف کی روایت ہے : نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من غشّ فلیس منا ترجمہ : جس نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ (صحیح مسلم ، حدیث 101) علامہ عبدالروف مناوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : کسی چیز کی اصلی حالت کو پوشیدہ رکھنا یہ دھوکا ہے ( فیض القدیر ، ج04، زیرحدیث 8879)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
11 اکتوبر، 2024

مفتی ساحب سے میرا یہ سوال ہے کہ میرے گھر والے قریب ہی راشن کی دکان سے خریدوفروخت کرتے رہتے ہیں ، میں نے آسانی کے لئے ایسا کیا ہے کہ اس دکاندار کو پہلے ہی 5000 دے دیتا ہوں اور کہہ دیتا ہوں کہ میرے گھر والے جو لینا چاہیں انہیں دیتے رہنا اور اس میں رقم minus کرتے رہنا ، کیا میرا ایسا کرنا جائز ہے ؟

بیان کیا گیا طریقہ درست نہیں ہے کیونکہ خریدو فروخت کے اصول میں یہ ہے کہ مبیع متعین ہو اور ریٹ معلوم ہو یہاں نہ مبیع کا تعین ہے اور نہ ہی مبیع کا ریٹ ، اور ریٹ کا معاملہ تو اایسا ہے کہ یہ بدلتا بھی رہتا ہے ، اور عمومی طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ دکاندار اصل مالک کو اطلاع نییں کرتا، اپنے ریٹ کے مطابق چیز دے دیتا ہے لہذا یہ طریقہ جائز نہیں ہے نیز اس کے عدم جواز کی دوسری وجہ یہ ہے کہ فقہائے کرام نے باتصریح اس طریقے کار کی ممانعت فرمائی ہے ۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : "پنساری کو روپیہ دیتے ہیں اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ روپیہ سودے میں کٹتا رہے گا یا دیتے وقت یہ شرط نہ ہو کہ سودے میں کٹ جائے گا مگر معلوم ہے کہ یونہی کیا جائے گا تو اس طرح روپیہ دینا ممنوع ہے کہ اس قرض سے یہ نفع ہوا کہ اس کے پاس رہنے میں اس کے ضائع ہونے کا احتمال تھا اب یہ احتمال جاتا رہا اور قرض سے نفع اٹھانا ناجائز ہے۔“(بہارِ شریعت،ج3،ص481)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

کیا میں مشہور برانڈ کا نام اپنے کاروبار کے عنوان میں استعمال کرسکتا ہوں؟

قانونی طور پر اس کی اجازت نہیں ہے کیونکہ جس برانڈ کے نام کا استعمال ہوا ، وہ برانڈ چاہے تو ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی کرنے پر ایسے شخص پر قانونی کاروائی کرسکتا ہے ۔ اورجو قانون خلاف شرع نہ ہو اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض اوقات شراکت داری میں اس طرح ہوتا ہے کہ اگر کاروبار نقصان میں جارہا ہو تو پرانے پارٹنر کاروبار کو بہتر بنانے کے لیے نئے پارٹنر کو شامل کرتے ہیں تو نیا پارٹنر پرانے پارٹنر سے کہتا ہے کہ مارکیٹ میں میری گُڈ وِل (Goodwill) زیادہ ہے اس لیے مثال کے طور پر اگر میں ایک لاکھ بزنس میں لاؤں تو مجھے ڈیڑھ لاکھ کا کیپیٹل دیا جائے یعنی اسکا حق پچاس ہزار اضافی بڑھایا جائے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

• جواب:پوچھی گئی صورت میں محض گُڈ وِل (Goodwill) کی بنیاد پرکیپیٹل میں اضافہ کروانا شرعاً درست نہیں کیو نکہ گُڈ وِل (Goodwill) کی حیثیت ایک منفعت کی سی ہے یہ کو ئی مال نہیں ہے کہ جس کے عوض میں کچھ لیا جائے۔ لہٰذا نئے پارٹنر کا کیپٹل اتنا ہی شو (Show) کریں گے جتنا اس نے دیا ہے اگر ایک لاکھ کا کیپیٹل ہے تو ڈیڑھ لاکھ شو (Show) کرنا جائز نہیں۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب یہ ٹریڈ مارک کیا ہوتا ہے ، کیا اس کی قانونی حیثیت ہے ؟

"ٹریڈ مارک کوئی بھی لفظ، جملہ، علامت، ڈیزائن، یا ان سب چیزوں کا مجموعہ ہو سکتا ہے جو آپ کی مصنوعات یا خدمات کی پہچان کراتا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے گاہک آپ کو مارکیٹ میں پہچانتے ہیں اور آپ کو آپ کے competitorsسے ممتاز کرتے ہیں۔" A trademark can be any word, phrase, symbol, design, or a combination of these things that identifies your goods or services. It’s how customers recognize you in the marketplace and distinguish you from your competitors نیز اس کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے ، اگر کسی شخص نے کسی ٹریڈ مارک کا استعمال اس کے اصل مالک کی اجازت کے بغیر کیا تو ایسے شخص پر قانونی کاروائی بھی کی جاسکتی ہے ۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

کیا میں برانڈ کا نام اپنی ویب سائٹ کے ڈومین کے طور پر استعمال کرسکتا ہوں؟

جواب : کسی بھی برأنڈ کا نام اس کی اپنی شناخت و پہچان ہوتا ہے۔ آپ جب کسی برانڈ کا نام اپنی ویب سأٸٹ کے ڈومین میں استعمال کرینگے تو اس طرح آپ یہ ظاہر کررہے ہونگے کہ آپ کا تعلق اس برانڈ کے ساتھ ہے یا آپ کو برانڈ نے اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دی ہوٸی ہے جبکہ حقیقت حال کچھ اور ہی ہوگی، لہذا آپ کا کسی بھی برانڈ کا نام اپنی ویب ساٸٹ domain میں استعمال کرنا جاٸز نہیں ہے۔ کیونکہ یہ ایک دھوکے کی صورت ہے اور دھوکا شرعا جاٸز نہیں ہے نیز قانونی اعتبار سے بھی یہ جرم ہوگا ، آپ پر قانونی کارواٸی بھی کی جاسکتی ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

مفتی ساحب میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ میں اپنی product کی advertise کے لئے ایک معروف برانڈ کا نام بھی استعمال کررہا ہوں اور لوگ کرتے بھی ہیں ، اس برانڈ والوں کی طرف سے کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا کیا میرے لئے ان کے نام کا استعمال جائز ہوگا ؟

آپ اپنے product کی تشہیر کے لئے کسی برانڈ کانام اس کی اجازت کے بغیر استعمال نہ کریں ، اگرچہ اس برانڈ کے مالکان کو کوئی اعتراض نہ ہوتا ہو اگر وہ برانڈ رجسٹرڈ ہے تو پھر آپ کے لئے ایسا کرنا قانونی اعتبار سے درست نہیں ہے ، اس طرح آپ آزمائش میں آسکتے ہیں ، قانونی کاروائی بھی ہوسکتی ہے پھر اس طرح ذلت و رسوائی بھی ہوگی اور ممکن ہے پھر رشوت یا جرمانہ دئیے بغیر خلاصی نہ لہذا ابتداءً ہی اس سے آپ احتیاط کریں البتہ اگر مالکان سے رابطہ کرکے ان کی اجازت سے کرتے ہیں تو پھر کو اس کی اجازت ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

میرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ زخیرہ نادوزی کرتے ہیں ان کے لئے حدیث ہاک میں کیا وعید بیان کی گئی ہے ؟

نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس قسم کی ذخیرہ اندوزی کی مَذَمَّت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: جو مہنگائی بڑھانے کی نیت سے چالیس دن غلہ روکے تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دور ہوگیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے بیزار ہوگیا۔(مشکاۃ المصابیح،ج 1،ص536، حدیث:2896) حکیم الامّت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: چالیس دن کا ذکر حدبندی کے لئے نہیں، تاکہ اس سے کم اِحتکار جائز ہو، بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو اِحتکار کا عادی ہوجائے اس کی یہ سزا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج 4،ص290)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اِحْتِکار کا حکم کیا ہے اور اِحْتِکار کس کو کہتے ہیں؟

اِحْتِکار سخت ممنوع،ناجائز و گناہ ہے، اس کی مذمّت پر کئی احادیث وارد ہیں۔ حضرتِ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:” جس نے مسلمانوں پر غلّہ روک دیا ،اللہ تعالیٰ اُسے جُذام (کوڑھ) اور اِفْلاس میں مبتلا فرمائے گا۔‘‘(مشکوٰۃالمصابیح،ج1،ص535،حدیث:2895) اِحْتِکار کا لغوی معنیٰ ہے گِرانی کے انتظار میں کسی بھی چیز کا ذخیرہ کرلینا۔ جبکہ شریعت کی اصطلاح میں وہ چیز جو انسانوں یا جانوروں کی بنیادی خوراک ہے اسے اس نیت سے روک کر رکھنا کہ جب اس کی قیمت زیادہ ہوگی تب بیچیں گے بشرطیکہ نہ بیچنے سے لوگوں کوضرر ہو اور وہ چیز شہر یا شہر کے قریب سے خریدی ہو، یہ اِحْتِکار کہلاتا ہے۔ لہٰذا اگر اس کے نہ بیچنے سے لوگوں کو ضرر نہیں ہوتا، یا وہ چیز اس کی اپنی زمین کی ہے یا وہ دور سے خرید کر لایا ہے تو ان صورتوں میں روک کر رکھنا اِحْتِکار میں داخل نہیں۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن لکھتے ہیں: ’’غلّہ کو اس نظر سے روکنا کہ گِرانی کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کا نہ بیچنا لوگوں کو مُضِر ہو مکروہ و ممنوع ہے، اور اگر غلّہ دُور سے خرید کر لائے اور بانتظارِ گرانی نہ بیچےیا نہ بیچنا اس کا خلق کو مُضِر نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ،ج17،ص189)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا معیشت پر ذخیرہ اندوزی کے برے اثرات پڑتے ہیں ؟

ذخیرہ اندوزی سے معیشت پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے کہ قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عوام کی مشکلات، اور غربت میں اضافہ۔ یہ اسلامی معیشت میں ممنوع ہے کیونکہ یہ انصاف اور معاشرتی بہبود کے خلاف ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب یہ ٹریڈمارک کیا ہوتا ہے ، کیا اس کی قانونی حیثیت ہے؟

"ٹریڈ مارک کوئی بھی لفظ، جملہ، علامت، ڈیزائن، یا ان سب چیزوں کا مجموعہ ہو سکتا ہے جو آپ کی مصنوعات یا خدمات کی پہچان کراتا ہے۔اس کے ذریعے گاہک آپ کو مارکیٹ میں پہچانتے ہیں اور آپ کو آپ کے competitorsسے ممتاز کرتے ہیں۔" A trademark can be any word, phrase, symbol, design, or a combination of these things that identifies your goods or services. It’s how customers recognize you in the marketplace and distinguish you from your competitors مزید یہ کہ تریڈ مارک کو قانونی حیثیت بھی دی گئی ہے اگر کوئی شکص کسی کا ٹریڈ مارک اس کی اجازت کے بغیر کسی کام میں استعمال کرتا ہے تو ایسے شخص پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے ۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
12 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں میں مختلف کمپنیز میں اپنا مال دیتا ہوں، کمنپنی مینیجر مجھ سے میرا مال نکلوانے کے پیسے لیتے ہیں ،حالانکہ وہ وہاں سے سیلری بھی لیتے ہیں۔ کیا ان کا مجھ سے یہ رقم لینا درست ہے ؟

مال اوکے(ok)کرنا، پاس کرنا مینیجرز کے اجارے میں شامل ہے، لہٰذا ان پرلازم ہے کہ یہ دیانت داری کے ساتھ درست مال کوپاس کریں اورنادرست مال کوريجیکٹ کردیں۔جومال اوکےہونےکےلیے ان کےپاس آئےگااس کی دوصورتیں ہوں گی:(1)یاتووہ مال نادرست ہوگا۔(2)یادرست ہوگا۔ (1)جونادرست ہے اس کوپاس کرنااپنے عہدے سے خیانت،جھوٹ اور اپنی کمپنی کو دھوکہ دیناہےاوریہ سب ناجائزوحرام ہے اوراگرپیسے لے کر ایسے مال کوپاس کرے گا،تویہ رشوت ہوگی کہ مال پاس کروانے والا اپناکام نکلوانے کے لیے پیسے دے رہاہے اور یہ لے رہا ہےاور رشوت دینا لینا باعث لعنت،ناجائز و حرام ہے۔ (2) جودرست مال ہےوہ ایسا ہے کہ کمپنی کے متعلق ہے ،اُس کے لیے نفع بخش ہے اور اُس کے وارے میں بھی ہے۔ اُسےپاس کرنے کے لیے پیسے لینابھی رشوت ہے۔ مزید یہ کہ مذکورہ اوصاف والا مال پاس کرنے پراِن کااجارہ ہے ،تو یہ کام دیانتداری سے کرنا ویسے ہی اِن پرواجب ہے، اوراپنا واجب ادا کرنے کے لیے پیسے وصول کرنا ،جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مال تو درست ہے، لیکن کمپنی کو درست مال دینے والے زیادہ ہیں اور مال دینے والا یہ چاہتا ہے کہ میرا مال پہلے نکل جائے یا ان میں سے میرا ہی مال لیا جائے ، اس لیےمینیجر کو پیسے دیتا ہے،تو یہ بھی پہلی صورت میں داخل ہوگا کہ اب وہ جو پیسے دے رہا ہے ، اپنا کام نکلوانے کے لیے ہیں اور یہ بھی رشوت ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کمیشن اور رشوت میں کیا فرق ہے ؟

کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے اس ذریعے سے روزی کمانا حلال ہے اور یہ طریقۂ آمدنی صدیوں سے رائج ہے اور کسی دور میں بھی علماء نے اس کو حرام نہیں کہا۔ البتہ رشوت کو کمیشن کہنے سے رشوت حلال نہیں ہوگی بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔اور رشوت عام طور پر اپنا کام نکلوانے کے لٸے جو لالچ دیا جاتا ہے اسے رشوت کہا جاتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفیان ِشرع متین اس مسئلے کےبارےمیں کہ زیدنے چل پھرکرمحنت ومشقت کرکے ایک فیصدکمیشن پربکرکامکان خالدکے ہاتھ فروخت کردیا اوربکرنے ایک لاکھ بیعانہ بھی وصول کرلیا، لیکن پھرکچھ عرصے کے بعدخالد سے بقیہ پیسوں کابندوبست نہ ہونے کے بناپرباہمی رضامندی سےسوداختم ہوگیا۔سوال یہ ہے کہ زیدنے جوایک فیصدکمیشن لیاہے، کیاوہ کمیشن سودافسخ ہونے کی بناپرواپس لیا جائے گایانہیں؟

دریافت کی گئی صورت میں زیدنے جوچل پھرکرمحنت ومشقت کرکے بکراورخالدکے مابین مکان کاسودامکمل کرواکرایک فیصد کمیشن لیاتھا،وہ سودا ختم ہونے پرواپس نہیں لیاجاسکتا،کیونکہ کمیشن سودامکمل کروانے کے عوض قرارپایاتھا اورزیدنے سودا مکمل کروادیاتھا،لہذاوہ کمیشن کامستحق ہوگیاتھا،اب سوداختم ہونے سے زیدکاکمیشن باطل نہیں ہوگا۔ فتاوی قاضی خان میں ہے اسی میں ہے:”الدال فی البیع اذا أخذ دلالتہ بعد البیع ثم انفسخ البیع بینھما بسبب من الأسباب سلمت لہ الدلالیة لأن الأجر عوض مقابل بالعمل وقد تم العمل….کالخیاط اذاخاط الثوب ثم فتقہ صاحب الثوب فانہ لایرجع علی الخیاط بالاجر“ترجمہ:جب بروکرنے عقدکروانے کے بعداپناکمیشن لے لیا،پھران خریداراورفروخت کرنے والے کے درمیان کسی سبب سے بیع فسخ ہوگئی،توبروکرکوکمیشن دیاجائے گا،کیونکہ کمیشن عمل کے مقابل معاوضہ ہے اوربیشک عمل مکمل ہوچکا،جیسے درزی نے جب کپڑے سلائی کیے ، پھرکپڑے کے مالک نے اسے ادھیڑ دیا،توکپڑے کامالک درزی سے اجرت واپس نہیں لے گا۔ (فتاوی قاضی خان برھامش ھندیہ،کتاب الاجارات،ج02،ص327،مطبوعہ کوئٹہ)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

