عربی گرامر سوال و جواب

صرف و نحو: سوالات و جوابات

عربی گرامر (صرف و نحو) کے سوالات کے جائزہ شدہ جوابات: صیغے، ابواب، تعلیلات، اعراب اور ترکیب۔

کل 82 جوابات شدہ سوالات

سوال : کیا فرماے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے انگوٹھی پہنی ہوئی تھے اور وضو کرکے نماز پڑھ لی ، مجھے معلوم نہیں انگوٹھی کے نیچے پانی پہنچا یا نہیں، کیا میری نماز ہوگئی؟

چَھلّے، انگوٹھیاں وغیرہ اگر اتنے تنگ ہوں کہ نیچے پانی نہ بَہے تو اُتار کر دھونا فرض ہے۔ اور اگرصرف ہِلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہو تو حرکت دینا ضروری ہے ۔اگر آپ کی انگوٹھی اتنی تنک ہو کہ پانی پہنچایا نہ جائے تو پانی نہیں پہنچے گا تو آپ کا وضو نہ ہو ا، اور وضو نہ ہوا تو نماز بھی نہ ہوئی لہذا آپ وضو کرکے دوبارہ نماز ادا کریں ۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
11 اکتوبر، 2024

سوال : جس شخص کے داڑھی کے بال گھنے نہ ہو یعنی اس کی داڑھی کے نیچے کی جلد(skin) نظر آتی ہو ، تو اس کے لئے داڑھی اور کھال کے دھونے کا کیا حکم ہے ، کیا صرف داڑھی کے بال دھو لینا کافی ہوگا ؟

داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں اندر کی جِلد نظرآتی ہو تو جِلد کا دھونا فرض ہے ۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
11 اکتوبر، 2024

نل کے نیچے کپڑے کس طرح پاک کئے جائیں؟

نل کے نیچے کپڑے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کپڑے کا جو حصہ ناپاک ہے اسے اپنے ہاتھوں میں لے (اور کچھ زیادہ لے) اس کے بعد اسے نل کھول کر دھونا شروع کردے اور یوں مَلتا رہے کہ غالب گمان ہوجائے کہ بہتا پانی ناپاکی کو بہا کر لے گیا ہوگا کپڑا پاک ہوجائےگا ۔ مثلاً رومال نا پاک ہو گیا ، تو پیسن میں نل کے نیچے رکھ کر اتنی دیر تک پانی بہائیے کہ ظن غالب آجائے کہ پانی نجاست کو بہا کر لے گیا ہو گا تو پاک ہو جائے گا۔ بڑا کپڑا یا اس کا نا پاک حصہ بھی اسی طریقے پر پاک کیا جا سکتا ہے ۔ مگر یہ احتیاط ضروری ہے کہ ناپاک پانی کے چھینٹے آپ کے کپڑے، بدن اور اطراف میں دیگر جگہوں پر نہ پڑیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
28 اکتوبر، 2024

کارپیٹ اگر ناپاک ہو جائے تو اسے کس طرح پاک کیا جائے؟

کارپیٹ (CARPET) کا نا پاک حصہ ایک بار دھو کر لٹکا دیجئے یہاں تک کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے ،پھر دوبارہ دھو کر لٹکائے حتی کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے پھر تیسری بار اسی طرح دھو کر لٹکا دیجئے جب پانی ٹپکنا بند ہو جائے گا تو کار پیٹ پاک ہو جائے گا ۔ چٹائی ، چمڑے کے چپل اور مٹی کے برتن وغیرہ جن چیزوں میں پتلی نجاست جذب ہو جاتی ہو اسی طریقے پر پاک کیجئے ۔ ایسا نازک کپڑا کہ نچوڑ نے سے پھٹ جانے کا اندیشہ ہو وہ بھی اسی طرح پاک کیجئے۔ اگر نا پاک کار پیٹ یا کپڑا وغیرہ بہتے پانی میں (مثلا دریا نہر میں یا پائپ یا ٹونٹی کے جاری پانی کے نیچے ) اتنی دیر تک رکھ چھوڑیں کہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نجاست کو بہا کر لے گیا ہو گا تب بھی پاک ہو جائے گا۔ کار پیٹ پر بچہ پیشاب کر دے تو اُس جگہ پر پانی کے چھینٹے مار دینے سے وہ پاک نہیں ہوتا۔ یاد رہے ! ایک دن کے بچے یا بچی کا پیشاب بھی ناپاک ہوتا ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
28 اکتوبر، 2024

کپڑے پر اگر ناپاک تیل لگ جائے تو اس کو کس طرح پاک کیا جائے؟

کپڑے یا بدن میں نا پاک تیل لگا تھا تین مرتبہ دھو لینے سے پاک ہو جائے گا اگر چہ تیل کی چکنائی موجود ہو، اس تکلف کی ضرورت نہیں کہ صابون یا گرم پانی سے دھوئے لیکن اگر مر دار کی چربی لگی تھی تو جب تک اس کی چکنائی نہ جائے پاک نہ ہوگا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
28 اکتوبر، 2024

اگر کپڑے کا تھوڑا سا حصہ ناپاک ہو جائے مگر یہ نہین معلوم کہ کون ساحصہ ہے تو کیا کیا جائے؟

کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو گیا اور یہ یاد نہیں کہ وہ کون سی جگہ ہے، تو بہتر یہ ہے کہ پورا ہی دھوڈالیں (یعنی جب بالکل نہ معلوم ہو کہ کسی حصہ میں ناپا کی لگی ہے اور اگر معلوم ہے کہ مثلاً آستین نجس ہو گئی مگر یہ نہیں معلوم کہ آستین کا کونسا حصہ ہے ، تو پوری آستین کا دھونا ہی پورے کپڑے کا دھونا ہے ) اور اگر اندازے سے سوچ کر اس کا کوئی سا حصہ دھولے جب بھی پاک ہو جائے گا، اور جو بلا سوچے ہوئے کوئی ٹکڑا (حصّہ ) دھولیا جب بھی پاک ہے مگر اس صورت میں اگر چند نمازیں پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ نجس حصہ نہیں دھویا گیا تو پھر دھوئے اور نمازوں کا اعادہ کرے (یعنی دوبارہ پڑھے) اور جو سوچ کر دھو لیا تھا اور بعد کو غلطی معلوم ہوئی تو اب دھولے اور نمازوں کے اعادہ (یعنی دوبارہ ادا کرنے ) کی حاجت نہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
28 اکتوبر، 2024

کپڑے پر منی لگ جائے تو اسے پاک کس طرح کیا جائے؟

منی کپڑے میں لگ کر خشک ہو گئی تو فقط مل کر جھاڑنے اور صاف کرنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا اگر چہ بعد ملنے کے کچھ اس کا اثر کپڑے میں باقی رہ جائے ،بدن میں اگر منی لگ جائے تو وہ بھی اسی طرح پاک ہو جائے گا ۔ اسی طرح پیشاب کر کے طہارت نہ کی نہ پانی سے نہ ڈھیلے سے اور منی اس جگہ پر گزری جہاں پیشاب لگا ہوا ہے، تو یہ ملنے سے پاک نہ ہوگی بلکہ دھوناضروری ہے،جس کپڑے کو مل کر پاک کر لیا اب اگر وہ پانی سے بھیگ جائے تو نا پاک نہ ہوگا ۔ اگر منی کپڑے میں لگی ہے اور اب تک تر ہے ( بغیر سکھائے پاک کرنا چاہیں) تودھو نےسے پاک ہوگا ( سوکھنے سے قبل ) ملنا کافی نہیں۔ (البتہ فی زمانہ علمائے کرام یہی مشورہ دیتے ہیں کہ منی اگرچے سوکھ جائے ، اس کپڑے کو پانی سے پاک کرلینا چاہیئے ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب )

طہارت کے مساٸل1 جواب
28 اکتوبر، 2024

ناپاک برتن کو کس طرح پاک کیا جائے؟

اگر ایسی چیز ہو کہ اس میں نجاست جذب نہ ہوئی ، جیسے چینی کے برتن یامٹی کا پُرانا استعمالی چکنا برتن یا لو ہے، تانبے، پیتل وغیرہ دھاتوں کی چیزیں تو اسے فقط تین بار دھو لینا کافی ہے، اس کی بھی ضرورت نہیں کہ اسے اتنی دیر تک چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
29 اکتوبر، 2024

جس کے دونوں ہاتھ یا ایک پہنچے (یعنی کلائی کی جانب )سے کٹا ہو تواس کے لئے تیمم کا کیا حکم ہے؟

جس کے دونوں ہاتھ یا ایک پہنچے سے کٹا ہو تو کُہنیوں تک جتنا باقی رہ گیا اُس پر مسح کرے اور اگر کُہنیوں سے اوپر تک کٹ گیا تو اسے بقیہ ہاتھ پر مسح کرنے کی ضرورت نہیں ، پھر بھی اگر اس جگہ پر جہاں سے کٹ گیا ہے مسح کرلے تو بہتر ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
26 اکتوبر، 2024

لوہے کی چیز جیسے چُھری، چاقو، تلوار وغیرہ اگر ناپاک ہو جائے تو کس طرح پاک کئے جائیں؟

لوہے کی چیز جیسے چُھری، چاقو، تلوار وغیرہ جس میں نہ زنگ ہونہ نقش و نگار نجس ہو جائے، تو اچھی طرح پونچھ ڈالنے سے پاک ہو جائے گی اور اس صورت میں نَجاست کے دَلدار یا پتلی ہونے میں کچھ فرق نہیں ۔ یوہیں چاندی، سونے، پیتل، گلٹ اور ہر قسم کی دھات کی چیزیں پونچھنے سے پاک ہو جاتی ہیں بشرطیکہ نقشی نہ ہوں اور اگر نقشی ہوں یا لوہے میں زنگ ہو تو دھونا ضروری ہے پونچھنے سے پاک نہ ہوں گی۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
29 اکتوبر، 2024

آئینہ یا شیشے کی چیزیں ناپاک ہو جائیں تو کس طرح پاک کی جائیں؟

آئینہ اور شیشے کی تمام چیزیں اور چینی کے برتن یا مٹی کے روغنی برتن (یا مٹی کے وہ برتن جن پر کانچ کی پتلی تہ چڑھی ہوتی ہے ) یا پالش کی ہوئی لکڑی غرض وہ تمام چیزیں جن میں مسام نہ ہوں، کپڑے یا پتے سے اس قدر پونچھ لی جائیں کہ نجاست کا اثر بالکل جا تا ر ہے پاک ہو جاتی ہیں۔ مگر خیال رہے کہ دراڑ ہو، یا کہیں سے کچھ اکھڑا ہوا ہو یا کوئی حصہ ٹوٹا ہوا ہو یا کہیں سے پالش نکل گئی ہو الغرض کسی طرح کا بھی کھردرا پن ہونے کی صورت میں اس حصے کا پونچھنا کافی نہ ہوگا دھو کر پاک کرنا ضروری ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
29 اکتوبر، 2024

