مشتق کیا صیغہ ہے مع تعلیل
مُشْتَقٌّ واحد مذکر اسم مفعول (یا فاعل؛ مضاعف میں ایک ہی وزن) ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب افتعال مادہ: ش ق ق اصل مُشْتَقَقٌ؛ دو قاف کا ادغام تو مُشْتَقٌّ
عربی گرامر سوال و جواب
عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔
کل 3,696 جوابات شدہ سوالات
مُشْتَقٌّ واحد مذکر اسم مفعول (یا فاعل؛ مضاعف میں ایک ہی وزن) ثلاثی مزید فیہ مضاعف باب افتعال مادہ: ش ق ق اصل مُشْتَقَقٌ؛ دو قاف کا ادغام تو مُشْتَقٌّ
سَمَّیْتُ / سَمَّيْتُ صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب تفعیل مادہ: س م و / س م ی تعلیل خاص نہیں؛ یاء لام کلمہ برقرار
لَمْ یَلِدْ صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مجزوم بلم معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب مادہ: و ل د؛ اصل یَوْلِدْ، واؤ حذف سے یَلِدْ متعدی ہے (ولد یلد)
حروفِ اصلیہ: و، ء، ل اصل: أَوْءَلُ بر وزن أَفْعَلُ دوسرے ہمزہ کو واؤ سے بدلا تو أَوْوَلُ، پھر دونوں واؤ کا ادغام تو أَوَّلُ صیغہ واحد مذکر اسم تفضیل ثلاثی مجرد مثال واوی مہموز العین از باب ضرب یضرب
پہلے لغوی معنی پھر صیغہ (واحد/جمع، ماضی/مضارع...) معروف/مجہول، ثلاثی مجرد/مزید ہفت اقسام، باب، حروفِ اصلیہ اگر تعلیل ہو تو اصل + قاعدہ نحوی اجراء الگ: لفظ/موضوع، اسم/فعل، معرفہ/نکرہ، معرب/مبنی وغیرہ
Bab Nasara se lam-e-takid + nun-e-takid thaqeela: لَیَنْصُرَنَّ لَیَنْصُرَانِّ لَیَنْصُرُنَّ لَتَنْصُرَنَّ لَتَنْصُرَانِّ لَیَنْصُرْنَّ Baaki seeghe app ke gardan section se dekh lo
لَیَفْعَلَنَّ صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت مؤکد بلامِ تاکید و نونِ تاکیدِ ثقیلہ باب کے مطابق مادہ بدلے گا؛ یہاں وزنِ عمومی فَعَلَ پر ہے
اسم تفضیل کی مشہور شرائط تقریباً آٹھ ہیں ثلاثی مجرد ہونا، تمام ہونا، مثبت ہونا، قابلِ تفاوت ہونا، رنگ و عیب سے خالی، وصفِ قابلِ تفضیل وغیرہ وزن أَفْعَلُ (مذکر) اور فُعْلَى (مؤنث)
تَسْتَأْذِنُوا صیغہ جمع مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب استفعال مادہ ا ذ ن نونِ اعرابی حذف یا نصب/جزم کی حالت میں واؤ باقی
یَصِحُّ صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مضاعف باب ضرب یضرب اصل یَصْحَحُ تھا دو ہم جنس متحرک ماقبل ساکن؛ حرکت ثانی عین کو دی اور ادغام کیا تو یَصِحُّ بنا
Isme zarf zaman ya makan batata hai Wazn aksar مَفْعَل یا مَفْعِل hota hai jaise مكتب، مسجد Maani se pehchano: kab/kahan ka mahall
Mushtak woh ism hai jo kisi masdar ya doosre kalime se banaya jaye Jaise ism fail, ism mafool, sifat mushabbaha, ism mubalagha, ism zarf, ism aalah
أَرَادَ یُرِیدُ إِرَادَةً باب افعال اجوف واوی اصل أَرْوَدَ یُرْوِدُ إِرْوَادًا؛ قاعدۂ نقل و اعلال سے أَرَادَ یُرِیدُ إِرَادَةً
