عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 3,696 جوابات شدہ سوالات

لُمْتُنَّنِیْ کونسا صیغہ ہے

صیغہ جمع مؤنث حاضر فعل ماضی مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نَصَرَ (لَامَ یَلُوْمُ، ملامت کرنا)، اصلی حروف ل و م اصل میں لَوَمْتُنَّ تھا، واؤ الف ہوا، التقاءِ ساکنین سے گرا، واوی ہونے کی وجہ سے لام کو ضمہ: لُمْتُنَّ نِیْ میں نونِ وقایہ اور یاءِ متکلم مفعول ہے (فَذٰلِکُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ)

صرف1 جواب
22 ستمبر، 2026

عِتِیٌّ کونسا صیغہ ہے

عِتِیٌّ مصدر ہے، ثلاثی مجرد ناقص واوی باب نَصَرَ (عَتَا یَعْتُوْ، سرکشی کرنا)، اصلی حروف ع ت و اصل میں عُتُوْوٌ تھا، دو واؤ جمع ہوئے، ادغام: عُتُوٌّ جمع کے وزن پر ہونے کی وجہ سے واؤ کو یاء سے بدلا، تاء کو یاء کی مناسبت سے کسرہ: عُتِیٌّ پھر عین کو بھی کسرہ دیا: عِتِیٌّ

صرف1 جواب
25 ستمبر، 2026

مَدْعًی کی اصل اور تعلیل

مَدْعًی اسم ظرف ہے، ناقص واوی باب نَصَرَ (دَعَا یَدْعُوْ)، اصلی حروف د ع و اصل میں مَدْعَوٌ تھا قاعدہ: واؤ متحرک ماقبل مفتوح ہو تو الف سے بدل دیتے ہیں: مَدْعَاٌ الف اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے، الف گر گیا: مَدْعًی (الف یاء کی شکل میں لکھا جاتا ہے)

صرف1 جواب
28 ستمبر، 2026

اُقِّتَتْ کی صرفی تحقیق اور تعلیل

صیغہ واحد مؤنث غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ مثال واوی باب تَفْعِیْل (وَقَّتَ یُوَقِّتُ) اصلی حروف: و ق ت اصل میں وُقِّتَتْ تھا قاعدہ: واؤ مضموم شروع میں ہو تو اسے ہمزہ سے بدلنا جائز ہے: اُقِّتَتْ (وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ)

صرف1 جواب
2 اکتوبر، 2026

الف مقصورہ اور ممدودہ برائے تانیث کی پہچان

الف مقصورہ تانیث کا ہو تو کلمہ غیر منصرف ہوتا ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی: حُبْلٰی، کُبْرٰی الف ممدودہ تانیث کا ہو تو وہ زائد ہوتا ہے، اصل کا حصہ نہیں: حَمْرَاءُ، صَحْرَاءُ اگر الف اصلی حرف سے بدلا ہو (عَصًا، کِسَاءٌ) تو تانیث کا نہیں

صرف1 جواب
5 اکتوبر، 2026

کُنَّا کی صرفی تحقیق

صیغہ جمع متکلم فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مجرد اجوف واوی باب نَصَرَ یَنْصُرُ (کَانَ یَکُوْنُ) اصلی حروف: ک و ن اصل میں کَوَنْنَا تھا، واؤ متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی: کَانْنَا التقاءِ ساکنین سے الف گر گیا، واوی ہونے کی وجہ سے کاف کو ضمہ دیا، نون کا نون میں ادغام: کُنَّا

صرف1 جواب
10 اکتوبر، 2026

اُؤْتُمِنَ کی تعلیل

صیغہ واحد مذکر غائب فعل ماضی مثبت مجہول ثلاثی مزید فیہ مہموز الفاء باب افتعال (اِئْتَمَنَ) اصل میں اُأْتُمِنَ تھا قاعدہ: دو ہمزے جمع ہوں، دوسرا ساکن ہو تو اسے پہلے کی حرکت کے موافق حرف سے بدل دیتے ہیں، پہلا مضموم تھا تو واؤ: اُوْتُمِنَ درمیانِ کلام (الَّذِی اؤْتُمِنَ) میں ہمزۂ وصل گر جاتا ہے تو واؤ پھر ہمزہ لکھا/پڑھا جاتا ہے

صرف1 جواب
29 ستمبر، 2026

مُجْتَبٰی کی صرفی تحقیق

واحد مذکر اسم مفعول ثلاثی مزید فیہ ناقص یائی باب افتعال (اِجْتَبٰی یَجْتَبِیْ)، اصلی حروف ج، ب، ی اصل میں مُجْتَبَیٌ تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی، پھر الف اور تنوین کے التقاء ساکنین سے الف گر گیا: مُجْتَبًی یہی صیغہ اسم ظرف اور مصدر میمی بھی ہو سکتا ہے مگر عام استعمال اسم مفعول (چنا ہوا) کا ہے

صرف1 جواب
11 اکتوبر، 2026

طُوًی پر وقف کا حکم

طُوًی اسم مقصور منوّن ہے اصل میں طُوَیٌ تھا، یاء متحرک ماقبل مفتوح الف سے بدلی: طُوَاٌ الف اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے تو الف گر گیا: طُوًی (لکھنے میں ی باقی رہتی ہے) وقف میں تنوین ختم ہو جاتی ہے تو گرا ہوا الف واپس آ جاتا ہے اس لیے طُوٰی (ایک زبر کے ساتھ الف) پڑھا جاتا ہے

صرف1 جواب
6 اکتوبر، 2026

یَلْقَ کونسا صیغہ ہے اور اس کی اصل

واحد مذکر غائب فعل مضارع مجزوم معروف ثلاثی مجرد ناقص یائی باب سمع یسمع (لَقِیَ یَلْقٰی) اصل میں یَلْقَیُ تھا قاعدہ: یاء متحرک ماقبل مفتوح ہو تو الف سے بدل دیتے ہیں: یَلْقٰی پھر جازم (لَمْ یا حرفِ شرط) کی وجہ سے حرفِ علت گر گیا: یَلْقَ مثال: وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا

صرف1 جواب
11 اکتوبر، 2026

میلاد کیا ہے ظرف یا اسم آلہ

اصولی طور پر یہ وزن مختلف چیزوں کے لئے آتا ہے اور بالخصوص اسم آلہ کبری کا وزن بھی یہی ہے لیکن کچھ اسماء ایسے ہیں جو اسی وزن پر آتے ہیں لیکن ظرف کا معنی دیتے ہیں چند اسماء سرِ دست پیش کر دیتا ہوں محراب میلاد میقات میعاد ۔۔۔۔ اب یہاں تین سوال ہیں 1. یہ اسماء ظرف ہیں 2۔ اسماء آلہ ہیں 3۔ اسماء جامد ہیں اسماء آلہ نہیں ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ اس میں آلہ والی معنی نہیں پایا جا رہا ہے اور اسماء ظرف مشتق نہیں ہیں کہ اس کا وزن قیاسی یہ نہیں ہے اور غیر قیاسی وزن ہونے کی بھی تصریح نہیں ملتی کہ اس وزن پر اسم ظرف آتے ہوں اب دو ہہ صورتیں ہیں یا تو یہ مان لیا جائے کہ اسم جامد ہیں یعنی غیر مشتق ہیں یا پھر یہ مان لیا جائے کہ اسماء ظرف ہیں لیکن قیاسی وزن کے بر خلاف ہیں لیکن جامد والا آپشن بہتر ہے کہ اس میں کوئی توجیہ اور تکلف نہیں ہے

صرف1 جواب
14 اگست، 2026