ایسی چیز جو زمین میں جڑی ہو وہ ناپاک ہو جائے تو اس کاکیا حکم ہوگا؟

درخت اور گھاس اور دیوار اور ایسی اینٹ جو زمین میں جڑی ہو ،یہ سب خشک ہو جانے سے پاک ہو گئے اور اگر اینٹ جڑی ہوئی نہ ہو تو خشک ہونے سے پاک نہ ہو گی بلکہ دھونا ضروری ہے۔ یوہیں درخت یا گھاس سوکھنے کے پیشتر کاٹ لیں تو طہارت کے لیے دھونا ضروری ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
29 اکتوبر، 2024

کافروں کے استعمال شدہ سویٹر وغیرہ کا کیا حکم ہے؟

کافروں کے استعمال شدہ سویٹر وغیرہ کفار کے ممالک سے درآمد کئے ہوئے (IMPORTED) استعمال شده سویٹر ( SWEATER) بجرائیں ، قالین (CARPET) اور دیگر پرانے کپڑے کہ جب تک ان پر نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو پاک ہیں بغیر دھوئے نماز میں استعمال کرنے میں حرج نہیں، البتہ پاک کر لینا مناسب ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
29 اکتوبر، 2024

معذور شرعی کی تعریف کیا ہے ؟ اور اس کا عذرکب ثابت ہو گا ؟

وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکا وہ معذور ہے ،اس کا حکم یہ ہے کہ وقت میں وُضو کرلے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وُضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وُضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دست آنا، یا ہوا خارِج ہونا، یا دُکھتی آنکھ سے پانی گرنا، یا پھوڑے، یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پِستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وُضو توڑنے والی ہیں ، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیا کہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکاتو عذر ثابت ہوگیا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

نماز کاکچھ وقت ایسی حالت میں گزراکہ عذر نہ تھا اور نماز نہ پڑھی اور اب پڑھنے کا ارادہ کیا توعذر واپس آگیا تو اس کے لئے نماز کا کیا حکم ہوگا؟

نماز کاکچھ وقت ایسی حالت میں گزراکہ عذر نہ تھا اور نماز نہ پڑھی اور اب پڑھنے کا ارادہ کیا تو اِستحاضہ یا بیماری سے وُضو جاتا رہتا ہے غرض یہ باقی وقت یوہیں گزر گیا اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو اب اس کے بعد کا وقت بھی پورا اگر اسی اِستحاضہ یا بیماری میں گزر گیا تو وہ پہلی نماز بھی ہو گئی اور اگر اس (دوسرے) وقت میں اتنا موقع ملاکہ وُضو کرکے فرض پڑھ لے تو پہلی نماز کا اعادہ کرے گا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

معذور جس عذر کے سبب معذور ہوا اس کے علاوہ کوئ عذر پایا گیا تو کیا اس کا وضو باقی رہے گا یا نہیں؟

معذورکا وُضو اس چیز سے نہیں جاتا جس کے سبب معذور ہے،ہاں اگر کوئی دوسری چیزوُضو توڑنے والی پائی گئی تو وُضو جاتا رہا۔ مثلاً جس کو قطرے کا مرض ہے، ہوا نکلنے سے اس کا وُضو جاتا رہے گا اور جس کو ہوا نکلنے کا مرض ہے، قطرے سے وُضو جاتا رہے گا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

معذور کے ایک نتھنے سے خون آرہا تھا وُضو کے بعد دوسرے نتھنے سے آیا تو وضو کا کیا حکم ہوگا؟

معذور کے ایک نتھنے سے خون آرہا تھا وُضو کے بعد دوسرے نتھنے سے آیا وُضو جاتا رہا ،اسی طرح ایک زخم بہ رہا تھا اب دوسرا بہا، یہاں تک کہ چیچک کے ایک دانہ سے پانی آرہا تھا اب دوسرے دانہ سے آیا وُضو ٹوٹ گیا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

اگر کسی طریقے سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس کو کرنے کا کیا حکم ہے؟

اگر کسی طریقے سے عذر جاتا رہے یا اس میں کمی ہو جائے تو اس طریقے کا اختیار کرنا فرض ہے، مثلاً کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے خون بہتا ہے اور بیٹھ کر پڑھے تو نہ بہے گا تو بیٹھ کر پڑھنا فرض ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو کیا ہر دفعہ میں کپڑے پاک کرنا ضروری ہے؟

معذور کو ایسا عذر ہے جس کے سبب کپڑے نجس ہو جاتے ہیں تو اگر ایک درہم سے زِیادہ نجس ہو گیا اور جانتا ہے کہ اتنا موقع ہے کہ اسے دھو کر پاک کپڑوں سے نماز پڑھ لوں گا تو دھو کر نماز پڑھنا فرض ہے اوراگر جانتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے پھر اتنا ہی نجس ہو جائے گا تو دھونا ضروری نہیں اُسی سے پڑھے اگرچہ مصلیٰ بھی آلودہ ہو جائے کچھ حَرَج نہیں اور اگر درہم کے برابر ہے تو پہلی صورت میں دھونا واجب اور درہم سے کم ہے تو سنّت اور دوسری صورت میں مطلقاً نہ دھونے میں کوئی حَرَج نہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