(1)کمیشن پر کام کرنا کیسا؟ (2) پراپرٹی ڈیلر کمیشن پر کام کرتے ہیں یہ کام کرنا کیسا؟

شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے ذریعے روزی کمانے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعۂ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقۂ آمدنی آج کا نہیں بلکہ صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا ۔ بعض لوگ رشوت کو بھی کمیشن بولتے ہیں۔ واضح رہے! کہ اس طرح رشوت کو کمیشن بولنے سے ہرگز رشوت حلال نہ ہوگی بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں گارمنٹس کا کام کرتا ہوں کہ سامان تیار کر کے یا خرید کر دکانوں پر سپلائی کرتا ہوں ، میں اپنا مال بیچنے کے لئے مارکیٹ میں دکانوں میں جو سیلز مین ہوتے ہیں ان کو کمیشن دیتا ہوں تا کہ سر دست میرا مال فروخت کریں ، جبکہ دکان کے مالک کو اِس کمیشن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ میں اُس کے ملازم کو کمیشن دیتا ہوں ، میرے مال کی کوالٹی میں کِسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہوتی ، مجھے مجبورا کمیشن دینا پڑتا ہے ، اگر میں سیلز مین کو کمیشن نہ دوں تو وہ میرا مال فروخت نہیں کرتا ، اور یہ معاملہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ مارکیٹ میں سب پارٹیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ مال نہ بکنے کی صورت میں واپس کر دیا جاتا ہے ، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس حالات میں سیلز مین کو کمیشن دینا درست ہے یا نہیں ؟

صورتِ مسئولہ میں آپ کمیشن کے نام پر جو کچھ سیلز مین کو دیتے ہیں وہ کمیشن نہیں بلکہ رشوت ہے ، اوررشوت لینا ، دینا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، اورقرآن وحدیث میں اِس پر سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آپ نے سامان دکاندار کو بیچ دیا تو وہ اب آپ کا نہ رہا بلکہ دکاندار کا ہو گیا لہٰذا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنا مال بیچنے پر کمیشن دے رہا ہوں ، بلکہ آپ اپنا کام نکلوانے کے لئے مال دے رہے ہیں کہ سیلز مین کو کچھ مال دوں تاکہ یہ سر دست ترجیحی طور پر میری پروڈکٹ سیل کریں تو مزید مال آئے اور اس طرح اپنی منشاء (مراد ، چاہت) پوری کرنے کے لئے جو مال دیا جاتا ہے وہ رشوت کہلاتا ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں میں اسکول وین چلاتا ہوں، جس اسکول سے بچے pick &drop کرتا ہوں،اس اسکول والے مجھ سے فی بچے کے حساب سے کمیشن لیتے ہیں ، کیا ان کا یہ کمیشن لینا جاٸز ہے؟

اسکول والوں کا آپ سے یہ کمیشن لینا جاٸز اس صورت میں ہوگا جبکہ وہ آپ کو اور بچے کے والدین کو ملانے کا کام انجام دیتے لیکن عموما ایسا ہوتا نہیں ہے۔ کیونکہ وین والوں سےوالدین خود ملتے ہیں، بات چیت خود کرتے ہیں، کرایہ خود طے کرتے ہیں۔ اس میں اسکول والوں کا کوٸی رول نہیں ہوتا، لہذا اگر یہی صورت ہے تو اسکول والوں کا آپ سے کمیشن لینا درست نہیں ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارا اسٹیٹ کا کام ہےہم کسی کو کام دلواتے ہیں مثلاً کسی کارپینٹر کو کچن کا کام دلواتے ہیں توہم اسے کہتے ہیں کہ ہمارا کمیشن رکھ لیجئے گا وہ ہمارا کمیشن رکھ کر کسٹمر کو پیسے بتاتا ہے کہ اتنے میں کام ہوگا بعد میں وہ ہمیں ہمارا کمیشن دے دیتا ہے۔ اسی طرح حج و عمرہ کے کام میں اس طرح ہوتا ہے کہ ہم ان سے فی پاسپورٹ کے حساب سے بات کر لیتے ہیں کہ ہمارے ذریعے سے جتنے افراد جائیں گےفی پاسپورٹ کے ٹریول ایجنسی والے سے پانچ ہزار دوہزار وغیرہ کمیشن لے لیتے ہیں۔ ہمارا اس طرح کام کرنا کیسا ہے؟

کسی کاریگر کو کام دلوا کر اس پر کمیشن لینا جائز ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ کاریگر سے آپ کا پہلے سے معاہدہ ہو کہ میں آپ کو کام دلواؤں گا تو آپ مجھے اس پر اتنا کمیشن دیں گے۔ دوسری بات یہ کہ کاریگر کو اس پارٹی سے ملوانے اور اسے کام دلوانے میں آپ کی محنت شامل ہو۔ اگر آپ کہیں سے گزر رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک مکان میں توڑ پھوڑہورہی ہےاور آپ نے کاریگر کو فون کر دیا کہ اس مکان میں چلے جاؤ ہوسکتا ہے کہ تمہیں کام مل جائے ، تو یہ کام دلوانا نہیں کہلائے گا اور اس پر کمیشن کے حقدار بھی نہیں ہوں گے۔ دونوں پارٹیوں کو ملوانے میں خود محنت(Physical Activity)کرتے ہیں اس کو ساتھ لے جاتے ہیں ملوا دیتے ہیں تو یہ کام کرنے پر آپ کمیشن کے مستحق ہوں گے۔ یہی معاملہ حج و عمرہ کے ایجنٹس کا ہے یعنی جو کاروان والے ہوتے ہیں یا ٹریول ایجنٹس ہوتے ہیں ان کے لئے لوگ گاہگ لے کر آتے ہیں ان کا پہلے سےٹریول والے سے معاہدہ ہوتا ہے کہ میں آپ کے پاس گاہگ لے کر آؤں گا تومجھے فی پاسپورٹ اتنا کمیشن ملے گا یہ بھی ایک ایسا کام ہے جس کا معاوضہ طے کیا جا سکتا ہے لہٰذا اس کا معاوضہ لینا بھی درست ہے۔

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کمیشن ایجنٹ کمپنی ریٹ سے زیادہ قیمت پر چیز بیچ کر اضافی رقم خود رکھ سکتا ہے

شرعی قوانین کی رو سے بروکر ایک نمائندہ ہوتا ہے خود پارٹی نہیں ہوتا بلکہ دو پارٹیوں کو ملوارہا ہوتا ہے ۔سودا اگر زیادہ پیسوں میں ہوتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ مال بیچنے والے کو اسی قیمت سے آگاہ کرے جس قیمت میں مال بکا ہے اور پوری قیمت بیچنے والے کے حوالے کرے اصل قیمت میں سے خود رکھنا اور مالکان کو آگاہ نہ کرنا یہ حرام فعل ہے نہ ہی یہ اضافی رقم اس کیلئے حلال ہوگی۔یہ صرف اپنی مقررہ کمیشن کا حق دار ہے ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بروکر ایک پارٹی کو دوسری پارٹی سے ملوا دیتا ہے اور ان کے درمیان سودا مکمل ہو جاتا ہے اور بروکر اپنی بروکری لے لیتا ہے،لیکن بعد میں بھی جب کبھی یہ دونو ں پارٹیاں آپس میں کوئی سودا کرتی ہیں تو کیا بروکر کو دوبارہ کمیشن دینا ہوگا ؟کیا اس دوسرے سودے پر کمیشن لینا بروکر کا حق ہے؟

صورت مسئولہ کے مطابق کام کروانے کے بعد جب بروکر اپنا طے شدہ کمیشن لے چکا تو آئندہ کے لئے دونوں پارٹیاں آزاد ہیں، چاہے خود کام کریں، چاہے کسی معتبر ضرورت کی بنیاد پر بروکر کے ذریعے کام کروائیں ۔اگر آئندہ بروکر ان دونوں پارٹیوں کیلئے کام نہیں کرتا تو وہ آئندہ کسی ایسے سودے پر معاوضہ کا مستحق نہیں ہوگا جو فریقین نے از خود کیا ہو۔ بروکر کا ایک مرتبہ فریقین کو ملوا کر ان کا سودا کروا کر یہ سمجھنا کہ میں نے دونو ں پارٹیوں کو ملوایا ہے،لہٰذا اب تاحیات یا لمبے عرصہ تک مجھے گھر بیٹھے ہر مرتبہ ان کے از خود ہونے والے سودے کے بدلے کمیشن ملنا چاہیے۔ یہ بلا شبہ غیر شرعی معاملہ اور غلط سوچ ہے، نہ تو ایسی صورت میں بروکری کا تقاضا کرنا درست ہے اورنہ ہی اس صورت میں بروکری لینا بروکر کا حق ہے۔بہت ساری مارکیٹوں میں یہ ناجائز طریقہ رائج ہے کہ ایک بار سودا کروانے کے بعد جب بھی وہ دونوں پارٹیاں باہم رضا مندی سے کوئی سودا کریں تو بروکر اپنا کمیشن مانگتا ہے یہ جائز نہیں۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میرا فرنیچر کا کام ہے، جب میں کسی پارٹی کو پلائی یا ہارڈویئر وغیرہ دلانے کسی دکان پر لے جاتا ہوں تو میں اس دکاندار سےایک طے شدہ کمیشن لیتا ہوں، کیا میرا اس دکاندار سے کمیشن لینا درست ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں جب آپ گاہک کے ساتھ دکاندار کے پاس جا رہے ہیں اوراس کی خریداری میں مدد کریں گے اور کوالٹی سے متعلق معلومات کے ذریعےفائدہ پہنچائیں گے تو ایسا کام ایک با مقصد کام ہے اس سے کوئی انکار نہیں لیکن اس کام پردکاندار سے کمیشن لینے کے حوالے سے دو باتوں کو مدّ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اوّل یہ کہ جس شخص کو آپ دکاندار کے پاس لے کر جا رہے ہیں ،آپ اس کے لئے بلا معاوضہ کام کر رہے ہوں کیونکہ جسے معاوضہ دے کر لے جایا جائے وہ اجیر ہوتا ہے اور اجیر وکیل ہوتا ہے اور وکیل کو یہ استحقاق نہیں کہ وہ سامنے والے سے بھی اجرت لے۔ (اِلَّا فِی الْاُمُوْرِ الْمُسْتَثْنَاۃِ بِالْعُرْفِ) دوسری چیز یہ ہے کہ آپ نے دکاندار کے ساتھ پہلے سے معاہدہ کیا ہوا ہو کہ اس طرز کا گاہک آپ لے کر آئیں گے تو اتنا معاوضہ آپ کو ملے گا ۔یہ نہ ہو کہ جس دکان پر آپ لے جائیں گاہک کو اس دکان پر مال پسند نہ آئے اور وہ کہیں اور سے خریدے لیکن بعد میں اس دکاندار سے آپ کمیشن کا مطالبہ کریں کیونکہ اول تو آپ کا استحقاق کسی معاہدے کے سبب ہی ممکن تھا جو کہ نہیں پایا گیا۔ دوسرا یہ کہ اس دکان دار کے لئے تو آپ نے کام نہیں کیا بلکہ گاہک از خود اس کے پاس گیا ہے اور دوسرے دکاندار سے آپ کا کوئی پیشگی معاہدہ نہیں تھا۔ جب یہ دو شرائط پائی جائیں تو آپ کا دکاندار سے کمیشن لینا جائز ہے کیونکہ آپ جو کام کرتے ہیں یہ ایک قابلِ معاوضہ کام ہے۔ ان دونوں شرائط کی موجودگی میں بھی آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کسٹمر کو اس کی مطلوبہ شے ہی دلائیں، ایسا نہ ہو کہ اس نے آپ سے سب سے عمدہ شے دلانے کا کہا اور آپ اسے گھٹیا شے دلوا دیں یا پھر کسی اور قسم کی دھوکہ دہی سے کام لیں ایسا کرنا جائز نہ ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