قُلْتُ صیغہ واحد متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر اصل قَوَلْتُ تھا؛ عین کلمہ کی حرکت فا کو دی اور واؤ حذف ہوئی تو قُلْتُ بنا ماضی مجہول غائب قِيلَ ہے اصل قُوِلَ سے جدا تعلیل
رواۃ جمع تکسیر ہے راوٍ / راوی کی وزن فُعَلَة تقریباً واحد راوٍ ناقص یائی اسم فاعل از روی
ابن اصل میں بَنَوٌ تھا؛ واؤ گری اور ہمزہ وصل بڑھایا گیا حروف اصلیہ ب ن و بنت اصل میں بَنَتٌ / مادہ ب ن ت تاء تانیث کے ساتھ مؤنث بنا
نونِ تاکید کی دو قسمیں ہیں نونِ تاکیدِ ثقیلہ نونِ تاکیدِ خفیفہ
أَجِدْنَ صیغہ جمع مؤنث فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی از باب ضرب یضرب حروف اصلیہ و ج د اصل یَوْجِدْنَ؛ واؤ قاعدے سے گری
ارطاہ / أرطاة اسم جامد ہے آخر میں گول تاء (تاء تانیث) اگر علم ہو تو تانیث کی وجہ سے غیر منصرف ہوگا
صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء از باب افعال مادہ ا م ن
یقظان صیغہ واحد مذکر صفت مشبہہ ثلاثی مجرد صحیح از باب فرح یفرح وزن فَعْلَان مادہ ی ق ظ معنی بیدار
Iski sarfi tahqeeq nahi hogi, ajmi lafz hai
الوقت اسم جامد ثلاثی مجرد مثال واوی مادہ و ق ت نحوی: لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح جملے میں عام طور پر ظرفِ زمان / مفعول فیہ بنتا ہے
الصحیح صیغہ واحد مذکر اسم فاعل ثلاثی مجرد صحیح از باب فتح یفتح مادہ ص ح ح نحوی: لفظ موضوع مفرد اسم معرفہ مذکر واحد معرب مفرد منصرف صحیح
حروفِ اصلیہ وہ ہیں جو فاء، عین اور لامِ کلمہ کے مقابل آئیں زائد حروف ہٹا کر مادہ نکالیں جیسے أَکْرَمَ سے ک ر م باب اور صیغہ پہچان کر ف ع ل کے مقابل حروف اصلیہ قرار دیں
واحد مذکر غائب فعل مضارع بلن معروف ثلاثی مجرد صحیح باب فتح یفتح
تصغیر وہ اسم ہے جس کے آخری حرف سے پہلے یاء لگائی جاتی ہے پہلے حرف کو ضمہ اور دوسرے کو فتحہ دیا جاتا ہے جیسے رَجُل ← رُجَیْل
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت مجہول ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نَصَرَ یَنْصُرُ (ق و ل) اصل میں قُوِلَ تھا
مصدر رباعی مزید فیہ صحیح از باب اِفْعِلَّال جیسے اِقْشِعْرَار
قَوَارِیْر جمع مکسر ہے، واحد قَارُوْرَۃ صیغۂ منتہی الجموع (فَوَاعِیْل) اس لیے غیر منصرف ہے
مولیٰ اسم جامد ثلاثی مزید فیہ لفیف مقرون اصل میں مَوْلَیُ تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلا
ابن اصل میں بَنَوٌ تھا
باب افعِلَّال سے ہے ملحق برباعی مجرد کا ایک باب ہے
یہ خلاف قیاس ہے اس طرح دیگر الفاظ بھی ہیں جہاں قاعدہ قیاسی طور پر جاری ہونا چاہیے مگر اہلِ عرب اسے قاعدے کے برعکس استعمال کرتے ہیں
اس کی صرفی تحقیق نہیں ہوگی عجمی لفظ ہے
صیغہ اسم جامد ثلاثی مجرد صحیح
فَعْلَان