خون بہتے میں وُضو کیا اور وضوکے بعد خون بند ہو گیا اور اسی وُضو سے نماز پڑھی تو کیا نماز کا اعادہ کرےگا یہ نہیں؟

خون بہتے میں وُضو کیا اور وضوکے بعد خون بند ہو گیا اور اسی وُضو سے نماز پڑھی اور اس کے بعد جو دوسرا وقت آیا وہ بھی پورا گزر گیاکہ خون نہ آیا تو پہلی نماز کا اعادہ کرے ۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

معذور شرعی عذر ثابت ہونے کے بعد کب تک معذور رہتا ہے؟

جب عذر ثابت ہو گیا تو جب تک ہر وقت میں ایک ایک بار بھی وہ چیز پائی جائے معذور ہی رہے گا، مثلاً عورت کو ایک وقت تو اِستحاضہ نے طہارت کی مہلت نہیں دی اب اتنا موقع ملتا ہے کہ وُضو کرکے نماز پڑھ لے مگر اب بھی ایک آدھ دفعہ ہر وقت میں خون آجاتا ہے تو اب بھی معذور ہے۔ یوہیں تمام بیماریوں میں اور جب پورا وقت گزر گیا اور خون نہیں آیاتو اب معذورنہ رہی جب پھر کبھی پہلی حالت پیدا ہو جائے تو پھر معذور ہے اس کے بعد پھر اگر پورا وقت خالی گیا تو عذر جاتا رہا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

قاری صاحب شرعی معذور ہوں تو وہ بچوں کوسبق دیتے یاسنتے ہوئےقرآنِ کریم کو بغیر حائل چھو سکتے ہیں یانہیں؟

قاری صاحب اگرشرعی معذورہوں تو جب تک شرعی معذور کا حکم ان کے لئے باقی رہے گا تووہ بچوں کوسبق دیتے یاسنتے ہوئےقرآنِ پاک کوبغیر حائل ہاتھ بھی لگاسکتے ہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

اگر کسی کی پیشاب کی تری فقط ظاہر رہتی ہے ،اور تری کا یہ سلسلہ بعض اوقات کافی دراز ہوجا تا ہے،تو اس کے لیے وضو کا کیاحکم ہے؟

اگر تری ظاہر ہونے کا سلسلہ اس قدر دراز ہے کہ ایک مکمل نماز کے وقت میں شروع سے آخر تک اس کو اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وضو کے ساتھ فرض ادا کر سکے تو وہ شرعی معذور ہے ،اور اگرپورے وقت میں اتنی مہلت مل جاتی ہے کہ وضو کے ساتھ فرض ادا کر سکے اور اس دوران تری ظاہر نہ ہو تو معذور نہ ہوگا ۔شرعی معذور متحقق ہونے کے بعد اگلے وقت میں اگر ایک مرتبہ بھی یہ مرض پایا گیا تو معذور رہےگا اور اگر کسی نماز کا وقت اس مرض کے بغیر گزر گیا تو جب تک پہلی حالت(شروع وقت سے آخر تک تری آتے رہنا) نہ آئے معذور نہ ہو گا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

شرعی معذور شخص صرف فرض رکعتیں ہی ادا کرے گا یا پھر سنتِ مؤکدہ اور نوافل بھی پڑھے گا؟

شرعی معذور شخص کو شریعت نے وضو کے حوالہ سے کچھ رخصت عنایت فرمائی ہے،جبکہ نماز کی ادائیگی کے معاملے میں اس کے عمومی طور پر وہی احکام ہیں، جو غیر معذور کے ہیں کہ فرض و واجب تو ہر حال میں پڑھنے ہوں گے اور سنن مؤکدہ بغیر عذرِ شرعی ایک مرتبہ بھی چھوڑنے والا عتاب کا مستحق اور عادت بنا لینے والا گناہ گار ہے۔ البتہ اگر کوئی سنن غیر مؤکدہ اور نوافل کو چھوڑ دے، تو گناہ گار نہیں ہو گا، لیکن ممکنہ صورت میں انہیں بھی پڑھنا چاہئے کہ ان کے بھی بہت فضائل مروی ہیں۔ پھر جو نماز پڑھی جائے، اس میں بھی فرائض ، واجبات اور سنن مؤکدہ کو پورا کرنا ہو گا۔ اور یہ حکم معذورِ شرعی و غیر معذور دو نو ں کے لئے ہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

شرعی معذور نے مغرب کا وقت ختم ہونے سے پہلے عشا کی نماز کے لئے وضو کیا ، کیا اس وضو سے عشا کی نماز ادا کرسکتا ہے یا مغرب کا وقت ختم ہونے کے بعد دوبارہ وضو کرنا ہوگا؟