سوال : مضارب اور رب المال کیا مضاربت کے لٸے کوٸی وقت مخصوص کرسکتے ہیں ؟

جی ہاں، مضارب اور رب المال کو اس بات کااختیار ہے کہ وہ مضاربت کے لٸے کوٸی وقت مخصوص کرلیں یعنی اس وقت تک ہماری مضاربت رہے گی ، اتنے مہینوں بعد مضاربت ختم ہوجاۓگی، ایسا کرنا شرعا درست ہے،اور اگر ختم ہونے کے بعد اس کو مزید چلانا چاہیں تو یہ بھی ان باہمی رضا مندی پر آگے اس کو جاری بھی رکھ سکتے ہیں۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
9 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کاروبار کرنے کے لئے بکر کو پانچ لاکھ روپے دے اور طے یہ کرے کہ نفع ہمارے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا اور نقصان میں بھی ہم دونوں برابر کے ہی شریک ہوں گے تو کیا اس صورت میں یہ کاروبار کرنا درست ہے ؟ اور اس سودے میں نقصان کب رَبُّ المال ( Investor ) کی طرف لوٹے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ اولاً تو یہ یاد رہے کہ ایک شخص کی رقم ہو اور دوسرے کی فقط محنت ہو تو شرعی اصطلاح میں کاروبار کے اس طریقۂ کار کو ” مضاربت “ کہتے ہیں۔ مضاربت میں نقصان کا اصول یہ ہے کہ مُضارِب فقط اپنی کوتاہی سے ہونے والے نقصان کا ذمّہ دار ہوتا ہے مطلقاً نقصان کی شرط اس کے ذمہ لگانا درست نہیں کہ یہ شرط ہی سرے سے باطل ہے۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے : ” مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدِّی و دست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحبِ مال کی طرف رہے گا۔ “ ( فتاوٰی رضویہ ، 19 / 131 ) بہارِ شریعت میں ہے : ” اگر ( مضاربت میں لگائی گئی ) اس شرط سے نفع میں جہالت نہ ہو تو وہ شرط ہی فاسد ہے اور مضارَبت صحیح ہے مثلاً یہ کہ نقصان جو کچھ ہوگا وہ مضارِب کے ذمہ ہوگا یا دونوں کے ذمہ ڈالا جائے گا۔ “ ( بہارشریعت ،3 / 3 ) ما قبل تفصیل کی روشنی میں پوچھی گئی صورت میں اگر مضارب ( Working Partner ) کی کوتاہی کے بغیر رَاسُ المال ( Capital ) میں نقصان ہوجاتا ہے تو یہ نقصان رَبُّ المال ( Investor ) کا ہوگا۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید کا بکر مضارب کو نقصان میں برابر شریک کرنے کی شرط لگانا باطل و بے اثر ہے ، لیکن اس باطل شرط کی وجہ سے مضاربت فاسد نہیں ہوگی۔ رہا یہ سوال کہ مضاربت میں نقصان ہے کیا ؟ اور وہ کب رب المال ( Investor ) کی طرف لوٹتا ہے تو اس بارے میں واقعی بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جیسا کہ بعض اوقات مطلقاً نفع کی کمی کو بھی نقصان سمجھ لیا جاتا ہے ، حالانکہ یہ درست نہیں۔ مضاربت میں کون سا نقصان رب المال پر آئے گا اس تعلق سے تین صورتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ( 1 )اوّلاً ہونے والے نقصان کو کاروباری نفع سے پورا کیا جائے گا۔ لہٰذا اس صورت میں نقصان پورا کرنے کے بعد نفع میں سے اگر کچھ بچتا ہے تو وہ فریقین میں طے شدہ تناسب سے تقسیم کردیا جائے گا ، نفع نہ بچنے کی صورت میں کسی فریق کو نفع کے طور پر کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ( 2 )اگر فریقین دورانِ کاروبار حساب کرکے نفع تقسیم کرلیتے ہیں اور مضاربت کوحسبِ دستور باقی رکھتے ہیں تو اب نقصان ہونے کی صورت میں یہ سابقہ تقسیم شدہ نفع واپس لے کر اوّلاً اس نفع سے نقصان کی تلافی کی جائے گی تاکہ راس المال ( Capital ) نقصان سے محفوظ رہے۔ یہاں فقہائے کرام نے یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اگر عقدِ مضاربت کو ایک مخصوص وقت کے لئے کیا جائے مثلاً چھ ماہ یا سال ، پھر جاری رکھنا ہو تو دوبارہ معاہدہ کر لیا جائے تو یوں دوبارہ عقد ہونے کی صورت میں نقصان ہونے پر سابقہ عقد کے نفع سے نقصان پورا نہیں کیا جائے گا۔ ( 3 )بالفرض اگر نفع میں سے کسی بھی صورت نقصان پورا نہ ہوسکے تو اب اس نقصان کو راس المال ( Capital ) کی جانب پھیرا جائے گا۔ اس صورت میں یہ نقصان رب المال ( Investor ) برداشت کرے گا اور مضارب کی فقط محنت ضائع ہوگی ، راس المال ( Capital ) میں ہونے والے نقصان میں مضارب ( Working Partner ) کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔ مضاربت میں ہونے والا نقصان اولاً نفع سے پورا کریں گے اس بات کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں : ” مالِ مضارَبت سے جو کچھ ہلاک اور ضائع ہوگا وہ نفع کی طرف شمار ہوگا راس المال میں نقصانات کو نہیں شمار کیا جاسکتا مثلاً سو روپے تھے تجارت میں بیس20روپے کا نفع ہوا اور دس 10روپے ضائع ہوگئے تو یہ نفع میں منہا کیے جائیں گے یعنی اب دس 10 ہی روپے نفع کے باقی ہیں اگر نقصان اتنا ہوا کہ نفع اُس کو پورا نہیں کرسکتا مثلاً بیس20 نفع کے ہیں اور پچاس 50 کانقصان ہوا تویہ نقصان راس المال میں ہوگا مضارِب سے کُل یا نصف نہیں لے سکتا کیونکہ وہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں اگر چہ وہ نقصان مضارِب کے ہی فعل سے ہوا ہو۔ ہاں اگر جان بوجھ کر قصداً اُس نے نقصان پہنچایا مثلاًشیشہ کی چیز قصداً اُس نے پٹک دی۔ اس صورت میں تاوان دینا ہوگاکہ اس کی اُسے اجازت نہ تھی۔۔۔ رب المال و مضارِب دونوں سال پر یا ششماہی یا ماہوار حساب کرکے نفع تقسیم کرلیتے ہیں اور مضاربت کوحسبِ دستور باقی رکھتے ہیں اس کے بعد کُل مال یا بعض مال ہلاک ہوجائے تو دونوں نفع کی اتنی اتنی مقدار واپس کریں کہ راس المال پورا ہوجائے اور اگرسارا نفع واپس کرنے پر بھی راس المال پورا نہیں ہوتا تو سارا نفع واپس کر کے مالک کودے دیں اس کے بعد جو اور کمی رہ گئی ہے اُس کا تاوان نہیں۔ “ ( بہار شریعت ، 3 / 19 ، 20 ) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے ایک آدمی نے بطور مضاربت کچھ رقم دی جس سے میں کاروبار کررہاہوں ،اب وہ شخص مضاربت ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ میرا کہنا ہے کہ دکان میں اچھا خاصہ مال جو بڑی محنت سے میں نے خریدا ہے اس کو فروخت کرلوں اور ایک دو مہینے بعد ہم پرافٹ آپس میں تقسیم کرلیں گے یوں کرنے سے دکان میں موجود مال کو بیچنے پر کافی نفع حاصل ہوگا تو ایسی صورت میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ مجھےاس چیز کا اختیار ہے کہ ابھی فورا کاروبار بند نہ کروں یہاں تک کہ اس مال میں سےنفع حاصل کرلوں اور نفع ہمارا آدھا آدھا طے ہو اتھا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں اتنا تو آپ کو اختیار حاصل ہے کہ پہلے سے خریدا ہوا مال بیچ کراپنا نفع حاصل کرلیں اس سامان کو بیچنے سے رب المال (یعنی مضاربت میں رقم لگانے والا ، مالک )منع نہیں کرسکتا ،البتہ رب المال کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مضارب (کام کرنے والے)کو کاروبار سے روک دے اور معزول کر دے ،اب اسے مزید کوئی خریدوفروخت کرنے کی اجازت نہیں ،بس پہلے سے موجود سامان کو فروخت کرنے کی اجازت ہے وہ چاہے ایک دن میں فروخت ہوجائے یا دس ،بیس یا ایک مہینہ لگ جائے ،مگر مضارب اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مزید آگے خریدوفروخت میں نہیں لگا سکتا ،بس یوں ہی موقوف کرکے حساب کتاب کرنا ہوگا ۔ مضاربت ختم کرنے کی صورت میں اگر مال ِمضاربت سامان کی صورت میں ہے تو اس کو بیچنے کا مضارب کو اختیار ہے البتہ اس سے حاصل ہونے والی رقم سے مزیدکوئی سودا نہیں کرسکتے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر تجارت میں ایک کا پیسہ اور ایک کا کام ہو تو منافع آدھا آدھا کر سکتے ہیں ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ تجارت میں ایک کا پیسہ اور دوسرے کا کام ہو، اسے فقہی اصطلاح میں” مُضارَبَت“کہتے ہیں۔ مُضارَبَت میں نفع کا تناسب برابر رکھنا کہ دونوں کو آدھا آدھا ملے جائز ہے اس میں حرج نہیں۔البتہ نفع کی جو بھی مقدار مقرر کی جائے وہ فیصد(مثلا آدھا ، تہائی ، چوتھائی وغیرہ ) کے اعتبار سے ہو،رقم وغیرہ فکس نہ کی جائے ۔بہت سے لوگ نفع کی ایک متعین مقدار فکس کردیتے ہیں کہ مجھے نفع میں سے مثلاً دس ہزار روپے دے دینا وغیرہ۔اس طرح کرنے سے مُضارَبَت فاسد ہوجاتی ہےاور یہ ناجائز و گناہ بھی ہے لہٰذا اس صورت میں فریقین پر لازم ہوگا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سچّی توبہ کریں اور اس عقدِ فاسد کو فَسْخ یعنی ختم کردیں ۔ نیز مُضارَبَت کی جو صورتیں اس وقت مارکیٹ میں رائج ہیں ان میں مزید ایک خرابی یہ پائی جاتی ہے کہ کام کرنے والے پر نقصان کی شرط لگادی جاتی ہے کہ اگر نقصان ہوا تو اس میں سے اتنا نقصان تمہیں بھرنا پڑےگا۔یہ شرط بھی ناجائز و گناہ ہے البتہ اس کی وجہ سے مُضَارَبَت فاسد نہیں ہوگی بلکہ خود یہ شرط ہی باطل و بے اَثَر رہےگی۔ اس لئے کہ شرعی اُصول و قواعِد کی رُو سے کام کرنے والا اپنی تَعَدِّی و کوتاہی سے جونقصان کرے اس کا تو ذمّہ دارہے، اس کے علاوہ کسی نقصان کا وہ ذمہ دار نہیں ۔لہٰذا اگر کاروبار میں نفع ہونے کے بجائے نقصان ہوگیا تو یہ سارا نقصان مال والے کا ہوا،وہ اس پر کام کرنے والے سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا ۔ مَدَنی مشورہ :مضاربت وغیرہ کوئی کام شروع کرنے سے پہلے دارالافتاء اہلِ سنّت یا کسی مُعْتَمَد سُنّی ماہِر عالمِ دین کی بارگاہ میں اپنا طریقۂ کار بیان کرکے لازماً شرعی رہنمائی حاصل کرلیں ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے شرعی رہنمائی لے کر ایک شخص کو بطور مضاربت پیسے دئیے، اس نے ان پیسوں کے ذریعے تجارت کی اور اَلحمدُلِلّٰہ نفع ہوا، اب ہم مضاربت کو ختم کر رہے ہیں میرے لئے مضاربت کا نفع لیناکیسا ہے کیونکہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ مضارب نے تجارت شرعی اصولوں کے مطابق کی ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں آپ نے اگرمضاربت کی تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے عقدِ مضاربت کیا ہے تو آپ کے لئےمضاربت سے حاصل ہونے والا نفع لینا حلال ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ مضارب نے یہ نفع حرام طریقہ سے کمایا ہےکیونکہ ظاہر یہی ہے کہ اس نے یہ نفع حلال طریقہ سےکمایا ہے۔ درمختار میں ہے: ”دفع مالہ مضاربۃ لرجل جاھل جاز اخذ ربحہ ما لم یعلم انہ اکتسب الحرام“ یعنی کسی جاہل شخص کو مضاربت کے طور پر مال دیا تو مضاربت سے حاصل ہونے والا نفع لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے حرام طور پر کمایا ہے۔ اس کے تحت ردالمحتار میں ہے: ”لان الظاھر انہ اکتسب من الحلال“ یعنی کیونکہ ظاہر ی طور پر اس نے حلال طریقے سے کمایا ہو گا۔(درمختار، 7/518) بہار شریعت میں ہے: ”کسی جاہل شخص کو بطور مضاربت روپے دے دئیے، معلوم نہیں کہ جائز طور پر تجارت کرتا ہے یا ناجائز طور پر تو نفع میں اس کو حصہ لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے حرام طور پر کسب کیا ہے۔ “ (بہار شریعت، 2/813) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ہر سال اپنے ادارے میں اجتماعی قربانی کا اہتمام کرتا ہوں، لیکن ہر سال میں بطور وکیل اجتماعی قربانی کرتا ہوں، جس کی وجہ سے رقم کا حساب رکھنا مشکل ہوتا ہے اور آخر میں باقی رقم بھی واپس کرنی ہوتی ہے، لہذا اس سال میں ”بیع سلم“ کے طریقے پر اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنا چاہتا ہوں، یعنی جو بھی حصہ ڈالنا چاہے گا میں اسے کہوں گا کہ: آپ مجھے ایک حصے کے برابر رقم مثلاً:بیس ہزار روپے دے دیں، اس کے عوض میں چاند رات کو فلاں جنس، نوع ، عمر اور وزن کے جانور کا ساتواں حصہ آپ کے سپرد کر دوں گا، پھر آپ چاہیں، تو عید والے دن آپ کی طرف سے قربانی کر دوں گا، کیا میرا ایسا کرنا، جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ آپ کا یوں ”بیع سلم“ کے طور پر حصے بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ جانوروں میں بیع سلم جائز نہیں ہوتی۔ فقہائے کرام نے اس کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں ہیں: (1)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں میں سلم کرنے سے منع فرمایا۔ (2)جید صحابہ کرام مثلاً: حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عمر، حضرت حذیفہ اور حضرت سعید بن جبیر رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے اسے مکروہ و منع فرمایا۔ (3)بیع سلم میں جو چیز خریدی جائے ، اس کے لیے شرط ہے کہ اسے صفات کے ساتھ متعین کیا جا سکے اور مستقبل میں نزاع کا باعث نہ بنے، لیکن جانوروں کو صفات سے متعین نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ صفات کے بیان کے بعد بھی مالیت میں تفاوت فاحش پایا جاتا ہے جو نزاع کا باعث بنتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: مستدرک للحاکم میں ہے:”عن ابن عباس رضی اللہ عنه، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم نهى عن السلف في الحيوان “ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیوان میں بیع سلم سے منع فرمایا۔(مستدرک للحاکم، جلد2، صفحہ 65، رقم الحدیث2341، دار الکتب العلمیہ، بیروت) امام حاکم اس حدیث کی سند کے متعلق فرماتے ہیں:” هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه “ ترجمہ: اس حدیث کی سند صحیح ہے اور امام بخاری و امام مسلم رحمہما اللہ نے اسے بیان نہیں فرمایا۔(مستدرک للحاکم، جلد2، صفحہ 65، رقم الحدیث2341، دار الکتب العلمیہ، بیروت) صحابہ کرام کے اقوال: کتاب الاثار میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام اعظم رحمہ اللہ کی سند سے حدیث روایت فرماتے ہیں:” أن ابن مسعود رضی اللہ عنه أعطى زيد بن خليدة مالا مضاربة، فأسلم إلى عتريس بن عرقوب في قلائص معلومة إلى أجل معلوم، فحلت فأخذ منه بعضا وبقي بعض، فاشتد عليه فيما بقي، فأتى عبد اللہ وكلمه في أن ينظره فيما بقي، فأرسل إلى زيد فسأله فيما أسلمت ، قال: أسلمت إليه في قلائص معلومة بأسنان معلومة إلى أجل معلوم، فقال عبد اللہ: اردد ما أخذت منه وخذ رأس مالك، ولا تسلم شيئا من أموالنا في الحيوان “ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےزید بن خلیدہ کو مضاربت پر اپنا مال دیا۔ انہوں نے عتریس بن عرقوب کے ساتھ مدت معلومہ پر متعین اونٹنیوں کے عوض بیع سلم کر لی۔ مدت مکمل ہو گئی ۔ زید بن خلیدہ رحمہ اللہ نے عتریس بن عرقوب رحمہ اللہ سے بعض جانور لے لیے اور بعض جانور باقی رہ گئے تو زید بن خلیدہ نے باقی جانوروں کے معاملے میں شدت اختیار کی۔ عتریس بن عرقوب حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور باقی جانوروں کے متعلق مہلت طلب کی۔ انہوں نے زید بن خلیدہ رحمہ اللہ کی طرف مسلَم فیہ کا پوچھنے کے لیے قاصد بھیجا۔ زید بن خلیدہ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ میں نے مدت معلومہ پر متعین سال کی اونٹنیوں کی بیع سلم کی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو تم نے اس سے جانور لیے وہ لوٹا دو اور اپنا راس المال لے لو، ہم اپنے مالوں کے ساتھ حیوان میں بیع سلم نہیں کرتے۔(کتاب الاثار، صفحہ 186، رقم الحدیث 845، دار الکتب العلمیہ، بیروت) مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان مروی ہے:”حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: قال عمر: من الربا أن يسلم في سن“ ترجمہ: ہم سے ابوبکر نے بیان کیا ، ان سے وکیع نے بیان فرمایا، ان سے مسعودی نے بیان کیا، وہ قاسم بن عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جانوروں میں بیع سلم کرنا سود ہے۔(مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد4، صفحہ 419،مطبوعہ ریاض) اسی میں ہے:” حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن قتادة عن ابن سيرين أن عمر وحذيفة وابن مسعود كانوا يكرهون السلم في الحيوان‘‘ترجمہ: ہم سے بیان کیا ابو خالد احمر نے وہ حجاج از قتادہ از ابن سیرین روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر حذیفہ اور ابن مسعود رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین جانوروں میں سلم کو ناپسند فرماتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد4، صفحہ 419، مطبوعہ ریاض) اسی میں ایک اور جگہ پر ہے:” عن عمار قال: سمعت سعيد بن جبير يسأل عن السلم في الحيوان فنهى عنه “ حضرت عمار سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں،میں نے سنا کہ کسی نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے جانوروں میں بیع سلم کے بارے میں پوچھا ،تو آپ نے اس سے منع فرما دیا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ، جلد4، صفحہ 419، مطبوعہ ریاض) فقہائے کرام کے اقوال: الحجۃ علی اہل المدینہ میں امام محمد امام اعظم رحمہما اللہ سے روایت فرماتے ہیں:”ان الحيوان لا يجوز فيه السلم “ترجمہ: جانوروں میں بیع سلم جائز نہیں ہے۔(حجۃ اھل المدینہ، جلد2، صفحہ 479، عالم الکتب، بیروت) ہدایہ میں ہے:” ولا يجوز السلم في الحيوان وقال الشافعي: يجوز لأنه يصير معلوما ببيان الجنس والسن والنوع والصفة والتفاوت بعد ذلك يسير فأشبه الثياب. ولنا أن بعد ذكر ما ذكر يبقى فيه تفاوت فاحش في المالية باعتبار المعاني الباطنة فيفضي إلى المنازعة “ ترجمہ: حیوان میں بیع سلم جائز نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے ،کیونکہ جانور جنس، عمر، نوع اور صفت کے بیان کے ساتھ معلوم و متعین ہو جاتا ہے اور اس کے بعد تفاوت بہت کم رہ جاتا ہے، تو یہ کپڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ مذکورہ بالا چیزیں بیان کرنےکے بعد بھی باطنی صفات کی بنیاد پر جانور کی مالیت میں تفاوت فاحش باقی رہتا ہے، جو جھگڑے کی طرف لے جاتا ہے۔ (ھدایہ، جلد3،صفحہ71، دار احیاء التراث العربی، بیروت) وقار الفتاوی میں ہے: ” جانوروں میں بیع سلم جائز نہیں ، اس لیے کہ بیع سلم میں جس چیز کو خریدا جاتا ہے، وہ ایسی ہونی چاہیے کہ اس کو صفات سے متعین کیا جا سکے ۔ جانور کو صفات سے متعین نہیں کیا جا سکتا ۔(وقار الفتاوی، جلد2، صفحہ 471، بزم وقار الدین، کراچی) اشکال: ہمارے زمانے میں جانور کو وزن کر کے بیچنا جائز ہے اور یہ مفضی الی النزاعبھی نہیں ہوتا۔لہذا جانورکی ”بیع سلم“ میں بھی وزن اور دیگر صفات متعین کر دی جائیں، تو کیا وہ جائز نہیں ہو جائے گی؟ جواب: جانور کو وزن کے حساب سے متعین کرنے کے باوجود بھی جانور میں ”بیع سلم“ کرنا، جائز نہیں ہے، کیونکہ ”بیع سلم“ کی ممانعت نص سے ثابت ہے ۔علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” قال ابن مسعود: اردد مالنا، لا نسلم أموالنا في الحيوان، فعلم أن عدم جواز السلم في الحيوان لم يكن فيه باعتبار ترك الوصف، لأن القلائص كانت معلومة، فكان المنع لكونه حيوانا “ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ”ہمارا مال ہمیں واپس کر دو، ہم اپنے مالوں کے ساتھ حیوان میں بیع سلم نہیں کرتے “ اس سے پتا چلتا ہے کہ جانوروں میں بیع سلم کے ناجائز ہونے کی وجہ اس وصف کا نہ پایا جانا نہیں ہے، کیونکہ (اس واقعے میں) اونٹ معلوم تھے، لہذا ممنوع اس وجہ سے ہے کہ بیع سلم ”جانوروں“ میں تھی۔ (البنایہ، جلد8، صفحہ335، دار الکتب العلمیہ، بیروت) اسی میں ہے:” فإن قلت: السلم في الحيوان إنما لا يصح لتفاوت يعتبره الناس والتفاوت من العصافير غير معتبر، فينبغي أن يجوز السلم فيها. قلنا: العبرة في المنصوص لعين النص لا للمعنى“ترجمہ: اگر آپ یہ اعتراض کریں کہ جانوروں میں سلم ایسے تفاوت کی وجہ سے صحیح نہیں ہے، جو لوگوں میں معتبر ہو، لیکن چڑیا میں تفاوت معتبر نہیں ہے، تو اس میں سلم جائز ہونا چاہیے۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ (جانوروں میں سلم کے متعلق نص ہے اور )منصوص اشیا ءمیں اعتبار علت کی بجائے نص کا ہوتا ہے۔(البنایہ، جلد8، صفحہ336، دار الکتب العلمیہ، بیروت) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارےمیں کہ زید کے پاس کچھ رقم موجود ہے، جو اس نے گھر کی تعمیرات میں استعمال کرنے کےلیے رکھی ہوئی ہے، لیکن فی الحال تعمیرات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، تقریباً ایک سال کے بعد تعمیرات شروع کرے گا۔ وہ چاہتا ہے کہ سیمنٹ بیچنے والےشخص سےبیسٹ وےکمپنی کے بلیک سیمنٹ کی موجودہ ریٹ475روپے کے حساب سے پچاس کلووالی130بوریاں 61750روپے کے بدلے خریدلے، لیکن سیمنٹ کی وصولی بیچنے والے کی دکان سے ایک سال بعدچنددنوں کے وقفے سے تھوڑی تھوڑی کرکے اٹھائے، سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبارسے یہ سودا کس طرح درست ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں سیمنٹ کی قیمت ابھی اداکرکے سیمنٹ ایک سال بعد کسی معین تاریخ پر لینااگر بیع سلم کے طورپرہواوراس سودے میں بیع سلم کی تمام شرائط کالحاظ رکھاجائےتو جائزہے،مگریہ ذہن میں رکھیں کہ بیع سلم کی ایک بھی شرط کی خلاف ورزی کی ،تو یہ سودا ناجائزاور سودکے زمرے میں داخل ہوجائے گا۔ یادرہے! بیع سلم ایسی بیع ہے ،جس میں خریدی ہوئی چیزکاسودے کے وقت موجودہوناضروری نہیں، البتہ پورے مال کی جو بھی قیمت بن رہی ہے، وہ سوداکرتے وقت ادا کرناضروری ہے۔ موجودہ سودے میں بیع سلم کی شرائط: سیمنٹ کی خریداری کے اس سودے میں سیمنٹ کی کمپنی اورقسم بیسٹ وے، یونہی كالی سیمنٹ ہونامتعین ہے،یونہی سیمنٹ کی رقم 61750 روپےاور سیمنٹ کی مقدارپچاس کلووالی سیمنٹ کی 130بوریاں بھی متعین ہے اور سودے میں یہ بات بھی طے ہے کہ ایک سال بعد سیمنٹ والے کی دکان سے خریدارخودسیمنٹ وصول کرے گا،لیکن سیمنٹ وصولی کی معین تاریخ بھی معاہدہ میں بیان ہوناضروری ہے ،البتہ یہ ضروری نہیں کہ تمام سیمنٹ کی بوریاں ایک دن میں وصول کی جائیں،بلکہ آپ متوقع حاجت کوسامنے رکھتے ہوئے مختلف معین تاریخیں بھی مقررکرسکتے ہیں اور ان معین تاریخوں میں کس کس تاریخ کو کتنی سیمنٹ لی جائے گی ؟یہ بتانا بھی ضروری نہیں۔ مثلاًآپ یوں معاہدہ کرسکتے ہیں کہ یکم ستمبر2020 سے 30 نومبر2020 تک دو مرتبہ مال اٹھایا جائے گا، پہلا یکم ستمبر کو اور دوسرا 30 نومبر کو، دونوں مرتبہ حسبِ ضرورت مال اٹھایا جائے گا۔ اب تک جو باتیں بیان ہوئیں ان کے علاوہ مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا بھی فریقین پر لازم ہے۔ · بیع سلم کایہ معاہدہ جس مجلس میں ہوگا،خریدار اسی مجلس میں ساری رقم بیچنے والے کے قبضے میں دے گا۔ · یہ بھی ضروری ہے کہ مذکورہ سیمنٹ سوداہونے سے ڈیلیورہونے کی تاریخ تک ہر وقت بازارمیں مل سکے،سیمنٹ اگرچہ ایک ایسی چیز ہے جو عام طور پر مارکیٹ میں موجود رہتی ہے، لیکن اس شرط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے،کیونکہ بہت ساری اشیاء ایسی ہیں کہ اس شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سےان اشیاء میں بیع سلم ممکن نہیں ہوتی۔ · بوری کتنے سائز کی ہوگی یہ بھی معاہدے میں طے ہونا ضروری ہے کہ اس میں اتنا مال ہوگا۔ خریدار بیچنے والے سے درج ذیل الفاظ میں بیع سلم کاایجاب کرے : 130 بوری سیمنٹ بعوض فی بوری475 بیسٹ وے کمپنی کابلیک سیمنٹ61750 روپے کے بدلے آپ سے خریدا،ہربوری کا وزن پچاس کلو ہوگا اورہمارایہ سودا،بیع سلم کے طورپرہے۔کُل مال کی رقم فوری طور پر دی جا رہی ہے ، اس سودے کی رُوسے فروخت کندہ کی ذمہ داری ہے کہ یہ سیمنٹ بیسٹ وے کمپنی کابلیک سیمنٹ ہی ہو۔سب بوریاں درست حالت میں ہوں ،پھٹی ہوئی نہ ہوں۔یہ سیمنٹ میں فلاں ۔۔۔۔فلاں ۔۔۔ ۔۔تاریخوں میں۔۔۔۔قسطوں میں آپ کی دکان سے اٹھاؤں گا۔اگرآپ کے پاس اس تاریخ کوسیمنٹ موجودنہ ہو،تواس صورت میں بھی آپ پرلازم ہوگاکہ کہیں سے بھی مذکورہ سیمنٹ خریدکرمجھے مطلوبہ مقدار میں سیمنٹ فراہم کریں۔ سامنے والا اس سودے کو منظور کرے گا اور اگر تحریری معاہدہ ہو ،توبہتر یہ ہے کہ دونوں کے دستخط کے ساتھ ساتھ گواہوں کےبھی دستخط کروالیے جائیں۔ بیع سلم میں مسلم فیہ کی وصولی کے لیے ایک میعادمقررکرناشرط نہیں۔ جیساکہ دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے :’’ولیس الاجل الواحدفی السلم بشرط فیعقدالسلم علی ان تسلم خمس وعشرون کیلۃ عندتمام الشھرالاول وخمسون کیلۃ عندتمام الشھرالخامس وعشرکیلات عندتمام الشھرالسادس من وقت العقد“ یعنی بیع سلم میں مبیع لینے کی ایک مدت طے کرنا شرط نہیں، لہذا بیع سلم کاعقدیوں بھی کیاجاسکتاہے کہ وقت عقدسے ایک مہینا مکمل ہونے پر پچیس کیل سپردکیاجائے گااورپانچواں مہینا مکمل ہونے پر پچاس کیل سپرد کیا جائے گا،چھٹامہینا مکمل ہونے پردس کیل سپردکیاجائے گا۔(دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام ،جلد1،صفحہ354،دارالکتب العلمیہ بیروت) عالمگیری میں ہے :’’لاباس بالسلم فی نوع واحدممایکال ویوزن علی ان یکون حلول بعضہ فی وقت وبعضہ فی وقت آخرولایحتاج الی بیان حصۃ کل واحدمنھما‘‘یعنی جن چیزوں کاکیل اوروزن کیاجاتاہے،ان میں سے ایک نوع میں اس شرط پرسلم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس نوع کی بعض ادائیگی ایک وقت میں ہوگی اوربعض ادائیگی دوسرے وقت میں ہوگی اوران دونوں میں سے ہرایک کاحصہ بیان کرناضروری نہیں۔ (فتاوی عالمگیری ،جلد3،صفحہ181، مطبوعہ کوئٹہ) الحاوی القدسی میں ہے :’’لاباس بالسلم فی نوع واحدممایکال ویوزن علی ان یکون حلول بعضہ فی وقت وبعضہ فی وقت آخر ولایجوز السلم فی اجل مجھول ‘‘یعنی جن چیزوں کاکیل یاوزن کیاجاتاہے،ان میں سے ایک نوع میں اس شرط پرسلم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس نوع کی بعض ادائیگی ایک وقت میں ہوگی اوربعض ادائیگی دوسرے وقت میں ہوگی ،جبکہ اجلِ مجہول میں بیع سلم جائزنہیں۔(الحاوی القدسی ،جلد2،صفحہ51، نوریہ رضویہ ،لاھور) درمختار میں ہے :’’لاباس بالسلم فی نوع واحد،علی ان یکون حلول بعضہ فی وقت وبعضہ فی وقت آخر‘‘یعنی ایک نوع میں اس شرط پرسلم کرنے میں حرج نہیں کہ اس نوع کی بعض ادائیگی ایک وقت میں ہوگی اوربعض ادائیگی دوسرے وقت میں ہوگی۔ (درمختارمع ردالمحتار،جلد7،صفحہ487،مطبوعہ کوئٹہ ) جدالممتارمیں ہے:’’قال ای الدر:ان یکون حلول بعضہ فی وقت ۔۔الی آخرہ۔۔۔وان لم یقدرکلا البعضین کماافادہ فی الھندیۃ‘‘یعنی درمختارمیں فرمایا: ایک نوع میں اس شرط پرسلم کرنے میں حرج نہیں کہ اس نوع کی بعض ادائیگی ایک وقت میں ہوگی اوربعض ادائیگی دوسرے وقت میں ہوگی،اگرچہ دونوں میں سے ہرایک کی مقداربیان نہ کرے ۔جیساکہ اس کاافادہ ہندیہ میں فرمایا۔ (جدالممتار،جلد6، صفحہ145،مکتبۃ المدینہ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا جانوروں میں ، گوشت میں اور مچھلی میں بیع سلم درست ہوگی ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعوان الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب صورت مستفسرہ کے مطابق جانور میں بیع سلم جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں جنس ،عمر ،نوع اور صفت کو متعین نہیں کیا جاسکتا ہے اور اس کی ممانعت پر نص بھی وارد ہے۔گوشت میں بیع سلم جائز ہے یا نہیں تو یہ مختلف فیہ ہے امام اعظم کے گوشت میں بیع سلم جائز نہیں ہے جبکے صاحبین کے نزدیک اگر اس کی جنس،نوع ،صفت،مقدار،خصی، دو دانت اور فربہ وغیرہ اوصاف متعین ہو تو اس میں بیع سلم جائز ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ مچھلی اگر چھوٹی ہو تو اس میں بیع سلم پیمانہ اور وزن دونوں طرح جائز ہے اور بڑی مچھلی میں بیع سلم جائز ہے یا نہیں تو یہ مختلف فیہ ہے امام اعظم کے نزدیک بڑی مچھلی میں بیع سلم جائز نہیں جس طرح گوشت میں جائز نہیں ہے صاحبین کے نزدیک مچھلی میں بیع سلم جائز ہے خشک ہو یا تازہ البتہ تازہ میں یہ شرط ہے کہ ایسے موسم میں ہو جہاں وہ بازار میں موجود ہو اور ان کی مقدار اور قسم متعین ہو اور مقدار کا تعین وزن سے ہو عدد سے نہیں کیونکہ ان کے عدد میں تفاوت کا امکان ہے اور اسی قول پر فتویٰ ہے۔ مستدرک للحاکم میں ہے: ”عن ابن عباس رضی اللہ عنه، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم نهى عن السلف في الحيوان “ ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حیوان میں بیع سلم سے منع فرمایا۔(مستدرک للحاکم، جلد2، صفحہ 65، رقم الحدیث2341، دار الکتب العلمیہ، بیروت) ہدایہ میں ہے: ” ولا يجوز السلم في الحيوان وقال الشافعي: يجوز لأنه يصير معلوما ببيان الجنس والسن والنوع والصفة والتفاوت بعد ذلك يسير فأشبه الثياب. ولنا أن بعد ذكر ما ذكر يبقى فيه تفاوت فاحش في المالية باعتبار المعاني الباطنة فيفضي إلى المنازعة “ ترجمہ: حیوان میں بیع سلم جائز نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جائز ہے ،کیونکہ جانور جنس، عمر، نوع اور صفت کے بیان کے ساتھ معلوم و متعین ہو جاتا ہے اور اس کے بعد تفاوت بہت کم رہ جاتا ہے، تو یہ کپڑے کی طرح ہو جائے گا۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ مذکورہ بالا چیزیں بیان کرنےکے بعد بھی باطنی صفات کی بنیاد پر جانور کی مالیت میں تفاوت فاحش باقی رہتا ہے، جو جھگڑے کی طرف لے جاتا ہے۔ (ھدایہ، جلد3،صفحہ71، دار احیاء التراث العربی، بیروت) قدوری میں ہے “ولا یجوز السلم فی الحیوان ولا فی اطرافہ” اور بیع سلم حیوان اور اس کے اطراف میں جائز نہیں۔(القدوری باب بیع السلم صفحہ 302 مطبوعہ کراچی) بہار شریعت میں ہے : ”بیع سلم کسی حیوان میں درست نہیں ۔ نہ لونڈی غلام میں ۔ نہ چوپایہ میں ، نہ پرند میں حتیٰ کہ جو جانور یکساں ہوتے ہیں مثلاً کبوتر، بٹیر، قمری، فاختہ، چڑیا، ان میں بھی سلم جائز نہیں۔“(بہار شریعت باب بیع السلم کا بیان جلد 2 حصہ 11 صفحہ 805 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی) وقار الفتاوی میں ہے: ”جانوروں میں بیع سلم جائز نہیں ، اس لیے کہ بیع سلم میں جس چیز کو خریدا جاتا ہے، وہ ایسی ہونی چاہیے کہ اس کو صفات سے متعین کیا جا سکے ۔ جانور کو صفات سے متعین نہیں کیا جا سکتا ۔“(وقار الفتاوی، جلد2، صفحہ 471، بزم وقار الدین، کراچی) ھدایہ میں ہے ” قال ولا خیر فی السلم فی اللحم عند ابی حنیفہ وقالا اذا وصف من اللحم موضعا معلوما بصفہ معلومہ جاز” ترجمہ:ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک گوشت کی بیع سلم میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور صاحبین نے فرمایا کہ اگر گوشت کی معلوم جگہ صفت معلومہ کے ساتھ بیان کی جائے تو جائز ہے۔(ھدایہ، جلد3،صفحہ72، دار احیاء التراث العربی، بیروت) فتویٰ ھندیہ میں ہے “ولا یصح بیع السلم فی اللحم عند ابی حنیفہ و قالا یجوز اذا بین جنسہ ونوعہ وسنہ وموضعہ وصفتہ وقدرہ کشاہ خصی ثنی من الجنب او الفخذ سمین مائہ رطل وفی منزوع العظم روایتان والاصح عدمہ وفی الحقائق والعیون الفتوی علی قولھما” امام اعظم کے نزدیک گوشت میں سلم صحیح نہیں ہے اور صاحبین نے کہا کہ جائز ہے بشرطیکہ اس کی جنس اور نوع سن اور جگہ اور صفت اور مقدار بیان کردی جائے مثلاً خصی دو دانت والی کے پہلو اور ان میں سے فربہ اور سو رطل اور ہڈی کے گودہ میں دو روایتیں آئی ہیں اور اصح یہ ہے کہ ناجائز ہے اور حقائق اور عیون میں لکھا ہے کہ صاحبین کے قول پر فتویٰ ہے۔ (فتویٰ ھندیہ كتاب البیع جلد 4 صفحہ 482 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ) ردالمختار میں ہے “(ولحم ولو منزوع عظم ) وجوز اذا بین وصفہ وموضعہ لانہ موزون معلوم وبہ قالت الائمہ الثلاثہ وعلیہ الفتوی “ اور گوشت میں صحیح نہیں اگرچے ہڈی سے اتارا گیا ہو اور صاحبین نے اسے جائز قرار دیا ہے جب کہ اس کا وصف اور اس کا محل بیان کردیا جائے کیونکہ اس کا وزنی ہونا معلوم ہے یہی آئمہ ثلاثہ نے کہا ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔(ردالمختار کتاب البیع باب السلم جلد 7 صفحہ 482 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت) بہار شریعت میں ہے : ”گوشت کی نوع وصفت بیان کردی ہو تو اس میں سلم جائز ہے۔ “(بہار شریعت جلد 2 حصہ 11 صفحہ 306 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی) فتویٰ ھندیہ میں ہے “وان اسلم فی السمک الصغار بالکیل او الوزن فالصحیح انہ یصح فی الصغار کذا فی الینابیع وفی الکبار عن ابی حنیفہ روایتان فی ظاھر الروایہ عنہ وھو قولھما یجوز کذا فی المحیط السرخسی” اگر چھوٹی مچھلیوں میں پیمانہ اور وزن سے سلم ٹھہرائی تو صحیح یہ ہے کہ یہ جائز ہے کذا فی الینابیع اور بڑی مچھلیوں میں امام اعظم سے دو روایتیں ہیں پس ظاہر الروایہ میں جائز ہے اور یہی صاحبین کا قول ہے کذا فی المحیط السرخسی۔(فتویٰ ھندیہ كتاب البیع جلد 4 صفحہ 482 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ) ھدایہ میں ہے “قال ولاخیر فی السلم فی السمک الطری الا فی حیتہ وزنا معلوما وضربا معلوما لانہ ینقطع فی زمان الشتاء حتی لو کان فی بلد لا ینقطع یجوز مطلقا وانما یجوز وزنا لا عدد لما ذکرنا وعن ابو حنیفہ انہ لا یجوز” امام محمد کے نزدیک تازہ مچھلی کی بیع سلم میں کوئی بھلائی نہیں ہے مگر اس کے زمانے میں وزن معلوم اور نوع معلوم کے ساتھ کیونکہ تازہ مچھلی سردی کی آمد پر منقطع ہوجاتی ہے حتی کہ اگر عاقد ایسے شہر میں ہو جہاں تازہ مچھلی منقطع نہیں ہوتی تو مطلقاً جائز ہے اور وزن کے ساتھ جائز ہے نہ کہ گنتی کے ساتھ اس دلیل کی وجہ جو ہم بیان کر چکے ہیں اور امام ابو حنیفہ سے روایت ہے کہ جائز نہیں ہے۔(ھدایہ، جلد3،صفحہ74، دار احیاء التراث العربی، بیروت) ردالمختار میں ہے “وفی ضری (حین یوجد وزنا وضربا) ای نوعا قید لھما (لاعدد)لتفاوت (ولو صغارا جاز وزنا وکیلا)فی الکبار روایتان (روایتان)والمختار الجواز وھو قولھما لان السمن والھزال غیر معتبر فیہ عادہ” تازہ مچھلی میں اس وقت صحیح ہوتی ہے جب وہ وزن اور کسی نوع کے اعتبار سے پائی جائے یہ دونوں کے لیے قید ہے تفاوت کی وجہ سے عدد کے اعتبار سے صحیح نہیں ہوتی اور اگر وہ چھوٹی ہو تو وزن اور کیل کے اعتبار سے جائز ہے اور بڑی مچھلیوں میں دو روایتیں ہیں۔ (قولہ روایتان)اس میں مختار قول جواز کا ہے اور یہی صاحبین کا قول ہے کیونکہ اس میں موٹا ہونا اور کمزور ہونا عادہ غیر معتبر ہے۔(ردالمختار کتاب البیع باب السلم جلد 7 صفحہ 482 مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت) بہار شریعت میں ہے: ”مچھلی میں سلم جائز ہے خشک مچھلی ہو یا تازہ۔ تازہ میں یہ ضرور ہے کہ ایسے موسم میں ہو کہ مچھلیاں بازار میں ملتی ہوں یعنی جہاں ہمیشہ دستیاب نہ ہوں کبھی ہوں کبھی نہیں وہاں یہ شرط ہے۔ مچھلیاں بہت قسم کی ہوتی ہیں لہٰذا قسم کا بیان کرنا بھی ضروری ہے اور مقدار کا تعین وزن سے ہو عدد سے نہ ہو کیونکہ ان کے عددمیں بہت تفاوت ہوتاہے۔ چھوٹی مچھلیوں میں ناپ سے بھی سلم درست ہے۔“(بہار شریعت باب بیع السلم کا بیان جلد 2 حصہ 11 صفحہ 805 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــہ ممبر فقہ کورس