اسم مصدر ثلاثی مزید لفیف مفروق از باب افتعال اصل میں وَقْوٰی تھا واؤ کو خلافِ قیاس تاء سے بدلا تو تَقْوٰی ہو گیا
خُفَّیْنِ تثنیہ ہے، واحد خُفٌّ (موزہ) اسم جامد، مضاعف، اصلی حروف خ ف ف حالتِ نصب یا جر میں یاء ماقبل مفتوح اور نون مکسور کے ساتھ اس میں کوئی تعلیل نہیں، صرف ادغام ہے
ثُرَیَّا، ثَرْوٰی کی تصغیر ہے حروفِ اصلی: ث ر و
صیغہ جمع مؤنث حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نَصَرَ (لَامَ یَلُوْمُ، ملامت کرنا)، اصلی حروف ل و م اصل میں لَوَمْتُنَّ تھا، واؤ الف ہوا، التقاءِ ساکنین سے گرا، واوی ہونے کی وجہ سے لام کو ضمہ: لُمْتُنَّ نِیْ میں نونِ وقایہ اور یاءِ متکلم مفعول ہے (فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ)
عِتِیٌّ مصدر ہے، ثلاثی مجرد ناقص واوی باب نَصَرَ (عَتَا یَعْتُوْ، سرکشی کرنا)، اصلی حروف ع ت و اصل میں عُتُوْوٌ تھا، دو واؤ جمع ہوئے، ادغام: عُتُوٌّ جمع کے وزن پر ہونے کی وجہ سے واؤ کو یاء سے بدلا، تاء کو یاء کی مناسبت سے کسرہ: عُتِیٌّ پھر عین کو بھی کسرہ دیا: عِتِیٌّ
عِرْفَان مصدر سماعی ہے ثلاثی مجرد صحیح باب ضَرَبَ یَضْرِبُ (عَرَفَ یَعْرِفُ، پہچاننا) اصلی حروف: ع ر ف
حَدِیْث اسم ہے فَعِیْل کے وزن پر، بمعنی بات/نئی چیز ثلاثی مجرد صحیح، مادہ ح د ث، باب نَصَرَ (حَدَثَ یَحْدُثُ) الف لام تعریف کا ہے
مَدْعًی اسم ظرف ہے، ناقص واوی باب نَصَرَ (دَعَا یَدْعُوْ)، اصلی حروف د ع و اصل میں مَدْعَوٌ تھا قاعدہ: واؤ متحرک ماقبل مفتوح ہو تو الف سے بدل دیتے ہیں: مَدْعَاٌ الف اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے، الف گر گیا: مَدْعًی (الف یاء کی شکل میں لکھا جاتا ہے)
دَاءٌ (بیماری) اسم ہے، اجوف واوی مہموز اللام، اصلی حروف د و ء اصل میں دَوَءٌ تھا قاعدہ: واؤ متحرک ماقبل مفتوح ہو تو الف سے بدل دیتے ہیں: دَاءٌ
صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ مثال واوی باب تَفْعِیْل (وَقَّتَ یُوَقِّتُ) اصلی حروف: و ق ت اصل میں وُقِّتَتْ تھا قاعدہ: واؤ مضموم شروع میں ہو تو اسے ہمزہ سے بدلنا جائز ہے: اُقِّتَتْ (وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ)
الف مقصورہ تانیث کا ہو تو کلمہ غیر منصرف ہوتا ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی: حُبْلٰی، کُبْرٰی الف ممدودہ تانیث کا ہو تو وہ زائد ہوتا ہے، اصل کا حصہ نہیں: حَمْرَاءُ، صَحْرَاءُ اگر الف اصلی حرف سے بدلا ہو (عَصًا، کِسَاءٌ) تو تانیث کا نہیں
کَافَّۃٌ اصل میں کَافِفَۃٌ تھا قاعدہ: ایک جنس کے دو حرف جمع ہوں، پہلا متحرک ہو تو اسے ساکن کر کے دوسرے میں ادغام کر دیتے ہیں کَافَّۃٌ (اسم فاعل واحد مؤنث، مضاعف، باب نَصَرَ)
صیغہ واحد مؤنث اسم فاعل ثلاثی مجرد مضاعف باب نَصَرَ یَنْصُرُ (کَفَّ یَکُفُّ، روکنا) اصلی حروف: ک ف ف اصل میں کَافِفَۃٌ تھا، ایک جنس کے دو حرف جمع ہوئے، پہلے کو ساکن کر کے ادغام کیا: کَافَّۃٌ