شرعی معذور کا وضو ، نماز کا وقت ختم ہونے سے ٹوٹ جاتا ہے، لہذا نیا وقت شروع ہونے پر اسے نماز کے لئے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔البتہ اگر ایسا معاملہ ہے کہ جس عذر کے سبب سے وہ معذور ہے، وضو کے دوران اور وضو کے بعد آخر وقت تک وہ سبب نہ پایا جائے، تو اس صورت میں وقت ختم ہونے سے وضو نہیں ٹوٹےگا۔ بہار شریعت میں ہے:”فرض نماز کا وقت جانے سے معذور کا وُضو ٹوٹ جاتا ہےجیسے کسی نے عصر کے وقت وُضو کیا تھاتو آفتاب کے ڈوبتے ہی وُضو جاتارہا۔ وُضو کرتے وقت وہ چیز نہیں پائی گئی جس کے سبب معذور ہے اور وُضو کے بعد بھی نہ پائی گئی یہاں تک کہ باقی پورا وقت نماز کا خالی گیا تو وقت کے جانے سے وُضو نہیں ٹوٹا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

کسی کا آپریشن ہوا اور اسے ڈرین پائپ لگا دیا گیا جس سے خون اور پیشاب مسلسل نکل رہا ہے ، ایسے مریض کے لئے وضو کا کیا حکم ہوگا؟

ڈرین پائپ جس مریض کو لگا ہوا ہو ،چونکہ اس کا خون مسلسل نکلتا رہتا ہے لہٰذا وہ شخص شرعی معذور ہے ۔ اس کے لیے حکم یہ ہے کہ جب نماز کا وقت شروع ہو،تواس وقت وضو کرلے پھر اس وضو سےاس وقت میں جتنی چاہے نمازیں ادا کرے اگر چہ اس دوران خون اورپیشاب کے قطرے نکلتے رہیں وضو کرنے کی حاجت نہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

سوال : مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ آج کل خواتین کے لئے permanent make up کی صورت بھی آگئی ہے ، کیا اس میک اپ کو کروانے سے وضو پر کچھ اثر ہوگا ؟

جواب : بالکل اثر ہوگا کیونکہ ہماری معلومات کے مطابق اس طرح کے میک اپ کی طےبنتی ہے جس کی وجہ سے پانی جلد تک نہیں پہنچتا ، اور پانی جلد تک نہیں پہنچے گا تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا ، جب وضو وغسل نہیں ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی ، لہذااس طرح کا میک اپ ہر گز نہ کروایا جائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

طہارت کے مساٸل1 جواب
2 نومبر، 2024

آشوبِ چشم (آنکھ آئی ہوئی ) ہےجس سے پانی نکلتا رہتا ہےبالخصوص سجدے میں، تو نماز کیسے پڑھیں؟

اگر دکھتی آنکھ سے پانی مسلسل نکل رہا ہے اورکسی نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کی جا سکے توایسی صورت میں وہ شرعی معذور ہے، ا س صورت میں ہر نماز کے وقت میں ایک بار ہی وضو کرنا ہوگا اور اس وقت میں آنکھ سے پانی نکلنے سے وضو نہ ٹوٹے گا، البتہ وضو ٹوٹنے کا کوئی اور سبب پایا گیا ، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر ایسی صورت نہیں بلکہ نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت مل سکتا ہے کہ اس وقت میں وضو کریں اور فرض نماز ادا کر لیں اور اس پورے دورانیے میں اس دکھتی آنکھ سے پانی نہ آئے تو پھر شرعی معذور نہیں یونہی اگر کوئی ایسی ترکیب کر سکتا ہے کہ جس سے پانی اس دورانیے میں آنکھ سے باہر نہ آئے تو وہ ترکیب کرنا فرض ہے مثلاً آنکھ بند کرکے نماز پڑھے توپانی نہ نکلے تو آنکھ بند کرنا ضروری ہوگا اور وہ معذور نہ ہوگا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
30 اکتوبر، 2024

موزوں پر مسح کے جائز ہونے کے لیے کون کون سی شرائط ہیں؟

موزوں پر مسح کے جائز ہونے کے لیے چند شرائط ہیں : پاؤں دھو کر موزے پہنے جائیں اگر چہ وضوء مکمل کرنے سے پہلے پہن لے۔ دونوں موزے ٹخنوں کو چھپالیں اس سے زِیادہ ہونے کی ضرورت نہیں اور اگردوایک اُنگل کم ہو جب بھی مسح درست ہے، ایڑی نہ کھلی ہو۔ موزے ایسے ہوں جنہیں پہن کر مسلسل چلا جا سکے لہذا شیشہ ، لکڑی اور لوہے کےموزے جائز نہیں۔ هر موزہ پاؤں کی چھوٹی انگلی کے برابر تین انگلیوں کی مقدار پھٹانہ ہونا۔ موزوں کا بغیر باندھے پاؤں پر ٹھہرے رہنا۔ موزے ایسے ہوں جو جسم تک پانی پہنچنے سے مانع ہوں۔ ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے برابر تین انگلیوں کی مقدار پاؤں کے اگلے حصے کا سلامت ہونا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

اگر پاؤں دھو کر موزے پہن لیے اور اس کے بعد وضو کیا تو مسح کا کیا حکم ہوگا؟

اگر پاؤں دھو کر موزے پہن لیے اور حدث سے پہلے مونھ ہاتھ دھو لیے اور سر کا مسح کر لیا تو بھی مسح جائز ہے اور اگر صرف پاؤں دھو کر پہنے اور بعد پہننے کے وُضو پورا نہ کیا اور حدث ہو گیا تو اب وُضو کرتے وقت مسح جائز نہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