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ سونا اور چاندی میں بیع سلم جائز ہے یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب بیع سلم اگر درہم و دینار میں ہوتو ناجائز ہے اور اگر سونا چاندی کے زیورات،برتنوں وغیرہ میں ہواوربیع سلم کی دیگر شرائط پائی جاتی ہوں تو جائز ہے۔وجہ یہ ہے کہ درہم و دینار ثمن ہیں اور بیع سلم میں مسلم فیہ کا مبیع ہونا ضروری ہے۔درہم و دینار کے علاوہ سونے کے زیورات اور دیگر اشیاء مبیع ہوجاتی ہیں لہٰذاسناروں سے بیع سلم کی شرائط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سونا چاندی کے زیوارت بنوانا جائز ہے۔ درمختار میں ہے ”الدراهم والدنانير لأنها أثمان فلم يجز فيها السلم “ ترجمہ:دراہم اور دنانیر ثمن ہیں جن میں سلم جائز نہیں۔ (درمختارمع رد المحتار،کتاب البیوع،باب السلم،جلد5،صفحہ211،دار الفكر،بيروت) دررالحکام میں ہے ”احترازا عن الدنانير والدراهم فإنها من الموزونات لكنها ليست بمثمنة بل أثمان فلا يجوز فيها السلم“ ترجمہ:دنانیر اور دراہم میں سلم سے احتراز کرتے ہوئے کہ یہ موزونات میں سے ہیں لیکن مبیع نہیں بلکہ اثمان ہیں تو ان میں سلم جائز نہیں۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام ،کتاب البیوع،شرائط السلم،جلد2،صفحہ195،دار الفكر،بيروت) المحیط البرہانی میں ہے ”الشرط السابع: أن يكون المسلم فيه يتعين بالتعيين حتى لا يجوز السلم في الأثمان نحو الدراهم المضروبة والدنانير المضروبة؛ لأن المسلم فيه يجب أن يكون مبيعاً“ ترجمہ:ساتویں شرط یہ ہے کہ مسلم فیہ متعین کرنے سے متعین ہوسکتی ہو ۔لہٰذا اثمان میں سلم جائز نہیں جیسے رائج دراہم و دنانیر ، اس لیے کہ مسلم فیہ کا مبیع ہوناضروری ہے۔ (المحيط البرهان،كتاب البيع،الفصل الثاني والعشرون: في السلم،جلد7،صفحہ71،دار الكتب العلمية، بيروت) بدائع الصنائع میں ہے ”كان المسلم فيه مبيعا، والمبيع مما يتعين بالتعيين، والدراهم، والدنانير لا يحتملان التعيين شرعا في عقود المعاوضات فلم يكونا متعينين فلا يصلحان مسلما فيهما“ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب البيع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،جلد5،صفحہ186،دار الكتب العلمية،بيروت) الاختیار میں ہے ”ولا يجوز السلم في ما لا يتعين بالتعيين كالدراهم والدنانير، لأن البيع بها يجوز نسيئة فلا حاجة إلى السلم فيهما “ (الاختيار لتعليل المختار، كتاب البيوع،باب السلم،جلد2،صفحہ36،مطبعة الحلبي،القاهرة) اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”نوٹ ہوں یا پیسے دونوں کی بیع سلم جائز ہے کہ ثمن اصطلاحی ہیں نہ خلقی، تنویر الابصار و درمختارباب السلم میں ہے”یصح فیما امکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون) خرج بقولہ (مثمن) الدراھم والدنانیر لانہا اثمان فلم یجز فیہا السلم (وعددی متقارب کجوزوبیض وفلس“ترجمہ:عقد سلم اس چیز میں صحیح ہے جس کی صفت کو ضبط کرنا اور اس کی مقدار کو پہچاننا ممکن ہو جیسے کیلی چیزاور ایسی وزنی چیز جو مثمن یعنی مبیع بنے، اس قید سے دراہم ودنانیر خارج ہوگئے کیونکہ وہ ثمن ہیں جن میں بیع سلم جائز نہیں ، اور ایسی چیز جو عددی متقارب ہو جیسے اخروٹ، انڈے، اور پیسے ۔” (فتاوی رضویہ ،جلد17،صفحہ583، رضافاؤنڈیشن ،لاہور) سونے چاندی کے برتن،کنگن،سونا چاندی کی ڈھلی کو کتب فقہ میں متعین قرار دیا گیا ہے۔ البحر الرائق میں ہے ” دخل المصوغ من الذهب والفضة كالآنية تحت القيميات فتتعين بالتعيين للصفة “ ترجمہ:اس میں سونا چاندی سے بنی ہوئی چیزیں داخل ہوگئیں جیسے سونا چاندی کے برتن قیمی ہیں وصف کی تعیین سے متعین ہوجاتے ہیں۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب البیوع،الاعواض فی البیع،جلد5،صفحہ299،دار الكتاب الإسلامي) درمختار میں ہے ”(والمعتبر تعيين الربوي في غير الصرف) ومصوغ ذهب وفضة “ (درمختار مع ردالمحتار،کتاب البیوع،مطلب في استقراض الدراهم عددا،جلد5،صفحہ178،دارالفکر،بیروت) فتاوی رضویہ میں ہے: ” بلکہ تحقیق یہ ہے کہ جوشے مرابحۃ بیچی جائے اس میں دو شرطیں ہیں :شرط اول: وہ شے معین ہو یعنی عقد معاوضہ اس کی ذات خاص سے متعلق ہوتاہے نہ یہ کہ ایک مطلق چیز ذمہ پر لازم آتی ہو، ثمن جیسے روپیہ اشرفی عقود معاوضہ میں متعین نہیں ہوتے، ایک چیز سو روپے کو خریدی کچھ ضرور نہیں کہ یہی سو روپے جو اس وقت سامنے تھے ادا کرے بلکہ کوئی سو دے دے، اور اگر مثلا سونے کے کنگن بیچے تو خاص یہی کنگن دینے ہوں گے، یہ نہیں کرسکتا کہ ان کو بدل کر دوسرے کنگن دے اگر چہ وزن ساخت میں ان کے مثل ہوں یہ شرط مرابحۃ وتولیۃ ووضیعہ تینوں میں ہے یعنی اول سے نفع پر بیچے یا برابر کو یا کمی پر، یہاں اس شیئ کا معین ہونا اس لئے ضرور ہے کہ یہ عقد اسی شیئ مملوک سابق پر وارد کا جاتاہے اور جب وہ معین نہیں تو نہیں کہہ سکتےکہ یہ وہی شی ہے، ولہٰذا اگرروپوں سے اشرفیاں خریدیں تو ان کو مرابحہ نہیں بیچ سکتے۔۔۔اور اگر سونے کا گہناروپوں کو خریدا تو اسے مرابحۃ بیچ سکتاہےکہ وہ بیع میں متعین ہوگیا تو عقد سی مملوک اول پر واقع ہوگا۔”(فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ225،رضافاونڈیشن،لاہور) سونا یا چاندی کے برتن کے مبیع ہونے پر کلام کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃالرحمن فرماتے ہیں:” ثم اقول: بل حقیقۃ الامر ان الاموال کما فی البحر وغیرہ اربعۃ اقسام ، الاول ثمن بکل حال وھو النقدان فانھما اثمان ابداصحبتھما الباء اولا وقوبلا بجنسھما اولا وعدھما العرف من الاثمان اولا کا لمصوغ منھما فانہ بسبب ما اتصل بہ من الصنعۃ لم یبق ثمنا صریحا و لہذا یتعین فی العقد و مع ذٰلک بیعہ صرف یشترط فیہ مایشترط فی الصرف لانھما خلقا للثمنیۃ ولا تبدیل لخلق اﷲ“ پھرمیں کہتا ہوں اصل بات یہ ہے کہ مال چار قسم ہے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے، اول وہ کہ ہر حال میں ثمن ہی ہے اور وہ سونا چاندی ہے کہ ہمیشہ ثمن ہی رہیں گے خواہ انکے عوض کوئی چیز بیچی یا انکو کسی چیز کے عوض بیچنا کہیں خواہ اپنی جنس سے بدلے جائیں یاغیر جنس سے خواہ اہل عرف انہیں ثمن کہیں یا نہیں جیسے چاندی سونے کے برتن کہ وہ اس گھڑت کے سبب جو ان میں ہوئی خالص ثمن نہ رہے ولہٰذا عقد بیع میں متعین ہوجائیں گے اور باینہمہ ان کی بیع شرعاً صرف ٹھہرے گی ( یعنی ثمن سے ثمن کا بیچنا) اور جو شرائط صرف کے وہ سب اس کے مشروط ہوں گے اس لئے کہ چاندی سونا ثمن ہونے کے لئے ہی بنائے گئے اور اﷲ کی پیداکی ہوئی چیز بدلی نہیں جاتی ۔ ”(فتاوٰ ی رضویہ،جلد17،صفحہ404۔۔،رضافاؤنڈیشن،لاہور) یہاں جو بیع صرف کہا گیا یہ سونا کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا خریدنے کے اعتبار سے ہےورنہ اگر ایک طرف سے سکہ یا نوٹ ہوں اور دوسری طرف سے سونا یا چاندی ہوتو دونوں طرف قبضہ ضروری نہیں بلکہ ایک طرف سے قبضہ کافی ہے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا:” کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع فلوس رائجہ کی جو حکم ثمن میں ہیں بمقابلہ روپیہ کے بیع صرف ہے یانہیں؟ اور اگر صراف کو روپیہ دیا اس کے پاس کل روپیہ کے پیسے نہ تھے موجوددیے باقی کا وعدہ کردیا تو یہ بیع جائز ہوگی یانہیں؟ اور جبکہ یہ بیع صرف بسبب صدق تعریف کے کہ بیع الثمن بالثمن ہے قرار دی جائے گی تو اس میں شرائط بیع صرف کے کہ متحد الجنسین میں تماثل اور تقابض اور مختلف الجنسین میں تقابض ہے درصورت جواز کے پائے جائیں گے یانہیں؟ بینواتوجروا جوابافرماتے ہیں:” بیع الفلوس بالدارہم صرف نہیں نہ اس میں سب احکام صرف جاری”فان الصرف بیع ماخلق الثمنیۃ بماخلق لہا کما فسرہ بذٰلک فی البحر وتبعہ فی الدرالمختار واقرہ الشامی وغیرہ و معلوم ان الفلوس لیست کذا وانما عرض لہاحکم الاثمان بالاصطلاح مادامت رائجۃ والافہی عروض کما فی اصل خلقتہا وبعدم کونہ صرفا صرح العلامۃ الشامی عن البحر وصاحب البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربٰو من ردالمحتار “کیونکہ صرف تو خلقی ثمن کو خلقی ثمن کے عوض بیچنے کا نام ہے جیسا کہ اس کی تفسیر بیان کی بحر نے اور درمختار میں اس کی اتباع ہے اور شامی وغیرہ نے اس کو برقرار رکھا اور یہ بات معلوم ہے کہ پیسے ثمن خلقی نہیں۔ انہیں تو جب تک وہ رائج ہیں اصطلاح میں ثمنوں کاحکم عارض ہے ورنہ تویہ سامان ہیں جیسا کہ اصل خلقت میں تھے اور اسکے بیع صرف نہ ہونے کی تصریح علامہ شامی نے ردالمحتار کے باب الربٰو میں بحر کے حوالہ سے کی اور صاحب بحر نے بحوالہ ذخیرہ عن مشائخ نقل کیا۔مگر اس قدر میں شک نہیں کہ جب تاعین رواج ان کے لئے حکم اثمان ہے تو احدالجانبین میں قبض بالید ہونا ضروری ہے۔”والالکان افتراقا عن دین بدین و قد نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی“ورنہ یہ دین کے بدلے دین سے افتراق ہوگا حالانکہ رسول اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ادھار کے بدلے ادھار کی بیع سے منع فرمایا ہے۔۔۔۔ بالجملہ مذہب راجح پر بیع الفلوس بالدراہم والدنانیر میں ایک ہی جانب کا قبضہ کافی، پس صورت مستفسرہ میں بیع بلا تردد صحیح اور صراف پر مشتری کے لئے باقی پیسے لازم”فی المبسوط اذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ ۱؎ کذا فی الہندیۃ و فیہا عن الحاوی وغیرہ لواشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم و لم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا و لوقبض خمسین فلسا فکسدت بطل البیع فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس ملتقطا“مبسوط میں ہے کہ جب کسی نے درہموں کے عوض پیسے خریدے اور ثمن نقدا ادا کردئے مگر بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہیں تو بیع جائز ہے۔ہندیہ میں یونہی ہے۔ اسی میں حاوی وغیرہ سے منقول ہے اگرکسی نے ایک درہم کے عوض سو پیسے خریدے، بائع نے درہم پر قبضہ کرلیا مگر مشتری نے ابھی پیسوں پر قبضہ نہیں کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو قیاس کی رو سے بیع باطل نہیں ہوئی اوراگر پچاس پیسوں پر قبضہ کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو نصف میں بیع باطل ہوگئی اگر وہ کھوٹے نہ ہوتے بیع فاسد نہ ہوتی اور مشتری باقی پیسے لینے کاحقدار ہوتا ۔ تلخیص، ”وفی التنویر وشرحہ باع فلوسا بمثلہا او بدراہم اوبدنانیر فان نقد احدہما جازوان تفرقا بلاقبض احدہما لم یجز ومسئلۃ المقام یستدعی اکثر من ھذا وفیما ذکرنا کفایۃ واﷲ تعالٰی اعلم“تنویر اور اس کی شرح میں ہے کہ کسی نے پیسوں کو ان کی مثل کے عوض یا درہموں کے عوض یا دیناروں کے عوض بیچا پس اگر دونوں میں سے ایک نے نقد ادائیگی کردی توبیع جائز ہے اور اگر دونوں قبضہ کئے بغیر متفرق ہوگئے تو ناجائز ہے۔اس مقام کا مسئلہ اس سے زیادہ تفصیل کا تقاضا کرتاہے اورجو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں کفایت ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتاہے۔“ (فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ632۔۔۔،رضافاونڈیشن،لاہور) ہندیہ میں ہے ”لو أسلم نقرة فضة أو تبرا من الذهب أو المصوغ في الزعفران قال أبو يوسف رحمه الله تعالى يجوز “ ترجمہ:اگر سونے یا چاندی کے ٹکڑے یازعفران سے بنی کسی چیز میں سلم کی تو امام ابو یوسف نے فرمایا کہ یہ جائز ہے۔(الفتاوی الہندیہ ،کتاب البیوع،الفصل الثاني في بيان ما يجوز السلم فيه وما لا يجوز،جلد3،صفحہ181،دارالفکر،بیروت) امام ابویوسف اور امام زفر کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اگر سونے یا چاندی کے ٹکڑے کی بیع سلم درہم و دینار کے ساتھ کی جائے تو وہ جائز ہے یا نہیں۔امام ابو یوسف کے نزدیک جائز ہے اور امام زفر کے نزدیک ناجائز ہے۔یہ اختلاف درہم و دینار کی وجہ سے ہے جہاں تک فلس کے ساتھ بیع سلم کا تعلق ہے تو اس کے جواز میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔بدائع الصنائع میں ہے ” فأما إذا أسلم نقرة فضة، أو تبر ذهب، أو المصوغ فيها فهل يجوز؟ ذكر الاختلاف فيه بين أبي يوسف، وزفر على قول أبي يوسف يجوز، وعلى قول زفر لا يجوز.(وجه) قول زفر: أنه وجد علة ربا النساء وهي أحد وصفي علة ربا الفضل، وهو الوزن في المالين فيتحقق الربا.(وجه) قول أبي يوسف: أن أحد الوصفين الذي هو علة القدر المتفق لا مطلق القدر، ولم يوجد؛ لأن النقرة، أو التبر من جنس الأثمان، وأصل الأثمان، ووزن الثمن يخالف وزن المثمن على ما ذكرنا، فلم يتفق القدر فلم توجد العلة؛ فلا يتحقق الربا كما إذا أسلم فيها الدراهم، والدنانير، ولو أسلم فيها الفلوس جاز؛ لأن الفلس عددي، والعدد في العدديات ليس من، أوصاف العلة “ ترجمہ:تو بہر حال جب کسی نے چاندی کے ٹکڑے یا سونے کی ڈھلی یا جس کو ان سے بنایا گیا ہو ان میں بیع سلم کی تو کیا یہ جائز ہے؟اس بارے میں امام ابو یوسف اور امام زفر رحمہمااللہ کے درمیان اختلاف مذکور ہے۔امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق جائز ہےاور امام زفر رحمہ اللہ کے مطابق جائز نہیں ہے ۔امام زفر کی دلیل یہ ہےکہ ربا النساء کی علت پائی گئی اور وہ ربا الفضل کی علت کے دو وصفوںمیں سے ایک ہےاور وہ دونوں مال میں وزن ہےتو ربا ثابت ہو گیا۔امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہےکہ دو وصفوں میں سے ایک جوہے وہ قدرمتفق علت ہے نہ کہ مطلق قدر اور وہ نہیں پائی گئی، اس لئے کہ چاندی کا ٹکڑا اور سونے کی ڈھلی ثمن کی جنس اوراصل ثمن میں سے ہیں اور ثمن کا وزن مبیع کے وزن کے مخالف ہوتا ہے بمطابق اس کے جو ہم نے ذکر کیا ،تو قدرمتفق نہیں لہذا علت نہ پائی گئی تو ربابھی ثابت نہ ہو گاجیسا کہ جب کسی نےان میں دراہم اور دنانیر کی بیع سلم کی۔ اگر ان میں فلوس کی بیع سلم کی تو جائز ہے اس لئے کہ فلوس عددی ہیں اور عدد، عددیات میں علت کے اوصاف میں سے نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب البيع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،جلد5،صفحہ186،دار الكتب العلمية،بيروت) واللہ اعلم ورسولہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــہ ابواحمد مفتی محمد انس رضا قادری