شش اقسام: ثلاثی مجرد، ثلاثی مزید فیہ، رباعی مجرد، رباعی مزید فیہ، خماسی مجرد، خماسی مزید فیہ سہ اقسام: کلمہ کی تین قسمیں اسم، فعل، حرف (صرفی تحقیق میں صیغے کی نوع جیسے فعل ماضی مثبت معروف)
صیغہ واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب سَمِعَ یَسْمَعُ (لَعِقَ یَلْعَقُ، چاٹنا) اصلی حروف: ل ع ق هُنَّ ضمیر مفعول بہ ہے
اکثر کے نزدیک دَسّٰىهَا اصل میں دَسَّسَهَا تھا، مادہ د س س (مضاعف) تین سین جمع ہونے سے ثقل ہوا تو آخری سین کو یاء سے بدلا، پھر یاء الف ہو گئی: دَسّٰی اس لیے لفظاً ناقص یائی کی طرح ہے مگر اصل مادہ د س س ہے
صرفِ صغیر میں ایک بار معروف کی گردان کے ساتھ مصدر آتا ہے: ضَرَبَ یَضْرِبُ ضَرْبًا اور دوسری بار مجہول کی گردان کے ساتھ: ضُرِبَ یُضْرَبُ ضَرْبًا تاکہ معلوم ہو کہ معروف اور مجہول دونوں اسی ایک مصدر سے بنے ہیں
صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نَصَرَ یَنْصُرُ (کَانَ یَکُوْنُ) اصلی حروف: ک و ن اصل میں کَوَنْنَا تھا، واؤ متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی: کَانْنَا التقاءِ ساکنین سے الف گر گیا، واوی ہونے کی وجہ سے کاف کو ضمہ دیا، نون کا نون میں ادغام: کُنَّا
العٰلَمِیْنَ عالَم کی جمع ہے، ملحق بجمع مذکر سالم (حالت نصب/جر میں ی کے ساتھ) عالَم فاعَل کے وزن پر اسمِ آلہ ہے یعنی وہ چیز جس کے ذریعے خالق کو جانا جائے (جیسے خاتَم: جس سے مہر لگائی جائے)
کلام اسمِ مصدر ہے بمعنی تکلیم (باب تفعیل: کَلَّمَ یُکَلِّمُ) ثلاثی، صحیح، اصلی حروف ک، ل، م نحو میں کلام وہ مرکب ہے جس سے پوری بات سمجھ آ جائے جیسے زیدٌ قائمٌ
In Sarf, words are divided into seven kinds (Haft Aqsam) by their root letters: Sahih, Misal, Ajwaf, Naqis, Lafeef, Muza'af, Mahmuz By number of letters: Thulasi, Ruba'i, Khumasi (Mujarrad and Mazeed Feeh)
قَوَارِیْر جمع مکسر ہے، واحد قَارُوْرَۃ (شیشے کا برتن) صیغۂ منتہی الجموع (فَوَاعِیْل کا وزن) اس لیے غیر منصرف ہے: قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء باب افتعال (اِئْتَمَنَ) اصل میں اُأْتُمِنَ تھا قاعدہ: دو ہمزے جمع ہوں، دوسرا ساکن ہو تو اسے پہلے کی حرکت کے موافق حرف سے بدل دیتے ہیں، پہلا مضموم تھا تو واؤ: اُوْتُمِنَ درمیانِ کلام (الَّذِی اؤْتُمِنَ) میں ہمزۂ وصل گر جاتا ہے تو واؤ پھر ہمزہ لکھا/پڑھا جاتا ہے
Sarf woh ilm hai jis mein kalime ki banawat aur ek seeghe se doosre seeghe banane ke qawaid jaane jaate hain Mauzoo: kalima (ism-e-mutamakkin aur fe'l-e-mutasarrif) is haisiyat se ke us mein tabdeeli hoti hai Gharaz: kalimaat ki banawat mein ghalti se bachna
باب افتعال کا مصدر اِفْتِعَال کے وزن پر آتا ہے جیسے اِجْتِنَاب، اِکْتِسَاب تعلیل کے بعد صورت بدل جاتی ہے جیسے اِصْطِبَار، اِتِّصَال، اِدِّعَاء