مسافر نے مسح کیا اور مدت پوری ہونے سے پہلے مقیم ہو گیا تو مسح کا کیا حکم ہوگا؟

مسافر نے اقامت کی نیت کرلی تو اگر ایک دن رات پورا کر چکا ہے تومسح جاتا رہا اور پاؤں دھونا فرض ہو گیا۔ اور نماز میں تھا تو نماز جاتی رہی اور اگر چوبیس گھنٹے پورے نہ ہوئے تو جتنا وقت باقی ہے پورا کرلے(یعنی مقیم کی مدت پوری کرے)۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

جنبی نے غُسل کیا مگر تھوڑا سا بدن خشک رہ گیا اور موزے پہن لیے تو مسح کا کیا حکم ہوگا؟

جنبی نے غُسل کیا مگر تھوڑا سا بدن خشک رہ گیا اور موزے پہن لیے اور قبل حدث کے اس جگہ کو دھوڈالا تو مسح جائز ہے ۔اور اگر وہ جگہ اعضائے وُضو میں دھونے سے رہ گئی تھی اور قبل دھونے کے حدث ہوا تو مسح جائز نہیں۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

کتنی مقدار موزہ پھٹا ہو تو مسح جائز نہیں ؟

کوئی موزہ پاؤں کی چھوٹی تین انگلیوں کے برابر پھٹا نہ ہو یعنی چلنے میں تین اُنگل بدن ظاہر نہ ہوتا ہو اور اگر تین انگل پھٹا ہو اور بدن تین اُنگل سے کم دکھائی دیتا ہے تو مسح جائز ہے اور اگر دونوں تین تین اُنگل سے کم پھٹے ہوں اور مجموعہ تین اُنگل یا زِیادہ ہے تو بھی مسح ہو سکتا ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

سوال : مفتی صاحب وضو میں منہ دھونے کی مکمل تفصیل بیان کردیجئے ؟

جواب - مونھ دھونا: شروعِ پیشانی سے (یعنی جہاں سے بال جمنے کی انتہا ہو) ٹھوڑی تک طول(لمبائی )میں اور عرض(چوڑائی )میں ایک کان سے دوسرے کان تک مونھ ہے اس حد کے اندر جِلد کے ہر حصہ پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہےـ۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
11 اکتوبر، 2024

موزہ چند جگہ سے پھٹا ہو تو مسح کا کیا حکم ہوگا؟

اگر موزہ کچھ جگہوں سے پھٹ گیا ہو تو اس پر مسح ہونے یا نہ ہونے دارومدار ان جگہوں کے مجموعی سائز پر ہوگا ,اگر سوراخ اتنے بڑے ہیں کہ مجموعی طور پر تین انگلیوں کے برابر یا اس سے زیادہ بن جائیں تو مسح جائز نہیں ہوگا۔لیکن اگر تمام سوراخوں کا مجموعہ تین انگلیوں سے کم ہے، تو اس صورت میں مسح جائز ہوگا۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

موزے پر مسح کا طریقہ کیا ہے؟

مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دہنے ہاتھ (right hand) کی تین انگلیاں ،دہنے پاؤں کی پُشت کے سرے پر اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں پاؤں کی پُشت کے سرے پر رکھ کر پنڈلی کی طرف کم سے کم بقدر تین انگل کے کھینچ لی جائے اور سنّت یہ ہے کہ پنڈلی تک پہنچائے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

کیا موزے پر مسح کہ لئے انگلیوں کا تر ہونا ضروری ہے ؟اور اگر سر پر مسح کے بعد ہاتھ پر تری باقی ہو تو کیا وہ موزے پر مسح کے لئے کافی ہوگی؟

جی !انگلیوں کا تر ہونا ضروری ہے ،ہاتھ دھونے کے بعد جو تری باقی رہ گئی اس سے مسح جائز ہے ،اور سر کا مسح کیا اور ہاتھ میں تری موجود ہے تو یہ کافی نہیں بلکہ پھر نئے پانی سے ہاتھ تر کرلے کچھ حصہ ہتھیلی کا بھی شامل ہو تو حَرَج نہی۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
31 اکتوبر، 2024

انگلیوں کی پُشت سے مسح کیا یاپنڈلی کی طرف سے انگلیوں کی طرف کھینچا تو کیا ان صورتوں میں مسح ہو جائے گا؟

انگلیوں کی پُشت سے مسح کیا یاپنڈلی کی طرف سے انگلیوں کی طرف کھینچا، یا موزے کی چوڑائی کا مسح کیا یا انگلیاں ملی ہوئی رکھیں یا ہتھیلی سے مسح کیا تو ان سب صورتوں میں مسح ہوگیا مگر سنّت کے خلاف ہوا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

اگر ایک ہی انگلی سے تین بار نئے پانی سے ہر مرتبہ تر کرکے تین جگہ مسح کیا توکیا مسح ہوجائے گا؟

اگر ایک ہی انگلی سے تین بار نئے پانی سے ہر مرتبہ تر کرکے تین جگہ مسح کیا جب بھی ہو گیا مگر سنّت ادا نہ ہوئی اور اگر ایک ہی جگہ مسح ہر بار کیا یا ہر بار تر نہ کیا تو مسح نہ ہوا۔(بہارشریعت)

طہارت کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

مسح کی مدت پوری ہو گئی اور قوی اندیشہ ہے کہ موزے اتارنے میں سردی کے سبب پاؤں جاتے رہیں گے تو کیاکیا جائے؟