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
8 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو فریق کا ایک مشترکہ کام چل رہا تھا اس کو ختم کرنے کا طریقہ کار کیاہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ جو شریک عقدِ شرکت کوختم کرناچاہتاہے اسے اس بات کا اختیار ہے کہ شرکت کوختم کردے ، دوسرے شرکاء کی رضا مندی ضروری نہیں ، جبکہ دوسرے شریک کو شرکت کے فسخ کا علم ہو ، البتہ سرمایہ نکالنے کے لئے کاروبارکی پوزیشن دیکھ کر فریقین باہمی رضا مندی سے کسی مناسب وقت پر اتفاق کرلیں۔ اگرسرمایہ ہاتھ میں نہ ہو بلکہ لوگوں سے وصول کرنا ہو تو ایک فریق اس بات کا پابندنہیں کہ دوسرے فریق کو رقم اپنی جیب سے ادا کرے ۔ بلکہ جیسے جیسے رقم آتی رہے گی دونوں فریق اپنا حصہ اس سے لیتے رہیں گے۔ بہارِ شریعت میں ہے : ” دونوں میں ایک نے شرکت کوفسخ کردیا ، اگرچہ دوسرا اس فسخ پر راضی نہ ہوجب بھی شرکت فسخ ہوگئی ، بشرطیکہ دوسرے کو فسخ کا علم ہو اور دوسرے کو فسخ کا علم نہ ہوا تو فسخ نہ ہوگی۔ اور یہ شرط نہیں کہ مال شرکت روپیہ اشرفی ہو بلکہ اگر تجارت کے سامان موجودہیں جو فروخت نہیں ہوئے اور ایک نے فسخ کردیا جب بھی فسخ ہوجائے گی ۔ ‘‘(بہارِ شریعت ، 2 / 513 ، ردالمحتار ، 6 / 500) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنی دوکان پر چوکر(Husk) (جانوروں کا چارہ) وغیرہ بیچ کر اپنا کام چلا رہا ہوں ۔ میرا کزن مجھے کچھ انویسٹمنٹ(Investment) یوں دے رہا ہے کہ اس رقم سے صرف کھاد خرید کر اپنی دوکان پر رکھوں ، جس کی ایک بوری نقد 13 ہزار روپے کی خرید کر مارکیٹ میں 4 مہینے کے ادھار پر 16 ہزار روپے کی بیچی جاتی ہے۔ کھاد کی خرید و فروخت، اس کو دوکان میں رکھنا ، کسٹمر سے پیسوں کی وصولی وغیرہ سب کام میں کروں گا اور ان کاموں کے عوض ان سے کسی قسم کا کوئی نفع اور عوض وصول نہیں کروں گا اور ان کے مال کا حساب کتاب الگ رکھوں گا ۔ میرا اس میں صرف یہ فائدہ ہو جائے گا کہ میری دوکان پر ایک آئٹم کا اضافہ ہو جائے گا جس کی وجہ سے زیادہ کسٹمر میرے پاس آئیں گے۔ تو کیا اس کی شرعا اجازت ہے؟

بسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ کسی کو انویسٹمنٹ(Investment) اس شرط پر دینا کہ کام سارا کا سارا وہ کرے گا اور تمام کا تمام نفع انویسٹر (Investor)کا ہوگا ، کام کرنے والے کو اپنے کام کے عوض کچھ بھی نہیں ملے گا ، شرعی اصطلاح میں ابضاع /بضاعت کہلاتا ہے ، فی نفسہٖ یہ جائز ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا اپنے کزن کی انویسٹمنٹ(Investment)سے کھاد خرید نا اور اسے مارکیٹ میں رائج شرعی طریقے کے مطابق ادھار یا نقد بیچنا اور ضروری اخراجات نکالنے کے بعد مکمل نفع اپنے کزن کو دے دینا اور اپنے کام اور اپنی کسی سروس کا کوئی معاوضہ نہ لینا، بالکل جائز ہے۔ لیکن یہاں اس بات کا خیال رہے کہ آپ چونکہ کزن کے وکیل بن کر ان کے مال میں خریدو فروخت کا تصرف کریں گے لہٰذا عقد بیع کے حقوق مثلاً پیمنٹ کی وصولی وغیرہ کا تعلق آپ سے ہوگا۔ آپ کے قبضہ میں ان کا مال امانت ہوگا۔ آپ کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی (Negligence) کے بغیر مال ہلاک ہوگیا یا مال میں نقصان ہوگیا تو آپ پر کسی قسم کا کوئی تاوان نہیں ہوگا۔ ان کے مال کا جتنا نفع ہوا ہے، اس تمام کے حقدار آپ کے کزن ہوں گے ۔ اگر کوئی نئی صورت حال پائی گئی تو مختلف صورتوں پر مزید احکام شرعیہ لاگو ہو سکتے ہیں ۔ علامہ محقق اِبن عابدین شامی علیہ الرحمہ ”اِبضاع “ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” وهو ان يكون المال للمبضع، والعمل من الآخر، ولا ربح للعامل“یعنی:ابضاع یہ ہے کہ ایک شخص کا مال اور دوسرے کا کام ہو جب کہ کام کرنے والا نفع نہ لے ۔(رد المحتار مع در مختار، جلد05، صفحہ 657، مطبوعہ بیروت) المبسوط میں ہے:”ولو کان قال: على ان ما رزق اللہ تعالى فی ذلك من شیء فهو كله لرب المال، فهذه بضاعة مع المضارب وليس له فيها ربح، ولا اجر، ولا ضمان عليه فی المال ان هلك؛ لانه ما ابتغى عن عمله عوضا فيكون هو فی العمل معينا لصاحب المال۔۔۔ فيكون المال فی يده امانة “ یعنی: اگر رقم دیتے ہوئے یہ طے ہوا کہ اس رقم سے اللہ جو رزق عطا فرمائے گا وہ صرف انویسٹر کا ہو گا تو یہ”بضاعت “ ہے، جس میں اس کا نہ کوئی نفع ہو گا نہ کوئی اُجرت ہو گی، اور مال ہلاک ہونے کی صورت میں ضمان بھی نہیں ہوگا کیونکہ کام کرنے والے نے اپنے کام کا کوئی عوض طلب نہیں کیا جس کے باعث کام کرنے والا مال کے مالک کا محض معین و مددگار ہوگا جب کہ مال اس کے پاس امانت قرار پائے گا ۔(المبسوط، جلد22، صفحہ24، دار المعرفة بيروت) بطورِ بضاعت، کسی کو اپنا مال دینا جائز ہے جیسا کہ درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:”لو قال المبضع لاحد خذ هذه الالف الدرهم بضاعة وبع واشتر بها لی جاز“ یعنی: اگر بضاعت پر کام کروانے والے نے کسی سے کہا کہ یہ ہزار درہم بطورِ بضاعت لے لو اور اس سے میرے لیے خرید و فروخت کرو تو یہ جائز ہے۔( درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، جلد 3، صفحہ367، دار الکتب العلمیہ) ابضاعاً مال لینے والا وکیل ہوتا ہے ، اور اس کے قبضہ میں مال امانۃً ہوتا ہے ۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب مجلۃ الاحكام العدلیہ میں ہے:”واذا شرط كون الربح تماما عائدا الی صاحب راس المال فيكون راس المال فی يد العامل بضاعة والعامل مستبضع ومن کون المستبضع فی حکم الوكيل المتبرع یصیر الربح او الخسار تماما عائدا الی صاحب المال“ یعنی: جب سارا نفع مال کے مالک کا ہونا عقد میں مشروط ہو تو کام کرنے والے کے ہاتھ میں راس المال بطورِ بضاعت ہو گا اور کام کرنے والا شخص مستبضع کہلائے گا ۔ مستبضع کے وکیلِ متبرع ہونے کے لوازمات میں سے ایک یہ ہے کہ تمام کا تمام نفع صاحبِ مال کی طرف لوٹے گا۔(مجلۃ الاحكام العدلیہ، صفحہ259، مطبوعہ کراچی) وکیل بالبیع والشراء کی طرف عقد کے حقوق لوٹتے ہیں جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے : ”حقوق العقد فی البيع، والشراء واخواتهما ترجع الى الوكيل مذهب علمائنا “ یعنی: ہمارے علما کے نزدیک خرید و فروخت اور ان کی اقسام میں عقد کے حقوق وکیل کی طرف لوٹتے ہیں ۔(بدائع الصنائع، جلد 6، صفحہ33، مطبوعہ بیروت) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اسکریپ کاسامان خرید کر اس سے چاندی نکالناجانتا ہوں ایک دوست نے مجھے دولاکھ روپے بطورِ شرکت دئیے اور میں نے بھی اپنے دو لاکھ روپے ملائےتاکہ اسکریپ کا مال خرید کر چاندی نکال سکوں،نفع سے متعلق ہماری یہ بات طے ہوئی تھی کہ میں اپنی مرضی سے اسے کچھ بھی نفع دے دوں گا البتہ نقصان سے متعلق ہماری کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ہمارا اس طرح معاہدہ کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ عقدِ شرکت میں ہر فریق کا نفع فیصد کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے، اگر فیصد کے اعتبار سے نفع کی مقدار طے نہ کی تو شرکت فاسد ہوگی لہٰذا پوچھی گئی صورت میں نفع کو دوسرے فریق کی مرضی پر موقوف رکھاہے،فیصد کے اعتبار سے طے نہیں کیاہے جس کی وجہ سے یہ شرکت فاسد ہوئی ہے جسے ختم کرنا ضروری ہے۔اگر نئے سرے سے شرکت کرنا چاہیں تو نفع فیصد کے اعتبار سے طے کریں اور کام نہ کرنے والے فریق کے لیےیا کم کام کرنے والے فریق کے لیے اگر نفع کی مقداربھی کم مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ شرکت میں نقصان سے متعلق یہ اصول یاد رکھیں کہ نقصان دونوں فریقین کے مال کے تناسب سے ہوگا اگرچہ فریقین نے اس کے خلاف مقرر کیا ہوکیونکہ نقصان کا اصول شریعت کی جانب سے طے شدہ ہے۔ اگر شرکت میں دونوں فریقین کا مال برابر ہو جیسا کہ سوال میں ذکر کردہ صورت میں ہے اور نقصان ہوجائے تو فریقین کو برابر نقصان برداشت کرنا ہوگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شرکت ِ عمل اور شرکتِ عقد میں کیا فرق ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ شرکت کی تین اقسام ہیں : ( 1 ) شرکتِ مِلک یعنی چند افراد بغیر عقدِ شرکت کسی چیز کے مشترکہ مالک ہوں جیسے کسی کا انتقال ہوا اور اس نے مال چھوڑا تو اس کے ورثاء مشترکہ طور پر اس ترکے کے مالک بن گئے یہ شرکتِ ملک ہے یا دو شخصوں نے مل کر مشترکہ طور پر ایک پلاٹ خریدا تو یہ بھی شرکتِ ملک ہے۔ ( 2 ) شرکتِ عقد یعنی آپس میں عقدِ شرکت کیا ہو جیسے عموماً پارٹنر شپ بزنس ہوتا ہے کہ دو یا زیادہ افراد رقم ملا کر اس سے کاروبار کرتے ہیں یہ شرکتِ عقد کہلاتی ہے۔ ( 3 ) شرکتِ عمل یعنی دو کاریگر کام پکڑ کر شرکت میں کام کریں اور جو مزدوری ملے آپس میں تقسیم کرلیں جیسے دو درزی مل کر بیٹھ گئے یا دو رئیل اسٹیٹ بروکر مل کر بیٹھ گئے کہ مل کر کام کریں گے ، یہ شرکتِ عمل کی صورت ہے۔ نوٹ : ان مسائل کے تفصیلی احکام جاننے کے لئے بہارِ شریعت حصہ 10 سے شرکت کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا چلتے کاروبار میں شرکت کر سکتے ہیں ؟

بسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ چلتے کاروبار میں شرکت کرنا ، جائز نہیں کیونکہ اس طریقۂ کار میں شرکت کی بنیادی شرائط نہیں پائی جاتیں۔ اگر پہلے سے کوئی کام چل رہا ہے اور اس چلتے کام میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایک یا زائد آئٹم میں شرکت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کرلیں اور ان کا الگ سے حساب کتاب رکھا جائے۔ اگر کل کاروبار میں دوسرے کو شریک کرنا ہے تو پھر پہلا کام سارا حساب کتاب کرنا ہوگا کہ کتنا مال ہے کتنا سرمایہ ہے اور اس کی مختلف صورتیں بنیں گی۔ ممکن ہے کاروبار میں رقم بالکل نہ ہو بلکہ صرف سامان ہو اور اس کے علاوہ بھی صورتیں بن سکتی ہیں۔ ساری کلوزنگ کرنے کے بعد پھر مستند مفتیانِ کرام سے رہنمائی لی جائے کہ نقدی کی یہ تفصیل ہے اور اس کے علاوہ چیزوں کی یہ تفصیل ہے۔ پھر اس کی روشنی میں شرعی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ اس تعلق سے دارُ الافتاء اہلسنّت کے تفصیلی فتاویٰ کا مطالعہ بھی کریں۔ نیز مدنی چینل کے ہفتہ وار پروگرام “ احکامِ تجارت “ میں بھی اس بات کو متعدد بار تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ چلتے کاروبار میں شرکت کیوں نہیں ہوسکتی اور اگر کرنی ہے تو کیا طریقہ اپنا یا جا سکتا ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر برانڈ کا نام ، رجسٹریشن ، محنت ، مصنوعات کی تیاری اور ترسیل وغیرہ سب کچھ ایک فریق کی طرف سے ہواور وہ شرکت میں صرف10,000روپے کاحصہ ملائے جبکہ دوسرا فریق 90,000روپے ملائے تو اس صورت میں کیا کام کرنے والا فریق اپنا نفع%80اور دوسرے فریق کا نفع % 20رکھ سکتا ہے؟ اور نقصان ہونے کی صورت میں نقصان کی رقم کی تقسیم کاری کا کیا طریقہ کار ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ اگر ایک شریک عامل ہو یعنی ورکنگ پارٹنر ہو اور اس کے لیے ، اس کے دئیے گئے راسُ المال یعنی کیپٹل کے تناسب سے زیادہ نفع مقررکرنے کی شرط لگائی جائے تو اس میں شرعاً حرج نہیں البتہ شرکت کا معاہدہ ہوتے وقت دونوں فریقین کو علم ہونا ضروری ہے کہ کس کا نفع کیا ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں جس فریق نے صرف دس ہزار روپے ملائے اور وہ ورکنگ بھی کر رہا ہے تو اپنے کیپٹل کے تناسب سے زیادہ نفع مقرر کر سکتا ہے لہٰذا اس نے اپنے لئے 80 فیصد نفع طے کیا ہے تو شرعاً کوئی حرج نہیں۔ (ردالمحتار ، 6 / 479) البتہ نقصان کا اصول یہ ہے کہ جس کا جتنا فیصد سرمایہ یعنی کیپٹل ہے وہ صرف اتنے فیصد نقصان کو برداشت کرے گا۔ بہارِ شریعت میں ہے : “ نفع میں کم و بیش کے ساتھ بھی شرکت ہوسکتی ہے مثلاً ایک کی ایک تہائی اور دوسرے کی دو تہائیاں ، اور نقصان جو کچھ ہوگا ، وہ راس المال کے حساب سے ہوگااس کے خلاف شرط کرناباطل ہے۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، 2 / 491 ، ردالمحتار ، 6 / 469) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ چندافرادمل کر مشترکہ کمپنی بناکر کام کرناچاہتے ہیں ، یہ ارشادفرمائیں کہ شرکت قائم کرنے کے لیے کسی شریک کے لیے کم ازکم کتنے فیصدرقم ملاناضروری ہے ؟

بسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ سوال میں پوچھی گئی صورت کا تعلق شرکتِ عنان سے ہے اس قسم میں شرکاء کی رقم یکساں ہوناضروری نہیں ، کم و بیش بھی ہوسکتی ہے ، لہٰذا کوئی بھی فردشرکت میں جتنی چاہے رقم ملاسکتا ہے ، شرعاً کوئی حدبندی نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے : “ شرکت عنان میں یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی میعاد مقرر کردی جائے مثلاً ایک سال کے لیے ہم دونوں شرکت کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ دونوں کے مال کم و بیش ہوں برابرنہ ہوں ۔ ‘‘ (بہارِ شریعت ، 2 / 499 ، ردالمحتار ، 6 / 478) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماراگاڑیوں کے پارٹس وغیرہ بیچنے کا کاروبار ہے ۔ بعض اوقات گاہک ادھار خریدنا چاہتا ہے ، تو جو چیز ہم نقد ہزار روپے میں بیچتے ہیں ، ادھار میں وہی چیز پندرہ سو روپے کی بیچ سکتے ہیں ؟ اس میں کسی قسم کا سود وغیرہ تو نہیں ہے ؟

بسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں آپ نقد قیمت ہزار روپے والی چیز ادھار میں پندرہ سو روپے کی بیچ سکتے ہیں ، اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے ، بشرطیکہ ادھار کی مدت معین ہو اور یہ طے کرلیا جائے کہ یہ سودا نقد کیا جارہا ہے یا ادھار۔ نیز کوئی اور ناجائز شرط نہ لگائی جائے۔ نقد اور ادھار بیچنے کے متعلق کنز الدقائق میں ہے:” وصح بثمن حال وبأجل معلوم “ ترجمہ: نقد اور ادھار قیمت کے ساتھ خرید و فروخت درست ہے ، بشرطیکہ ادھار کی مدت معلوم ہو ۔ ( کنزا لدقائق ، کتاب البیوع ، صفحہ 228 ، مطبوعہ کراچی ) نقد و ادھار میں سے کوئی صورت معین کیے بغیر بیچنے کے متعلق فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ” رجل باع على أنه بالنقد بكذا وبالنسيئة بكذا او الیٰ شھر بکذا و الیٰ شھرین بکذا لم يجز كذا في الخلاصة “ ترجمہ:کسی شخص نے اس طریقے سے کوئی چیز بیچی کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی ہے یا ایک مہینے کی مدت تک اتنے کی اور دو مہینے کی مدت تک اتنے کی ہے ، تو یہ خرید و فروخت جائز نہیں ہے ۔ جیسا کہ خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے ۔ ( الفتاویٰ الھندیہ ، کتاب البیوع ، الباب العاشر فی الشروط التی تفسد البیع ، جلد 3 ، صفحہ 146 ، مطبوعہ کراچی ) نقد و ادھار میں سے کوئی ایک صورت معین کرکے بیچنے کے متعلق فتح القدیر میں ہے: ” ان كون الثمن على تقدير النقد ألفا وعلى تقدير النسيئة ألفين ليس في معنى الربا “ ترجمہ:کسی چیز کی قیمت نقد کی صورت میں ایک ہزار اور ادھار کی صورت میں دو ہزار ہو ، تو یہ سود کی صورت نہیں ہے ۔ ( فتح القدیر ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، جلد 6 ، صفحہ 410 ، مطبوعہ کوئٹہ ) سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا:” جب غلہ بازار میں نقدوں 16 سیر کا ہو ، تو قرضوں 15 یا 12 سیر کا بیچنا جائز ہے یا حرام یامکروہ؟“ تو جواباً آپ علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا:”یہ فعل اگر چہ نرخ بازار سے کیساہی تفاوت ہو حرام یا ناجائز نہیں کہ وہ مشتری پر جبر نہیں کرتا ، نہ اسے دھوکا دیتا ہے اور اپنے مال کاہر شخص کو اختیار ہے ۔ چا ہے کوڑی کی چیز ہزار روپیہ کودے۔ مشتری کو غرض ہو، لے۔ ( غرض )نہ ہو ، نہ لے فی ردالمحتار:” لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ “ (ترجمہ:)ردالمحتار میں ہے:اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں بیچا ، تو جائز ہے اور مکروہ نہیں ہے ۔ “ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 97 ، 98 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور ) اسی طرح آپ علیہ الرحمۃ سے ایک اور سوال ہوا:” غلہ تجارتی کو ادھار میں موجودہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیع کرنا درست ہے کہ نہیں ؟“ تو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:” درست ہے ۔ “ ( فتاویٰ رضویہ ، جلد 17 ، صفحہ 275 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور ) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فتاویٰ امجدیہ میں فرماتے ہیں:” بیع میں ثمن کا معین کرنا ضروری ہے ۔ در مختار میں ہے:و شرطہ لصحتہ معرفۃ قدر مبیع و ثمن اور جب ثمن معین کر دیا جائے ، تو بیع چاہے نقد ہو یا ادھار سب جائز ہے ۔ اسی میں ہے:و صح بثمن حال و مؤجل الی معلوم اور یہ بھی ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ ، جس قیمت پر مناسب جانے ، بیع کرے ۔ تھوڑا نفع لے یا زیادہ ، شرع سے اس کی ممانعت نہیں ، مگر صورت مسئولہ میں یہ ضرور ہے کہ نقد یا ادھار دونوں سے ایک صورت کو معین کر کے بیع کرے اور اگر معین نہ کیا ، یوہیں مجمل رکھا کہ نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو ، تو یہ بیع فاسد ہوگی اور ایسا کرنا ، جائز نہ ہوگا ۔ “ ( فتاویٰ امجدیہ ، جلد 3 ، صفحہ 181 ، مکتبہ رضویہ ، کراچی ) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دو شخص آپس میں پارٹنر ہیں ، ایک دکان پر بیٹھتا ہے ۔ اب جو گاہک دکان پر آتا ہے ، وہ مشترک ہی ہوتا ہے ، مگر دکان پر بیٹھنے والے پارٹنر کے کچھ جاننے والے لوگ اسے فون یا واٹس اپ پر سامان کا کہتے ہیں (جن کو دکان سے کوئی غرض نہیں ہوتی ، وہ اس شخص کو گھریلو طور پر جانتے ہیں )، تو یہ ان کے ساتھ پرسنل ڈیل کرتا ہے اور پھر اپنے پیسوں سے وہی سامان مارکیٹ سے لا کر اُن لوگوں کو دے دیتا ہے ، مالِ شرکت سے کچھ بھی نہیں دیتا ، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اِس پارٹنر کا اس طرح کرنا کیسا ہے اور اس نفع کا کیا حکم ہے ؟ نوٹ ! دونوں کا مشترکہ کام سونے کا ہے اوراسی طرح کے لاکٹ ،سیٹ وغیرہ لوگ فون پر اس جاننے والے کوکہتے ہیں اور ایک پارٹنر باہر سے ہی اسے خرید کر بیچ دیتا ہے۔