صیغہ جمع مذکر حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضَرَبَ یَضْرِبُ (ظَلَمَ یَظْلِمُ) اصلی حروف: ظ ل م
واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افتعال (اِجْتَبٰی یَجْتَبِیْ)، اصلی حروف ج، ب، ی اصل میں مُجْتَبَیٌ تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی، پھر الف اور تنوین کے التقاء ساکنین سے الف گر گیا: مُجْتَبًی یہی صیغہ اسم ظرف اور مصدر میمی بھی ہو سکتا ہے مگر عام استعمال اسم مفعول (چنا ہوا) کا ہے
قَالَ اصل میں قَوَلَ تھا قاعدہ: واؤ یا یاء متحرک ماقبل مفتوح ہو تو اس کو الف سے بدل دیتے ہیں: قَالَ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نصر ینصر
واحد مذکر غائب فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد مثال واوی باب ضرب یضرب (وَجَدَ یَجِدُ) اصل میں یَوْجِدُ تھا قاعدہ: واؤ علامتِ مضارع مفتوح اور کسرہ کے درمیان آ جائے تو گر جاتی ہے: یَجِدُ
طُوًی اسم مقصور منوّن ہے اصل میں طُوَیٌ تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی: طُوَاٌ الف اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے تو الف گر گیا: طُوًی (لکھنے میں ی باقی رہتی ہے) وقف میں تنوین ختم ہو جاتی ہے تو گرا ہوا الف واپس آ جاتا ہے اس لیے طُوٰی (ایک زبر کے ساتھ الف) پڑھا جاتا ہے
واحد مذکر غائب فعل مضارع مجزوم معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب سمع یسمع (لَقِیَ یَلْقٰی) اصل میں یَلْقَیُ تھا قاعدہ: یاء متحرک ماقبل مفتوح ہو تو الف سے بدل دیتے ہیں: یَلْقٰی پھر جازم (لَمْ یا حرفِ شرط) کی وجہ سے حرفِ علت گر گیا: یَلْقَ مثال: وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا
اسم فاعل صیغہ واحد مذکر
اسم فاعل صیغہ جمع مذکر ثلاثی مزید فیہ باب افتعال اصلی حروف ع ، د ، ی اصل میں: مُعْتَدِیُوْنَ تھا یاء مضموم ماقبل مکسور، مابعد واؤ جمع ہونے کی وجہ سے یاء کی حرکت ماقبل کو دے کر یاء کو حذف کردیا اور اِس کی حالتِ نصبی، جری مُعْتَدِیْنَ ہے
تین
مصدر باب استفعال کا
صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ باب افتعال صحیح سالم اصلی حروف: ش ، م ، ل
مصدر سماعی ثلاثی مجرد صحیح باب سمع یسمع
واحد مذکر حاضر فعل مضارع مثبت معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب ضرب یضرب
غیر منصرف کے اسباب ہیں عدل وصف تانیث ترکیب معرفہ عجمہ جمع وزن فعل الف نون زائدتان
مختلف مقاصد ہوتے ہیں جیسے حصر پیدا کرنے کے لیے اور تخصیص کے لیے
مختلف اقسام ہیں اسم ضمیر اسم اشارہ اسم موصول اسم استفہام اسم شرط اسم فعل وغیرہ
اس میں اختلاف ہے کافی حضرات کے نزدیک اسم کی اصل وسم ہے جبکہ بصری حضرات کے نزدیک اسم کی اصل سمو ہے
جس اسم پر کوئی فعل واقع ہو