مسح کی مدت پوری ہو گئی اور قوی اندیشہ ہے کہ موزے اتارنے میں سردی کے سبب پاؤں جاتے رہیں گے تو نہ اتارے اور ٹخنوں تک پورے موزے کا (نیچے اوپر اغل بغل اور ایڑیوں پر) مسح کرے یہاں تک کہ کچھ رہ نہ جائے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

ایک پاؤں آدھے سے زِیادہ موزے سے باہر ہو جائے توکیا مسح ٹوٹ جاتا ہے؟

ایک پاؤں آدھے سے زِیادہ موزے سے باہر ہو جائے تو مسح جاتا رہا، موزہ اتارنے یا پاؤں کا اکثر حصہ باہر ہونے میں پاؤں کا وہ حصہ معتبر ہے جو گٹوں سے پنجوں تک ہے پنڈلی کا اعتبار نہیں اس صورت میں پاؤں کا دھونا فرض ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

جھوٹے پانی کی کتنی اور کون کون سی قسمیں ہیں؟

جھوٹے پانی کی چار قسمیں ہیں: (1) طاہر مطہر ؛ یہ وہ پانی ہے جس میں سے آدمی ، گھوڑے یا ان حیوانات میں سے کسی نے پیا ہو جن کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ (2) نجس :- اس کا استعمال جائز نہیں۔ یہ وہ پانی ہے جس میں سے کتے ، خنزیر یا چیڑ پھاڑ کرنے والے درندوں (جیسے چیتا، بھیز یاد غیرہ) میں سے کسی نے پیا ہو ۔ (3 )مکروہ :۔ مطلق پانی کے موجود ہوتے ہوئے اس پانی کا استعمال مکروہ ہے۔ یہ وہ پانی ہے جس میں سے بلی ، آوارہ مرغی ، چیڑ پھاڑ کرنے والے پرندوں ( مثلا شکر ہو، باز ، چیل وغیرہ) یا گھر میں رہنے والے چھوٹے جانور مثلا چوہا وغیرہ میں سے کسی نے پیاہو۔ ( بچھو اس میں شامل نہیں) (4)مشکوک: جس پانی کے پاک کرنے میں شک ہو۔ یہ وہ پانی ہے جس میں سے خچریا گدھے نے پیا ہو۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

سوال : مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں ہمارے یہاں قریب میں مسجد ہے ، اس مسجد میں خواتین کے بھی پروگرام ہوتے ہیں ،اجتماع، نعت خوانی وغیرہ ، لیکن یہ سب فناۓ مسجد میں ہی ہوتا ہے اورپردے کابھی مکمل اہتمام ہوتاہے کیا حیض والی عورت اس اجتماع میں جاسکتی ہے ، ؟

جواب : حیض و نفاس والی کا فناۓ مسجدمیں جانا جاٸز ہے ، لہذا اجتماع اور اس طرح کے خواتین کے دینی پروگرام جہاں مکمل پردے کی رعایت کی جاتی ہے وہاں جانا چاہیٸے ، حیض و نفاس اس سے مانع نہیں ہوگا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

طہارت کے مساٸل1 جواب
1 نومبر، 2024

کسی کے پاس پانی ہو مگر کم ہو اور پیاس کا خوف ہو تو کیا تیمم کرکےنماز ادا کرسکتا ہے؟

پانی کم ہو ، اور راہ ایسی ہے کہ اس راہ پر پانی کی پیاس لگی تو پانی کا دور دور تک ملنا مشکل ہوگا، اور موجود پانی کو وضو یا غسل میں استعمال کیا تو یہ پیاسا رہ جاۓ گا، اس صورت میں تیمم کرکے نماز ادا کرنا جاٸز ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
26 اکتوبر، 2024

اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو کیا تیمم کیا جا سکتا ہے؟

اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہیں جسے نہانے کے بعد اوڑھے اور سردی کے ضرر سے بچے نہ آگ ہے جسے تاپ سکے تو تیمم جائز ہے۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
26 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آگئی ، کیا میرا وضو باقی ہے یا دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ؟

آپ کا وضو باقی ہے کیونکہ اونگھ آنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اس لئے کہ اونگھ اس معمولی نیند کو کہتے ہیں جس سے بندہ غافل نہیں ہوتا نیز آپ بیٹھے بھی نماز کے انتظار میں تھے اور یہ حالت عموما غافل کرنے والی نہیں ہوتی ہے ۔ اونگھ ناقض وضو نہیں ہے اس کا بیان کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم المصری (المتوفی970ھ) لکھتے ہیں : النُّعَاسَ ۔۔۔۔ الظَّاهِرُ أَنَّهُ لَيْسَ بِحَدَثٍ ترجمہ (اونگھ) ظاہر یہ ہے کہ اس سے حدث واقع نہیں ہوتا۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، جلد 01 ، صفحہ 41 ،مطبوعہ دار الكتاب اسلامی) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ اسی بات کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ آ پ فرماتے ہیں : النُّعَاسُ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ، وَهُوَ قَلِيلُ نَوْمٍ لَا يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مَا يُقَالُ عِنْدَهُ. ترجمہ : اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے ، اور اونگھ اس معمولی نیند کو کہتے ہیں جس سے بندہ اپنے پاس ہونے والی ا کثر باتوں سے غافل نہیں ہوتا ہے ۔ (ردالمحتار علی الدر مختار ، جلد 01، صفحہ 143، مطبوعہ بیروت) اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : "اونگھ ناقضِ وضو نہںا جبکہ ایسا ہوشا ر رہے کہ پاس کے لوگ جو باتںھ کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو، اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو"۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 01، صفحہ 367، مطبوعہ رضا فاونڈیشن) فتاوی یورپ میں اسی نوعیت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی عبدالواجد قادری فرماتے ہیں : مطلقا نیند ناقض وضو نہیں ہےبلکہ نیند دو شرطوں کے ساتھ وضو کو توڑتی ہے (۱)سونے والے کے سرین زمین ، تختہ، سخت گدہ وغیرہ سے لگا ہوا نہ ہو (۲)سونے والا ایسی غفلت کی نیند سوجائے کہ اس کے اعضاء کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں ۔ اگر سونے والے میں یہ دو شرطیں پائی جائیں گی تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔ (فتاوی یورپ ، صفحہ 140، مکتبہ جام نور دہلی) صاحب بہار شریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی فرماتے ہیں : اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (بہار شریعت، حصہ 03، صفحہ 308 مکتبۃ المدینہ) کتبہ ابو معاویہ عبدالقدوس مدنی تاریخ:16-اکتوبر-2024