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ پوچھی گئی صورت میں اُس شریک کا اس طرح ڈیل کرنا ، جائز نہیں اور اس کا نفع بھی مشترک ہی ہوگا ، کیونکہ شرکت کے معاہدے کے بعد جس قسم کے مال پر شرکت کا معاہدہ ہو چکا ہو ، اسی قسم کا مال خریدنے بیچنے کی صورت میں وہ چیز شرکت کی ہی کہلاتی ہے اور اس کا نفع دونوں شریکوں میں تقسیم ہوتا ہے ، اکیلے خرید و فروخت کرنے والے شریک کا نہیں ہوتا اگرچہ خریدتے بیچتے وقت اپنے لیے خریدنے بیچنے پر گواہ بھی بنا لیے ہوں ۔ بحر الرائق میں محیط کے حوالے سے ہے : ”و لو اشتری من جنس تجارتھما و اشھد عند الشراء انہ یشتریہ لنفسہ فھو مشترک بینھما لانہ فی النصف بمنزلۃ الوکیل بشراء شیء معین و لو اشتری مالیس من تجارتھما فھو لہ خاصۃ لان ھذا النوع من التجارۃ لم ینطو علیہ عقد الشرکۃ “ترجمہ : اور اگر ایسی چیز خریدی ، جو شریکین کی تجارت کی جنس سے ہی ہے اور اس پر گواہ ( بھی) بنا لیے کہ یہ چیز وہ اپنے لیے خرید رہا ہے ، ( پھر بھی ) وہ چیز دونوں میں مشترک ہوگی ، کیونکہ یہ ( خریدنے والا شخص ) معین چیز کے خریدنے میں وکیل کے درجے میں ہے اور اگر ایسی چیز خریدتا ہے ، جو ان کی ( شرکت کے معاہدے والی ) تجارت کی قسم سے نہیں ہے ، تو ( اس صورت میں ) وہ خریدی ہوئی چیز اس خریدنے والے شریک کی ہی ہوگی ، کیونکہ شرکت کا معاہدہ تجارت کی اس قسم کے لیے مانع نہیں ہے ۔( البحر الرائق ، کتاب الشرکۃ ، جلد 5 ، صفحہ 294 ، مطبوعہ کوئٹہ ) بہارِ شریعت میں ہے : ”ایک نے کوئی چیز خریدی ۔ اس کا شریک کہتا ہے کہ یہ شرکت کی چیز ہے اور یہ کہتا ہے میں نے خاص اپنے واسطے خریدی اور شرکت سے پہلے کی خریدی ہوئی ہے ، تو قسم کے ساتھ اس کا قول معتبر ہے اور اگر عقدِِ شرکت کے بعد خریدی اور یہ چیز اُس نوع میں سے ہے ، جس کی تجارت پر عقدِ شرکت واقع ہوا ہے ، تو شرکت ہی کی چیز قرار پائے گی اگرچہ خریدتے وقت کسی کو گواہ بنالیا ہوکہ میں اپنے لیے خریدتا ہوں ، کیونکہ جب اِس نوع تجارت پر عقدِ شرکت واقع ہوچکا ہے ، تو اسے خاص اپنی ذات کے لیے خریداری جائز ہی نہیں ، جو کچھ خریدے گا ، شرکت میں ہوگا اوراگر وہ چیز اُس جنسِ تجارت سے نہ ہو ، تو خاص اس کے لیے ہوگی۔“ (بہارِ شریعت ، حصہ 10 ، جلد 2 ، صفحہ 500 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ میں عبد الحبیب اپنے ایک دوست کے ساتھ شرکت کرنا چاہتا ہوں میرے پاس پیسے ہیں ،جبکہ میرے دوست کے پاس پیسے نہیں ،میں اسے کاروبار کیلئے دینا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ نفع ونقصان میں وہ اورمیں دونوں برابر کے شریک ہوں۔جبکہ میں نے سنا ہے کہ نقصان مال والے کا ہوتا ہے کام کرنے والے کا نہیں ہوتا ۔تو ایسی کوئی صورت ممکن ہے کہ نفع کی طرح نقصا ن بھی دونوں کے ذمہ آئے ،کیونکہ کاروبار میں نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ سوال میں مطلوب طریقہ کارفقہی وشرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے یوں ہوسکتاہے کہ آپ اپنے دوست کو بالفرض کاروبار کے لئے 3,00,000 روپے دینا چاہتے ہیں توآپ اس میں سے آدھا مال یعنی 150000ڈیڑھ لاکھ روپے اپنے دوست کو بطورقرض ادا کریں اوربقیہ ڈیڑھ لاکھ روپے بطور شرکت ان کو دے دیں ۔اس طرح دونوں کی رقمیں برابر ہوجائیں گی یعنی ڈیڑھ لاکھ آپ کے اور ڈیڑھ لاکھ دوست کے ہوں گے۔پھر شرکت عقد کرلیجئے اور اس میں نفع نصف نصف طے کرلیجئے اور نفع چاہیں تو کم وبیش بھی مقرر کیا جاسکتا ہے لیکن نفع کا جو بھی تعین کیا جائے فیصد کے اعتبار سےمعین کرنا ہوگا مثلاً 40%ایک کے تو دوسرے کے 60%معین کرلیں یا جو بھی مقدار فریقین مقرر کرنا چاہیں وہ کرسکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی نفع کو مخصوص رقم کے ساتھ مقرر نہیں کرسکتا ورنہ شرکت فاسد ہوجائے گی ۔البتہ نقصان چونکہ مال کے تناسب سے ہوتا ہے اس لئے پوچھی گئی صورت میں چونکہ مال دونوں کا برابر ہوگا اس لئے نقصان بھی دونوں پربرابر برابر ہوگا ۔ اوریاد رہے کہ ڈیڑھ لاکھ روپے چونکہ قرض کے طور پر آپ دیں گے وہ بہر صورت آپ کے دوست کو ادا کرنے ہیں اس پر کاروباری نفع یا نقصان کا کچھ اثر نہیں ہوگا ۔اور اس طریقے سے قرض دینے پر جو عقد شرکت سے نفع آئے گا اس نفع کا سود سے کوئی تعلق نہیں ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
7 اکتوبر، 2024

سوال 08 : میں وقتا فوقتا اپنے دوست سے مختلف کرنسی خریدتا ہوں۔ہماری آپس میں اچھی undestanding ہے ، مجھے معلوم یہ کرنا تھا کہ میں بسا اوقات اس سے کرنسی ہوں اور کرنسی منگوالیتا ہوں، کیا میرا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب : آپ کا کال کے ذریعے کرنسی ادھار خریدنے کا عمل جاٸز نہیں ہے کیونکہ اصول کے اعتبار سے مختلف ممالک کی کرنسیاں ایک ہی جنس کی ہیں۔ اور جہاں ایک ہی جنس والی شے کا آپس میں تبادلہ کیا جاۓ تو پھر ادھار حرام ہوتا ہے۔ البتہ اس کا درست طریقہ یہ اختیار کیا جاسکتا ہے کہ آپ اپنے دوست سے کہہ دیں مجھے اتنی کرنسی خریدنی ہے ، وہ آپ کے لٸے اتنی کرنسی اپنے پاس روک لے پھر آپ خود چلے جاٸیں یا کسی کو بھجوا کر اب خریدوفروخت کا عقد کریں۔ اس طرح آپ کو کرنسی بھی مل جاۓ گی اور ارتکاب حرام سے بھی بچ جاٸینگے البتہ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ جن ممالک میں غیرملکی کرنسی خرید کر جمع کرنے کی قانونی پابندیاں ہو اس سے مکمل طور پر بچنا ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
6 اکتوبر، 2024

سوال 07: مفتی صاحب میرا یہ سوال ہے کہ میرے بال کافی بڑے ہوچکے ہیں، اور میرے بال بڑھتے بھی بہت جلد ہیں، اب ہمارے یہاں عورتوں کے بالوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے، کیا میں بھی اس طرح اپنے بال بیچ سکتی ہوں؟

جواب : شرعی اعتبار سے انسانی بال کی خریدوفروخت جاٸز نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی بال مال نہیں ہیں چاہے وہ کسی مرد کے بال ہو یا عورت کے بال ہو بلکہ عورت کے بالوں کے معاملے میں اس کی تاکید زیادہ ہے کیونکہ عورت کے بالوں پر کسی غیرمحرم کی نظر بھی نہ پڑے اس کا اہتمام کرنا شریعت کو مطلوب ہے لہذا آپ اپنے بال نہیں بیچ سکتی ۔ علامہ اکمل الدین بابرتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’ "جزء الآدمی لیس بمال۔۔۔ وما لیس بمال لا یجوز بیعہ‘‘" ترجمہ: آدمی کا جزو مال نہیں اور جو چیز مال نہ ہو،اس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔(العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد6، صفحہ 390، مطبوعہ کوئٹہ)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
6 اکتوبر، 2024

سوال 06: زید کا رشتے دار شدید بیمار ہے اور زید کے پاس اس کے علاج کے لٸے رقم نہیں ہے ، اب زید نے ارادہ کیا ہے کہ وہ اپنی ایک kidney بیچ دے ، اس طرح اس کی یہ مشکل حل ہوجاۓ گی اور قرض بھی نہیں لینا پڑیگا ، کیا زید کا یہ عمل درست ہوگا، شریعت مطہرہ کی روشنی میں اس کا جواب جلد سے جلد عطا فرمادیجٸے۔

زید کا یہ عمل ہر گز درست نہیں ہوگا ، اسے اپنے اس ارادے سے باز رہنا چاہیٸے کیونکہ اپنے یا کسی اور کے علاج کے لٸے اپنا گردہ بیچنا شرعا جاٸز نہیں ہے کیونکہ خریدوفروخت کی شراٸط میں فقہاء نے اس شرط کو واضح لکھا ہے کہ خریدی جانے والی چیز کو شریعت نے مال قرار دیا ہو، اور انسانی اعضاء کو شریعت نے مال نہیں قرار دیا نیز یہ شرف انسانی کے بھی خلاف ہے ۔ لہذا زید کو چاہٸے کہ اپنے رشتے دار کے علاج کے لٸے کوٸی اورجاٸز ذریعہ اختیار کرے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
5 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دکاندار اگر اپنی مرضی سے سامان میں کچھ زیادتی کردے ، تو کیا وہ زیادتی میرے لیے حلال ہوگی ؟ مثلاً میں نے دکاندار سے 3کلو چاول خریدے لیکن دکاندار 3 کلو چاول دینے کے بجائے اپنی مرضی سے مجھے 3 کلو 10 گرام چاول دیتا ہے یعنی 10 گرام زیادہ ، تو کیا یہ 10 گرام چاول میرے لئے حلال ہوں گے ؟

خریدار کا اپنی رضامندی سے چیز کی طے ہونے والی قیمت میں اضافہ کرنا ، یونہی بیچنے والے کا اپنی مرضی سے گاہگ کو سامان میں اضافہ کرکے دینا شرعاً جائز ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کے لیے وہ اضافی چاول لینا حلال ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے : ” مشتری نے بائع کے لیے ثمن میں کچھ اضافہ کردیا یا بائع نے مبیع میں اضافہ کردیا ، یہ جائز ہے۔“ ( بہار شریعت ، 2 / 750 )

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
5 اکتوبر، 2024

سوال 05 : مفتی صاحب دو دریا کے پاس بوفے سسٹم کے ساتھ کھانے کا سلسلہ ہوتا ہے، وہاں ہوتا یوں ہے کہ فی فرد کے حساب سے ایک مخصوص قیمت دینے کے بعد جو کھانا وہاں موجود ہے ، اس میں سے جو کھانا ہے ، جتنا کھانا ہے کھاسکتے ہیں۔ کیا یہ شرعا درست ہے، کیا میں اپنے گھر والوں کو وہاں لے کر جاسکتا ہوں؟

ہمارے زمانے میں عرف کا اعتبار کرتے ہوۓ فقہاۓ کرام نے بوفے سسٹم کے جواز کا قول کیا ہے ، شرعا جاٸز ہے لیکن آپ کے سوال کا دوسرا حصہ کہ فیملی کو وہاں لے کرجانا اس کا خیال کیا جاۓ کہ وہاں بےپردگی کا ماحول نہ ہو، میوزک نہ ہو، کوٸی اور غیرشرعی افعال نہ ہوتے ہو، تو خود بھی جاسکتے ہیں اور فیملی کو لے کر بھی جاسکتے ہیں اور جہاں ایسا ماحول نہ ، بلکہ بے پردگی ہو، میوزک سسٹم ہو تو وہاں آپ کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
3 اکتوبر، 2024

سوال 04 : مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ مجھے میرے دوست نے اپنا موباٸل دیا ہے بیچنے کے لٸے اور کہا ہے کہ اسے دس ہزار میں بیچ دو، میں نے اس کا موباٸل بارہ ہزار میں بیچ دیا، اب کیا وہ دو ہزار میں رکھ سکتا ہوں، کیونکہ اس نے تو دس ہزار کا کہا تھا؟

ہرگز نہیں، آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنے دوست کو یہ بارہ ہزار مکمل ادا کریں ۔ کیونکہ آپ اپنے دوست کا موباٸل بیچنے کے وکیل ہیں اور وکیل بیع اگر سامان مطلوبہ قیمت پر یا ایسی قیمت پر جس میں موکل کا نفع ہو بیچ دیتا ہے تو ، موکل اس ساری رقم کا مالک ہوتا ہے، لہذا آپ وہ دو ہزار نہیں رکھ سکتے البتہ آپ کا دوست اپنی مرضی سے آپ کو کچھ دینا چاہے تو اس میں کوٸی حرج نہیں ہے۔ مجمع الضمانات میں ہے "ولو وكله ببيع عبده بألف فباعه بألفين فالألفان كله للموكل، من الهداية." ترجمہ:اوراگراسے وکیل کیااپناغلام ایک ہزارکے بدلے بیچنے کاپس اس نے غلام کودوہزارکے بدلے بیچ دیاتو دو ہزار مکمل،موکل کے ہیں ۔یہ مسئلہ ہدایہ سے لیاگیاہے۔ (مجمع الضمانات،باب فی الوکالۃ والرسالۃ،ج01،ص261، دارالکتاب الاسلامی)

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
3 اکتوبر، 2024

سوال 03 : مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ زید نامی شخص اپنی دکان پر پرانا سامان بیچتا ہے ، اور سب اس بات کوجانتے بھی ہیں، ساتھ ہی وہ خریدار کو بتا بھی دیتا ہے کہ یہ چیز پرانی ہے ، اس میں کوٸی بھی خرابی ہوسکتی ہے ، کوٸی گارنٹی نہیں ہے ، آپ پہلے ہی سب دیکھ لیں، خریداری کے بعد کوٸی خرابی آٸی میری ذمہ داری نہیں ہوگی، کیا زید کاایسا کرنا جاٸز ہے ؟

زید کا اس انداز سے سامان فروخت کرنا بالکل جاٸز ہے کیونکہ جب کسٹمرکو زید واضح لفظوں میں کہہ رہاہے کہ سامان پرانا ہے ، خرابی ہو سکتی ہے ، جو بھی خرابی ہوگی میری ذمہ داری نہیں ہے ،خریدنے سے پہلے ہی دیکھ لو، پھر کوٸی ابہام و خفاء نہیں رہتا، زید نے پہلے ہی تمام عیوب سے براءت کا اظہار کردیا ہے اور باٸع (بیچنے والے ) کا یہ عمل بالکل درست ہے۔ صاحب بہار شریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :”کوئی چیز بیع کی اور بائع نے کہ دیا کہ میں ہر عیب سے بری الذمہ ہوں ،یہ بیع صحیح ہے اور اس مبیع کے واپس کرنے کا حق (خریدنے والے کے پاس ) باقی نہیں رہتا۔ یوہیں اگر بائع نے کہ دیا کہ لینا ہو تو لو اس میں سو طرح کے عیب ہیں یا یہ مٹی ہے یا اسے خوب دیکھ لو کیسی بھی ہو میں واپس نہیں کروں گا یہ عیب سے براءت ہے۔جب ہر عیب سے براءت کرلے تو جو عیب وقت عقد موجود ہے یا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے پیدا ہوا سب سے براء ت ہوگئی۔“ (بہار شریعت، جلد2، حصہ 11، صفحہ688، مکتبۃ المدینہ، کراچی) واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
3 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں انسٹالمنٹ پر سامان خریدتا ہوں۔ پھر اس انسٹالمنٹ پر خریدے گٸے سامان کو قبضہ کرنے کے بعد آگے کسی اور کو اپنا منافع رکھ کر بیچ دیتا ہوں، ابھی میں نے اس سامان کی مکمل رقم ادا نہیں کی ہوتی، کیا میرا اس طرح کرنا جاٸز ہے ؟

اس عقد میں اگر کوٸی شرعی خرابی نہیں ہے ، تو آپ کا انسٹالمنٹ پر خریدا گیا سامان قبضے کے بعد کسی دوسرے شخص کو فروخت کرنا جاٸز ہے کیونکہ قبضے کے بعد اب آپ اس چیز کے مالک ہوگٸے اور اس کا جو بھی نفع و نقصان ہے وہ آپ کا ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
3 اکتوبر، 2024

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عام طور پر رائج ہے کہ جب ایک شخص کسی سے کوئی مال خریدتا ہےتو وہ بیچنے والے کو کچھ رقم بیعانہ دیتاہے پھر کسی وجہ سے وہ دونوں آپس میں بیع ختم کردیتے ہیں تو بیچنے والا بیعانہ کی رقم ضبط کرلیتا ہے خریدار کو واپس نہیں کر تااس کا ایسا کرنا کیساہے ؟

یہ ہمارے نظام میں ایک بڑی خرابی ہے کہ کسی وجہ سے بھی سودا ختم کیا جاتا ہے اب یہ سودا بیچنے والا ختم کرے تو اسے کہا جاتا ہے کہ جو رقم ایڈوانس دی تھی، اس میں اضافہ کرکے رقم واپس کرو، اور خریدنے والا سودا ختم کرے تو بیچنے والا اسے کہتا ہے کہ مارکیٹ اصول کے مطابق ایڈوانس رقم واپس نہیں دی جاۓ گی۔ یہ دونوں انداز غیرشرعی ہیں اور ظلم ہے۔ امام اہلسنت اسی بات کو بیان کرتےہوۓ لکھتے ہیں : بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کر لینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج  ہے ظلمِ صریح  ہے۔“ (فتاوی رضویہ،ج17،ص94) فتاوی فیض رسول میں بھی اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوۓ فقیہ ملت لکھتے ہیں : سودا ختم ہو جانے پربیعانہ ضبط کرنا ،ناجائز و گناہ اور ظلم ہے۔ (فتاوی فیض رسول ج 03 ص 126) واللہ تعالی اعلم بالصواب

فزیکل کاروبار کے مساٸل1 جواب
29 ستمبر، 2024