ضرب ۔ واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد صحیح باب ضرب یضرب زید فاعل فعل اپنے فاعل سے ملکر جملہ فعلیہ خبریہ ہوا
اسباب منع صرف 9 ہیں عدل وصف تانیث ترکیب معرفہ عجمہ جمع الف نون زائدتان وزن فعل
واحد مذکر غائب فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف یائی باب ضرب یضرب
معدیکرب غیر منصرف ہے اعراب اس وقت بتائیں گے جب یہ جملے میں ہوگا اکیلے لفظ کے اعراب کیا بتائیں
اصولی طور پر یہ وزن مختلف چیزوں کے لئے آتا ہے اور بالخصوص اسم آلہ کبری کا وزن بھی یہی ہے لیکن کچھ اسماء ایسے ہیں جو اسی وزن پر آتے ہیں لیکن ظرف کا معنی دیتے ہیں چند اسماء سرِ دست پیش کر دیتا ہوں محراب میلاد میقات میعاد ۔۔۔۔ اب یہاں تین سوال ہیں 1. یہ اسماء ظرف ہیں 2۔ اسماء آلہ ہیں 3۔ اسماء جامد ہیں اسماء آلہ نہیں ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ اس میں آلہ والی معنی نہیں پایا جا رہا ہے اور اسماء ظرف مشتق نہیں ہیں کہ اس کا وزن قیاسی یہ نہیں ہے اور غیر قیاسی وزن ہونے کی بھی تصریح نہیں ملتی کہ اس وزن پر اسم ظرف آتے ہوں اب دو ہہ صورتیں ہیں یا تو یہ مان لیا جائے کہ اسم جامد ہیں یعنی غیر مشتق ہیں یا پھر یہ مان لیا جائے کہ اسماء ظرف ہیں لیکن قیاسی وزن کے بر خلاف ہیں لیکن جامد والا آپشن بہتر ہے کہ اس میں کوئی توجیہ اور تکلف نہیں ہے
اس کی اصل عَنْ مَنْ ہے
یہ فعل ہے اور فعل پر تنوین نہیں آتی فعل ماضی مطلق مثبت معروف واحد مذکر غائب ثلاثی مزید فیہ مہموز اللام باب افعال
فَعْلَان
یہ کوئی صیغہ نہیں کہ اس میں تعلیل کی جائے اس میں یا حرف ندا ہے جبکہ بنیّ یہ مصغرّ ہے لہذا یہ اسم ہے اور اسم میں تعلیل نہیں ہوتی
لغات کا استعمال کریں اور پریکٹس کریں آسانی ہوگی
الف لام استغراقی ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں
مصدر کے فاء اور لام کلمے کو فتح دین گے اور عین کلمے کو باب کے مطابق حرکت دیں گے فعل ماضی بن جائے جیسے ضَرْبٗ سے ضَرَبَ
جو اسم متکلم مخاطب و غائب پر دلالت کرے اسے اسم ضمیر کہتے ہیں
جس چیز کی وجہ سے معرب میں فاعل مفعول و مضاف الیہ ہونے کی صفت پیدا ہو اسے عامل کہتے ہیں
یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق بنتا ہے اس وجہ سے منصوب ہوتا ہے اور فعل محذوف أٰضَ ہے
ما اسم موصول دون مضاف ھا ضمیر مضاف الیہ مضاف و مضاف الیہ ملکر مرکب اضافی ہوکر صلہ موصول اپنے صلے سے ملکر خبر مبتدا محذوف کی
اصل میں قَوَلَ تھا قاعدہ لگا واؤ یا یاء متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدلنا واجب ہے پھر قَالَ ہوا
اس میں کوئی تعلیل نہیں اصل میں یہ یا حرف نداء اور بنی کی تصغیر کے ساتھ ہے یہ کوئی صیغہ نہیں
یا حرف نداء قائم مقام ادعو فعل کے ادعوا فعل اس میں انا ضمیر فاعل زید مفعول بہ فعل اپنے فاعل و مفعول بہ سے ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ
باب افتعال