طہارت کے مساٸل1 جواب
18 اکتوبر، 2024

غسل میں تمام ظاہری بدن پر پانی بہانے سے کیا مراد ہے؟

تمام ظاہر بدن یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک جِسْم کے ہر پُرزے ہر رُونگٹے پر پانی بہ جانا،اکثر عوام بلکہ بعض پڑھے لکھے یہ کرتے ہیں کہ سر پر پانی ڈال کر بدن پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ،اور سمجھتے ہیں کہ غُسل ہو گیا حالانکہ بعض اعضا ایسے ہیں کہ جب تک ان کی خاص طور پر اِحْتِیاط نہ کی جائے نہیں دھلیں گے اور غُسل نہ ہوگا۔ نیز آنکھوں کے اندونی حصے اور کانوں کے اندرونی حصے یہ ظاہر بدن میں شامل نہیں ہیں اس لٸے غسل میں ان کو دھونا بھی ضروری یا فرض نہیں کہا جاۓ گا

طہارت کے مساٸل1 جواب
15 اکتوبر، 2024

مستعمل پانی کسے کہتے ہیں؟

اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی کا پورا یا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہو جان بوجھ کر یا بھول کر دہ دردہ (یعنی سو ہاتھ / پچیس گز/ دو سو پچیس فٹ ) سے کم پانی (مثلاً پانی سے بھری ہوئی بالٹی یا لوٹے وغیرہ ) میں پڑ جائے تو پانی اتنی مُس٘تعمل (یعنی استعمال شدہ ) ہو جاتا ہے اور وہ وضو اور غسل کے لائق نہین رہتا۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
16 اکتوبر، 2024

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ جو جانورحلال ہیں ان کا پیشاب بھی حلال ہے،اگرایسا ہے تو اگر گائے کے پیشاب کی چھینٹے کپڑوں پر پڑ جائیں تو اس صورت میں کپڑوں کا کیا حکم ہے؟اس سے نمازپڑھ سکتے ہیں ؟

الجواب بعون الملک الوھاب زید کا یہ کہنا کہ جو جانورحلال ہیں،ان کا پیشاب بھی حلال ہے،درست نہیں ،کیونکہ ان کا پیشاب بھی حرام اورنجس ہے،ہاں البتہ ان کا پیشاب نجاست خفیفہ ہے کہ کپڑے کے حصے یا بدن کے جس عضو پرلگے،اگراس کی چوتھائی سے کم ہے،تو معاف ہے،اس سے نماز ہو جائے گی،البتہ اگر پوری چوتھائی پر لگا ہو،تو بغیر دھوئے نماز نہ ہو گی۔ واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

طہارت کے مساٸل1 جواب
18 اکتوبر، 2024

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ جب ہم غسل کرنے جاتے ہیں تو غسل میں کون کون سی سنتیں ہیں ، جن کو ہم ادا کرسکتے ہیں ، تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیجٸے

غُسل کی نیّت کر کے پہلے (۲) دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے ۔ (۳) استنجے کی جگہ دھوئے خواہ نَجاست ہو یا نہ ہو ۔ (۴) بدن پر جہاں کہیں نَجاست ہو اس کو دور کرے ۔ (۵) نماز کا سا وُضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے،ہاں اگر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے ۔ (۶) بدن پر تیل کی طرح پانی چُپَڑ لے خصوصا ً جاڑے میں پھر (۷) تین مرتبہ دہنے مونڈھے پر پانی بہائے ۔ (۸) بائیں مونڈھے پر تین بار پانی بہائے ۔ (۹) سر پر اور تمام بدن پر تین بار پانی بہائے ۔ (۱۰) جائے غُسل سے الگ ہو جائے،اگر وُضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھولے اور (۱۱) نہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہو اور (۱۲) تمام بدن پر ہاتھ پھیرے اور (۱۳) ملے اور (۱۴) ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضا کا سِتْر تو ضروری ہے، اگر اتناھی ممکن نہ ہو تو تیمم کر ے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے ۔ (۱۵) کسی قسم کا کلام نہ کرے۔ (۱۶) نہ کوئی دعا پڑھے۔ بعد نہانے کے رومال سے بدن پونچھ ڈالے تو حَرَج نہیں ۔

طہارت کے مساٸل1 جواب
15 اکتوبر، 2024